<?xml version='1.0' encoding='utf-8' ?><rss version='2.0'><channel><title>Jang Blog</title><link>http://jang.net/blog</link><description>Jang Blog</description><language>en-us</language><copyright>Copyright Jang Group of NewsPaper</copyright><docs>http://jang.net/blog</docs><lastBuildDate>6/5/2008 6:51:05 AM</lastBuildDate><image><title>GEO</title><url>http://jang.net/blog/images/top.gif</url><link>http://jang.net/blog</link></image><item><title>فاسٹ باؤلر محمد آصف دبئی میں زیرحراست؟</title><description>پاکستانی فاسٹ باؤلرمحمد آصف کو ممنوعہ اشیاء رکھنے اور استعمال کرنے پر دبئی ایئر پورٹ پر روک لیا گیا اور انہیں تحویل میں لے کر زیر حراست رکھا گیا ہے، وہ انڈین پریمئر لیگ میں شرکت کے بعد براستہ دبئی پاکستان واپس آرہے تھے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ انہیں جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق وہ ایئر پورٹ پر نشہ کی حالت میں تھے۔کسٹم آفیسر سے ان کی تکرا رہوئی تھی ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام ان کی رہائی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2815</link><pubDate>6/4/2008</pubDate></item><item><title>صدر اور حکومت کے درمیان اختلافات؟</title><description>پیپلزپارٹی کے رہنما آصف زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ صدر پرویز اور ان کی حکومت کے درمیان اختلافات موجود ہیں،ان پرعوام کی جانب سے شدید دباؤ ہے کہ وہ صدر مشرف سے نجات حاصل کرلیں،صدر مشرف جمہوری صدر ہیں نہ قانونی، عوام روٹی بجلی نہیں پرویز مشرف سے نجات چاہتے ہیں ۔آپ کے خیال میں کیا واقعی حکومت اور صدر مشرف کے درمیان اختلاف شدت اختیار کررہے ہیں؟موجودہ صورتحال کے پس پردہ کیا عوامل ہوسکتے ہیں؟کیا جمہوریت خطرے میں ہے؟اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2780</link><pubDate>5/23/2008</pubDate></item><item><title>کیا اسامہ کے ٹو کی پہاڑیوں پر موجود ہیں؟</title><description>ایک عرب ٹی وی کے مطابق القاعدہ کے رہنمااسامہ بن لادن کے ٹو کی پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔گذشتہ چند دنوں سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی فوجی اڈے پر اعلیٰ سیکورٹی و فوجی حکام کے اجلاس میں یہ عندیہ دیا گیا کہ اسامہ بن لادن کوہ ہمالیہ کے بلند و بالا سلسلے میں موجودہوسکتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ انہیں پہاڑیوں میں کہیں چھپے ہوں، افغانستان، عراق اور پاکستانی علاقوں میں اسامہ کی تلاش میں ناکامی کے بعد کے ٹو کی پہاڑیوں میں اسامہ کی تلاش ممکن ہوسکے گی ؟ یا امریکیوں کی اس منصوبہ بندی کے پیچھے کوئی رازہوسکتا ہے؟ یا صرف خام خیالی ہے؟ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2791</link><pubDate>5/27/2008</pubDate></item><item><title>کیا کالا باغ ڈیم کا منصوبہ قابل عمل نہیں رہا؟</title><description>وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم متنازع بن گیا تھا اور اس منصوبے کے خلاف سرحد اور سندھ اسمبلی میں قراردادیں بھی منظور کی جا چکی تھیں، اس لیے اسے ہمیشہ کیلئے ختم کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی کے لئے دیگر وسائل تلاش کئے جائیں گے۔ اس منصوبے کے لئے مختص رقم کسی اور پروگرام پر خرچ کی جائے گی، کوئلے، پانی، ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی کا حصول ممکن بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر کے اس بیان پر آپ کیا کہیں گے؟ کیا بجلی کا حصول ممکن ہوسکے گا؟ کیا ڈیمز کے دیگر منصوبے بھی اسی طرح نا قابل عمل ہوجائیں گے؟ آپ کی کیا رائے ہے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2792</link><pubDate>5/27/2008</pubDate></item><item><title>مسئلہء کشمیر کے حل کے لیے نءی تجاویز</title><description>کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے۔نصابی کتابوں میں یہی لکھا ہے۔نصاب بدلا جا رہا ہے۔بچوں کو اب لڑنے جھگڑنے کے بجائے برداشت اور بھائی چارگی کی تعلیم دی جائے گی۔کچھ لوگ اس تغیر پذیری پر خوش نہیں ہیں۔شور و غوغہ اُٹھ رہا ہے۔کشمیر سے دست برداری نظریہ ء پاکستان سے ہاتھ اٹھانے کے مترادف سمجھی جائے گی۔ یہی بات کبھی افغان پالیسی کے حوالے سے کہی جاتی تھی۔پالیسی بدل گئی۔حالات نہیں بدلے۔پہلے بھی ہم امریکی اتحادی تھے ۔ آج بھی ہراول دستہ ہیں۔صدر پرویز مشرف نے کشمیر پر پاکستان کی دعویداری سے دست برداری کی جو مشروط پیش کش کی ہے۔ اس سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن عوامی سطح پر کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ اپوزیشن جماعتیں حقوق نسواں کے قبول و رد میں الجھی ہوئی ہیں۔بے نظیر بھٹو وزیر اعظم ہوتیں یا نواز شریف امیر المومنین بننے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہوتے اور کشمیر سے دست برداری کی بات کرتے توپہلے انہیں قاضی حسین احمدکے کفن پوش دستوں کی سیسہ پلائی ہوئی دیواروں سے ٹکرانا پڑتا۔صدر مشرف خوش قسمت ہیں کہ انہیں مولانا فضل الر حمٰن کی شکل میں دوستانہ اپوزیشن ملی ہے۔اب اگر صدر مشر ف کے فارمولے پر عمل ہو جاتا ہے تو پھر کشمیر کے نام پر مختص کیے جانے والے بھاری دفاعی بجٹ کا کیا ہوگا۔اور جن تنظیموں، اداروں اور جماعتوں نے کشمیر فنڈز قائم کر رکھے ہیں ان میں جمع ہونے والی خطیر رقوم کون سے حلقوم کا لقمہ بنیں گی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پان والے کا کیا بنے گا جس نے اپنی دکان پر جلی حروف سے لکھ رکھا ہے۔ کشمیر کی آزادی تک ادھار بالکل بند ہے!!
(ایک راءے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2</link><pubDate>12/24/2006</pubDate></item><item><title>اسٹریٹ کرائمز۔۔کیا آپ بھی شکا ر ہوئے ہیں؟</title><description>کراچی میں رہنے والی ایک ماں۔۔جس کی بوڑھی آنکھوں میں جوان بیٹے کی زندگی چمکتی تھی۔اب دیکھتی ہے تو تاریکی کے عمیق سائے اس کی پلکوں پر بوجھ ڈالنے لگتے ہیں۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ شارع فیصل پر واقع ایک عمارت کے باہر بم دھماکا ہوا۔وزیراں بی بی کا بیٹا ڈیوٹی پر موجود تھا۔دیگر لوگوں کے ساتھ وہ بھی لقمہ ء اجل بن گیا۔حکومت نے حسب ِ معمول لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔جہاں انصاف ملنے میں عمریں گزر جائیں۔قیمتی جان جانے کامعاوضہ ایک سال گزرنے سے پہلے مل جائے تو غنیمتہے۔وزیراں بی بی ایک لاکھ روپے کی امدادی رقم لے کر جیسے ہی بینک سے باہر نکلی۔ڈاکوؤں نے روک لیا۔وہ اپنی مفلسی اور کسمپرسی کی دہائی دیتی رہ گئی۔ڈاکو بہت با خبر تھے۔کہا جو رقم بینک سے ملی ہے وہ ہمارے کر دو۔ناچار کیا کرتی۔رقم ڈاکوؤ ں کو دے دی اوراب جواں مرگ بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے منصفی کے دعویداروں کو خالی نظروں سے دیکھتی رہتی ہے زبان سے کچھ نہیں کہتی۔کراچی کی سڑکوں پر ایسی داستانیں روز جنم لیتی ہیں اور اگلے روزکسی اور نئی داستان کے نیچے دب جاتی ہیں۔ایک اور ماں اپنی بیٹی کی شادی کرنے دبئی سے کراچی آئی۔ایک پیکٹ جو اس کے ہاتھ میں تھا۔اس میں لاکھوں کے زیورات تھے۔ائر پورٹ سے گھر جاتے ہوئے راستے میں ڈاکو ؤں نے وہی پیکٹ چھین لیا۔کوئی تو ایسا جادو ہے جس کے دم سے ڈاکواپنے شکار کی قدروقیمت کا اندازہ پہلے سے لگا لیتے ہیں۔اور ایسا وار کرتے ہیں جو کبھی خطا نہیں جاتا۔ غالب نے دلی کے بارے میں کہا تھا۔ 
 چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے۔۔۔۔گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
اٹھارہویں صدی کے دلی اور اکیسویں صدی کے کراچی میں اتنی مماثلت کیوں ہے۔ارباب اختیار کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ لوگوں کی امارت و خوشحالی کی دلیل ہے۔بیٹے کو گنوا کر ایک لاکھ روپے کی امدا د پانے والی ما ں کتنی خوشحال تھی اور کتنی بدنصیب۔وقت کے منصف کو فیصلہ تو کرنا ہے۔
(انوشے عالم۔ کراچی)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=4</link><pubDate>12/24/2006</pubDate></item><item><title>صدام حسین کی پھانسیی</title><description>صدام حسین بچپن میں گھر سے بھاگنے سے لے کر پھانسی گھاٹ پہنچنے تک کہیں ہیرو اور کہیں ولن تھے۔ان سے بیک وقت نفرت بھی کی جا سکتی تھی اور محبت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو پھانسی دیے جانے پر کہیں خوشی و شادمانی کے شادیانے بجائے گئے اور کہیں صفِ ماتم بچھی رہی۔ عراقی عوام اور پڑوسی ممالک کے حوالے سے ان کے جرائم کی ایک طویل فہرست ہے جو ان کے مخالفین ان کی پھانسی کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن گھر سے بھاگنے والوں بچوں کی ہر کام سے فرار اختیار کرنے کی مجموعی نفسیات کے برعکس صدام حسین عرب دنیا اور فلسطین کے حوالے سے جس طرح آخری سانس تک اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔اس بات نے انہیں عرب قوم پرستی ایک ایسی علامت بنا دیا ہے جو آگے چل کر باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔صدام حسین کی پھانسی کا اسکرپٹ کس نے لکھا۔ عید کے دن پھانسی دینے کا حکم نامہ کہاں سے آیا اور صدام کی موت کے بہانے فرقہ وارانہ تقسیم بڑھا کر پورے عراق کو پھانسی پر لٹکانے کا منصوبہ کس نے بنایا۔ تیس تیس سال کے لیے تیل کے ٹھیکے حاصل کرنے والی مغربی کمپنیوں کے پاس اتنا وقت کہاں بچے گا کہ وہ ڈالر گننا چھوڑ دیں اور ان سوالوں کا جواب دینے بیٹھ جائیں جو عراق کی آنے والی نسلوں کے نام ہمیشہ کے لیے لکھ دیے گئے ہیں۔
(ایک راءے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=6</link><pubDate>1/8/2007</pubDate></item><item><title>الیکشن کی تیاریاں</title><description>لیکشن اس سال ہوں گے یا اگلے سال۔فی الحال حتمی تاریخ کا اعلان حکومت کر رہی ہے نہ اپوزیشن ہی خیال آرائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔جوتشیوں اور نجومیوں نے صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کو مرکزِنگاہ بنا رکھاہے۔ان کی قسمت کے ستارے کون سی گردش میں ہیں۔ اور ہاتھوں کی لکیریں اقتدار کی رسی کہاں تک دراز کرتی نظر آتی ہیں۔ حساب کتاب کی تھوڑی بہت اونچ نیچ کے ساتھ سب کی یہی رائے ہے کہ الیکشن کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں بھی صدر پرویز مشرف کا ستارہ ہی عروج پر ہوگا۔اسے مزید دوام بخشنے کےلیےسیاسی ومذہبی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اور ڈیل کی باتیں بھی چلتی رہتی ہیں۔پاکستانی سیاست میں اتحاد ٹوٹتے بنتےرہتے ہیں۔پارٹیاں بھی اپنے نام تبدیل کر کے نئی صف بندی کرتی ہیں۔ مسلم لیگ حروف تہجی کے اعتبار سے اپنے ساتھ لاحقے سابقے لگاتی رہتی ہے لیکن اصل مطمع ء نظر یہی ہوتا ہے کہ اقتدار کی باگ ڈور شطرنج کے انہی مہروں کے ہاتھ میں رہے جو شاہ کے مصاحب بھی ہیں اور اس پر اتراتے بھی ہیں۔اپوزیشن میں رہنےوالی جماعتیں بھی اپنے ہاتھوں میں اقتدار کی لکیریں نمایاں ہونے کی منتظرہیں۔صدر مملکت نے اگلے الیکشن کو تمام انتخابات کی ماں قرار دیا ہے۔ماں کا خیال آتے ہی ایک ایسی ہستی دل و دماغ میں روشنی کی کرنیں بکھیرنے لگتی ہے۔ جس کی نظر میں تمام بچے برابر ہوتے ہیں۔حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی لوگ ایک ماں کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں حکومت اپنی غیر جانبداری کہاں تک برقرار رکھتی ہے اورالیکشن کمیشن ایک ماں کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ نہیں۔.
   (ایک راءے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=7</link><pubDate>1/8/2007</pubDate></item><item><title>شعیب اختر کو غصہ کیوں آتا ہے</title><description>راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور پاکستانی اسپیڈسٹار شعیب اختر کا نام ایک بارپھر شہ سرخیوں میں ہے۔لیکن اس کی وجہ نہ تو ان کا بولنگ ایکشن ہے اور نہ ہی مثبت ڈوپ ٹیسٹ ہے۔ اس بار وہ جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوران اپنے آپ کو زخمی کر بیٹھے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے کوچ باب وولمر کے ساتھ جھگڑا بھی کر لیا ہے۔ شعیب اختر کو غصہ کیوں آتا ہے۔اس کا سبب ان کے خون میں شامل وہ مرکبات ہیں جو انہیں تیز رفتاری پر مجبور کرتے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی تیز رفتار بولر گزرے ہیں ان کے مزاج میں غصے کی آمیزش بدرجہ ء اتم موجود رہی ہے۔ لیکن ان کا غصہ ہمیشہ مخالف ٹیم کے بلے بازوں پر نکلتا تھا ۔ جب وہ تالیوں کی گونج میں وکٹوں کی جانب دوڑتے اور تیز رفتار باؤنسر سے مخالف بیٹسمین کے سر یا کاندھے کو نشانہ بناتے توان کے غصے پر سب کو پیار آنے لگتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان، مائیکل ہولڈنگ، جوئیل گارنر، این بوتھم ، ڈینس للی اور رچرڈز ہیڈلی کو آج بھی لوگ محبت سے یاد کرتے ہیں۔ شعیب اختر کا غصہ میدان کے اندر مخالف ٹیم پر نکلنے کے بجائے میدان سے باہر اترنے لگا ہے۔ جس پر پیار آنے کے بجائے شائقین کرکٹ کو بھی غصہ آنے لگا ہے۔۔(ایک راءے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=8</link><pubDate>1/22/2007</pubDate></item><item><title>صدر بش کی عراق پالیسی۔کتنی کامیاب،کتنی ناکام</title><description>
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک بار پھر اپنی عراق پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے امریکی عوام اور کانگریس سے اپیل کی ہے کہ ان کی نئی حکمت عملی کوموقع دیا جائے۔عراق میں امریکا کا جیتنا انتہائی ضروری ہے۔ شکست کی صورت میں تشدد پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل جائے گا۔ اسٹیٹ آف دی یونین کے سالانہ خطاب میں امریکی صدر نے کانگریس سے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے ۔امریکا کو اس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے۔امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی اکثریت اور صدر بش کی عراق پالیسی کی مخالفت نے یقینی طور پر امریکی صدر کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ اپنے سالانہ خطاب میں انہوں نے جو معذرت خواہانہ لب ولہجہ اختیار کیااور امریکی عوام کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کی اس سے پہلے وہ اس انداز میں گفتگو نہیں کرتے تھے۔ ان کا انداز تخاطب انتہائی جارحانہ ہوتا تھا۔دہشت گردی کے عالمی جنگ میں شامل اتحادی ممالک میں بھی اس حوالے سے رائے عامہ تبدیل ہو رہی ہے اور خاص طور پر امریکہ میں صدر بش کی عراق پالیسی کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامناہے ۔ اب جبکہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کو پھانسی ہو چکی ہے۔ اور امریکا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جن ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کیا تھا وہ ہتھیار بھی نہیں ملے۔چنانچہ امریکی افواج کی عراقی سرزمین پر تا دیر موجودگی یا افواج کی تعداد میں اضافے کا جواز باقی نہیں رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی محل نظر ہے کہ عراق میں امریکی و اتحادی افواج کی آمد سے قبل زیادہ تشدد تھا یا ان افواج کی موجودگی اس میں اضافے کا باعث بنی ہے۔
(ایک راءے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=10</link><pubDate>1/24/2007</pubDate></item><item><title>روشنیوں میں چھپا خوف</title><description>لوگ کہہ رہے ہیں کہ کراچی آہستہ آہستہ دوبارہ روشنیوں کا شہر بنتا جا رہا ہے میرا بھی یہی خیال ہے کچھ سال قبل صورتحال ایسی نہیں تھی کراچی کی سڑکیں اور گلیاں ویران اور تاریک ہوگئیں تھیں، لوگ سر شام اپنے گھروں کو واپس آ کر مقید ہوجاتے تھے لیکن اب یہ شہر ایک نئی کروٹ کے ساتھ ایک نئے انداز سے اپنے آپ کو متعارف کرا رہا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ دونوں کی یہ خواہش ہے کہ اس شہر کو حقیقی معنوں میں قائد اعظم کا شہر بنا دیا جائے۔اس کے رہنے والوں کے درمیان اخوت، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کی ایک ایسی فضا پیدا کی جائے جس کو کوئی فرد یا سیاسی قوت ختم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس سلسلے میں کراچی میں اس ماہ ایسی تقریبات ہوئیں جس نے کراچی اور اندرون سندھ عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں انتہائی موثرکردار ادا کیا تھا۔  گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ اپنے تئیں کراچی سمیت سندھ کے تمام علاقوں کے مسائل حل کرنے میں کوشاں ہیں اور اس کا مختلف تقریبات اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے اظہار بھی کرتے رہتے ہیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور ماضی کی ناقص منصوبہ بندی اور عدم توجہی کی بنا پر مسائل ہنوز حل طلب ہیں، اس لئے عوام کو پریشانیوں کا بھی سامنا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اسی قسم کی ایک پریشانی جوابھرتی ہوئی روشنیوں میں خوف کا پیغام دیتی ہے وہ اسٹریٹ کرائمز ہیں جن کو روکنے میں صوبائی حکومت ناکام نظر آ رہی ہے۔ ہر چند کہ صوبائی حکومت اور خود گورنر صاحب کو اس پریشان کن، انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک صورتحال کا ادراک ہے، لیکن اس کے باوجود اسٹریٹ کرائمز کو موثر طور پر کم کرنے یا اس کو روکنے کے سلسلے میں پیشرفت با ثمر ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ شاید ہی کراچی میں کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب جرائم پیشہ عناصر نے اپنا ہاتھ نہ دکھایا ہو۔ کاریں اور موبائل کا چھننا اب روز کا معمول بن چکا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ڈکیتی، قتل اور منی بسوں کو روک کر لوٹ مار کرنا بھی اب روز کے معمول میں شامل ہوچکا ہے۔ بعض ایسی بھی وارداتیں ہوتی ہیں جس کا نہ اخبار میں تذکرہ ہوتا ہے اور نہ ہی پولیس میں رپورٹ درج کرائی جاتی ہے لیکن یہ وارداتیں ہورہی ہیں جس کی وجہ سے کراچی کا ایک عام شہری خوف میں زندگی بسر کررہا ہے اور یہ ایسا خوف ہے جس نے اعصابی بیماریوں کو جنم دیا ہے کراچی کے عوام کی اکثریت خوف کی وجہ سے ذہنی مریض بن چکی ہے۔کراچی کے شہری خوف کے ساتھ ساتھ ایک ایسی بے بس زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس کی کوئی تشریح ممکن نہیں ہے۔ سڑکوں اور شاہراہوں پر روشنی بکھری ہوئی ہے، اس روشنی اور گہما گہمی کے درمیان کوئی پر امن شہری جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں کہیں لٹ رہا ہے یا قتل ہورہا ہے، کوئی فریاد، آہ و بکا کارگر نظر نہیں آتی ، شہر پھیل رہا ہے، انسانیت سکڑ رہی ہے۔ ہر سو روشنیوں میں خوف چھپا ہوا ہے اور جرائم پیشہ عناصر دندناتے پھر رہے ہیں۔ 

