|
|
جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس |
Share
|
|
چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس جاوید اقبال نے جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کے خلاف وکلاء کا ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے۔ اور انہوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ جبکہ حکومت اس اقدام کو آئین اور قانون کے عین مطابق قرار دے رہی ہے اور وزراء کا کہنا ہے کہ وکلاء بعض سیاسی جماعتوں کے آلہء کار بن کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جسٹس افتخار چوہدری نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ا ن کے ہاتھ صاف ہیں اور وہ تمام الزامات کا سامنا کریں گے ۔قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ ہمارے لیے سب سے اہم قانون اور آئین ہے۔ جو کچھ بھی ہو گا قانون کے مطابق ہو گا۔
|
|
|
 |
 |
علی زیب حسین، لاہور،پاکستان۔۔۔۔۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب بھی بلاشبہ احتساب سے بالاتر نہیں ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ انکے خلاف ریفرنس بھیجنے والے، ریفرنس بھیجنے کی سفارش کرنے والے اور پھر اس کی حمایت میں اندھا دھند بولنے والے ، کون سے دودھ کے نہائے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ملک میں حقیقی احتساب کا کلچر رائج کیا جائے۔ چیف جسٹس صاحب کی ذات فوجی حکومت کی من مانیوں کے خلاف ایک مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے کیونکہ معزرت کیساتھ ، اب خاکی وردی والے خود کو تمام قوانین اور آئین سے کچھ زیادہ ہی ماورا سمجھنے لگے ہیں ۔لیکن ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ چیف جسٹس تو یقیناًً حق کے لیے ڈٹے رہیں گے لیکن شاید انکا ساتھ دینے والےلوگ بالخصوص سیاستدان کسی ترغیب کا شکار ہوکر انہیں داغ مفارقت ہی نہ دے دیں۔بہرحال قوم انکے ساتھ ہے اللہ ہمارے ملک کو عاقبت اندیش حکمران عطا کرے آمین |
| |
| علی زیب حسین |
Posted on: Friday, May 25, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
پرویز، بولٹن، برطانیہ۔۔۔۔۔۔حکومت نے جو کچھ چیف جسٹس صاحب کے ساتھ کیابےشک غلط سہی لیکن چیف جسٹس صاحب کو بھی چاہئے تھا کہ حکومت کا مقابلہ عدالت میں کرتے اور فیصلے کا انتظار کرتے حکومت مخالف سیاسی پارٹیاں تو شاید اسی انتظار میں تھیں اور وکیل صاحبان بھی- چیف صاحب کو ساتھ لے کر ریلیاں شروع کر دیں اور ہنگامے اور بےگناہ لوگوں کی اموات ہوئی ریفرنس کی سمات شروع ہو گی ہے عدالت کی بات عدالت رھتی تو اچھا تھا |
| |
| pervaz |
Posted on: Wednesday, May 23, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
محمد رضا، کراچی،پاکستان۔۔۔۔۔پاکستان کا پورا سسٹم کرپٹ ہے، یہاں کا کونسا ایسا شعبہ ہے جس میں کرپشن نہیں، ہاءی کورٹ ہو یا سٹی کورٹ سب کے جج بکے ہوءے ہوتے ہیں، انصاف یہاں خریدا جاتا ہے، جو لوگ ان مشکلات سے گزر چکے ہیں وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ قانون نام کی کوءی چیز نہیں ، جس کی لاٹھی اسی کی بھیس والا معاملہ ہے۔ بہت دکھ ہوتا ہے اپنے وطن کا یہ حال دیکھ کر۔ خدا تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے اور ہر طرح کے شر سے بچاءے۔ جو حالات نظر ا رہے ہیں ان سے یہی پتا لگتا ہے کہ کوءی نیا امریکی تجویز کردہ نظام ہم پر مسلط ہونے والا ہے۔ |
| |
| mohd raza |
Posted on: Saturday, May 12, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
