پاکستان کرکٹ ٹیم کے حوالے سے حال ہی میں سامنے آنے والے میچ فکسنگ کے نئے اسکینڈل میں سب سے زیادہ نقصان فاسٹ بالر محمد عامر کا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بہت کم عرصے میں اپنی تیز رفتار اور ریورس سوئنگ بولنگ سے محمد عامر نے دنیائے کرکٹ میں اپنے لیے جو مقام پیدا کیا ہے وہ بہت کم کھلاڑیوں کو نصیب ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبات موجود ہونے کے ساتھ دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی انہیں مذکورہ اسکینڈل میں ملوث قرار دیے جانے پر افسردہ دکھائی دیتے ہیں۔برطانیہ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ محمد عامر جیسے کھلاڑی کو سزا کی نہیں ،اصلاح کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ کا مستقبل ہے اور اسے کسی اسکینڈل میں ملوث قرار دے کر ضائع کر دینا نہ صرف پاکستان بلکہ بہ حیثیت مجموعی کرکٹ کے ساتھ بھی زیادتی ہو گی۔ وہ نچلے لیول سے کرکٹ کھیلتے ہوئے قومی ٹیم میں آئے ہیں۔ زیادہ پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر ہونے والے معاملات اور اچھے برے کی تمیز کرنے میں انہیں فی الوقت دشواری ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی اصلاح کے لیے کوئی بندوبست کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان کے بہتر مستقبل کے لیے کیا ضروری ہے۔ تو یقینی طور پر وہ اپنے آپ کو درست کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور غلط صحبت میں پڑ کر اپنا پورا کیرئیر داؤ پر لگانے کی غلطی نہیں کریں گے۔ اسی طرح آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے سابق کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ دنیا اس پورے معاملے کو اپنے انداز میں دیکھ رہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں سٹہ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو اغوا ء اور قتل کی دھمکیاں دے کر اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ پاکستان ٹیم کے کوچ تھے تو ایک کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنے لیے اتنا دباؤ تھا کہ معاملہ صدرمشرف تک لے جانا پڑا جس کے بعد کھلاڑی کی جان بخشی ہوئی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے نوجوان کرکٹرز کی سٹے باز مافیا کے ساتھتعلقات کی باتیں کچھ نہ کچھ سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم کسی بھی کھلاڑی کے مجرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اس کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیتے ہیں۔ جب غیرملکی کھلاڑی اور تبصرہ نگارہمارے کھلاڑیوں کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھ سکتے ہیں تو کیا ہم تھوڑا بہت ہی سہی انہیں شک کا فائدہ نہیں دے سکتے ؟
قومی کرکٹ ٹیم مسلسل شکستوں کا داغ دھونے میں اوول کے میدان میں کامیاب کیا ہوئی کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں ایک بار پھر میچ فکسنگ کے الزامات میں پھنس گئی ہے۔ایک برطانوی اخبار کے مطابق پولیس نے لندن کے
الطاف حسین نے مارشل لاء جیسے اقدام کی حمایت کیوں کی ؟
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ملک کو کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلانے کے لیے محب وطن جرنیلوں کو آگے آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرز کا کوئی طرز حکمرانی سامنے آتا ہے تو ایم کیوایم اس کی حمایت کرے گی۔ لندن سے
بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بدترین سیلاب پر عالمی ردعمل تباہ کاری کے تناسب سے کافی کم ہے، خدشہ ہے کہیں امداد آتے آتے بہت دیر نہ ہوجائے، تعمیر نو اور بحالی میں کئی برس تاخیر ہوسکتی ہے نیز صورت حال کی سنگینی
Jang Group of Newspapers
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this
web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited Privacy Policy