(آغا مسعود حسین کے کالم سے اقتباس)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=14</link><pubDate>1/27/2007</pubDate></item><item><title>پاکستان میں خود کش دھماکے</title><description>پچھلے دو تین دنوں میں تسلسل کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں میں خودکش دھماکے ہوئے ہیں جن میں درجنوں قیمتی جانیں چلی گئی ہیں۔پہلا دھماکا اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ہوا۔جس میں ایک سیکورٹی گارڈ خود کش حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔اگلے روز پشاور کے قصہ خوانی بازار میں اسی نوعیت کا دھماکا ہوا جس میں پشاور کے پولیس چیف سمیت کئی پولیس اہلکار اور سویلین جاں بحق ہو گئے۔ ایک اور خود کش دھماکا ڈیر ہ اسماعیل خان میں ہوا ہے جہاں ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوا ہے۔ایک طرف پاکستان بھر میں اس طرح کے افسوس ناک واقعات رونما ہو رہے ہیں اور دوسری طر ف دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحا د میں شامل ملکوں کے گروپ لیڈر امریکا سے اس قسم کی اطلاعات آرہی ہیں کہ امریکی حکام دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی پاکستانی کوششوں سے زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔طالبان افغانستان میں ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ پاکستان سے کیا جا رہاہے۔ جبکہ پاکستانی شہری خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ صدر پرویز مشر ف اور وزیر اعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ لوگ خودکش حملہ آوروں کے خوف سے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ملک خود دہشت گردی کا شکار ہو وہ امریکا یا اس کے اتحادیوں کی مد د کیسے کر سکتا ہے۔(ایک رائے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=23</link><pubDate>1/29/2007</pubDate></item><item><title>کیا خزانہ بھر گیا ہے؟</title><description>وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ 7 سال قبل جب جنرل پرویزمشرف نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو خزانہ خالی تھا، اُس وقت کے لیڈروں نے لوٹ مار کرکے اپنی جیبیں بھر لی تھیں لیکن اب جو قیادت ہے اس نے اپنی جیبیں نہیں بھریں بلکہ قومی خزانے کو بھرا ہے اور اب کوئی اسے ہاتھ نہیں لگا سکے گا کیونکہ یہ قوم کا پیسہ ہے۔ وہ پیرکو بیلجیئم اور لکسمبرگ سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت ملک کو آگے لے کر جا رہی ہے۔ آج دنیا میں پاکستان کا ایک مقام ہے۔ لاکھوں قربانیوں سے حاصل ہونے والے ملک کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ پاکستان کو میلی نظر سے دیکھنے والی آنکھ پھوڑ دیں گے۔ خواتین کیلئے قانون سازی قرآن و سنّت کے عین مطابق ہے۔ موجودہ حکومت نے صدر پرویز کی قیادت میں قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ پاکستان نے کسی ملک کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی۔ مسلم لیگ اور اس کی حلیف جماعتیں انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حصہ لے کر کامیابی حاصل کریں گی۔ 
(وزیراعظم شوکت عزیز کا پاکستانی برادری سے خطاب)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=29</link><pubDate>1/30/2007</pubDate></item><item><title>ایڈز ایک خوفناک عفریت</title><description>اس وقت دنیا بھر میں جس مرض کی ہولناکی موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور ساری دنیا کے لوگ لرزہ براندام ہیں وہ عالمگیر مرض ایڈز ہے دنیا کا کوئی خطہ کوئی ملک اس مرض سے محفوظ نہیں ہے لیکن زیادہ تریورپی اور افریقی ممالک اس کا شکار ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگناءزیشن کے مطابق دنیا بھر میں چار کر وڑ بیس لاکھ سے زائد افراد ایڈز میںمبتلا ہیں صرف 2005ء میں اب تک تیس لاکھ افراد ایڈز سے ہلاک ہوچکے ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زائدبچے ہیں۔جبکہ اقوام متحدہ کے ایچ آئی وی ایڈزپروگرام کی نئی ڈپٹی ڈائریکٹر'' ڈےبورالینڈلے ''کے مطابق پاکستان میں ایڈز کی بیماری کا وباء کی صورت اختیار کرنے کاشدید خطرہ ہے۔بی بی سی کی ایک حالیہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے نشہ کرنے والوں میں سے 23فیصد ایچ آئی وی کا شکار پائے گئے جبکہ سات سال قبل ایسے ہی ایک سروے میں صرف ایک شخص اس وائرس کا شکار پایا گیا تھا ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وباء کا کراچی تک محدود رہنا ناممکن ہے کیونکہ بہت سے نشہ کرنےوالے کراچی آنے سے قبل ملک کے دیگر شہروں میں رہائش پذیرتھے اور وہاں بھی استعمال شدہ سرنج کے ذریعے نشہ کر چکے ہیں ۔ 
پاکستان میں عام افراد کو اس مرض کے بارے میں بہت کم آگاہی ہے حکومت پاکستان کے علاوہ میڈیکل،ہومیواور طبی اداروں ،یونانی، سماجی ورفاہی این جی اوزکی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مرض کے بارے میں بلاجھجھک عوام کو آگاہ کریں انہیں اس کے اسباب اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتائیں۔ 
تمام ترترقی کے باوجود موجودہ سائنس''کمپیوٹر اور ایٹم کے اس دور میں دنیا بھر کے جدید میڈیکل سائنس،ایلوپیتھک اور دیگر معالجین کے پاس ابھی تک اس مرض کاکوئی موثر علاج نہیں ہے اگرچہ طب مشرقی اسلامی کے پاس انسانی قوت مدافعت کو تقویت دینے والی بے شمار دوائیں موجود ہیں تاہم ایڈز کےوائرس کے خاتمے کے سلسلے میں ابھی اس فطری علاج کے معالجین بھی عاجز ہیں لیکن تحقیق کے دروازے بند نہیں۔حال ہی میں ایک تحقیق کے مطابق ایک خاص مشروم ''''شی ٹیک ''''اور لہسن سے ایڈز کے علاج میں کچھ پےش رفت ہوئی ہے یہ بات طے شدہ ہے کہ اس مرض کا علاج بھی اس فطری طب سے ہی وقوع پذیر ہوگا۔کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ دنیا میں کوئی مرض ایسی نہیں پیداکی گئی جس کا علاج نہ ہویہ علیحدہ بات ہے کہ انسانی عقل ابھی وہاں تک نہیں پہنچی فی الحال دنیابھر میں اس مرض کے علاج کے نام پر جو کچھ ہورہاہے وہ محض مختلف شکایات وعلامات کا روایتی علاج اورمریض کی عام دیکھ بھال اور حوصلہ افزائی ہے ۔پاکستان میں بھی ایڈز کے مریضوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ہمارے نوجوانوں کاحق ہے کہ وہ اس مرض کے بارے میں جانیں اس کے اسباب اور احتیاطی تدابیر سے بہرہ ورہوں ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں سے زندگی کی حقیقتوں کو چھپانانہیں چاہیے اسی صورت میں ہمارا اور پاکستان کا یہ مستقبل صحت مندمعاشرے کا باعث بنے گا۔

