<?xml version='1.0' encoding='utf-8' ?><rss version='2.0'><channel><title>Jang Blog</title><link>http://jang.net/blog</link><description>Jang Blog</description><language>en-us</language><copyright>Copyright Jang Group of NewsPaper</copyright><docs>http://jang.net/blog</docs><lastBuildDate>5/11/2013 2:43:37 PM</lastBuildDate><image><title>GEO</title><url>http://jang.net/blog/images/top.gif</url><link>http://jang.net/blog</link></image><item><title>نواز شریف کو تیسری باری مل گئی ....!</title><description>… فاضل جمیلی …

عام انتخابات اپنی تکمیل کو پہنچے ۔نیا پاکستان تو معرضِ وجود میں نہیں آیا البتہ دو بار وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے والے نوازشریف کو تیسری باری ملنے کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں ۔عمران خان کے سونامی کی لپیٹ میں نون لیگ تو نہیں آئی لیکن زرداری صاحب کی پیپلزپارٹی اور اسفندیارولی کی عوامی نیشنل پارٹی کی بساط لپٹتی چلی گئی ہے۔نون لیگ اگرچہ اپنی نشستوں کے اعتبار سے تمام پارٹیوں سے آگے ہے لیکن بلاشرکت ِ غیرے مرکزی حکومت بنانااس کے لیے اتنا آسان بھی نہیں ہو گا ۔ یقینی طور پر اسے حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت پڑے گی۔ عمران خان کسی صورت میں بھی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ایم کیوایم کو نوازشریف اپنے ساتھ ملانا پسند نہیں کریں گے ۔زرداری صاحب خواہش کے باوجود نئی حکومت میں پیپلزپارٹی کو حصہ دار نہیں بنا پائیں گے ۔لگتا یہی ہے کہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ارکان اورمسلم لیگ فنکشنل ہی نون لیگ کے فطری اتحادی ثابت ہوں گے اور باقی ماندہ عدد پورے کرنے کے لیے نوازشریف کو کئی ایک سمجھوتے کرنے پڑیں گے ۔اگر عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف اپوزیشن میں بیٹھتی ہے اور پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم بھی اپوزیشن نشستوں پر براجمان ہوتی ہیں تو پھر آنے والی حکومت کو یقینی طور انتہائی مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ نوازشریف کی مرکزی حکومت کو صوبائی حکومتوں کی طرف سے بھی مختلف معاملات میں سخت مزاحمت کا سامنا ہو گا ۔جیسے پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ کی حیثیت سے زرداری کو صدر نہیں مانتے تھے اور ان کا استقبال نہیں کرتے تھے اسی طرح ہو سکتا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ نوازشریف کو وزیراعظم ماننے سے انکار کردے۔خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کا وزیراعلیٰ ، وزیراعظم کا خیرمقدم نہ کرے۔ اگر اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو نوازشریف کے لیے مرکزی حکومت کو چلانا اور صوبوں کو کسی ایک نقطے پر متحد رکھنا انتہائی مشکل ہو گا ۔اس کے ساتھ ساتھ انہیں ملک میں جاری دہشت گردی ، بے روزگاری، بجلی کے بحران جیسے مسائل سے بھی نمٹنا ہو گا بصورت دیگر چوہدری شجاعت حسین کے بقول اگلے پانچ سال کے دوران ہر سال وزیراعظم تبدیل ہو گا ۔نوازشریف نے اس کے علاوہ الیکشن مہم کے دوران بہت سے وعدے بھی کیے ہیں جن کو ایفا کرنا بھی ان کی اولیں ذمہ داری ہو گی ۔لیکن سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا نون لیگ بیساکھیوں کے بغیر حکومت بنا پائے گی ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8678</link><pubDate>5/11/2013</pubDate></item><item><title>یہ کیا ہوا؟۔۔۔حادثہ کیسے ہوا؟</title><description>…سید شہزاد عالم… 
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان لاہور کے ایک جلسے میں اسٹیج پر چڑھتے ہوئے ایک گارڈ کے توازن کھونے کے باعث لفٹر سے سترہ فٹ کی بلندی سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ انتخابی مہم ختم ہونے سے دو روز پہلے پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ کپتان خیریت سے ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق خطرے کی کوئی بات نہیں۔ تاہم انہیں آرام کی سخت ضرورت ہے۔ یہ کیا ہوا ۔۔۔۔۔کیسے ہوا ۔۔۔ اس کی باریک بینی سے تحقیقات کرائی جانی چاہئے اور کسی سازش کے پہلو کو ۔۔ اگر کوئی ہے ۔۔ تو اسے بے نقاب کیا جائے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ کون اس حادثے کے پیچھے ہے؟ اگر چہ کپتان نے انتخابی مہم بھرپور طریقے سے چلائی اور اپنا پیغام عوام تک کامیابی کے ساتھ پہنچادیا تاہم کسی کو امید نہ تھی کہ انتخابی مہم کے آخری اوورز میں اس طرح زخمی ہو کر اسپتال جانا پڑے گا۔ بہرحال جو خدا کی مرضی۔۔۔ ویسے تو کپتان کی مقبولیت میں کسی کو کوئی شک نہ تھا لیکن ان کے زخمی ہونے کی خبر دنیا بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دنیا کے ہر کونے سے انکی خیریت کے لئے رابطے کئے گئے اور دعائے صحت کی گئی۔ پاکستان میں ان کے سیاسی حریفوں نے بھی ان کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور صحت یابی کی دعا کی۔ اس الیکشن مہم میں سیاسی جماعتوں کو دہشت گردوں سے خطرات لاحق رہے تاہم یہ واقعہ ایسا ہے جس میں کسی بیرونی خطرے کے بجائے بظاہر ایک اندرونی کوتاہی سے لیڈر کو نقصان پہنچا۔ تحریک انصاف پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہے اور سب کی نگاہیں یہ جاننے کے لئے بیتاب ہیں کہ یہ جماعت الیکشن کے دن کس طرح کے نتائج دیتی ہے اور کیا اس کا ووٹ بینک اتنا ہے کہ یہ پاکستان کی ایک بڑی قومی سیاسی جماعت بن کر ابھر سکے؟ ۔۔ کیا عمران خان بحیثیت ایک سیاسی لیڈر کے پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا نام اور ایک بڑی پارلیمانی قوت بن سکیں گے؟ لہٰذا یہ الیکشن تحریک انصاف اور ملک کے مجموعی سیاسی منظر نامے کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس غیر متوقع واقعہ سے انتخابی مہم کا ٹیمپو نہیں ٹوٹنا چاہئے اور اس کا اختتام نہ صرف تحریک انصاف بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو مثبت طریقے سے کرنا چاہئے تاکہ پولنگ کے دن عوام کا حوصلہ بلند رہے اور ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ اچھا رہے اور الیکشن کے دشمن الیکشن چرانے کے منصوبوں میں ناکام رہیں۔ 
 shahzad.janggroup@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8667</link><pubDate>5/8/2013</pubDate></item><item><title>الیکشن کا دن اور امن و امان!</title><description>…سید شہزاد عالم…
انتخابات سے قریب ہوتا ہر دن اگر چہ ا نتخابات کے انعقاد کو روشن کرتا جا رہا ہے تا ہم ہر گزرتے دن بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور ہلاکتیں انتخابات کے پر امن انعقاد پر سوالیہ نشان بن کر ابھر رہی ہیں۔ اگر انتخابات کے روز بھی دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں کامیاب رہے اور عوام کی اکثریت ووٹ نہ ڈال سکی تو انتخابات کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا اور ان انتخابات کے نتائج پر سوالیہ نشان چھوڑ جائے گا، ملک ایک سیاسی بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔
 سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم صرف صوبہ پنجاب میں زور و شور سے جاری ہیں لیکن باقی تین صوبوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی بدولت گہما گہمی کا فقدان ہے۔ کئی جماعتوں کے امیدوار قتل ہو رہے ہیں، بم دھماکے ہو رہے ہیں ۔ ان جماعتوں اور ان کے ووٹرز کو دہشت گرد گروپس کی طرف سے کھلم کھلا دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کی جانب سے کسی خاطر خواہ ٹھوس اقدامات نہ ہونے کے باعث ان صوبوں کی عوام اورسیاسی جماعتوں میں شدید مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ منفی سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ شاید وفاقی اداروں کے نزدیک پاکستان پنجاب سے شروع ہو کر پنجاب پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔
 پنجاب کو ہی پاور گیم میں سبقت حاصل ہے اور دیگر صوبوں کی اہمیت شاید واجبی سی ہے۔ ان انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کا حساس ترین موقع قرار دیا جارہا ہے۔
 داخلی مسائل سے نمٹنے، معیشت کو بحال کرنے اور خطے میں آئندہ رونما ہونے والے کئی واقعات سے کامیابی سے نمٹنے کے لئے پاکستان میں ایک مضبوط اور ذہنی طور پر بالغ سیاسی حکومت کے قیام کی اشد ضرورت ہے لیکن جس طرح غیر سنجیدگی سے الیکشن کاانعقاد کیا جا رہا ہے اور جانبداری کا عنصر اجاگر کیا جا رہا ہے کئی سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کے اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آرہی ہیں اوراس سے ایک مضبوط اور پورے ملک کی نمائندہ قومی اسمبلی کے قیام کی امیدیں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور الیکشن کے بعد اچھے حالات ہونے کے امکانات دم توڑ رہے ہیں۔
