لاگ ان
Login
 ای میل
پاس ورڈ
 


میڈیا پر پابندیاں Share
  مارشل لائی ایمرجنسی کی آندھی نے جس طرح نجی ٹیلی ویثرن چینلز کے روشن دیئے بجھادیئے ہیں اس کااثر پورے ملک کی ذہنی اور سماجی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ ہر طرف تشویش ، بے یقینی اور افسردگی کا سماں ہے۔ اخبارات پر بھی نئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں اور جنگ گروپ کے پریس کو سیل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ وہی حکمراں جو سینہ پھلاکر میڈیا کو بے مثال آزادی دینے کا دعویٰ کرتے نہ تھکتے تھے اب عوام کو معلومات حاصل کرنے اور اظہار کی آزادی کے بنیادی، انسانی اور آئینی حقوق سے محروم کررہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں میڈیا کی آزادی کو کبھی اس طرح سلب نہیں کیا گیا کیوں کہ اس دفعہ غیر ملکی نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ جیو کے انٹرٹینمنٹ اور اسپورٹس چینلز بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیو اور جنگ گروپ کو خاص نشانہ بنایاجارہا ہے۔

اس پریشان کن اور اضطرابی صورتحال نے آپ کی زندگی کو کس طرح متاثر کیا ہے؟ غیر مصدقہ خبروں اورا فواہوں کی دھند میں آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں ہمیں بتایئے۔ جو نیوز چینلز آپ کی روزانہ زندگی کا حصہ تھے ان کے بغیر آپ کے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں؟ اپنے تاثرات، اپنی رائے، اپنے مشورے، مختصر الفاظ میں بیان کیجئے۔
 
تبصرہ کریں     ا حباب کو بھیجئے  | تبصرے  (416)     
 

   تبصرہ کریں  
  آپ کا نام
  ای میل ایڈریس
شھر کا نام
ملک
  تبصرہ
کوڈ ڈالیں 
  Urdu Keyboard

-شاہد۔ لاہور،میڈیا پہ پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی ناکامی پہ پردہ ڈال رہی ہے۔ عوام اس کارروائی پہ سخت احتجاج کا حق رکھتے ہیں ۔ نجی ٹی وی چینلز فوری کھولے جائیں۔
 
shahid Posted on: Tuesday, November 06, 2007

نازش نورانی۔ نیو یارک۔ حکومت عوام سے حقائق چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ پی ٹی وی پہلے بھی کوئی نہیں دیکھتا تھا اب تو نفرت سی ہوگئی ہے۔ نجی چینلز فوری طور پہ کھولے جائیں۔ -تاکہ سچائی سامنے آئے۔
 
nazish noorani Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-سہیل خان ٹورنٹو، اخبارات بھی اپنا رویہ درست کریں غیرجانبدار ہو کر رپورٹنگ کریں بہر حال حکومت نے میڈیا کا منہ بند کرکے اپنی ساکھ گرالی ہے۔
 
Suhail Khan Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-جنید بیگ۔ کراچی۔ یہ سرسر ظم ہے کہ نیوز میڈیا پر پابندی لگادی جائے یہ تو اندھیر نگری چوپٹ راج والی بات ہے ہم اس پابندی پر احتجاج کرتے ہیں۔
 
جنید بیگ Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-ادریس خان، لاہور،یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری، ادھر پی ٹی وی دیکھنے اور سننے کا دل ہی نہیں چاہتا۔ جو بات جیو میں ہے وہ کسی میں نہیں۔ تب ہی تو حکومت ڈرتے ہے یہ عوام کا ٹی وی ہے۔
 
ادریس خان Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-خان دیوانہ۔ پشاور۔ اب اراکین اسمبلی کہاں غائب ہوگئے جو بھاگ بھگ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے تھے۔ ۔ اب آزادی سحافت کی باتیں کیوں ختم ہوگئیں۔ ۔ سرکاری ٹی تو بے کار ہے۔ سرکاری ٹی وی کون دیکھتا اور سنتا ہے۔
 