 قاضی ایم اے خالد</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=47</link><pubDate>1/31/2007</pubDate></item><item><title>باب وولمر کو شعیب اختر پر تنقید نہیں کرنی چاہئے تھی، وسیم اکرم</title><description>ماضی کے عظیم آل راؤنڈر اور سابق کپتان وسیم اکرم نے شعیب اختر اور باب وولمر کے جھگڑے کی ذمہ داری پاکستانی کوچ پر عائد کرتے ہوئے کہاکہ اگر شعیب کی جگہ وہ ہوتے تو ان کا ردعمل بھی ایسا ہی ہوتا۔ شعیب فٹ نہیں تھے تو وولمر کو ان پر تنقید کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ وسیم اکرم نے سلیم ملک کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان پر عائد پابندی ختم ہونی چاہئے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عظیم فاسٹ بولر وقار یونس کی تضحیک کی ہے۔ وقار یونس کا بورڈ کے خلاف ردعمل فطری تھا۔ پی سی بی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ عظیم بولر کے ساتھ زیادتی کرے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب میں مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ماضی کے مایہ ناز فاسٹ بولر نے کہا کہ اگر شعیب اختر فٹ نہیں تھے تو کوچ وولمر کو ان پر تنقید نہیں کرنا چاہئے تھی۔ انہوں نے کہاکہ اگر وہ شعیب اختر کی جگہ ہوتے تو ان کا رویہ بھی ویسا ہی ہوتا۔ وسیم اکرم نے کہاکہ ٹیم کو شعیب اختر کی ضرورت ہے اس لئے وہ اپنی انجریز پر کنٹرول کریں۔ ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی ٹیم فیورٹ ہے تاہم ویسٹ انڈیز کی وکٹیں پاکستان اور بھارت کے لئے بھی سازگار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کپتان انضمام الحق کو نمبر چار پر بیٹنگ کرنا چاہئے اس سے ٹیم کی بیٹنگ لائن مضبوط ہوگی۔ سابق کپتان سلیم ملک کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ سلیم ملک پر تاحیات پابندی ختم ہونی چاہئے۔ ورلڈ ریکارڈ ہولڈر بولر نے کہاکہ وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے حق میں ہیں کیونکہ اس میں کھلاڑیوں کی</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=66</link><pubDate>2/2/2007</pubDate></item><item><title>ہاری ہوئی ٹیم کا نوحہ</title><description>پاکستان کر کٹ ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد پہلا ون ڈے میچ بھی بری طرح ہار گئی ہے۔ جنوبی افریقا کے کھلاڑیوں نے پاکستانی بولرز کی بے دردی سے پٹائی کی اور 392رنز کا پہاڑ جیسا اسکور پاکستان کی نحیف و ناتواں بیٹنگ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ جس کے سامنے ہمارے بلے باز اپنی وکٹیں سوکھے پتوں کی طرح گرا کرچلے گئے اور پاکستان کو ایک شرمناک شکست کا سامنا کر نا پڑا، ہارجیت کسی بھی کھیل کا حصہ ہے۔پاکستانی ٹیم بھی کبھی شاندار کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرتی ہے اورکبھی مقابلے میں ناکام رہ جاتی ہے لیکن جنوبی افریقا کے خلا ف پہلے ون ڈے میں جتنے مایوس کن کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس سے ورلڈکپ کے لیے ٹیم کی تیاریوں کی قلعی کھل گئی ہے۔ بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں تھکاوٹ کا احساس کا دلا کر قومی ٹیم نے قوم کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ورلڈ کپ میں بہت کم عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ میگا ایونٹ کے لیے ممکنہ کھلاڑیوں کا اعلان بھی کردیا گیاہے۔ جبکہ میدان میں اترنے والی انضمام الحق کی ٹیم بھی معمولی ردوبدل کے ساتھ وہی ہے جو جنوبی افریقا کے خلاف پہلا ون ڈے بری طرح سے ہاری ہے۔ ایک ہاری ہوئی ٹیم سے جیتنے کی توقع کہاں تک رکھی جاسکتی ہے ۔ اس کا جواب کرکٹ بورڈکے ارباب اختیار دے سکتے ہیں یا انضمام الحق جو بیٹنگ آرڈر میں مسلسل تبدیلیاں کرکے اپنے آپ کو چھٹے نمبر پر لے گئے ہیں۔(ایک رائے)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=94</link><pubDate>2/5/2007</pubDate></item><item><title>پاکستانی ٹیم نے حساب برابر کر دیا</title><description>پچھلے میچ میں انتہائی ناقص کار کردگی کا مظاہر ہ کرنے والی پاکستانی ٹیم فارم میں آگئی ہے اورڈربن میں ہونے والے دوسرے ون ڈے میں شاندار کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پہلے ون ڈے کی شرمناک شکست کا حساب چکادیا ہے۔ نائب کپتان یونس خان نے کئی سال بعد ٹیم میں واپس آنے والے اوپنر عمران نذیر کے ساتھ مل کر ایک بڑے اسکور کی بنیاد رکھی اور پھر شاہد آفریدی کی برق رفتار، دھواں دار بیٹنگ اور محمد یوسف کی سنچری کی بدولت پاکستان ٹیم جنوبی افریقا کو 351رنز کا ایک مشکل ٹارگٹ دینے میں کامیاب ہو گئی ۔ بعدازاں بولرز نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ محمد آصف ، شاہد آفریدی، عبدالرزاق اور اظہر محمود نے جنوبی افریقا کو چالیسویں اوور میں 210رنز پر آؤٹ کر دیا ۔اس طرح پاکستان یہ میچ باآسانی 141رنز کے بھاری مارجن سے جیت گیا۔ میچ کی خاص بات یہ تھی کہ پوری ٹیم یک جان ہو کر کھیلی اور تمام شعبوں میں کھلاڑی جان لڑاتے ہوئے دکھائی دیے۔مقابلے کا یہی جذبہ اگلے میچوں میں بھی برقرار رہا تو ٹیم وننگ ٹریک پر واپس آسکتی ہے اور ورلڈ کپ جیتنے کے حوالے سے قوم کا جو خواب ہے ، شرمندہء تعبیر ہو سکتاہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=114</link><pubDate>2/7/2007</pubDate></item><item><title>ایشوریا ،ابھیشک شادی۔۔۔کوئی جل گیا اور کسی نے دعا دی</title><description>سابق ملکہء حسن اور بھارتی فلموں کی نامور اداکارہ ایشوریا رائے Big.Bکے فرزند ارجمند ابھیشک بچن کی دلہن بن گئی ہیں یا بننے والی ہیں۔میڈیا میں ان دنوں اس یادگار شادی کے خاصے چرچے ہیں۔ جب سے دونو ں کی منگنی کی رسم ادا ہوئی ہے اور پوجا پاٹ کی تصویریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ ہر کوئی ان کے سات پھیرے دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ کچھ لوگ ایشوریا کے تمام اہم مواقع پر بچن خاندان کے ساتھ موجود ہونے کو ہی ان کے سات پھیروں سے تعبیر کر تے ہیں۔ اور دل سے دعا دیتے ہیں کہ یہ جوڑی سلامت رہے۔ سلمان خان اور ویوک اوبرائے نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔رانی مکر جی نے بھی چپ سادھ رکھی ہے لیکن اداکارہ میرا بالکل بھی خوش نہیں ہیں اس شادی پر۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشوریا نے پیسوں کے لالچ میں ابھیشک جیسے معصوم نوجوان کو پھانس لیا ہے۔ فلمی شادیاں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں ۔مشاہدات یہی کہتے ہیں۔ لیکن دلیپ کماراور سائرہ بانو۔بچن اور جیا ، محمد علی اور زیبا نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ فلمی جوڑی کامیاب حقیقی جوڑی بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیا ایشوریا رائے اور ابھیشک بچن اس بندھن کو نبھا پائیں گے یا کسی فلم کے المیہ اختتامیے کی طرح ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=115</link><pubDate>2/7/2007</pubDate></item><item><title>سات ہزار قیدی پھانسی کے منتظر</title><description>انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن راءٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ پچھلے سال ملک میں قتل،ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا جبکہ ایک ہزار سات سو سترہ افراد نے سماجی اور معاشی محرومیوں کے باعث خودکشی کی۔پاکستان ہیومن رائیٹس کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کی۔ انھوں نے کہا کہ عورتوں کے خلاف پر تشدد میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔انھوں نے کہا کہ نومبر2006میں عورتوں کی تحفظ کا قانون منظور ہونے سے بہتری کی کچھ صورت حال پیدا ہوئی تاہم دیگر امتیازی قوانین اپنی جگہ موجود رہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے نتیجے میں110افراد کی جانیں ضائع ہوئیں ۔ ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے4 افراد قتل ہوئے جبکہ بعض صحافیوں کو خفیہ ایجنسیوں نے اٹھا کرغائب کر دیا۔ انسانی حقوق کمیشن کو غائب ہونے والے افراد کے بارے میں400شکایات ملیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں تعلیم پر مجموعی قومی آمدنی کا صرف2فی صد خرچ کیا گیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں یہ شرح سب سے کم ہے۔اس کے علاوہ جیلوں میں سزائے موت کے سات ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ ایک سوال پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ حکومت پارلیمانی طریق کار کے مطابق قانون سازی کرنے کی بجائے صدارتی آرڈی ننسوں کے ذریعے قانون سازی کر رہی ہے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=117</link><pubDate>2/8/2007</pubDate></item><item><title>دھاندلی سے پاک الیکشن کے لیے شفاف بیلٹ بکس</title><description>الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات میں پلاسٹک کے بنے ہوئے شفاف بیلٹ بکس اورووٹنگ اسکرین استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان بیلٹ بکسوں پر الیکشن کمیشن کے نشانات (Logo)واضح طور پر بنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ کارڈ بورڈ بھی استعمال کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان تاریخی تبدیلیوں اور انتظامات کے نتیجے میں الیکشن کو دھاندلی سے پاک ، صاف شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔ آ پ کی نظر میں انتخابی نتائج کو تما م جماعتوں کے لیے قابل قبول بنانے کی غرض سے الیکشن کمیشن نے جو اقدامات کیے ہیں وہ تسلی بخش ہیں یا مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=124</link><pubDate>2/9/2007</pubDate></item><item><title>شاہد آفریدی پرپابندی۔۔۔۔انصاف ہوا یا ناانصافی!</title><description>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو جنوبی افریقا میں ایک تماشائی سے الجھنے کے الزام میں چار ون ڈے میچوں کے لیے باہر کر دیا ہے۔ ان کے خلاف یہ کارروائی آئی سی سی کے ضابطہ لیول تھری ۔IIسی کے تحت آئی سی سی کے چیف میلکم اسپیڈ کی براہء راست مداخلت پر کی گئی ہے۔ شاہد آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ون ڈے کے دوران ایک تماشائی سے الجھ کر کھیل کو تنازع میں ملوث کیا۔ضابطے کے تحت انہیں کم سے کم سزا دی گئی ہے۔ اگر پوری سزا دی جاتی تو وہ چار ٹیسٹ میچوں یا آٹھ ون ڈے میچوں کے لیے ٹیم سے باہر ہو سکتے تھے۔ شاہد آفریدی کو سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔ اگران کے خلاف سزا برقرار رہتی ہے تو وہ جنوبی افریقا کے خلاف باقی ماندہ دو ون ڈے میچوں کے علاوہ ورلڈ کپ کے دو ابتدائی میچ بھی نہیں کھیل سکیں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ شاہد آفریدی کے تماشائی کے ساتھ الجھنے کے معاملے کی نہ تو کسی امپائر نے شکایت کی۔ نہ میچ ریفری نے نوٹس لیااور نہ ہی جنوبی افریقا کی ٹیم نے کارروائی کی درخواست کی۔ آئی سی سی چیف میلکم اسپیڈ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے شاہد آفریدی پر چار ون ڈے میچوں کی پابندی لگو ا دی۔ شاہد آفریدی کے چاہنے والے اسے ناانصافی سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ ایسے معاملہ جس کی شکایت کسی جانب سے نہیں ہوئی آئی سی سی نے ازخود کارروائی کر کے پاکستان ٹیم کو ایک بڑے صدمے سے دوچا ر کر دیا ہے۔ شاہد آفریدی اپنی فارم میں واپس آچکے تھے اور ورلڈ کپ میں اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے ٹیم کی جیت میں اہم کر دار ادا کرسکتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے اسے ایک وارننگ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ اگلے میچوں میں محتاط رہیں ۔اپنی پوری توجہ کھیل پر مرکوز رکھیں اور کسی تنازع میں الجھنے سے گریز کریں کیونکہ آئی سی سی کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں اور ان کی ذرا سی غفلت قومی ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=126</link><pubDate>2/10/2007</pubDate></item><item><title>کیانقاب اوڑھنا خواتین کا ذاتی مسئلہ ہے؟</title><description>اردن کی ملکہ رانیا نے کہا ہے کہ خواتین کو نقاب اوڑھنے پر مجبور کرنا اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔ اسلام میں خواتین کے کسی مخصوص لباس پہننے پر پابندی نہیں ہے۔ بعض لوگوں کی جانب سے پردے کو سیاسی رنگ دیا گیا تاہم نقاب پہننا کسی بھی خاتون کا ذاتی مسئلہ ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ملکہ رانیا نے کہا کہ گذشتہ تین سال میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے زیادہ تر مسلمان ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ تمام مذاہب کے انتہا پسندوں اور اعتدال پسندوں کے درمیان ہے۔ 

اسلام میں پردے کا روایتی تصور کیا ہے۔ نقاب اوڑھنے یا نہ اوڑھنے کا مختلف ثقافتوں سے کیا تعلق ہے۔دینی اسکالر جاوید غامدی کہتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کے نقاب اوڑھنے پر کبھی پابندی نہیں لگائی اور پردے کے بارے میں جو روایتی تصور پایا جاتا ہے، اس کا قرآن و حدیث میں کہیں تصور نہیں ملتا۔ کیا یہ درست ہے یا آپ اس کے برعکس سوچتے ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=130</link><pubDate>2/10/2007</pubDate></item><item><title>کیا معین خان کو واپس بلا لیا جائے؟</title><description>پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین معین خان نے ورلڈ کپ کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان ٹیم وکٹ کیپنگ کے شعبے میں بدترین دور سے گذر رہی ہے۔ گذشتہ دو دوروں سے کامران اکمل کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔ اگر ٹیم انتظامیہ یا کرکٹ بورڈ بہتر سمجھے تو ورلڈ کپ کے لیے میری خدمات حاضر ہیں۔ معین خان کا کہنا ہے کہ وہ ٹریننگ کر رہے ہیں اور ورلڈ کپ کے لیے دستیاب ہیں۔معین خان نے پاکستان کی جانب سے آخری ٹیسٹ 2004ء میں سری لنکا کے خلاف فیصل آباد میں کھیلا تھا۔ دو سیزن سے انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلی۔ آپ کے خیال میں اگر کامران اکمل کی جگہ معین خان کو موقع دیا جائے تو کیا وہ پاکستانی ٹیم کو موجودہ مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اور اگر 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنے والی پوری ٹیم کو ہی واپس بلا لیا جائے تو کیسا رہے گا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=136</link><pubDate>2/12/2007</pubDate></item><item><title>ورلڈکپ کی ٹیم۔۔متوازن ہے یا غیرمتوازن؟</title><description>ساتویں ورلڈکپ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انضمام الحق کی قیادت میں پندرہ رکنی اس ٹیم میں عمران نذیر، محمد حفیظ، یونس خان، محمد یوسف، کامران اکمل، شعیب ملک، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، شعیب اختر، محمد آصف،رانا نوید الحسن، عمرگل، راؤ افتخاراور دانش کنیریا شامل ہیں۔اظہر محموداور محمد سمیع ورلڈکپ اسکواڈ میں جگہ پانے میں ناکام رہے ہیں۔ جبکہ سلمان بٹ، یاسر حمید، یاسر عرفات، شاہد نذیراور توفیق عمر کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ شعیب اختر، محمد آصف اور عمر گل کی شرکت فٹنس سے مشروط ہے۔ فٹنس ٹیسٹ 2مارچ کو ہو گا۔ٹیم کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو کئی اور کھلاڑی بھی یا تو زخمی ہیں یا پوری طرح فارم میں نہیں ہیں۔ شعیب ملک، رانا نویدالحسن ،عبدالرزاق اور کامران اکمل آؤٹ آف فارم جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں قومی ٹیم سے ورلڈ کپ جیتنے کی کتنی امید رکھی جا سکتی ہے ۔ اس کا بہتر جواب تو سلیکشن کمیٹی ہی دے سکتی ہے یا پھر کپتان اور کوچ ہی بتا سکتے ہیں کہ ورلڈ کپ اسکواڈ کا اعلان ان دونوں کے مشورے سے کیا گیا ہے۔ آپ کی رائے میں جو ٹیم منتخب کی گئی ہے کیا وہ ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=137</link><pubDate>2/13/2007</pubDate></item><item><title>ویلنٹائن ڈےمنایا جائے کہ نہیں!</title><description>دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے (یوم محبت) منایا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن منانے کا رحجان بڑھا ہے۔ ایک دوسرے کو تحائف دینا، تفریحی مقامات پر جانا اور کھانے کی دعوت دینا اس دن کی مناسبت سے عام ہے۔ پہلے محبت قربانی کا جذبہ مانگتی تھی ، اب خرچہ مانگتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے ایک مغربی رسم قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جبکہ بہت سوں کا خیال ہے کہ جب ہم جنگیں لڑنے کے دن منا سکتے ہیں تو سال میں ایک دن باہمی محبت کے نام کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمیں مغربی انداز پسند نہیں تو اپنی مذہبی و معاشرتی اقدار میں رہتے ہوئے بھی ہم یوم محبت منا سکتے ہیں۔لیکن ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ہم جتنے پیسے اس قسم کی سرگرمیوں پر خرچ کرتے ہیں اگر وہی رقم کسی ضرورت مند کو دے دیں تو کیا زیادہ مناسب نہیں ہو گا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=139</link><pubDate>2/13/2007</pubDate></item><item><title>کیا حقوق ِمرداں بِل لانے کی ضرورت ہے؟</title><description>وفاقی وزیر صحت محمد نصیر خان نے قومی اسمبلی میں وقفہء سوالات کے دوران اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین تمام شعبہ ء ہائے زندگی میں ترقی کر رہی ہیں۔ حقوق نسوان بل کے بعد اب حقوق مرداں بل بھی آنا چاہیے۔ محمد نصیر خان کو وفاقی وزیر کی حیثیت سے وہ تما م حقوق اور مراعات حاصل ہیں ، جن کا ایک عام آدمی تصور ہی کر سکتا ہے۔ پھر بھی انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بل لانے کی بات کی ہے۔ ان کی اس بات کو حقوق نسواں بل پر محض ایک تمسخرانہ تبصرہ سمجھا جائے یا واقعی آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں مردوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ایک بل لانے کی ضرورت ہے۔ خواتین کا تو عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ کیا مردوں کو بھی اپنے لیے کوئی دن منانا چاہیے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=148</link><pubDate>2/16/2007</pubDate></item><item><title>دوستی کا سفر پھر غیر محفوظ ہو گیا!</title><description>بھارت سے پاکستان آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پانی پت کے مقام سونی پت کے قریب دہشت گردی کا شکار ہو گئی ہے۔ ٹرین میں دو دھماکو ں کے بعد آگ بھڑک اٹھی ۔ جس کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں ۔جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی پچا س سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ٹرین میں سوار زیادہ تر مسافرپاکستانی تھے۔ چنانچہ ہلاک وزخمی ہونے والوں میں پاکستانی باشندوں کی ایک بڑی تعداد ہو سکتی ہے۔ ابتدائی اندازوں اور تحقیقات کے مطابق اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔کچھ دن پہلے کراچی سے بھارت کے لیے کھوکھرا پار ایکسپریس روانہ ہوئی تھی۔ جس سے یہ امیدپیدا ہو چلی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقا ت کی بہتری کا سفر اسی انداز میں جاری رہا تو قیام امن کی منزل بہت دور نہیں رہے گی۔ لیکن سمجھوتہ ایکسپریس کو جس انداز میں دہشت گردی کا نشانہ بنا یا گیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے سفر کو ایک بار پھرغیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔بھارتی حکومت اس سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے اور یقینی طور پر اس افسوس ناک واقعے کے پس پردہ عوامل تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ماضی میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں جاری مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہوتا رہا ہے۔لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری شیدول کے مطابق بھارت جائیں گے۔ آپ کے خیال میں قصوری صاحب کا بھارت جانا ٹھیک ہے یا اس بار بھی دوستی کا سفر معطل کر دیا جائے۔ دہشت گردوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے جائیں یا دونوں ملکوں کی حکومتوں کوان کے عزائم ناکام بناتے ہوئے تعلقات کی بہتری کی جانب گامزن رہنا چاہیے؟ اگر یہ سفر جاری رہتا ہے تو اسے زیاد ہ محفوظ بنانے کے لیے آپ کی نظر میں کیا اقدامات ہونے چاہییں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=163</link><pubDate>2/19/2007</pubDate></item><item><title>ظل ہما کا جرم کیا تھا؟</title><description>وہ گوجرانوالہ میں کارکنوں کی کھلی کچہری سے خطاب کرنے گئی تھی۔پنجاب کی وزارت سماجی بہبود سنبھالے اسے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اس کی شادی کی سالگرہ بھی اسی دن تھی۔ کھلی کچہری میں خواتین کارکنان اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھیں کہ سائل کے روپ میں ایک جنونی قاتل نے انتہائی قریب سے اس کے سر میں گولی مار دی۔ وہ چکرا کر گر پڑی۔اور پھر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ ہنستی مسکراتی ظل ہمااپنے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے سوگوار چھوڑ گئی۔قاتل پکڑا گیا ہے۔ لیکن اپنے کیے پر اسے کوئی ندامت ہے نہ پریشانی۔ہر قاتل کے پاس قتل کا جواز ہوتا ہے۔ غلام سرورکے پاس بھی ایک جواز ہے کہ وہ عورت کے حکمران ہونے یا وزیر بننے کو احکامات الہیٰ کے منافی سمجھتا ہے۔وہ اس سے پہلے بھی کئی خواتین کو قتل کر چکا ہے ۔جو نہ تو وزیر تھیں نہ ملک یا صوبے پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہی تھیں ۔ غلام سرور کے پاس انہیں قتل کرنے کا جواز اس وقت کوئی اور تھا۔ وہ انہیں فاحشہ سمجھتا تھا۔قتل کرنے کا لائسنس بھی اس نے اپنے آپ کو خود ہی جاری کر رکھاتھا۔ عدالتیں عدم ثبوت کی بناء پر اسے بری کرتی رہیں۔ اب جب کہ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے تو عورت کی حکمرانی کے خلاف اسلام ہونے کا جواز تراش لایا ہے۔ کیا عورت ہونا جرم ہے؟عورت کی حکمرانی جرم ہے یاظل ہما کا وزیر بننا جرم تھا؟یا غلام سرور جیسی جنونی ذہنیت رکھنے والے مجرم ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=169</link><pubDate>2/20/2007</pubDate></item><item><title>بسنت کا تہوار۔۔۔۔پتنگ بازی ہونی چاہیے کہ نہیں؟</title><description>ملک بھر بسنت منانے کی تیاریاں عروج پر ہیں، خاص طور پر پنجاب میں جوش وخروش زیاد ہ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پتنگ بازی کے دوران دھاتی ڈور کے استعمال سے ہونے والے جانی تقصان ، بجلی کی فراہمی میں تعطل اور پتنگیں لوٹنے والے افراد کی مختلف حادثات میں اموات کی وجہ سے بسنت منانے پر پابند ی عائد کی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے عوام کو دو دن کے لیے یہ تہوار منانے کی اجازت دے دی ہے۔ بسنت کے حوالے سے لوگ دو مختلف آراء میں تقسیم ہیں۔ کچھ لوگ اس تہوار کے سخت مخالف ہیں جبکہ ایک حلقہ چاہتا ہے کہ پتنگ بازی ہونی چاہیے اور بسنت کا جشن ہر سال منایا جائے۔صدر مملکت پرویز مشرف بھی اس سوچ کے ہامی ہیں۔ پچھلے دنوں میراتھن ریس کے موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ بسنت کا تہوار منایا جائے گا۔ کیا بسنت منانا ٹھیک ہے یا پتنگ بازی پر مستقل پابندی عائد کر دی جائے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=179</link><pubDate>2/21/2007</pubDate></item><item><title>بجلی مہنگی ہو گئی</title><description>واپڈانے ملک بھر میں بجلی کے نرخوں میں دس فیصد اضافہ کر دیا،پچاس یونٹ سے کم بجلی استعمال کر نے والے گھریلوصارفین پر نرخوں میں اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا، نرخوں میں اضافہ واپڈا کے بڑھتے خسارے کو کم کر نے کیلئے کیا گیا ہے،یہ اعلان وفاقی وزیر پانی و بجلی لیاقت جتوئی نے کیا۔ نئے نرخ 24 فروری سے نافذ العمل ہونگے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ واپڈا کا خسارہ97 ا رب روپے تک پہنچ گیا ہے اوراس خسارے کو کم کر نے کے لیے ضروری تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے اور اگر یہ اضافہ نہ کیا جاتا تو واپڈا کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ نیپرا نے حکومت کو بجلی کے نرخوں میں33فیصد اضافہ کر نے کی سمری پیش کی تھی لیکن صدر پرویز اور وزیراعظم شوکت عزیز نے اسے تسلیم نہیں کیا اور اس طرح واپڈا کے صارفین کو فراہم کی جانے والی بجلی کے نرخوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے، (ایک خبر)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=194</link><pubDate>2/24/2007</pubDate></item><item><title>ورلڈکپ۔۔۔۔پاکستانی ٹیم کا کیا ہو گا؟</title><description>پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے محاذ پر توپ خانے کے بغیر پہنچ گئی ہے۔ کپتان انضمام الحق نے اسے ”مشن ایمپوسیبل“ قرار دیا ہے۔ پاکستان کو صرف 13کھلاڑیوں کی خدمات دستیاب ہیں۔شعیب اختر گھٹنے اور محمد آصف کہنی کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ڈوپ ٹیسٹ کے دوبارہ مثبت ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور ورلڈکپ اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ عبدالرزاق بھی زخمی ہونے کے بعد ٹیم سےباہر ہو چکے ہیں اور ان کے بائیں گھٹنے پر تین ہفتے کے لیے پلاسٹر چڑھا دیا گیا ہے۔ ۔سابق کپتان جاوید میانداد نے پاکستان ٹیم کو مشورہ دیا ہے کہ شعیب اختراور محمد آصف کےبغیر اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔ پاکستانی ٹیم کو اب اظہر محمود ،عمرگل،  رانا نویدالحسن اور دانش کنیریا پر انحصار کرنا ہوگا۔ کپتان انضمام الحق نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ چوتھے نمبر پربیٹنگ کریں گے۔ علاوہ ازیں محمد یوسف، شاہد آفریدی اور یونس خان بھی اپنی کارکردگی کے حوالے سے خاصے پرامید ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ورلڈکپ کے محاذ سے ہماری ٹیم فتح یاب ہو کر آتی ہے یا کرکٹ کی دیوانی قوم کے اپنے خوابوں کی کرچیاں ہی چنتی رہے گی۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=214</link><pubDate>2/28/2007</pubDate></item><item><title>کیا ایران کا گھیراؤ کر لیا گیاہے؟</title><description>ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی ) پر دستخط کر نے والے ممالک میں شامل ہے۔ ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی پر گھیر ا جارہا ہے۔ 2001ء میں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے افغانستان اور 2003ء میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں عراق پر حملہ کرنے والوں کواسامہ بن لادن کا پتہ چل سکا نہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار مل سکے۔مگر اتحادی فوجیں جوں کی توں دونوں ملکوں میں موجود ہیں۔ افغانستان پر حملے کے لیے پاکستان اور عراق پر حملے کے لیے کویت اور قطر نے اتحادی افواج کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ ایران پر حملے کے لیے زیادہ وسیع البنیاد حمایت حاصل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ہر طرف سے ایران ایران کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کیا اب ایران کی باری ہے؟ ۔کیا ایران کا گھیراؤ کر لیا گیا ہے؟۔ کیا اس کے بعد سعودی عرب، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کو گھیر ا جائے گا؟ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں؟ہم کیا کریں؟آپ کیاکریں؟