 اب بھی کچھ وقت ہاتھ میں ہے۔ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہونگے تاکہ امن و امان کی صورتحال کم از کم اتنی تو بہتر ہوجائے کہ ووٹرز الیکشن کے روز بلا خوف وخطر اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں اور کسی دہشت گرد گروپ کو الیکشن پر اثر انداز ہونے کا موقع نہ مل سکے تا کہ قوم سے آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف الیکشن کا وعدہ پورا کیا جاسکے اور اس تاریخی موقع پر الیکشن کمیشن قوم کی نظروں میں سرخرو ہو سکے۔
shahzad.janggroup@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8661</link><pubDate>5/6/2013</pubDate></item><item><title>دیس پرائے بسنے والو…!</title><description>...ثروت رضوی...ملک خداداد پاکستان میں خدا خدا کرکے انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان ہوا تو جہاں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اتریں وہیں چند مسائل بھی منہ کھولے اپنے حل کے منتظر نظر آئے۔ انہی ناگزیر مسائل میں سے ایک مسئلہ بیرن ملک مقیم پاکستانیں کوووٹ کے حق کا حصول بھی تھا۔ جس پر پہلے پہل تو سپریم کورٹ اور حکومت کے رویے میں خاصی لچک نظر آئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ لچک الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے مابین محاذ آرائی میں تبدیل ہوتی گئی۔ ایک جانب سپریم کورٹ کا اصرار تھا کہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کاحق دیا جائے تو دوسری جانب الیکشن کمیشن کی مجبوریاں کہ ایک ماہ کی قلیل مدت میں بیرون ملک مقیم رائے دہندگان کے لیے فول پروف انتظامات کیوں کر ممکن بنائے جائیں۔

بظاہر الیکشن کمیشن کی توبات میں و زن دکھائی دیتا ہے کہ ای ووٹنگ کا سسٹم ابھی کئی حوالوں سے غیر واضح ہے ایسے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت دینے کی کوشش کی گئی تو اس سے منصفانہ اور شفاف انتخابات کے حصول میں مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہاں الیکشن کمیشن کے ایک ذمے دار افسر کا یہ بیاں خاصا مضحکہ خیز لگا جب موصوف نے کہا کہ بیرون ملک مقیم افراد سے ووٹ ڈالنے کی سہولت تو کبھی واپس لی ہی نہیں گئی وہ جب چاہیں پاکستان آکر انتخابی عمل میں حصے دار بنتے ہوئے ووٹ کا استعمال کرسکتے ہیں۔

ایسے میں دیار غیر میں روزی کے حصول کی خاطر جا بسنے والے شہری امید و یاس کی تصویر بنے نظر آئے جو کبھی سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کی امید لگاتے تو کبھی الیکشن کمیشن کی جانب کچھ گنجائش ہے تو کرم فرمائی کردیجئے والی نظروں سے دیکھتے۔ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں میں سے بیشتر کی رائے یہی تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری ہونے کے ناتے انہیں ووٹ کا حق حاصل ہونا چاہیے، چاہے وہ شہری دنیا کے کسی بھی کونے میں بستا ہو۔ ایسے میں دیگر ملکوں میں بسنے والی نوجوان نسل خاصی حیران دکھائی دی کی ملک میں جہاں ایک جانب سیاسی جماعتیں نوجوانو آگے آوٴ ملک بچاوٴ کی صدائیں بلند کرتی ہیں تو پھر بیرون ملک بسنے والے اپنے نوجوانوں کو کیسے بھول جاتی ہیں۔ کچھ بزرگ پاکستانیوں کا ابھی یہ بھی شکوہ تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک میں زرمبادلہ لانے کا اہم ذریعہ ہیں تو پھر انہیں ووٹ ڈالنے سے محروم کیوں کر رکھا جاسکتا ہے۔

رفتہ رفتہ قت گزرتا گیا اور پردیسیوں کی امیدیں بھی دم توڑتی گئیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے بیرون ملک بسنے والوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جاسکا ہے۔ ایسے میں ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی اکثر جماعتیں ایسی ہیں جن کے حامیوں کی بڑی تعداد دیگر ملکوں میں رہائش پذیر ہے، ایسے میں ان کے ووٹ کم ہوجانے سے کیا شفاف انتخابی عمل پروان چڑھ سکے گا یا وہ محب وطن پاکستانی جو روزی کی خاطر پرائے دیس میں مقیم ہیں، کیا اس موقع پر ان کا دل درد سے بلبلا نہیں اٹھے گا جب اپنے ہم وطنوں کو ووٹ ڈالتے دیکھ کر ان کی آنکھیں وطن کی یاد میں بھر آئیں گی، ایسے میں دکھے دلوں کے ساتھ محض دعا کرنے کے ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ہوگا اور ملک میں انتخابی عمل مکمل کیا جارہا ہوگا۔ کیا کہتے ہیں آپ، کیا ہورہا ہوگا اس صورت میں انصاف؟؟؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8655</link><pubDate>5/1/2013</pubDate></item><item><title>الیکشن کا موسم، سیاسی گہما گہمی</title><description>…سید شہزاد عالم…