خان دیوانہ۔ Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-ثناء، کراچی۔ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانا چاہتے ہے۔ ورنہ وہ میڈیا پہ پابندی نہیں کگاتی۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں
 
sana Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-فہیم۔ ساہیوال۔ میں جیو کی نشریات دیکھتا رہا ہوں اس کا اپنا ایک معیار یے۔ تجزئے تبصرے جاندار اور غیر معمولی حالات میں عوام کو سچائی سے آگاۃ رکھنے واکا چینل ہے۔ اس پہ پابندی ناقابل برداشت ہے اور یہ حکومت کی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
 
faheem Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-اکبر رائو۔ لاہور،صدر مشرف نے چیلنز پہ پابندی لگا کے ثابت کردیا کہ ان کی قوت برداشت جواب دے گئی وہ سچائی کے دعویدار تھے۔ لیکن ایمرجنسی لگانے کے بعد ان سے متعلق یہ تاثر ختم ہوگیا ہے کہ وہآزاد میڈیا کے قائل ہیں۔ جس کی پر زور مذمت کی جا رہی ہے۔ اور اس شینل کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
 
Akbar Rao Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-شہزاد۔ چین۔جو کچھ ہو رہا تھا سب دیکھ رہے تھے۔ لیکن ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومت کو رویہ بدل گیا کل تک جو میڈیا کی آزادے کے گن گاتے تھے ان کے دعوے دھرے رہ گئے عوام کا پسندیدہ چینل جیو اس لئے بند کردیا کہ حقیقت نہ دیکھ سکیں یہ میڈیا کے ساتھ مذاق ہے۔
 
shahzad Posted on: Tuesday, November 06, 2007

مصباھ حسن۔ نیدر لینڈ،آزاد میڈیاسے فوری پابندی ہٹالی جائے۔ یہ بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔۔ صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک بند کیا جائے جنگ پریس پہ حملہ غیر ضروری ہے۔
 
mibah hussain Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-منظر وحٰد چودھری۔ ،اسپین۔ ہم پاکستان سے دور جیو دیکھ رہے ہیں اور ملک کے حالات سے با خبر ہیں۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں رہتے ہوئے پاکستانی اس چینل سے محروم ہیں یہ آزادی سحافت پہ دیدہ و دانستہ حملہ ہے۔۔ اس سے حکومت کی ناکامی ظاہر ہوگئی
 
Manzar Waheed Ch Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-خضر، لاہور، پابندی لگانا بہترین فیصلہ ہے کیونکہ یہاں سے زرد سحافت کھیلی جا رہی ہے۔ شکریہ۔
 
khizar Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-شہزاد۔ سکھر۔ نیوز چینلز پہ پابندی لگاکر حکومت نے اچھا نہیں کیا اسے فوری ہٹایا جائے۔ اب تو بیرون دنیا سے بھی یہی پیغام موصول ہو رہے ہیں پھر بھی حکومت ڈھیٹ بنی ہوئی ہے ۔ میڈیا کے آزادے کے دعوے کہاں گئے عوام اس پالیسی سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں
 
shahzad Posted on: Tuesday, November 06, 2007

-اسد شبیر۔ لاہور،جس دن سے یہ پابندی لگی ہے ایسا لگتا ہے ہم کسی جنگل میں کھڑے ہیں جہاں سے کوئی آواز بھی نہیں سن سکتے۔ جیو کی نشریات بند کرکے حکومت نے اپنی کمزوری خود ہی ظاہر کردی وہ نہ سچ سن سکتی ہے اور نہ دیکھ سکتی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے فوری پابندی ہٹائی جائے
 
asad shabbir Posted on: Tuesday, November 06, 2007
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | Next
Page 1 of 28


محمد عامر کو سزا کی نہیں، اصلاح کی ضرورت ہے؟
ہاری ہوئی ٹیم ۔۔۔جواری ہوئی ٹیم؟
الطاف حسین نے مارشل لاء جیسے اقدام کی حمایت کیوں کی ؟
سیالکوٹ واقعہ ایک لمحہ فکریہ!
نوجوان بولر وہاب ریاض کی شاندار پرفارمنس
 
کرکٹ اور ٹینس کا تاریخی بندھن
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 2055 )
بالآخر” جیو“ کو بند کردیا گیا
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 515 )
جیو نیوز کی نشریات پر پابندی
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 503 )
جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 452 )
میڈیا پر پابندیاں
تبصرہ کریں  تبصرے  ( 416 )
 
 
 
 
 
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited
Privacy Policy