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں۔۔۔۔۔ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=215</link><pubDate>2/28/2007</pubDate></item><item><title>وارم اپ میچ میں پاکستان کی جیت</title><description>خوشی کی خبر یہ ہے کہ پاکستان کے زخمی شیروں نے پہلے وارم اپ میچ میں کینیڈا کی نوآموز ٹیم کو 77رنز سے پچھاڑ دیا ہے۔ آغاز میں پاکستانی بیٹنگ تھوڑی متزلزل رہی لیکن بعد میں کپتان انضمام الحق ، محمد حفیظ اور کامران اکمل نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔بولنگ میں بھی محمد حفیظ نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایااور صرف تین اوورز میں کینیڈا کے تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ وارم اپ میچ میں جو بات سامنے آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ انضمام الحق ،محمد حفیظ اور کامران اکمل وارم اپ ہو چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی نصف سنچریاں اگلے اہم میچوں میں سنچریوں میں تبدیل ہوتی ہیں یا وہ بھی شاہد آفریدی کی طرح صفر پر بولڈ ہو جائیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=248</link><pubDate>3/6/2007</pubDate></item><item><title>یاسر عرفات کی لاٹری نکل آئی</title><description>ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے آل راؤنڈر یاسر عرفات سیٹھی نے کہا ہے کہ اس میگا ایونٹ میں نمائندگی میرے لئے لاٹری نکلنے کے مترادف ہے۔ 12مارچ1982ء کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والے آل راؤنڈر یاسر عرفات نے کہاکہ ورلڈ کپ کے ابتدائی15 کھلاڑیوں میں میرا نام شامل نہیں تھا دوسرے کھلاڑیوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ اس ایونٹ میں حصہ لوں، ٹیم میں شامل نہ ہونے پر مایوسی ضرور ہوئی تھی مگر میں ٹیم کی کامیابی کے لئے دعاگو تھا۔ انہوں نے کہاکہ محمد آصف اور شعیب اختر کے ان فٹ ہونے سے بھی مجھے موقع نہیں ملتا، ان کی جگہ اظہر محمود اور محمد سمیع کے نام لئے جا رہے تھے مگر عبدالرزاق کے اچانک ان فٹ ہونے سے میری قسمت کھل گئی۔ سلیکٹرز نے مجھے ٹیم میں شامل کرلیا، اچانک ٹیم میں شمولیت میرے لئے حیرت انگیز تھی</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=249</link><pubDate>3/6/2007</pubDate></item><item><title>الیکشن ملتوی ہونے کی قیاس آرائیاں</title><description>عام انتخابات قریب آرہے ہیں اور ساتھ ہی قیاس آرائیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن کی طرف سے شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور دوسری طرف بعض وفاقی وزراء الیکشن کے التواء اور اسمبلیوں کی مدت بڑھائے جانے کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ وفاقی وزیر بابر خان غوری نے سب سے پہلے الیکشن کے التواء کی بات کی۔ان کی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ نے اسے ان کا ذاتی خیال قرار دیا ہے لیکنساتھی وزراء شیر افگن نیازی اور شیخ رشید ان کے ہم خیال دکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہوتا ہے تو علاقائی صورتحال کے پیش نظر انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا موقف اس سے مختلف ہے ۔ انہوں نے الیکشن کے التوا ء کو خارج ازامکان قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلی بار اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ہیومن رائٹس گروپ نے پاکستان میں لوگوں کو اپنی مرضی سے حکومت تبدیل کرنے کا اختیار نہ دینے کو حقوق انسانی کی بڑی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں الیکشن کا بروقت ہونا بھی کیا معنی رکھتا ہے اور اگر الیکشن ملتوی ہو جاتے ہیں تو کیا فرق پڑے گا۔۔۔۔بیٹھے رہو تصور جاناں کیے ہوئے!

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=250</link><pubDate>3/6/2007</pubDate></item><item><title>عالمی دن منانے سے انصاف مل جائے گا؟</title><description>آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔دنیا بھر میں جلسے اور سیمینار ہوئے۔ ریلیاں نکالی گئیں۔ خواتین کے ساتھ نا انصافی کا رونا رویا گیا۔ مساویانہ حقوق دینے کے مطالبات کیے گئے۔ خواتین کو ان کا جائز مقام دینے کا عزم کیا گیا۔ لیکن یہ عزم صمیم ہمیشہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے ۔اگلے دن کا سورج نکلنے کے ساتھ چلنے والی نفانفسی کی باد سموم ہمیں پچھلے دن کے سارے عہد و پیماں بھلا دیتی ہے۔ اسی نوعیت کے عالمی دن ہر دوسرے تیسرے دن منائے جاتے ہیں۔ کچھ دن قبل ہم سب نے محبت کا عالمی دن منایا۔ کیا سب انسانوں کو ایک دوسرے کی محبت مل گئی۔ ہم معذوروں کا بھی دن مناتے ہیں۔ اور پھر جب کوئی معذور نظر آتا ہے تو اس کا تمسخر بھی اڑاتے ہیں۔ بزرگوں کا دن مناتے ہیں اور پھر اپنے ہاتھو ں سے انہیں اولڈ ہاؤسز میں چھو ڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاتے ہیں۔ حقوق انسانی کا عالمی دن مناتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے حقوق کی چھینا جھپٹی میں لگ جاتے ہیں۔ جنگیں لڑنے ، جنگیں ہارنے اور جنگیں جیتنے کے دن مناتے ہیں۔ مزدورں کا دن مناکر ان کا استحصال کرنے کے نت نئے حربے تلاش کرتے ہیں۔خواتین کے عالمی دن پر مختاراں مائی نے کراچی میں مظلوم لڑکیوں کائنات سومرو اور نسیمہ لبھانو کے ساتھ وقت گزارا۔ مختاراں کا کہناہے کہ اب خواتین کے لیے دن منانے سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے وعدے اور تحفظ صرف کاغذوں میں نظر آتا ہے۔ مختاراں مائی کی اس بات سے تو یہی لگتا ہے کہ دن منانے سے انصاف نہیں ملتا۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=266</link><pubDate>3/8/2007</pubDate></item><item><title>جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس</title><description>چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس جاوید اقبال نے جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ پولیس کے ناروا سلوک کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کے خلاف وکلاء کا ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے۔ اور انہوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ جبکہ حکومت اس اقدام کو آئین اور قانون کے عین مطابق قرار دے رہی ہے اور وزراء کا کہنا ہے کہ وکلاء بعض سیاسی جماعتوں کے آلہء کار بن کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جسٹس افتخار چوہدری نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ا ن کے ہاتھ صاف ہیں اور وہ تمام الزامات کا سامنا کریں گے ۔قائم مقام چیف جسٹس جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ ہمارے لیے سب سے اہم قانون اور آئین ہے۔ جو کچھ بھی ہو گا قانون کے مطابق ہو گا۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=271</link><pubDate>3/9/2007</pubDate></item><item><title>کالی آندھی کے سامنے پاکستانی شاہین بے بس</title><description>ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں پاکستانی شاہین کالی آندھی کے سامنے اونچی پرواز نہ دکھا سکے اور 242 رنز کے آسان ٹا رگٹ کے تعاقب میں 187 رنز پر ڈھیر ہو گئے۔ شعیب اختر ، محمد آصف اور عبدالرزاق کی عدم موجودگی میں راؤ افتخار، عمر گل اور محمد حفیظ نے اگرچہ اچھی بولنگ کا مظاہر ہ کیا لیکن بیٹسمین دھوکا دے گئے۔ عمران نذیر، محمد حفیظ اور یونس خان صرف 39 رنز مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے ۔انضمام الحق اور محمد یوسف نے وکٹ پر رک کر اسکور کو آگے بڑھانے کی کوشش کی اور شعیب ملک نے ویسٹ انڈین بولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن ساتھی کھلاڑیوں کے پے در پے آؤٹ ہونے کی وجہ سے وہ بھی ہمت ہار گئے اور 62 رنز بنا کر واپس چلے گئے۔ رانا نوید الحسن اور دانش کنیریا متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔ دانش کنیریا کی فیلڈنگ بھی انتہائی غیر معیاری تھی۔جبلہ یونس خان نے سراوان کا جو کیچ ڈراپ کیا اس سے بھی پاکستانی ٹیم کے حوصلے پست ہوئے ۔ پہلا میچ ہارنے کے بعد قومی ٹیم دو قیمتی پوائنٹس سے محروم ہو گئی ہے۔ آگے آ گے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=333</link><pubDate>3/13/2007</pubDate></item><item><title>جیونیوز کے دفتر پر پولیس کا حملہ</title><description>ملک میں جاری عدلیہ کے بحران کے ساتھ ہی میڈیا کی آزادی بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئ ہے۔ گزشتہ شب الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے والے حکومتی ادارے پاکستان ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے کہ جیوپر نشر ہونے والا حالات حاضرہ کا پروگرام "آج کامران خان کے ساتھ" فوری طور پر بند کر دیا جائے ۔ پابندی کے ان تحریری احکامات کے بعد آج براہ راست حملہ کر دیا گیا۔ اسلام آبادمیں رائفلوں اور ڈنڈوں سے لیس پولیس جیو کے دفاتر میں گھس گئ اور توڑپھوڑ شروع کردی۔ موقع پر موجود جیو کے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔انہیں گالیاں دیں۔اور آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے۔پولیس کا استدلال تھا کہ اسلام آباد میں عدلیہ کےبحران کے حوالے سے کوریج نہ کی جائے۔ صدر مملکت سمیت دیگر حکومتی عہدیداروں نےپولیس کارروائ کی مذمت کی ہےاوراس افسوسناک واقعہ پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنما بھی مسلسل اس بہیمانہ حملے کی مذمت کر رہے ہیں۔ اور اسے آزادئ صحافت پر کھلا حملہ قرار دے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے دعووں کی صداقت کو کہاں تک قائم رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ حکومت اورانتظامیہ میں ایسے کون سے عناصر ہیں جو ملک کو ایک سنگین بحران کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اور اگر حکومت کو اپنے کسی اقدام پر غصہ ہے تو وہ میڈیا پر کیوں نکالا جا رہا ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=371</link><pubDate>3/16/2007</pubDate></item><item><title>پاکستانی ٹیم ورلڈکپ سے باہر ہو گئی</title><description>پاکستانی ٹیم نے ایک اور تاریخ رقم کر دی ہے۔ورلڈ کپ میں ”بے بی “ ٹیم آئرلینڈ سے شرمناک طریقے سے ہارنے کے بعد ورلڈ کپ سے آؤ ٹ ہو گئی ہے۔ اگر پاکستان اپنے گروپ کے آخری میچ میں زمبابوے کے خلاف کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو اس صورت میں اس کو دو پوائنٹس مل جائیں گے۔ دوسری طرف ویسٹ انڈیز کی ٹیم زمبابوے اور آئر لینڈ کے خلاف اپنے بقیہ دونوں میچ ہار جاتی ہے تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے کے پوائنٹس برابر ہو جائیں گے۔ اور دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ سے خارج ہو جائیں گی۔ جبکہ آئر لینڈ اور زمبابوے تین تین پوائنٹس کے ساتھ اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر جائیں گے۔ دوسری طرف بنگالی ٹائیگرز نے بھارت کو پچھاڑ دیا ہے۔ ہم ورلڈ کپ سے آؤ ٹ ہی سہی لیکن دل کی تسلی کو اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہوا جو ہماری ٹیم آئر لینڈ سے ہار گئی۔ بھارت بھی تو بنگلہ دیش سے ہار گیا ہے۔ کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کے اس بیان کا انتظار ہے کہ ٹیم اگلا ورلڈ کپ جیتنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہے۔ قوم کو امیدکا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
آنے والی خوشیوں کا احساس تو ہے
اپنی قوم کے پاس یہی اک آس تو ہے</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=447</link><pubDate>3/17/2007</pubDate></item><item><title>کون بنے گا اب کپتان ؟</title><description>قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے ورلڈکپ میں ٹیم کی ناقص کاکردگی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کپتانی چھوڑنے اور ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر منٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ آخری ون ڈے انہوں نے گذشتہ روز زمبابوے کے خلاف کھیلا۔ جب وہ آوٹ کر پویلین کی طرف جا رہے تھے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ پویلین پہنچ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ ایک بڑے کھلاڑی کے خوشیوں بھرے کیرئر کا اختتام افسوسناک صورتحال کے باعث ناخوشگوار انداز میں ہوا۔ ناقص کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کی وجہ سے پوری قوم افسردہ ہے۔ اس لحاظ سے اسے انضمام الحق سے بھی شکوہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن جیسے ہی یہ زخم مندمل ہوں گے۔ لوگ انضمام الحق کی کمی ضرور محسوس کریں گے اور ہمیشہ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کریں گے۔ اب بھی انضمام کو روتا دیکھ کر کتنے ہی ایسے ہوں گے جن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ہوں گے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=480</link><pubDate>3/19/2007</pubDate></item><item><title>میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں!</title><description>پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ باب وولمر کو قتل کیا گیاہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹوں کے مطابق ان کو موت گلا دبانے کی نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔ جمیکا کی پولیس نے قتل کے محرکات جاننے اور قاتلوں کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی اور آفیشلز سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے اور ان کے فنگر پرنٹس بھی لیے گئے ہیں۔باب وولمر کی افسوسناک موت  سے قومی کرکٹ ٹیم ایک ماہر کوچ کی خدمات سے محروم ہو گئی ہے۔انہوں نے انتہائی جدید خطوط پر ٹیم کی تربیت کرنے کی کوشش کی۔ ٹیم ان کی کوچنگ میں متحد بھی دکھائی دی۔کوچنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا سہرا بھی باب وولمر کے سر جاتا ہے۔تاہم ان کا غیر ملکی ہونا ہمیشہ ان پر ہونے والی تنقید کی بڑی وجہ بنا رہا۔ انہوں نے بڑی سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ پاکستانی ٹیم کو دنیائے کرکٹ میں اعلیٰ مقام دلانے کی کوشش کی اور اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ ٹیم نے ان کی کوچنگ میں کئی اہم میچ اور ٹورنامنٹ جیتے لیکن حالیہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی پر وہ خاصے دلبرداشتہ تھے .ان کی پاکستان کرکٹ سے سچی وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے وہ پاکستان کو ہمیشہ اپنا وطن قرار دیتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد انہیں پاکستان میں دفن کیا جائے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=484</link><pubDate>3/19/2007</pubDate></item><item><title>سُرکا سانس ٹوٹ گیا۔نثاربزمی بھی چلے گئے</title><description>موسیقار نثار بزمی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ 1939 ء میں آل انڈیا ریڈیو سے ڈرامہ آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کرنے والے اس فنکار نے پاکستان فلم انڈسٹری کو لازوال دھنیں دیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا نام موسیقی کی دنیا میں پاکستان کی شناخت بن گیا۔ ان کے انتقال سے موسیقی یتیم ہوگئی ہے۔ وہ ہر فلم میں نیا تجربہ کرتے ۔فن سے عشق کرتے اور کام کو عبادت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ آج جب وہ اگلے سفر پر روانہ ہوئے ہیں تو کانوں میں رس گھولتے ہوئے ان کے نغمات ایک بار پھر گنگنانے کو دل کرتا ہے۔ 