الیکشن شیڈول کا اعلان اور کاغذات نامزدگی کی وصولی کے ساتھ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ہر بڑی سیاسی جماعت اس کوشش میں ہے کہ بڑی جگہوں پرجلسے اور عوام کا جم غفیر جمع کر کے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا جائے اور اپنے منشور کو عوام تک پہنچایا جائے۔ملک میں الیکٹرونک میڈیا کے فروغ سے سیاسی جماعتوں کو آسانی ہو گئی ہے کہ ایک جگہ جلسے کی ٹی وی کوریج سے پورے ملک میں ان کا پیغام سرعت کے ساتھ پھیل جاتا ہے۔اسی لئے اب ہر جماعت اپنے جلسوں میں اس بات کا خاص اہتمام کرتی ہیں کہ ان کے جلسے کی ٹی وی کوریج میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔جلسے کے ایک ایک پل کی ٹی وی اسکرین پر چھلکتی رنگ برنگی بریکنگ نیوز دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک جس جماعت نے بھی جلسہ کیا ہے عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے جس سے انتخابی عمل میں عوام کی دلچسپی اور اپنے نمائندوں کے انتخاب میں اس کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ ملک میں تبدیلی کے لئے عوام کا ووٹ پر اعتماد ملک کے تابناک مستقبل کی نوید ہے اور اس میں میڈیا نے بے حد اہم کردار ادا کیا ہے جس نے مایوس کن حالات میں بھی عوام کو حوصلہ دیا کہ مشکلات کے یہ دن ختم ہو جائیں گے اگر الیکشن کے دن ووٹ درست طریقے سے اہل شخص کو دیا۔ جمہوریت پاکستان کی روح ہے اور الیکشن اس کی روح کی غذا ہے اس روح کو رواں دواں رکھنے میں ووٹ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جو دیا تو پولنگ کے دن ایک مرتبہ جاتا ہے لیکن اس کا اثر پانچ سال تک رہتا ہے۔ ملک کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس میں الیکشن کی مہم، امیدواروں کا تحفظ اور جلسے جلوسوں میں عوام کی جان کی سلامتی ایک اہم چیلنج ہے جس سے نمٹنا نگراں حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کا اولین فرض ہے۔ پاکستان کے بد خواہ یقینا الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں لگے ہونگے ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پوری قوم کو زبردست اتحاداور یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس بار الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ امیدواروں کی اہلیت و کردار کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی جس کے بعد ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ صرف باکردار، ٹیکس دینے والے ، عوام کا درد رکھنے اور اچھی مثبت تبدیلیاں لانے والے امیدوار ہی مقابلے میں اتریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کئی ہیوی ویٹ امیدوار اس جانچ پڑتال کی تاب نہ لاسکیں لیکن الیکشن کمیشن کو انتہائی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کسی دباؤ کوخاطر میں لائے بغیر شفاف طریقے سے امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کرکے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دینا ہوگا تاکہ ووٹرز کو اس بار اچھے لوگوں میں سب سے اچھے کا انتخاب کرنا ہو نہ کہ ماضی کی طرح بدترین لوگوں میں کم برے شخص کا انتخاب کرنا پڑ جائے۔
shahzad.janggroup@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8574</link><pubDate>4/1/2013</pubDate></item><item><title>کپتان کے بلے کی بلے بلے</title><description>…سید شہزاد عالم…
23 مارچ کے تاریخی جلسے نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے ملک میں دھوم مچا دی ہے اورمخالفین کے دعووں کو غلط ثابت کردیا کہ کپتان کی سونامی ختم ہو گئی اور اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کوئی خاص کار کر دگی نہیں دکھا پائے گی ۔ کپتان کی واپسی نہایت شاندار انداز میں ہوئی اور اگر یہ کہا جائے کہ الیکشن مہم کا آغاز عمران نے اقبال پارک میں چھکا لگا کر کیا تو غلط نہ ہو گا۔ کرکٹ کا بلا پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ہے اور اس جلسے کے بعد پی ٹی آئی کی ہر طرف بلے بلے ہو گئی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 23 مارچ کے تایخی دن مینار پاکستان پر عظیم الشان جلسے کے دوران قوم سے6 وعدے کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ سچ بولوں گا، ظلم کے خلاف جہادکروں گا،میری جائیداداورجینامرناپاکستان میں ہوگا،ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا، اقتدار سے خود فائدہ اٹھاؤں گانہ دوستوں اوررشتہ داروں کو اٹھانے دوں گا ، بیرون ملک پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ کروں گا۔ عمران خان نے کارکنوں سے بھی جھو ٹ نہ بولنے‘ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے‘ خوف کے بت توڑنے اور تبدیلی کا رضاکار بننے سمیت 4 وعدیلئے۔ کپتان کی تقریر کے دوران تیز ہوا کے جھونکے چلے اور موسلا دھار بارش ہوئی۔۔۔ سونامی ۔۔سونامی پلس ہو گئی یعنی قدرت نے بھی کپتان کی تقریر پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اوربہت عرصے بعد تیز بارش میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان کے چہرے پر وہی مسکراہٹ نظر آئی جو کسی زمانے میں وکٹ حاصل کرنے کے بعد ان کے چہرے پر نظر آتی تھی۔کپتان نے جلسے سے پہلے کہا تھا کہ مخالفین کی وکٹیں اڑا دونگا اور اس کامیاب ترین جلسے کے بعد پنجاب میں مخالفین کی وکٹیں اڑیں یا نہ اڑیں نیندیں ضرور اڑ گئی ہونگیں۔اب دیکھتے ہیں کہ مخالفین اس جلسے کے بعد کیا حکمت عملی بناتے ہیں۔ اور عمران کے چھ وعدوں کے جواب میں عوام سے کہنے کے لئے کیا وعدے اور نعرے تراشتے ہیں۔ کپتان کے لئے راہ ابھی بھی کٹھن ہے۔۔ اور انتخابی مہم بہت سوجھ بوجھ کا تقاضا کرتی ہے۔۔۔۔ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ خود کپتان ملک میں کس جگہ سے الیکشن لڑیں گے۔۔تا ہم کپتان کے حامیوں کی خواہش ہے کہ ایسے حلقے سے لڑیں کہ مد مقابل ایسا ہو کہ واقعی جب وکٹ اکھڑے تو مزا آجائے اور ساری دنیا دیکھے۔۔ بہر حال دیکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے۔اس جلسے نے پنجاب میں مخالفین کو ایک بڑا چیلنج دیا ہے اور جیسے جیسے انتخابی مہم آگے بڑھتی ہے اس کے اثرات سامنے آتے رہیں گے ۔۔ کہ اب مخالفین کے پنجاب اور خصوصا لاہور میں ہونے والے جلسوں کا قد کاٹھ کپتان کے اس جلسے سے ہی ناپا جائے گا۔
shahzad.janggroup@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8546</link><pubDate>3/24/2013</pubDate></item><item><title>مولا بخش اداس ہے۔۔۔ !</title><description>…سیدشہزادعالم…
میرا نام مولا بخش ہے۔ ہر اسکول جانے والا میرے نام اور کام سے اچھی طرح واقف ہے۔ چند دن پہلے تک اسکولوں میں بے تاج بادشاہ تھا۔ ہر سو میری دہشت تھی۔ بڑے بڑے طرم خان میری ہیبت سے گھبراتے تھے۔ سب کو سیدھا کرنے میں میرا کوئی ثانی نہیں تھا۔ سرکاری اسکولوں میں تو میرا جدی پشتی راج تھا۔ کئی ہیڈ ماسٹروں اور استادوں کی شہرت میرے دم سے تھی۔ مجھ سے ملاقات ہوتے ہی کئی طالب علموں کے چہرے فق ہو جاتے تھے بلکہ چیخیں نکلتی تھیں۔ کئی تو اسکولوں سے ایسا بھاگے کہ کبھی پلٹ کر نہ آئے۔ اسکول دیر سے پہنچنے والوں اور ہوم ورک نہ کرنے والوں کی مجھ سے روز کی ملاقاتیں تھیں لیکن ہاف ٹائم میں اسکول کی دیوار پھلانگ کر باہر جا کر مزے کرنے والوں کی تو تاک میں رہتا تھا اور واپسی پر ایسا شاندار استقبال کرتا کہ ۔۔۔ خیر چھوڑئیے۔۔ ہر عروج کو زوال ہے۔۔۔ میرا بھی زوال آہی گیا۔ زمانہ بدلا زمانے کے انداز بدلے۔ سرکار نے میرے اسکول میں کام کرنے پر پابندی لگا دی کیونکہ کچھ لوگوں نے میری شہرت کا غلط استعمال کرنا شروع کردیا۔ میری دہشت سدھارنے کے بجائے اور بگاڑنے کا سبب بننے لگی۔ اپنی کسی محرومیوں کے بدلے میرے ذریعے معصوم بچوں پر نکلنے لگے۔ میری شہرت داغدار ہونے لگی۔ ہر طرف سے مجھ پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ہر برائی کا میں ذمہ دار ٹھہرا۔ ۔۔ نیا قانون پاس ہوا اور میں معطل ہو گیا۔ میں اسکول میں موجو د تو ہوں لیکن اب میری حیثیت اس ایٹمی ہتھیار کی طرح ہو گئی ہے جسے دکھا کر ڈرایاتو جا سکتا ہے لیکن چلایا نہیں جا سکتا۔ مجھے معطل ہونے کی ہر گز پرواہ نہیں کیونکہ میں کبھی بھی سرکار پر بوجھ نہیں تھا لیکن اب فکر اس بات کی ہے کہ جو کام میں رضاکارانہ انجام دیتا تھا وہ نئے قانون کے بعد کیسے انجام پائیں گے، بچوں کو ڈسپلن کون سکھائے گا؟ استاد کی رٹ کیسے قائم ہو گی؟ ۔۔۔ یہ تو قانون بنانے والے جانیں۔۔۔ میرا تو اسکولوں سے دیس نکالا ہو گیا ۔۔ شرارتی بچوں کو میں اب بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہوں لیکن کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے کچھ رشتہ دار محکمہ پولیس میں پکی نوکری پر ہیں اور بڑی عیش والی زندگی گزار رہے ہیں۔۔ سوچ رہا ہوں کچھ عرصہ چھترول والے ماحول میں گزار آؤں۔ ۔۔ شاید میری یاد آجائے میرے جانے کے بعد۔۔۔ آپ کا مولابخش!!!