نثار احمد ناز، ٹنڈومحمد خان، پاکستان۔۔۔۔۔ہمارے ملک میں دوہرا معیار کیوں، ایک طرف فوجی وردی میں سیاسی جلسوں میں شرکت اور حاضر سروس میں سیاست جائیزدوسری طرف ملک کا چیف جسٹ جس کے لئے سارے وکلا ساری عوام، ساری عوامی پارٹیاں اپنی محبتیں نچھاور کریں تو ناجائیز اور سیاست کیا کمال کے لوگ ہیں یہ حکومت کے لوگ خود تو سیاسی باتیں کریں تو درست اور صحیح باقی غلط ھوش کے ناخن لو کہیں ایسا نہ ہو کھ کل حکومت والوں کو وطن کی مٹی بھی نصیب ہو |
| |
| نثاراحمد ناز |
Posted on: Monday, May 07, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
کاکا جی، کینیڈا۔۔۔۔۔۔ ريفرنس تو چھپکلي بن گيا ھے حکومت کيلےء نھ اگل سکتي ھے نھ نگل سکتي ھے |
| |
| kaka jee |
Posted on: Saturday, April 07, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
انعام، کراچی، پاکستان۔۔۔۔۔۔آج افسوس ہے کہ انصاف نام کی چیز بھی اپنے انجام کو پینچ گی پاکستان ایک آمر کے رھم و کرم پر ھے |
| |
| Inam |
Posted on: Saturday, April 07, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
شعیب اسلم خان، کوپن ہیگن، ڈنمارک۔۔۔۔۔۔یہ ایک غیر قانونی غیر أینی اور بد نیتی پر مبنی عمل ھے اس کی جتنی بھی مزمت کی جاے کم ھے۔ جناب صرر کا أینی حق سب یاد دلاتے ھیں مگر جو انہوں نے غیر أینی کام کیا یعنی چیف جسٹس کو غعر فعال کر کے ان کو کام سے روک دیا اور ان کے ساتھ نا روا سلوک روا رکھا |
| |
| شعیب اسلم خان |
Posted on: Sunday, April 01, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
فیصل پاشا، لندن، برطانیہ۔۔۔۔۔۔عجیب دستور ہے ، لندن میں یہاں کے لوکل لوگ ہنستے ہیں۔ ہم سے ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا چیف جسٹس ہو تو قانون سے بالاتر ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر اپنے ہی ادارے پر بھروسا کیوں نہیں؟ |
| |
| FAISAL PASHA |
Posted on: Thursday, March 29, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
شبیر احمد، ڈبلن، آئرلینڈ۔۔۔۔۔۔۔خدا کرے ہمارے چیف جسٹس صاحب کی جرات رندانہ ہماری تاریخ کا رخ تبدیل کر دے۔ |
| |
| shabir ahmad |
Posted on: Thursday, March 29, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
واجد،لاہور، پاکستان۔۔۔۔۔آپ میرا تبصرہ آن لائن نہیں کر سکیں گے۔ |
| |
| wajid |
Posted on: Thursday, March 29, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
سرفراز حسین کیانی، ہمبرگ، جرمنی،۔۔۔۔۔۔پاکستانی پولیس اور عدالتی نظام انگریزوں کا دیا ہوا ہے۔ |
| |
| Serfraz Hussain Kayani |
Posted on: Thursday, March 29, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
سعدیہ،کراچی، پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ مجھ سمیت ہر کوئی جمہوریت چاہتا ہے۔ ملک کی بقاء اسی میں ہے۔ |
| |
| SADIA |
Posted on: Thursday, March 29, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
محمد عاصم، خانیوال، پاکستان۔۔۔۔۔یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے۔ ان لوگوں کا ساتھ دیا جائے جو چوہدری افتخار کی طرح بہادر ہیں اور اللہ کی حاکمیت پر یقین رکھتے ہیں۔ |
| |
| Muhammad Aasim |
Posted on: Thursday, March 29, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
محمد فرقان، اسلام آباد، پاکستان۔۔۔۔۔۔پاکستان۔۔۔۔۔یہ صدر صاحب کا تباہ کن فیصلہ ہے۔جسٹس صاحب پاکستان اور عام آدمی کے حق میں اچھے فیصلے کر رہے تھے۔ |
| |
| Muhammad Furquan |
Posted on: Wednesday, March 28, 2007 |
|
 |
 |
 |
 |
 |
مشتاق خان، ریاض، سعودی عرب۔۔۔۔۔۔جسٹس چوہدری افتخار کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔ |
| |
| مشتاق خان |
Posted on: Monday, March 26, 2007 |
|
 |
 |
 |
Prev | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 | 31 | Next Page 1 of 31
|
|