ٌ ۔اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا

 ۔اک ستم اور میر ی جاں، ابھی جاں باقی 

 ۔رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

 ۔چلو اچھا ہوا تم بھول گئے

 ۔کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے

 ۔اے بہارو۔گواہ رہنا

 ۔میری زندگی ہے نغمہ ، میری زندگی ترانہ</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=543</link><pubDate>3/22/2007</pubDate></item><item><title>کرکٹ میں سٹے بازی ۔۔۔ ہے کہ نہیں؟</title><description>پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ کرکٹ میں سٹے بازی کے عنصر کو ختم نہیں کیا جا سکا ۔سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز سمیت کئی اور سابق کرکٹرز نے بھی اپنے بیانات میں راشد لطیف کی اس بات کی تائید کی ہے۔ کرکٹ ورلڈ کپ سے پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے سپر ایٹ مرحلے سے پہلے ہی باہر ہو جانے اور پاکستان کے غیر ملکی کوچ باب وولمر کے پراسرار قتل کے باعث کرکٹ میں سٹے بازی کا سوال ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے کئی سابق کھلاڑیوں نے پاکستان کی آئر لینڈ کے ہاتھوں شکست کو شک کی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ماضی میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں قانونی طور پر خاصے اقدامات کیے گئے اور کئی نامور کھلاڑیوں کو سزائیں بھی دی گئیں۔ بھارت، پاکستان، جنوبی افریقا اور آسٹریلیا میں تحقیقات کے بعد کئی کھلاڑیوں پر پابندی لگائی گئی۔ بھارت میں اظہر الدین پر پابندی حال ہی میں ختم کی گئی ہے۔ جبکہ پاکستان میں سلیم ملک کو اب بھی پابندی کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقا کے سابق کپتان ہنسی کرونیے سٹے بازی میں ملوث ہونے کے بعد کرکٹ سے الگ ہو گئے تھے اور اسی دوران ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ ان کی حادثاتی موت کو بھی سٹہ مافیا کی کارستانی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ جبکہ باب وولمر کی پراسرار موت کے حوالے سے بھی اسی طرح کے امکانات اور خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ آئی سی سی نے بھی اعلان کیا ہے کہ باب وولمر کی موت کے عوامل جاننے کے لیے سٹے بازی کے بارے میں تحقیقات کی جائے گی۔ جبکہ ہمارے وزیراعظم جناب شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی شکست اور کوچ باب وولمر کے قتل کا سٹے بازی سے کوئی تعلق نہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=572</link><pubDate>3/28/2007</pubDate></item><item><title>مدرسے کی طالبات کے ہاتھو ں خواتین یرغمال</title><description>اسلام آباد میں ایک مدرسے کی ڈنڈا بردارطالبات نے تین خواتین کو ان کے گھر سے اٹھا کر تین دن تک یرغمال رکھا۔طالبات کا کہنا ہے کہ مذکورہ خواتین اپنے گھر میں قحبہ خانہ چلاتی تھیں۔ جنہیں برائی سے توبہ کرنے پر رہا کر دیا گیا ہے۔ جبکہ رہا ئی کے بعد گھر کی سربراہ شمیم اختر نے کہا کہ لال مسجد کی انتظامیہ نے ان سے زبردستی اقبالی بیان دلوایا ہے۔جو کچھ مدرسے کی انتظامیہ نے لکھ کر دیا ۔”میں پڑھنے پر مجبور تھی۔کیونکہ میری بیٹی اور بہو طالبات کے قبضے میں تھیں“۔شمیم اختر کا کہنا ہے کہ انہیں گھر سے رسیوں میں باندھ کر گھسیٹتے ہوئے مدرسے لے جایا گیا۔ جبکہ مدرسے میں بھی تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے دھمکی دی کہ میں اسلام چھوڑ کر عیسائی مذہب اختیار کر لوں گی تو تشدد بند کیا گیا۔اسلام آباد میں پیش آنے والے اس واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بعض علماء کرام نے اس واقعیکو غیر شرعی قرار دیا ہے۔جبکہ حقوق انسانی کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے حکومت اور پولیس کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔جبکہ مدرسے کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی کا کہنا ہے کہ شمیم اخترکے سامنے تین راستے رکھے گئے تھے اور ان سے کہا گیا تھا کہ ان میں سے ایک کا انتخات کر لیں۔”یا تو ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا جائے گا۔یا مدرسے میں ان کے خلاف قاضی عدالت لگائی جائے گی یاوہ توبہ کر لیں۔ انہوں نے تیسرا راستہ اختیار کیا۔ (ایک خبر)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=584</link><pubDate>3/30/2007</pubDate></item><item><title>کپتان آؤٹ۔۔۔چیئرمین ناٹ آؤٹ</title><description>قومی کرکٹ ٹیم کے مستعفی کپتان انضمام الحق نے ورلڈ کپ میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کی جانب سے کی جانے والی تنقید سے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے میں پاکستانی نہیں ۔اگر منفی تنقید کا سلسلہ بند نہ ہوا تو مسقبل میں پاکستانی ٹیم کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکے گی۔انہوں نے کہا کہ یونس خان کو کپتانی کا موقع ملنا چاہیے۔۔دوسری جانب کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ناٹ آؤ ٹ قرار دیے جانے کے بعد کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے انضمام الحق کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔گویا انہوں نے انضمام الحق کو کپتانی سے آؤ ٹ قرار دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نےاپنے مستقبل کے منصوبوں کی بھی نقاب کشائی کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین جلد جاری کردیا جائے گا۔ورلڈکپ میں شکست کی انکوائری کی جائے گی اور غیر ملکی دوروں کے دوران منیجر کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کی منسوخی کا بھی اعلان کیا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف  نے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کی بنیادجن ناموں پر رکھی ہے وہ گھما پھرا کر وہی نام ہیں جو پچھلے کئی ادوار میں آتے جاتے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے اب وہ ڈاکٹر نسیم اشرف کی امیدوں پر کہاں تک پورا اترتے ہیں۔ اور ورلڈکپ سے شرمناک طریقے سے پاکستان کرکٹ کی جو بدنامی ہوئی ہے اسے نیک نامی میں تبدیل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=590</link><pubDate>3/31/2007</pubDate></item><item><title>انضی کو رونا کیوں آیا؟</title><description>جب سے پاکستانی ٹیم ہاری ہے۔ انضمام الحق کے آنسو خشک نہیں ہو رہے۔ اپنے آخری ون ڈے کے دوران آؤ ٹ ہو کر جب وہ پویلین واپس آئے تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔ کپتانی سے مستعفی ہونے کے بعد اب وہ میڈیا کے سامنے آئے ہیں تو ایک پھر آبدیدہ دکھائی دیے ہیں۔ انہیں شکوہ ہے کہ میڈیا نے انہیں پاکستانی نہیں دشمن سمجھ کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیکن وہ یہ با ت بھول گئے ہیں کہ یہ وہی میڈیا ہے جو اچھا کھیل پیش کرنے پر آپ کو ”Big Man“ کے خطاب سے نوازتا رہا ہے اور یہ وہی قوم ہے جو آپ کو سر آنکھوں پر بٹھاتی رہی ہے۔ قومی ٹیم ویسٹ انڈیز سے ہاری تو کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن جب آئر لینڈ جیسی کلب لیول کی بے بی ٹیم سے شرمناک طریقے سے ہارے تو سب نے تنقید کی۔ انضی کو اس تنقید پر دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ تباہی تو ہمارے دل پہ آئی۔آپ کیوں روئے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=591</link><pubDate>3/31/2007</pubDate></item><item><title>علاقائی امن وسلامتی کے لیے سارک کا کردار</title><description>وزیراعظم شوکت عزیز نے خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کیلئے جنوبی ایشیا میں تنازعات اور اختلافات کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نیودہلی میں 14ویں سارک سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خطے میں حقیقی امن و سلامتی کی فضا کو فروغ دینے، باہمی اعتماد سازی، پُرامن بقائے باہمی اصولوں کی بالادستی، باہمی انحصار و تعاون کے فروغ اور خطے کے عوام کی زندگیوں میں معیاری تبدیلی کیلئے یکساں مواقع کی فراہمی کیلئے 5 نکاتی روڈ میپ تجویز کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطے کے ایک ارب سے زائد افراد کی نگاہیں ہم پر لگی ہیں، ہمیں سارک کو نئی زندگی دینی چاہئے، صرف علاقائی تعاون کی مشترکہ خواہش کافی نہیں، تجارتی، اقتصادی، انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، مواصلاتی روابط کو فروغ ملنا چاہئے،جنوبی ایشیا کو ترقی پسند بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم شوکت عزیز نے علاقے میں امن واستحکام کے لیے جو روڈ میپ تجویز کیا ہے۔ آپ کے خیال میں اس پر چل کر کیا ہم ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔یا یہ سارک کانفرنس بھی ماضی کی طرح نشستن، گفتن، برخاستن ہی ثابت ہو گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=613</link><pubDate>4/4/2007</pubDate></item><item><title>ملتان کے سلطان کا جانشیں یونس خان؟</title><description>پاکستان کرکٹ بورڈ کے چییٴرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے خبروں کے مطابق قومی ٹیم کے نائب کپتان یونس خان سے ملاقات کی ہے اور انہیں کپتان بننے کی پیش کش کی ہے۔ خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یونس خان نے یہ پیش کش مشروط طور پر قبول کر لی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کپتان بنایا جائے تو مکمل اختیارات کے ساتھ بنایا جایا۔ ماضی میں بھی ہر کپتان کی یہی خواہش رہی ہے کہ اسے مکمل اختیاارت دیے جائیں۔ مستعفی ہونے والے کپتان انضمام الحق پر تو یہ الزام لگ رہا ہے کہ وہ مکمل ڈکٹیٹر بنے ہوئے تھے۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اب یونس خان بھی پورے اختیارات کے ساتھ کپتان بننے کے خواہشمند ہیں۔ جبکہ محمد یوسف اور شاہد آفریدی نے بھی کپتان بنائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ فاسٹ بولر شعیب اختر بہت پہلے کپتانی کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر یونس خان کو کپتان بنا دیا جاتا ہے تو دیگر کھلاڑی جو کپتانی بنائے جانے کی خواہش رکھتے ہیں ان کے ساتھ کتنا تعاون کریں گے اور اگر یونس خان کو مکمل اختیارات مل جاتے ہیں تو وہ ان کھلاڑیوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نیا کپتان جو بھی بنایا جاتا ہے وہ ورلڈ کپ سے ذلت آمیز طریقے سے باہر ہونے والی قومی ٹیم کے وقار کو دوبارہ بحال کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے ۔؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=623</link><pubDate>4/6/2007</pubDate></item><item><title>نیلوفر بختیار کی ”فری فالنگ“</title><description>وفاقی وزیرسیاحت نیلوفر بختیار نے فرانس میں ”فری فالنگ“ کا مظاہر ہ کر کے ایک نیا ایشو کھڑا کر دیا ہے۔انہوں نے چھاتہ برداروں کے لباس میں مشہور پیراشوٹر کے ذریعے جہاز سے چھلانگ لگائی۔کامیاب فری فالنگ پر ان کے انسٹرکٹر نے انہیں گلے لگا کر مبارکباد دی۔ نیلوفر بختیار کے ”فری فالنگ“ کی تصاویر سامنے آنے پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے صاحب الرائے خواتین و حضرات نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایک طبقے کا کہنا ہے کہ نیلوفر بختیار نے فری فالنگ کا مظاہر ہ کرکے اور ایک غیرمسلم سے گلے مل کر اسلامی تشخص کو پامال کیا ہے۔ ڈنڈا بردار طالبات سے شہرت حاصل کرنے والی جامعہ حفصہ کے مفتی نے وفاقی وزیر کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹا کر سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور کے ایک وکیل نے ا ن کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے وہ اپنے اس غیر اسلامی عمل پر بادشاہی مسجد میں جا کر معافی مانگیں۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی نیلو فر بختیار کے فری فالنگ کو قابل مذمت قرارد یا ہے۔ جبکہ ان کی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نیلوفر بختیار نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خلاف اسلام ہو۔ عمر رسیدہ انسٹر کٹر نے انہیں پدرانہ شفقت کے جذبے کے تحت گلے لگایا۔ خود نیلوفر بختیار بھی اپنے عمل پر کسی قسم کی ندامت محسوس نہیں کرتیں ۔ ان کا کہنا ہے انہوں نے فری فالنگ زلزلہ زدگان کی امداد کی غرض سے کی۔ مستقبل میں بھی انہیں ایسا کرنا پڑا تو کریں گی۔ انہوں نے کہا وہ کسی نام نہاد شریعت عدالت کے فتویٰ کو نہیں مانتیں۔ اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی سے ڈرتی ہیں۔ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=643</link><pubDate>4/10/2007</pubDate></item><item><title>ڈیل اور ڈھیل کی باتیں</title><description>پاکستان پیپلز پارٹی اور صدر پرویز مشرف میں ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں۔ پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے حکومت سے رابطوں کی تصدیق کی ہے لیکن کسی قسم کی ڈیل کو خارج ازامکان قرار دیا ہے۔ کچھ دن پہلے جب لاہور میں نیب کے ایک ادارے کو بند کیا گیا تو سیاسی تجزیہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بعض حکومتی وزراء نے بھی اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مابین خفیہ مذاکرات فیصلہ کن نتیجے تک پہنچنے والے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ بات ایک قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ ایوان صدر کے ترجمان نے بھی اس سلسلے میں وضاحت کر دی ہے۔ جبکہ حکومتی وزراء نے بھی اپنا لہجہ یک دم تبدیل کر لیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے ایک دوسرے سے بات چیت کو کھلے عام کبھی بھی قبول نہیں کیا گیا لیکن ہر دو تین ماہ بعد مذاکرات کی کامیابی یا ڈیل کا شور اٹھتا ہے اور پھر اسی تندی و تیزی کے ساتھ اس کا جھاگ بیٹھ جاتا ہے۔ آپ کے خیال میں دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی ہیں یا واقعی سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے ملک میں کسی بڑی تبدیلی کی خواہا ں ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=644</link><pubDate>4/10/2007</pubDate></item><item><title>عدلیہ کا بحران اور کابینہ کا فوٹوسیشن</title><description>چیف جسٹس آف پاکستان کو غیر فعال کرنے کے جیسے جیسے وکلا ء کی تحریک زور پکڑ تی جا رہی ہے حکومت کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے۔ اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ یقینی طور پر حکومتی حلقوں میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور وغوض جاری ہو گا۔ اور حکومت کی یہ کوشش ہو گی کہ اس بحران سے نکلنے کا کوئی آبرومندانہ حل نکل آئے۔ ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ جوڈیشل کونسل کے فیصلے کا انتظارکیا جائے۔ لیکن اس صورت میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ فیصلہ حکومت کے حق میں آتا ہے یا اس کی مخالفت میں۔اس آپشنز سے ہٹ کر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صدر مملکت ازخود اس معاملے کو نمٹاتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کے عہدے پر بحال کردیں۔ یا پھر وفاقی کابینہ میں کسی کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے ساری ذمہ داری اس پر ڈال دی جائے اور اس بحران سے نکلنے کی کوشش کی جائے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ اور تمام ارکان سے کہا ہے کہ فوٹو سیشن کے لیے ہی سہی اجلاس میں ضرور حاضر ہوں۔سوچا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وزیراعظم کو فوٹوسیشن کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=645</link><pubDate>4/10/2007</pubDate></item><item><title>باتیں نوازشریف کی</title><description>سابق وزیراعظم نوازشریف جو اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔وطن واپسی کے حوالے سے خا صے پرامید ہیں۔ تاہم اس کے لیے وہ صدر پرویز مشرف کی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل پر یقین نہیں رکھتے۔اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پرویز مشرف کو نہ وردی میں مانتے ہیں نہ بغیر وردی کے مانیں گے۔ انہوں نے آئین توڑا ہے، انہیں ملک کا صدر نہیں ہونا چاہئے۔ میری نظر میں پاکستان کے ساتھ تو بہت مذاق ہوچکا ہے اور پچھلے سات سال سے ہورہا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میں ایک ڈیل کرکے اس سارے کھیل میں شریک ہوجاؤں اور اپنے لئے آسانیاں پیدا کرلوں، پرویز مشرف کو تسلیم کرلوں اور آج شام کو ہی پاکستان پہنچ جاؤں۔ میں ملک ، آئین اور پارلیمنٹ کو توڑنے والوں سے ، عدلیہ کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والوں سے ڈیل کرلوں ؟۔ آج وزیر اعظم کی حیثیت کسی کلرک سے زیادہ نہیں۔ جب بینظیر پاکستان جائیں گی تو میں ان کے ساتھ آنے والوں کا لاہور ایئرپورٹ پر استقبال کروں گا،ان سے پہلے وطن پہنچ جاؤں گا۔موجودہ حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل یا بات چیت کو ملک و قوم سے غداری سمجھتا ہوں، کسی بھی قسم کی ڈیل کو گالی سمجھتا ہوں، میں امریکا کے کندھوں پر چڑھ کر نہیں آؤں گا۔ میرا کوئی ذاتی ایجنڈہ نہیں، اگر ایسا ہوتا تو میں پرویز مشرف کو صدر تسلیم کرچکا ہوتا اور ان کی گود میں بیٹھا ہوتا، شاید مجھے وزیر اعظم بنانے کی بھی تیاریاں ہورہی ہوتیں، ذاتی معاملات کو ایک منٹ میں ختم کرنے کو تیار ہوں۔اے ٹیم ہو یا بی ٹیم، سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہوگی۔ میرے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ بینظیر کی حکومت سے کوئی ڈیل ہورہی ہے، اگر کسی نے ڈیل کی تو ہم اکیلے جدوجہد کریں گے</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=659</link><pubDate>4/13/2007</pubDate></item><item><title>کیا میں دادا لگتا ہوں۔۔۔شکوہ انضی کا</title><description>پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار بیٹسمین انضمام الحق نے شکوہ کیا ہے کہ ملک کے لئے 17سال خدمات انجام دینے کے بعد مولوی،ڈکٹیٹر،دادا اور میچ فکسر کے خطابات سے نواز کر میری توہین کی جارہی ہے۔ اگر جذباتی شائقین نے اپنی روایت تبدیل نہ کی تو شائد مستقبل میں کوئی کھلاڑی پاکستانی ٹیم کی قیادت قبول کرنے کو تیار نہ ہو۔جیونیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے کہا کہ۔میرے کیر یئر کے دوران جو لوگ مجھے گراؤنڈ میں پانی پلایا کرتے تھے وہی اب میرے حوالے سے غلط باتیں کررہے ہیں۔آپ کے خیال میں انضی کا شکوہ بجا ہے ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=660</link><pubDate>4/13/2007</pubDate></item><item><title>میں کپتانی کا اہل نہیں۔یونس خان</title><description>پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان یونس خان نے کپتانی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ایک دو ماہ بعد ون ڈے کرکٹ سے بھی ریٹائر منٹ لے لیں گے۔ یونس خان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں انہوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس کے تحت وہ اپنے آپ کو کپتانی کا اہل نہیں سمجھتے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے فیصلے سے پی سی بی کو آگاہ کر دیا ہے کہ میں ایک دو ماہ بعد وہ ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے حوالے سے غور کر رہا ہوں،انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ ہی اصل کرکٹ ہے۔