shahzad.janggroup@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8527</link><pubDate>3/14/2013</pubDate></item><item><title>یہ کیسا موت کا رقص ہے۔۔۔؟</title><description>…محمد رفیق مانگٹ…
یہ کیسا موت کا رقص ہے، ہر آنکھ اشک بار، ہر دل غم زدہ ہے، مرنے والے کو نہیں پتہ اسے کیوں مارا گیا، اب تودرندوں سے نہیں انسانوں سے خوف آتا ہے۔ سریلے ترانوں کے خالق کہاں ہیں جو یہ کہتے تھے کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔۔۔ذرا ان جمہوری سرخیلوں کو بلاوٴ جو جمہوری دور کو دودھ اور شہد کی بہتی نہروں سے تشبیہ د یتے ہیں، مگر ان کی طرز حکمرانی نے ملک میں خون کی ندیاں بہا دیں، ملک میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں غیر فطری موت نے دستک نہ دی ہو۔قبرستان آباد ہوگئے،لٹھے کا کاروبار چل نکلا، تابوت بنانے والوں کی چاندی ہوگئی،گورکنوں کے گھر خوشحالی آگئی ہے، مردہ خانے کم پڑ گئے ہیں،گھر ویران اور فلیٹ سستے، مگر قبروں کی قیمتیں چار گنا ہو گئی ہیں۔ کس عزم سے ہم دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں، مرنے والے بھی ہم، مارنے والے بھی ہم۔
 پھر انتخابات کا دنگل سجنے جا رہا ہے،پھر شعبدہ بازوں کے بازار لگیں گے، پھر خوش کن نعروں کے ساتھ لوگوں کے جذبات سے کھیلا جائے گا، پھر انہیں روشن مستقبل کی نوید سنائی جائے گی۔ ذرا ان شعبدہ بازوں کے سامنے ہلاکتوں کے ان اعدادوشمار کوبھی پیش کریں، کہ ان کی شاندار حکمرانی، بہترین پالیسیوں اور اعلیٰ ظرفی نے کتنے قبرستان آباد کر دیے۔ موت برحق ہے لیکن غیر فطری موت کا اختیار شاید درندوں کو بھی نہیں، پھر ہم کس معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔
 ملکی اور غیر ملکی تھنک ٹینکس اور ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک بھر میں جاری دہشت گردی کے واقعات میں ایک دہائی میں 46500پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے جن میں پانچ ہزار سے زائد سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، رواں سال کے ابتدائی دو ماہ میں1350افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔2013ء میں فرقہ واریت کے40سے زائد پرتشدد واقعات میں تین سو سے زائد افراد جاں بحق جب کہ1989 ء سے2013ء کے درمیاں فرقہ واریت کے لگ بھگ2785سے زائد واقعات میں4450سے زائد افراد جاں بحق اور 8700سے زائد زخمی ہوئے۔ ڈرون حملوں سے بھی موت کا جی بھر کھیل کھیلاگیا۔ 2004 ء سے2013ء کے درمیان 364 ڈرون حملوں میں3573افراد جاں بحق جب کہ1463زخمی ہوئے،ان ہلاکتوں میں197بچے بھی شامل ہیں جب کہ امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم کے مطابق امریکا نے ڈرون حملوں میں4700افراد ہلاک کیے۔ جن میں چند ہلاکتیں یمن کی ہیں باقی تمام کارروائیاں پاک افغان سرحد پر کی گئی۔2001ء سے اب تک ڈاکٹروں پر32حملوں میں 30 سے زائد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔2001ء سے2013ء کے دروان وکلاء پر13 قاتلانہ حملوں میں35وکلاء جاں بحق اور134زخمی ہوئے۔پاکستان میں92سے زائد صحافیوں کو موت کی نیند سلادیا گیا ۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نہ ختم ہونے والاسلسلہ بھی جاری ہے۔ رواں برس کے ابتدائی دو ماہ میں 460افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکا رہوئے،ان میں50سے زیادہ تاجر قتل اور زخمی ہوئے۔گزشتہ پانچ برسوں میں کراچی میں لگ بھگ 8ہزار افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے جن میں صرف گزشتہ برس 2300 افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔رواں برس24فروری تک 8خودکش دھماکوں میں228افراد جاں بحق324 زخمی ہوئے۔ 2012ء میں365افراد ،2011ء میں628افراد ،2010ء میں167 افراد ،2009ء میں 949 افراد ،2008ء میں 893 افراد ،2007ء میں 765افراد،2006 ء میں 161 افراد خودکش دھماکوں مین اپنی جان کھو بیٹھے۔یہ تو جانی نقصان کے کچھ اعداد وشمار تھے،معاشی نقصان80ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، سماجی اورنفسیاتی نقصان تو ایک الگ المیہ ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس خون کی ہولی کے بعدکیا کسی کو سزا ملی یا کوئی قاتل بھی تختہ دار پر لٹکا یا گیا۔ موت کا بازار گرم کرنے والے کہاں سے آئے کہاں گئے، کچھ اتہ پتہ نہیں ۔الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے زیادہ بات بڑھ نہیں پائی۔