|
 |
 |
| سُرکا سانس ٹوٹ گیا۔نثاربزمی بھی چلے گئے |
|
|
|
| |
موسیقار نثار بزمی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ 1939 ء میں آل انڈیا ریڈیو سے ڈرامہ آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کرنے والے اس فنکار نے پاکستان فلم انڈسٹری کو لازوال دھنیں دیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا نام موسیقی کی دنیا میں پاکستان کی شناخت بن گیا۔ ان کے انتقال سے موسیقی یتیم ہوگئی ہے۔ وہ ہر فلم میں نیا تجربہ کرتے ۔فن سے عشق کرتے اور کام کو عبادت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ آج جب وہ اگلے سفر پر روانہ ہوئے ہیں تو کانوں میں رس گھولتے ہوئے ان کے نغمات ایک بار پھر گنگنانے کو دل کرتا ہے۔
ٌ ۔اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
۔اک ستم اور میر ی جاں، ابھی جاں باقی
۔رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
۔چلو اچھا ہوا تم بھول گئے
۔کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے
۔اے بہارو۔گواہ رہنا
۔میری زندگی ہے نغمہ ، میری زندگی ترانہ |
| |
|
| تبصرہ کریں ا حباب کو بھیجئے | تبصرے (16) |
| |
|
 |
 |
اعجاز جیلانی، لندن، برطانیہ۔۔۔۔۔۔بلا شبھ نثار بزمي برصغير کےعظيم موسيقار تھے ان کي بنائ دھنيں امر رھيں گي انھوں نے فلم ميري زندگي ھے نغمھ کي موسيقي دي تھي جبکھ گيت ميري زندگي ھے نغمھ کے موسيقار ناشاد ھيں |
| |
| Ejaz Jilani |
Posted on: Saturday, March 31, 2007 |
|
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | Next Page 2 of 2
|
|