ان کاکہنا تھا کہ بورڈ نے مجھے مکمل اختیارات کے ساتھ کپتان بنانے کی پیش کش کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ نئی اور مستحکم سلیکشن کمیٹی بھی بنائی جائے گی تاہم میں نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن میں پی سی بی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس اہم عہدے کے قابل سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں ناکامی سے واپسی پر جس غلط انداز میں ٹیم کا استقبال کیا گیا اس کا مجھے انتہائی افسوس ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=661</link><pubDate>4/13/2007</pubDate></item><item><title>خالدہ ضیاء کا جلاوطنی سے انکار</title><description>بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا نے جلاوطن ہونے سے انکار کر دیا ہے اور وہ حکومت سے ہونے والی ڈیل سے پیچھے ہٹ گئی ہیں ۔ ڈھاکا میں انٹیلی جنس اہلکار نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے بات چیت میں بتایا کہ خالدہ ضیا جلاوطنی سے متعلق حکومت سے ہونے والی ڈیل سے پیچھے ہٹ گئی ہیں ، انہوں نے حکومتی اہلکاروں کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتیں ۔ادھر 60سالہ خالدہ ضیا کے قریبی ساتھی نے بتایا ہے کہ خالدہ ضیا کا بلڈ پریشر کم رہتا ہے اور وہ گھٹنے کے درد میں بھی مبتلا ہیں ۔ وہ باہر نہیں جائیں گی ۔ گذشتہ ہفتے عبوری حکومت اور خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بتایا تھا کہ خالدہ ضیا اپنے بیٹے اور خاندان کے دیگر اہم افراد کے ساتھ سعودی عرب کے لیے جلاوطنی پر رضامند ہو گئی ہیں ،اور اس بارے میں حکومت اور ان کے درمیان سمجھوتہ بھی طے پا گیا ہے، تاہم اب خالدہ ضیا کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز میں ملکی صورت حال تبدیل ہو گئی ہے اور حکومت کی طرف سے بھی سابق وزیر اعظم پر دباؤ کم ہو گیا ہے ۔ خالدہ ضیا کے قریبی ساتھی کا کہناتھا کہ اب انہوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا ہے اور وہ کہیں نہیں جائیں گی۔ادھر بنگلہ دیش کی حکومت نے سابق وزیر اعظم اورعوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کی گرفتاری کے وارنٹ معطل کر دیئے ہیں</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=681</link><pubDate>4/17/2007</pubDate></item><item><title>شعیب ملک کو قومی ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا</title><description>ورلڈکپ میں شرمناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ کے ایک نئے باب کا آغا ز ہو گیا ہے۔ کرکٹ بورڈ نے انضمام الحق کے استعفے اور یونس خان کے انکار کے بعد نوجوان آل راؤ نڈر شعیب ملک کو کئی سینئر کھلاڑیوں پر ترجیح دیتے ہوئے قومی ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا ہے۔ان کے نائب کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ماضی میں جاوید میانداد اور وسیم اکرم کو جب سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی میں کپتان بنایا گیا تھا تو انہیں اپنے ساتھیوں کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔پی سی بی نے ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود جونیئر کھلاڑی کو کپتان مقرر کرکے جواء کھیلا ہے۔ شعیب ملک بھی اس چیلنج کا مقابلہ کرنے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں خطرات سے کھیلنے کے عادی ہیں۔ کپتانی میں ان کے آئیڈیل وسیم اکرم ہیں۔ورلڈکپ میں ناکامی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ میں شکست پرانی بات ہو گئی ۔میں نئے سفر کا آغاز بھرپور حوصلے کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔ دیکھنا یہ ہے کہ شعیب ملک کا حوصلہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو بحال کرنے میں کتنا کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ کہیں وہ بھی محلاتی سازشوں کا شکار تو نہیں ہو جائیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=689</link><pubDate>4/19/2007</pubDate></item><item><title>ایشوریارائے ،ابھیشک کی دلہن بن گئی</title><description>بالی ووڈ کی خوبرو اداکارہ او ر سابق مس ورلڈ ایشوریا رائے اور سپر اسٹار امیتابھ بچن کے صاحبزادے اداکار ابھیشک بچن زندگی کے ساتھی بن گئے ہیں۔ دونوں کی شادی دھوم دھام سے انجام پا گئی ہے۔ کامیاب فلمی جوڑیا ں جب حقیقی جوڑی کا روپ دھارتی ہیں تو دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ناکامی ان کی راہ دیکھ رہی ہوتی ہے۔ لیکن اس نئی جوڑی کے سامنے جیا بچن جوڑی کی مثال ہے۔ خوشی کے ان لمحات میں دعاؤں اور نیک تمناؤں کے پھول ایشوریا اور ابھیشک کوپیش کیے گئے ہیں۔ امید رکھنی چاہیے کہ ان پھولوں کی مہکار ان کی زندگی کے ہر لمحے کو مہکاتی رہے گی۔ شادی کی تقریب میں دلیپ کمار، شاہ رخ خان اور عامر خان کی کمی نظر آئی ۔ جبکہ سجے دت، اجے دیوگن ، کاجول، پریٹی زنٹا ، دمپل کپاڈیاسمیت دیگر فلمی ستارے لمحہ بہ لمحہ جگمگاتے ہوئے دکھائی دیے۔جیابچن حقیقی ساس کے روپ میں بہت خوش دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایشوریا کو بہو نہیں بیٹی بناکر رکھیں گی۔ دنیا کی ہر ساس پہلے یہی کہتی ہے۔ آگے چل کر بیٹی بن کر آنے والی لڑکی کو دبے لفظوں میں یہی کہنا پڑتا ہے کہ۔۔بہو ہوں، چولہا پھٹنے کی خبر بننے سے ڈرتی ہوں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=693</link><pubDate>4/20/2007</pubDate></item><item><title>عمران خان کو سیاست کی کپتانی مل جائے گی؟</title><description>عمران خان نے کرکٹ کھیلی تو شان سے کھیلی۔ کپتان بنے تو ورلڈکپ کا تاج پاکستان کے سر پر سجا دیا۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تو کینسر اسپتال بنا کر دکھی انسانیت کی خدمت کا بیڑہ اٹھا لیا۔ گویا خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے کی مثال عمران خان نے جس شعبے میں بھی قدم رکھا ۔کامیابی و کامرانی نے ان کے قدم چومے۔البتہ سیاست ایک ایسا شعبہ ہے جس میں آنے کے بعد انہیں وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کی وہ توقع رکھتے تھے۔ آج بھی سیاسی بیانات سے زیادہ کر کٹ پر ان کے تبصروں کو دنیا بھر میں اہمیت دی جاتی ہے۔ شائقین کرکٹ کی خواہش اور تمنا رہی ہے کہ عمران خان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھال کر پاکستان کرکٹ کو سدھارنے میں اپنا کردار ادا کریں لیکن عمران خان نے ارباب اختیار کی اس پیش کش کو کبھی قبول نہیں کیا۔ اور بدستور سیاست کے میدان میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیاست کو عبادت سمجھ کر اختیار کیا ہے ۔ اور سیاست میں آنے سے پہلے عملی طور پر سماجی خدمت کی ہے۔ ان کی تمنا ہے کہ تمام سیاستدانوں کے لیے یہ لازمی قرار دے دیا جائے کہ وہ سیاست میں آنے سے پہلے سماجی خدمت کا مظاہرہ کریں۔اگر ایسا ہو جائے تو پھریقینی طور پر عمران خان ہی سیاست کے کپتان ہوں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=713</link><pubDate>4/24/2007</pubDate></item><item><title>خود کش دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق۔وزیر داخلہ بھی زخمی</title><description>وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤکے جلسہ میں خود کش دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 50 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے ہیں۔ صوبہ سرحد میں چارسدہ کے قریب خودکش حملہ آور نے وزیر داخلہ کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی جب وہ جلسہ کے اختتام پر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ حملے میں آفتاب شیرپاؤ اور ان کے صاحبزادے سکندر شیرپاؤ زخمی ہوئے ہیں۔حملہ آور کی شناخت نہیں ہو سکی ۔اور نہ ہی کسی گروپ یا تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تاہم اس دھماکے کے پیچھے کارفرما عوامل بالکل واضح ہیں کہ حملہ آور کا مقصد وزیر داخلہ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا تھا۔اور وہ اپنے اس مقصد میں خاصی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والا یہ 23 واں خودکش دھماکہ ہے۔قبل ازیں صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز پر بھی اسی نوعیت کے حملے ہو چکے ہیں۔ کئی ایک ملزمان پکڑے بھی جا چکے ہیں اور انہیں سزائیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن حکومت اور سیکورٹی ادارے ان حملوں کے پیچھے منظم نیٹ ورک کو توڑنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ جہاں ارباب اقتدار کی اپنی جانیں خطرے میں ہوں اور وہ اپنے آپ کو دہشت گرد عناصر کے آگے بے بس محسوس کرتے ہوں ۔ وہاں عام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی توقع کس سے رکھی جا سکتی ہے۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو نوشتہء دیوار بنتا جا رہا ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=733</link><pubDate>4/28/2007</pubDate></item><item><title>آسٹریلیا نے نئی تاریخ رقم کر دی</title><description>آسٹریلیا کی ٹیم دنیائے کرکٹ کی بے تاج بادشاہ بن گئی ہے۔ نویں ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کی ٹیم کو 53 رنز سے شکست دے کر نہ صرف چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا بلکہ لگاتار یہ ٹائٹل حاصل کرنے کی ہیٹ ٹرک بھی مکمل کر لی ہے۔یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جو شاید ہی کسی اور ٹیم کے ہاتھوں ٹو ٹ سکے۔ نویں ورلڈ کپ میں آسٹریلوی ٹیم مکمل طور پر چھائی رہی۔ اور اس نے کوالیفائینگ راؤنڈ سے لے کر فائنل تک ایک میچ بھی نہیں ہارا۔ جبکہ اس کے برعکس پاکستان سمیت بڑی بڑی ٹیموں کے بت گرتے ہوئے نظر آئے۔ آسٹریلوی کھلاڑیوں نے کھیل کے ہر شعبہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کیا اور مخالف ٹیموں کو آؤٹ کلاس کر کے رکھ دیا۔ کیا ہماری ٹیم بھی کبھی آسٹریلیا کی مثال سامنے رکھتے ہوئے قوم کے سرفخر سے بلند کرے گی؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=734</link><pubDate>4/28/2007</pubDate></item><item><title>کیا قائد اعظم اور لیاقت علی خان میں اختلافات تھے؟</title><description>وزیراعظم کے مشیر شریف الدین پیرزادہ اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان کے درمیان اختلافات کی تفصیلات بیان کی جائیں گی۔ خبروں کے مطابق شریف الدین پیرزادہ کی یہ کتاب اگلے سال تک شائع ہو جائے گی۔ پیرزادہ کا کہنا ہے کہ وہ دونوں رہنماؤ ں کے درمیان پائے جانے والے اختلافی معاملات کے عینی شاہد رہے ہیں ۔تفصیلات ان کی ڈائری میں محفوظ ہیں۔ جنہیں کتابی شکل دی جا رہی ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد پیش آنے والے حالات و واقعات کے تناظر میں پیرزادہ کی یہ کتاب جہاں تاریخ کے طالبعلموں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گی ۔وہاں بہت سے ریکارڈز کی درستگی میں بھی مدد گار و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان میں اگر واقعی کچھ اختلافات تھے تو ان کی نوعیت کیا تھی۔یہ اختلافات ذاتی تھے، نظریاتی تھے یا امورمملکت چلانے کے حوالے سے تھے؟ نیز یہ کہ ان اختلافا ت نے آگے چل کر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=753</link><pubDate>5/3/2007</pubDate></item><item><title>دکانیں بند کرنے سے بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا؟</title><description>پاکستان بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس نے باقاعدہ ایک بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ گرمی کی شدت اور بجلی کے طویل تعطل سے روزمرہ زندگی متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔حکومت نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے لوڈمینجمنٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔جس کے تحت تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔تاہم میڈیکل اسٹورز ، اسپتال ، ہوٹل ، کلینک اور بیکریاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہو ں گی۔ بجلی و پانی کے وفاقی وزیر لیاقت جتوئی جو ملک میں بجلی کے بحران سے انکار کرتے رہے ہیں ۔اب تمام صوبائی حکومتوں سے شاپ ایکٹ پر عملدرآمد کی سفارش کرتے ہوئے انہوں نے بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مد د کی درخواست کی ہے۔ شاپ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 250 روپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے جبکہ دوسری مرتبہ خلاف ورزی کرنے والے کو جرمانے کے ساتھ تین ماہ کی قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے لوڈ مینجمنٹ کا اعلان کر کے ملک میں بجلی کے بحران کا اقرار تو کر لیا ہے لیکن جرمانہ اس بار بھی عوام الناس پر ہی عائد کیا گیا ہے۔ ہے نہ حیرت کی بات!</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=759</link><pubDate>5/4/2007</pubDate></item><item><title>ٹیم کا اعلان۔۔۔محمد آصف نائب کپتان</title><description>ابوظہبی سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ شعیب ملک کی کپتانی میں سری لنکا کے خلاف تین ایک روزہ میچ کھیلنے کے لیے جانے والی ٹیم میں عبدالرزاق، سلمان بٹ اور یاسر حمید کی واپسی ہوئی ہے۔ جبکہ فواد عالم اور نجف شاہ پہلی مرتبہ قومی ٹیم کے لیے سلیکٹ ہوئے ہیں۔ فاسٹ بولر محمد آصف کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ جسے انہوں نے اپنے لیے ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتنیں بروئے کار لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کپتان شعیب ملک نے ٹیم کو متوازن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کا انتخاب ان کے مشورے سے کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم ورلڈکپ کی تلخیوں کو بھلانے میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=767</link><pubDate>5/8/2007</pubDate></item><item><title>چیف جسٹس کے استقبال نے سیاسی تحریکوں کی یاد تازہ کر دی</title><description>چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے استقبالیہ جلوسوں نے ماضی کی بڑی سیاسی تحریکوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ مختلف شہروں میں بارکونسلوں کے اجلاسوں سے چیف جسٹس آف پاکستان کے خطاب کے موقع پرجو گہما گہما ددیکھنے میں آرہی ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگار اسے ملک میں کئی اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ وکلا ء نے اگرچہ اپنی تحریک کو سیاسی جماعتوں سے الگ تھلگ رکھنے بہت کوشش کی ہے لیکن استقبالیہ جلوسوں میں سیاسی کارکنوں کی بھرپور شرکت اس بات کی غماضی کرتی ہے کہ اس تحریک کو زیادہ دیر تک غیر سیاسی نہیں رکھا جا سکتا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں کیا تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اگر کوئی تبدیلی آتی ہے تو کیا وہ اس ملک کے باشعور عوام کے لیے مٹھائی ثابت ہوگی یا قوم کو ایک بار پھر کوئی کڑوی گولی ہی نگلنا پڑے گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=775</link><pubDate>5/8/2007</pubDate></item><item><title>کراچی کو کس کی نظر لگ گئی؟</title><description>کراچی میں ایک بار پھر آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی کراچی آمد کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے استقبالیہ جلوسوں کو روکنے کے لیے ائرپورٹ جانے والے تمام راستے بلا ک کر دیے۔ پھر جیسے ہی چیف جسٹس جناح ٹرمینل پر اترے مختلف مقامات پرفائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شارع فیصل میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگی۔ جلاؤ گھیراؤ اورفائرنگ کے دوران جان ومال کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے۔ گاڑیاں جلتی رہیں۔ گولیاں چلتی رہیں اور لاشیں گرتی رہیں۔ایک دن میں چالیس کے قریب افراد لقمہء اجل بن گئے ۔ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ۔ سو کے قریب گاڑیاں جلادی گئیں۔ کراچی کو ایک بار پھر کسی بد نظر کی نظر لگ گئی ۔بیان بازی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی ہے۔ کوئی بھی بے گناہ عوام کی جان اور مال کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ کسے وکیل کریں ۔کس سے منصفی چاہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=797</link><pubDate>5/12/2007</pubDate></item><item><title>صدر پرویز وردی اتار کر شیروانی پہن لیں تو۔۔۔۔۔؟</title><description>امریکی وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نےصدرمشرف کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ وہ ایک سیاسی عمل اور جمہوریت کی طرف آگے بڑھتے ہوئے انتخابات کروائیں گے اور اس میں اس سال جو چیزیں ہونی ہیں اس میں ایک چیز کی توقع ہے وہ یہ کہ ایک عہدہ رکھا جائے گا یا تو آرمی کا یا صدر کا، دوسری طرف برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے صدر اور آرمی چیف کے عہدے الگ کرنا ضروری ہے، برطانوی ہائی کمشنر نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ دولت مشترکہ کے ممالک کا واضح موقف ہے کہ جمہوریت اس وقت تک پاکستان میں مکمل نہیں ہوگی جب کہ صدر اور آرمی چیف کے عہدے الگ الگ نہیں ہونگے انہوں نے کہا کہ دولت مشترکہ کا موقف یہی ہے کہ یہ عہدے سال کے آخر تک الگ ہو جانے چاہئیں وردی اتارنے سے پاکستان میں حقیقی جمہوریت بحال ہو جائے گی اور صاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد بھی ممکن ہے تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔آپ کے خیال میں اگر صدر پرویز وردی اتار کر شیروانی پہن لیں تو کیا تمام مسائل حل ہو جائیں گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=834</link><pubDate>5/17/2007</pubDate></item><item><title>انٹرنیٹ پر سنسر شپ ہونی چاہیے کہ نہیں؟</title><description>تازہ ترین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹپ پر ریاستی سنسر شپ میں اضافہ ہوا ہے۔جائزے کے مطابق جن ممالک میں انٹرنیٹ مواد کی چھانٹی یا سنسر شپ کی جارہی ہے ان میں پاکستان ، بھارت، چین ، ایران،شام ، لیبیا،اردن ، مراکش،سعودی عرب، برما اور کئی وسط ایشیائی اور خلیجی ممالک شامل ہیں۔محققین نے اس خدشے کا اظہا ر بھی کیا ہے کہ سنسر شپ کرنے والے ممالک کی تعدا میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ زیادہ تر سنسرشپ بتائے بغیر کی جاتی ہے۔اور اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں کوئی شہری جا کرریاست سے پوچھ سکے کہ سنسر شپ کیوں، کیسے اور کس طرح کے مواد کی کی جارہی ہے۔ انٹرنیٹ مواد کی چھانٹی یا سنسر شپ کی تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔سیاست اور اقتدار۔۔ملکی سیکورٹی۔۔اور سماجی اخلاقیات۔۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر سنسر شپ ہونی چاہیے؟