انسانوں کے بنائے ہوئے آئین اور قوانین آسمانی کتابیں اور صحیفے نہیں کہ انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا،ان کا احترام شہریوں پر فرض ہے، لیکن جو آئین اور قانون انسانی جان کو تحفط نہ دے سکے تو پھر ہم کس چیز کی سلامتی کے ترانے گاتے ہیں، جس ماں کا جگرگوشہ چھن جائے اسے کس وطن کا ترانہ یاد دلاتے ہیں، جس کا گھر اجڑ جائے اسے کس ملک کی سلامتی کا احساس دلاتے ہیں اورکس جمہوریت کے گُن گاتے ہیں ۔ ملک بھر میں صرف 50قاتلوں اور دہشت گردوں کو سر عام پھانسی دی جاتی ۔کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں کسی کھلے مقام پر دس دس افراد کو سرعام تختہ دار پر لٹکایا جاتا اور اسے براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا تو آج ہزاروں معصوم شہریوں کی جان بچ جاتی، یہ بھی معلوم ہے کہ اس طرح کی پھانسی کا آئین میں کوئی ذکر نہیں، ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کی تنظیمیں وا ویلا مچاتی ہیں، شہریوں اور بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات کے مرتب ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں۔۔۔۔ذرا یہ بھی تو بتاوٴکہ ہر روز گاجر مولی کی طرح انسانوں کو جوکاٹا جا رہا ہے،کیا اس کو ٹی وی نہیں دکھاتا، لگتا ہے کہ ایسے دل دوز واقعات کو دیکھ کر ہماری آنکھیں پتھرا چکی ہیں، جب صورت حال انہونی شکل اختیار کر جائے اور معاملات اور مسائل کا حل مروجہ قوانین اور طریقہ کار سے نہ نکل سکیں تو پھر غیر معمولی راستے اپنائے جا سکتے ہیں۔ آپ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے تو پھر قبرستان آباد ہوتے رہیں گے۔سوال جمہوریت یا آمریت کا نہیں، سوال انسانی زندگی کا ہے جو سب سے مقدم ہے، اگر غیر معمولی اقدام سے ملک میں سکون آسکتا ہے تو یہ سودا برا نہیں ، سپریم کورٹ بھی ایسا حکم دے سکتی ہے۔
mawngat@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8503</link><pubDate>3/5/2013</pubDate></item><item><title>سیکورٹی یا عوام کیلئے پریشانی ؟</title><description>…علی معین نوازش…
جب کبھی بھی ہماری عام سڑکوں یا گلیوں میں کسی یقینی تشدد آمیز واقعہ کا خدشہ ہوتا ہے تو ہماری حکومت اور انتظامیہ کا پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ مصروف مقامات کو بند کیا جائے، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور چیک پوسٹوں کے ذریعے مختلف علاقوں کو سِیل کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات تو حالات ٹھیک ہونے کے بعد بھی کچھ جگہوں پر رکاوٹیں اور چیک پوسٹیں ویسے کی ویسے ہی رہتی ہیں ، بظاہر ہم شہریوں کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سکیورٹی اصل میں ہم عوام کے لے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس سے عوام کو صرف تکلیف اور بے جا پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی جب ہزارہ قبیلے کا قتلِ عام اور ایم کیو ایم کے استعفوں کے بعد بلاول ہاؤس کی طرف جانے والے راستے بلاک کر دیے گئے تھے تو لوگوں کے لیے کہیں بھی سفر کرنا ناممکن ہو گیاتھا نہ ہی وہ گھر جا سکتے تھے ، نہ شہر سے باہر یا اندر، نہ اپنے کام پر۔ اور اسی دوران ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے اسلام آباد اور لاہور ائیر پورٹ تقریبا َ بند پڑے تھے۔پروازیں، بسوں کا آنا جانا، روز مرہ کا کاروبار سب سکیورٹی کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ ہرچیز غیر حتمی طورپر رک سی جاتی ہے اورزندگی کبھی چلتی ، کبھی رکتی ہے۔ لیکن جب تشدد کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا اصل نشانہ کون بنتا ہے؟
کون ان گلی محلوں میں اپنی جان، اپنے اثاثوں اور اپنے ہوش و حواس سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے؟ یقیناَ یہ لوگ خاکی وردی میں نہیں ہوتے نہ ہی بڑی بڑی گاڑیوں میں سوارہوتے ہیں؟ پولیس ، رینجرز اور فوج سب لوگوں کو تحفظ کرنے کی بجائے چند ایک گھروں، عمارتوں ، ہیڈکواٹروں یا شاید کسی گالف کورس کے تحفظ پر مامور نظر آتے ہیں۔ عوام کا کتنا پیسہ اقتدار میں بیٹھے ان افراد کو پروٹوکول دینے میں جھونک دیا جاتا ہے ۔ کتنے ہی افراد ان کی خدمت میں مامور ہوتے ہیں اور کتنی ہی گاڑیاں انکے قافلوں میں شامل ہوتی ہیں۔ اس دوران میں کتنے لوگوں کو اپنے کام ، کسی میٹنگ، یا شاید کسی ہسپتال میں کسی ایمرجنسی میں پہنچنے کے لیے جام ہوکر رہ جاتے ہیں مزے کی بات یہ کہ مجھے سڑکوں ہر جتنی ذیادہ سکیورٹی نظرآتی ہے اتنا ہی میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہوں۔ ا س کے باوجود ویسے ہی بم دھماکے ہو رہے ہیں، فرقہ وارانہ قتل و غارت بھی ویسے ہی جاری ہے اور ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم وردی والے محافظوں پر اعتبار کریں اور ان کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ وہ ہمارے لیے ہی تو باہر کھڑے ہیں۔یہ بھی کیا خوب دھوکہ ہے۔ وہ یقیناَ باہر موجود ہیں لیکن میرے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ کچھ مقاصدی گروہوں، طاقت ور شخصیات اور جرنیلوں کے لیے۔ مجھے تو ان لوگوں کی وجہ سے صرف پریشانی اور تاخیر ہی نصیب ہوئی ہے۔ہمارے ہاں بھی سکیورٹی کا کچھ عجیب ہی حساب ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8489</link><pubDate>2/28/2013</pubDate></item><item><title>امریکی دباؤ مسترد کردیا جائے!</title><description>…سید شہزاد عالم…
امریکانے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی ایک بار پھر کھل کر مخالفت کر دی ہے۔ پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر امریکا کو تحفظات ہیں، توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف وزیر اعظم کے مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کہتے ہیں کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر امریکا کا کوئی دباوٴ نہیں، اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، دوسری طرف ہمارے سامنے ایران کے قونصل جنرل محمدی سبحانی کا بیان بھی ہے کہ پاک ایران تعلقات پرامریکا ناراض ہے۔ امریکا اور اسرائیل پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کے دشمن ہیں اور دونوں ممالک نہیں چاہتے ہیں ایران پاکستان کوگیس فراہم کرے تاہم تمام رکاوٹوں کے باوجود ایران پاکستان کے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے بھرپور مددکرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسی سرگرمیوں سے گریزکرے جو پابندیوں کی زد میں آسکتی ہوں۔ امریکا کو پاکستان کے توانائی بحران کا احساس ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا پاکستان سے تعاون کررہا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ امریکی تعاون سے فائدہ اٹھائے۔اگرچہ پاکستانی حکام اپنی عوام کو یہی نوید سناتے رہتے ہیں کہ ایران سے گیس پائپ لائن منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا اور امریکا کا ا س معاملے میں کوئی دباؤ نہیں ہے لیکن حقیقت اس کے بر عکس سامنے آئی ہے۔ پاکستانی قیادت عوام سے کیوں غلط بیانی کرتی ہے یہ تو وہی جانے لیکن ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستانی معیشت کی بحالی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔خود پاکستانی مشیر یہ کہتے ہیں کہ سستی گیس کا زمانہ گیا اور اب گیس کی قلت کی وجہ سے مہنگی گیس ملے گی۔ چند دن پہلے یہ بھی خبر آئی تھی بدین اور سوئی کے پلانٹ سے 2025 کے بعد سے گیس کی فراہمی بند ہو جائے گی لہٰذا ایران سے گیس کی درآمد کا منصوبہ پاکستانی عوام اور معیشت کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان کو ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی دباؤ کو مسترد کر دینا چاہئے۔ ایران کا امریکا اور مغربی ممالک سے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے جو تنازعات ہیں اور جو پاندیاں عائد ہیں ان پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مذاکرات ہوتے رہتے ہیں اور یہ نا ممکن بھی نہیں کہ دونوں فریقین کسی تصفیہ کی جانب بڑھ سکتے ہوں لیکن ان پابندیوں کو بنیاد بنا کر پاکستان کو وارننگ دینا کہ وہ بھی ایران سے تجارت کے باعث پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے کسی دوست کا کام تو نہیں ہو سکتا۔ ایسا وہی کر سکتا ہے جو پاکستان کو اندھیروں میں ڈوبتا دیکھنا چاہتا ہو اور جسے پاکستانی عوام سے کوئی ہمدردی نہ ہو۔ ماضی میں امریکا نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کی، فرانس سے جوہری پلانٹ کا منصوبہ ختم کرایا، کنیڈا کو کینوپ منصوبے کے لئے بھاری پانی کی فراہمی سے روکا۔ چین سے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی مخالفت کی، سول جوہری ٹیکنالوجی دینے سے انکار کیا اور اب ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے اور پھر یہ کہنا کہ پاکستان کے ”دوست“ امریکا کو پاکستان میں توانائی کے بحران کا احساس ہے ، ایک مذاق نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ 
shahzad.janggroup@gmail.com</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8488</link><pubDate>2/28/2013</pubDate></item></channel></rss>