</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=841</link><pubDate>5/19/2007</pubDate></item><item><title>پارلیمنٹ کو اصطبل کہنے کی سزا</title><description>خبروں کے مطابق افغانستان کی ایک صوبائی اسمبلی نے اپنے ساتھی ارکان کو گدھوں اور گائے سے کم تر قرار دینے پر خاتون رکن مالائی جویا کی رکنیت منسوخ کر دی ہے۔ صوبہ فرح سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی مالائی جویا نے ایک انٹرویو میں پارلیمنٹ کو اصطبل سے بدتر قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے بہتر تو اصطبل ہوتا ہے جس کی گائیں کم ازکم دودھ دیتی ہیں۔اور اس میں رکھے جانے والے گدھے باربرداری کے کام تو آتے ہیں۔ ساتھی ارکان نے اپنی اس ” منہ پھٹ“ رکن کو سبق سکھانے کے لیے اس کی رکنیت منسوخ کردی ہے۔ پاکستان میں اسمبلیوں کے لیے مچھلی بازار کی اصطلاح اکثر استعمال ہوتی ہے۔لیکن کسی نے آج تک ان کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار نہیں کیا جیسا کہ افغان رکن اسمبلی نے کیا ہے ۔اگر یہاں بھی کوئی ایسا کر بیٹھے تو کیا اس کی بھی رکنیت منسوخ کر دی جائے گی؟



</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=865</link><pubDate>5/21/2007</pubDate></item><item><title>کرکٹ ٹیم نے ورلڈکپ کا غم غلط کر دیا</title><description>قومی کرکٹ ٹیم کی نوجوان قیادت نے سری لنکا کے خلاف ابوظہبی سیریز جیت کر ورلڈکپ کی شرمناک شکست کا غم غلط کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس سیریز سے نہ صرف شعیب ملک نے کپتانی کا کامیاب آغاز کیا ہے بلکہ شاہد آفریدی سمیت دیگر نوجوان کھلاڑی بھی ایک نئے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ سری لنکا کی ٹیم ورلڈکپ فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کے بعد کچھ تھکی تھکی سی نظر آئی اور اسے اسٹار کھلاڑیوں سنتھ جے سوریا، مرلی دھرن اور چمندا واس کی خدمات بھی حاصل نہیں تھیں لیکن پاکستانی ٹیم بھی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔ جنہوں نے کھیل کے ہر شعبے میں اپنی کارکردگی سے یہ بات ثابت کر دی کہ اگر نوجوانوں پر اعتماد کیا جائے تو وہ قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔سیریز کے پہلے دو میچ جیتنے کے بعد آخری میچ میں پاکستانی ٹیم جیت کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکی لیکن کھلاڑیوں میں جو ٹیم ورک دکھائی دیا ۔اسے دیکھتے ہوئے توقع رکھنی چاہیے کہ شعیب ملک کی کپتانی میں نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل قومی ٹیم قوم کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=879</link><pubDate>5/24/2007</pubDate></item><item><title>ابرارالحق کو گانا تبدیل کرنے کا حکم</title><description>سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلوکار ابرارالحق کو اپنے گانے ”پروین تو بڑی نمکین“ کو تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوران سماعت فاضل عدالت نے ریمارکس دیے کہ موسیقی روح کی غذا ہے، اوٹ پٹانگ چیزوں کو موسیقی کا نام دینا درست نہیں۔ شاعری میں قومی، مذہبی اور اخلاقی روایات کا خیال رکھا جائے۔ عدالت نے ابرالحق سے یہ بھی کہا کہ نوجوان نسل ان کے گانے شوق سے سنتی ہے۔لہذا انہیں مثبت گانے بنانے چاہییں۔اردو شاعری اور نغمات میں نسوانی ناموں کا استعمال پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب جب کہ عدالت نے ازخود کاررائی کرتے ہوئے ” پروین “ اور ”شوقین“ کے الفاظ استعمال کرنے کی ممانعت کر دی ہے اور ساتھ ہی شاعری کے لیے ایک گائیڈ لائن بھی دے دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ابرارالحق سمیت تمام گلوکار اس کی کتنی پاسداری کرتے ہیں۔ اور شاعر حضرات کے جذبات و احساسات پر قومی ، مذہبی اور اخلاقی روایات کا رنگ کہاں تک غالب آتا ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=895</link><pubDate>5/28/2007</pubDate></item><item><title>آپس میں شادی کرنے والی لڑکیوں کوسزا</title><description>لاہور ہائی کورٹ نے آپس میں شادی کرنے والی لڑکیوں شمائل راج اور شہزینہ طارق کوعدالت میں غلط بیانی کرنے پر تین تین سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے لڑکیاں ہونے کے باوجود آپس میں شادی کی ہے۔ تاہم عدالت نے ان کے خلاف ہم جنس پرستی کے الزام کا نوٹس واپس لے لیا۔ فاضل عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عدالت ان دونوں کی شادی کو تسلیم نہیں کرتی۔فیصل آباد کے شمائل راج اور شہزینہ طارق نے اپنے گھر والوں سے بغاوت کر کے آٹھ ماہ قبل شادی کر لی تھی۔ شمائل راج کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر لڑکی ہے لیکن اب تبدیلی جنس کے عمل سے گزر رہا ہے اور خود کو مر د سمجھتا ہے۔ ویمن ایکشن فورم نے ان لڑکیوں کو سزا دیے جانے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی دو انسان آپس میں ہنسی خوشی رہنا چاہتے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=896</link><pubDate>5/28/2007</pubDate></item><item><title>چیف جسٹس کی میڈیا کوریج پر پابندی لگادی گئی</title><description>ملک بھر کے تمام ٹی وی چینلز پر چیف جسٹس کے جلسے ، جلوس یا دیگر تقریبات کی کوریج پر پابندی لگا دی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے ٹی وی چینلز کو کہا گیا ہے کہ وہ چیف جسٹس سے متعلق کوئی بھی تقریب نہ دکھائیں۔ پیمرا کو بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور اسے سختی سے ان معاملات پر گہری نگرانی رکھنے کیلئے کہا گیا ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بھی اخبار ات اور ٹی وی چینلز کو وارننگ دی ہےکہ عدلیہ، مسلح افواج سمیت قومی اداروں کے احترام کو یقینی بنایا جائے گا اور آئندہ افواج پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کے اقدامات کئے جائیں گے اور لائیو نشریات کے بارے میں پیمرا کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ حکومت ایک طرف تو میڈیا کی آزادی کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب نت نئے قوانین کے ذریعے اسے لگام ڈالنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ آپ کے خیال میں میڈیا نے قوم کو اطلاعات کی بروقت فراہمی کے علاوہ کون سا ایسا کام کیا ہے کہ اسے ایک بار پھر زنجیروں میں جکڑنے کی تیاریا ں کی جارہی ہیں۔ کہیں آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے والی بات تو نہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=908</link><pubDate>5/31/2007</pubDate></item><item><title>ہے کوئی پانچ ہزار میں بجٹ بنانے والا؟</title><description>بجٹ کی آمد آمد ہے۔ کئی منی بجٹ آچکے ہیں۔ کئی پوسٹ بجٹ بھی آئیں گے۔ اشیائے صرف کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ بجٹ میں کچھ اور بلندی پر چلی جائیں گی۔ بجلی آتی نہیں ہے۔ بجلی کا بل ہر مہینے آجاتا ہے اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ پینے کو صاف پانی نہیں ۔ٹیکسوں کی فراوانی ہے۔ سرچارج عزیز تو چلے گئے لیکن اب بنکار وزیراعظم ہیں ۔ ان کے نام کے ساتھ بھی عزیز لگتا ہے۔ فنکاری دکھا سکتے ہیں۔ ایسا بجٹ بنائیں گے۔ عوام پھولے نہیں سمائیں گے۔اور پھر اپنا معیار زندگی برقرار رکھنے کی خاطر کولہو کے بیل بن جائیں گے۔ نوید سنائی جارہی ہے کہ بجٹ میں کم ازکم تنخواہ چار ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز ہے۔ پانچ ہزار روپے میں پانچ افراد کے کنبے کا ماہانہ بجٹ جو بنا دے۔ اس محفل میں ہے کوئی ایسا۔۔ایسا ہو تو سامنے آئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=913</link><pubDate>6/1/2007</pubDate></item><item><title>جیو نیوز کی نشریات پر پابندی</title><description>حکومت پاکستان نے کوئی وجہ بتائے بغیرملک کے مختلف شہروں میں جیونیوز کی نشریات بلاک کردی ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق اتوار کی شب حالات حاضرہ کاپروگرام ”میرے مطابق“ جاری تھا کہ ملک کے بیشتر علاقوں سے نشریات کی معطلی کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔جیونیوز کاکہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں اس کی نشریات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔قبل ازیں حکومت نے پیمرا کووزارت اطلاعات کے ماتحت کر دیا تھا جس کے بعد ایک حکم نامے کے ذریعے تما م نجی ٹی وی چینلز کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی لائیو کوریج سے روک دیاگیا تھا۔ جس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی ویژن چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے کہا تھا کہ پیمرا قواعدو ضوابط پر تحفظات کے باوجودپی بی اے نے ہمیشہ ان قوانین کا احترام کیا ہے۔اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کیا ہے۔آئین میں آزادی ء اظہار کے ساتھ ساتھ لوگوں کو خبروں تک رسائی کا بھی حق دیا گیا ہے۔ حکومت کو غلط اور درست کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔افواہوں کا پھیلنازیادہ تباہ کن ہو گا۔جیونیوز پر پابندی لگا کر لوگوں کو ان کے بنیادی آئینی حق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اور ساتھ ہی ملک میں میڈیا کی آزادی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی حکومت کے بارے میں ایک سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=921</link><pubDate>6/3/2007</pubDate></item><item><title>میڈیا پر قدغن</title><description>پاکستان میں پے درپے ہونے والے حالات و واقعات کی کوریج کے تناظر میں میڈیا کے کردار اور اس کی آزادی کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے والی اتھارٹی (پیمرا) کو وزارت اطلاعات کے ماتحت کرنے کے بعد حکومت نے ایک حکم نامے کے ذریعے تمام ٹی وی چینلز کو چیف جسٹس آف پاکستان کی لائیو کوریج سے منع کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں صدرمملکت نے پیمرا کے حوالے سے ایک ترمیمی آرڈیننس بھی جاری کیا ہے۔ جس میں پیمرا کو کسی بھی ٹی وی چینل کی نشریات بند کرنے اور اس کے آلات اٹھا کر لے جانے کا اختیاردیا گیا ہے۔ صحافتی و حقوق انسانی کی ملکی و غیر ملکی تنظیموں نے اس آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اسے آزادی ء اظہار کے بنیادی آئینی حقوق سے متصادم قرار دیا ہے۔جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ میڈیا کی آزادی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ حکومت کے اس دعوے کے برعکس جیو نیوز سمیت بہت سے ٹی وی چینلز کی نشریات کئی دن تک بلاک رکھی گئیں۔ اور ان نشریات کو روکنے میں ملک کے مختلف علاقوں میں کیبلز آپریٹرز نے اہم کردار ادا کیا۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں میڈیا پر قدغن کے کئی ایک روپ سامنے آئے ہیں۔ آپ کے خیال میں ان تمام عوامل کے ہوتے ہوئے میڈیا اپنی آزادی اور غیرجانبداری کو برقرار رکھ سکتا ہے کہ نہیں ؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1029</link><pubDate>6/6/2007</pubDate></item><item><title>پیمرا ترمیمی آرڈیننس واپس لیے لیا گیا</title><description>وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ صدر مملکت پرویز مشرف نے پیمرا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی ہدایت کر دی ہے۔ قبل ازیں صدر مملکت نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وفد سے ملاقات میں اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ پی بی اے نے تین دن میں اپنا ضابطہ ء اخلاق تیار کر لیا تو ترامیم واپس لے لی جائیں گی۔تاہم بعدازاں پیمرا ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا گیا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ حکومت صدر مملکت کی ہدایت پر عمل کرے گی۔ واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے پیمرا ترمیمی آرڈیننس پر صحافتی تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم اور آزاد میڈیا پر قدغنیں لگانے کے مترادف قرار دیا تھا۔ جبکہ حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں نے بھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بھی امید رکھنی چاہیے کہ میڈیا اپنے لیے کوئی ایسا ضابطہ ء اخلاق تیار کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گا۔جس کے تحت آگے چل کر حکومت اور میڈیا کے تعلقات میں بگاڑ پید ا ہونے کے امکانات نہیں رہیں گے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1052</link><pubDate>6/9/2007</pubDate></item><item><title>بجٹ آگیا ۔عوام کو کچھ ملا کہ نہیں ؟</title><description>بجٹ آگیا ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ دالوں ، چاول اور چینی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ عمرایوب نے قومی اسمبلی میں 2007-2008 ء کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو گیارہ ارب روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔پانچ سال کے دوران ایک کروڑ سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔مٹی کے تیل ، ڈیزل اور کھاد پر111 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے بجٹ کو مراعات یافتہ طبقے کے چنگل سے نکال کر غریب عوام کا بجٹ بنا دیا ہے۔عوام کو مہنگائی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔عمرایوب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان ایک خوشحال ملک بن گیا ہے۔مزدوروں کے لیے کم ازکم تنخواہ 4600 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا پاکستانی قوم آج دنیا میں فخر سے سر اٹھا کر چل سکتی ہے۔ہم غربت سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔کشکول اٹھا کر جگہ جگہ مانگنے والے نہیں رہے۔اب ہم دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ کی تقریر دل پذیر کو دیکھا جائے تو لگتا ہے پاکستانی قوم کو اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے۔ لیکن جیسے ہم اس تقریر کے سحر سے باہر آتے ہیں ۔ خوابوں کی تعبیر ہمیشہ الٹی نظر آتی ہے۔ ٹیکسوں کی مد میں اتنا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے کہ سر اٹھا کر چلنے کی کوشش کرنے والوں کی کمر ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1053</link><pubDate>6/9/2007</pubDate></item><item><title>کفیلہ صدیقی کا قتل کئی سوال چھوڑ گیا</title><description>پاکستانی نژاد کینیڈین خاتون کفیلہ صدیقی اسلام آباد میں پراسرار طور پر وفاقی وزیر مملکت برائے مواصلات شاہد جمیل کی رہائش پر مردہ پائی گئیں۔ انہیں کراچی میں دفن کر دیا گیا ہے۔ کفیلہ صدیقی کے شوہر نے لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی اہلیہ کو حبس بے جا میں رکھا گیا جس کی وجہ سے ان کی موت واقعہ ہوئی۔ شاہد جمیل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے تاہم کفیلہ صدیقی کے بھائی کی درخواست پر شاہد جمیل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات کفیلہ سے ٹورنٹو میں ایک نمائش کے دوران ہوئی تھی۔ جس کے بعد وہ پاکستان آگئی تھیں۔ ان کی کمپنی کینیڈین بینکوں کی مقروض تھی۔ ان کے شوہر بھی ان سے رقم کا تقاضا کرتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے دونوں میں اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ وہ خاصی پریشانی میں تھیں ۔ جس کی وجہ سے وہ ان کی رہائش پر منتقل ہوگئے تھے۔ گھر کا کرایہ بھی وہ خود دیتے تھے۔ دوسری طرف کفیلہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی کو حبس بے جا میں رکھ کر ہلا ک کیا گیا ہے۔ کفیلہ کے بھائی کا بھی یہی موقف ہے۔ اس لحاظ سے یہ کیس انتہائی پیچیدہ رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اور بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ وزیرمملکت سے کفیلہ کے گہرے مراسم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر موصوف ان کے گھر کے فرد کی طرح ان کے ساتھ رہنے لگے تھے۔ جبکہ مختلف تقریبات کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں کفیلہ جہاں کہیں بھی شاہد جمیل کے ساتھ ہیں ۔بہت خوش نظر آرہی ہیں۔ ان کا کینیڈا چھوڑنا، اپنے شوہر اور اکلوتے بیٹے سے منہ موڑ لینا، اور پھر اسلام آباد میں پراسرار طور پر مردہ پایا جانا۔ایسے سوالات ہیں ۔جن کا جواب ہر پاکستانی چاہتا ہے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1066</link><pubDate>6/11/2007</pubDate></item><item><title>بجلی کا بحران</title><description>کراچی میں بجلی کے بحران نے اندھیر مچا رکھا ہے۔ دو گھنٹے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ غیر اعلانیہ طور پر آٹھ ، دس، بارہ گھنٹوں کے دورانیے پر محیط ہوچکی ہے۔ لوگ سڑکوں اور پارکوں میں سونے پر مجبور ہیں۔ اب سٹی گورنمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے تک لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ گویا لوگ اپنے گھر وں میں سو سکیں گے۔ دن میں کیا کریں گے ۔ اس سلسلے میں ابھی کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم رات کی لوڈشیڈنگ سے شہریوں کو نجات دلا کر کراچی کو واپس لالٹین کے دور میں جانے سے بچا لیا گیا ہے۔ نہیں تو آپ کو کچھ ہی دنوں میں ہر گھر کے دروازے پر ایک لالٹین لٹکی ہوئی نظر آتی۔ چوراہوں پر ٹریفک سگنل کی جگہ جلتی بجتی لالٹینیں ہوتیں جو آنے جانے والوں کو اندھیری گلی میں جانے سے باز رکھتیں۔ اس طرح خاصی مقدار میں انرجی بچا کر اسے صنعتی ترقی کے لیے استعمال کیا جاتا۔راوی چین ہی چین لکھتا۔۔لیکن اب شہری انتظامیہ کے اعلان کے بعد ہم نے لالٹین خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ آپ بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1080</link><pubDate>6/14/2007</pubDate></item><item><title>باب وولمر کی موت کو طبعی قرار دے دیا گیا</title><description>جمیکا کی پولیس نے بالآخر پاکستان کرکٹ ٹیم کے غیر ملکی کوچ باب وولمر کی موت کو طبعی قرار دے دیا ہے۔ جس کے بعد یقینی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں باالخصوص انضمام الحق اور مشتاق احمد نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ جمیکن پولیس کی جانب سے باب وولمر کی موت کو قتل قرار دیے جانے کے بعد قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو سخت تفتیشی مراحل سے گزرنا پڑا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تھے اور ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ شکوک وشبہات بڑھ رہے تھے۔ بدنامی الگ ہو رہی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ باب وولمر کی طبعی موت کو قتل قرار دینا اور پھر پاکستانی کھلاڑیوں کو اس میں ملوث قرار دینا کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہو؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس پہلو پر ضرور غورکرنا چاہیے اور جمیکن پولیس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے آپشن پر بھی سوچنا چاہیے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1081</link><pubDate>6/14/2007</pubDate></item><item><title>ایدھی کے مذہبی وسیاسی افکار</title><description>معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے سماجی خدمت سے ہٹ کر سیاست ، مذہب اور سماج پرگفتگو کی ہے۔ جنگ سنڈے میگزین میں شائع ہونے والے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں پکا مسلمان ہوں۔اور مساوات پر یقین رکھتا ہوں۔ بچپن میں کارل مارکس ، لینن اور اسٹالن کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ظالم اور مظلوم کی جنگ کو ہر طرف دیکھتا ہوں۔میرے خیال میں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرنے کے بجائے اس رقم کو عوام کی فلاح پر خرچ کرنا چاہیے۔مذاہب میں ملا اور پادری کا کردار ختم ہو چکا ہے۔میں ڈکٹیٹر شپ کا حامی ہوں۔جہاد وہ ہے جو غریب کے لیے کیا جائے۔میں غربت ختم کرنے کے لیے جہاد کر رہا ہوں۔ یہی اصلی جہاد ہے۔نکاح کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں۔مرد اور عورت کے درمیان قبول وایجاب سے نکاح ہو جاتا ہے۔شادی کے گواہ آہستہ آہستہ بعد میں بن جاتے ہیں ۔ البتہ مر د کا حق مہر دینا ضروری ہے۔نکاح کی رجسٹریشن بھی انسانوں کو غلام بنانے کاسرکاری قانون ہے۔ میں اسلحے کے حق میں نہیں ۔ دنیا کے کسی ملک کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔ فوج بھی نہیں ہونی چاہیے۔

ایدھی صاحب کے خیالات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ پروفیسر آفاق خیالی نے ان کے انٹرویو پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سنڈے میگزین کو خط لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہرت نے ایدھی کو الٹا خدا سے باغی کر دیا ہے۔اپنی عینک صاف کرنے کے بجائے دوسروں کے چہروں کو گرد آلود کہتے ہیں۔بزعم خود مفتی اعظم بن گئے ہیں۔شادی کے لیے مولوی کے بجائے فریقین کے ایجاب وقبول کو کافی قرار دیتے ہیں۔گویا آپ جنس پرستوں کو”ایزی لوڈ“ کرنا چاہتے ہیں۔انقلاب فرانس کے بانی والٹیر کا قول یاد آتا ہے”جو شخص ہر سوال کا جواب دیتا ہے ، نرا احمق اور بڑا جاہل ہے“ ۔۔پروفیسر خیال آفاقی کا غم وغصہ اپنی جگہ ۔آپ نے بھی ایدھی کا انٹرویو پڑھا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1091</link><pubDate>6/18/2007</pubDate></item><item><title>سلمان بٹ کو محمد آصف کی جگہ نائب کپتان بنا دیا گیا</title><description>نت نئے تجربات کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک اور حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے اوپنر سلمان بٹ کو قومی ٹیم کا نائب کپتان مقررکردیا ہے۔ فاسٹ بولر محمد آصف کو ایک سیریز کے بعد عہدے سے سبکدوش کردیا گیا۔ محمد آصف کو ابوظبی کی ون ڈے سیریز میں شعیب ملک کا نائب مقررکیا گیا تھا۔ اتوارکو پی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے اجلاس کے بعد بورڈ کے سربراہ نسیم اشرف نے اعلان کیا کہ سلمان بٹ کو نائب کپتان مقررکرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم انہیں مستقبل کے لیے کپتان کی حیثیت سے گروم کرنا چاہتے ہیں۔ پی سی بی کے سربراہ کا دعویٰ ہے کہ سلمان بٹ نے قومی ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرلی ہے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ محمد آصف کو تین میچوں کے بعد نائب کپتانی کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم مستقبل کی پلاننگ کر رہے ہیں۔ محمد آصف ٹیم میں ہے، ہم نے اپنے فیصلے سے آصف کو آگاہ کردیا، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ نائب کپتانی کے لیے شاہد آفریدی کا نام بھی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آیا تھا لیکن کرکٹ بورڈ کے تھنک ٹینک کی تجویز پر سلمان بٹ کو نائب کپتانی کا فریضہ سونپ دیا گیا۔ آپ کے خیال میں بورڈ کا یہ فیصلہ کتنا درست اور کتنا غلط ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1092</link><pubDate>6/18/2007</pubDate></item><item><title>اسلام آباد میں انوکھا احتجاج</title><description>اسلام آباد میں تعینات پنجاب کانسٹیبلری کا ایک اہلکار بیماری کے دوران چھٹی نہ ملنے پر جاں بحق ہو گیا۔ جس پر اس کے ساتھی جوانوں نے آب پارہ چوک پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ٹائر جلائے اور ٹریفک بلاک کر دیا۔ مظاہر ہ روکنے پر احتجاجی اہلکاروں نے اسلام آباد پولیس کے ڈی ایس پی اور دیگر اہلکاروں کی پٹائی کر دی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مظاہر ہ ہے جس میں خود سرکاری فورس کے اہلکار اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ورنہ ا ن کا کام تو اپنے حقوق غصب کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ڈنڈے برسانا، آنسو گیس کے گولے پھینکنا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنا ہی رہ گیا تھا۔ پنجاب کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے مظاہر ہ کے دوران یہ بھی کہا کہ اب اسلام آباد میں آگ بھی لگ جائے تو وہ نہیں آئیں گے۔یہ بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ حکومت نے فوری طور پر ان کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ متوفی اہلکار کو شہید کا رتبہ دے دیا ہے۔ ا س کے لواحقین کے لیے پچیس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے اور احتجاجی جوانو ں کا ٹی اے ۔ڈی اے اور دس دن کی چھٹی منظور کر لی ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1100</link><pubDate>6/19/2007</pubDate></item><item><title>کراچی میں طوفانی بارشوں سے تباہی</title><description>کراچی میں بارش اور طوفانی ہواؤں نے اختتام ہفتہ جو تباہی مچائی تھی۔ اس کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ مرکزی شاہراہوں پر گرنے والے ہورڈنگز اور سائن بورڈ اٹھا لیے گئے ہیں۔ جن کے نیچے دب کر کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں ۔جگہ جگہ گرنے والے قدیم درخت بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے سڑکیں کئی دن تک بلاک رہی ہیں۔طوفانی بارش میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ زیادہ تر نقصان گڈاپ ٹاؤن میں ہوا ہے۔ جہاں طوفانی ہواؤں سے مکانات، درخت، بجلی کے پول اور ہورڈنگز گرنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ شہر کے کئی علاقے کئی کئی دن سے بجلی سے محروم ہیں۔ جبکہ بجلی نہ ہونے سے بہت سے علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت نے متاثرین کی فوری بحالی کے لیے بیس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ صوبے کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ہورڈنگز گرنے کے واقعات کو عذاب الہی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ہورڈنگز پر خواتین کی نیم عریاں تصاویر تھیں ۔جن کی وجہ سے یہ عذاب آیا ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1118</link><pubDate>6/26/2007</pubDate></item><item><title>انسان تھک بھی تو جاتا ہے!!</title><description>کام ، کام اور بس کام۔۔۔انسان تھک بھی تو جاتا ہے۔ صدر پرویز مشرف نے جب ملک کا نظم ونسق سنبھالا تو بہت زیادہ تازہ دم، بہت زیادہ پرامید نظر آتے تھے۔ اپنے سات نکاتی اصلاحا ت کے پروگرام پر عملدرآمد کے لیے ہمیشہ بے چین رہتے تھے۔ لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے وعدوں کی طرح ان کا سات نکاتی پروگرام بھی تھک ہار کر کہیں گوشہ نشین ہو گیا۔ نت نئے چیلنجوں سے نمٹنے والے اس شہ سوار کے قدم ڈگمگائے نہیں تو لیکن لڑکھڑائے ضرور ہیں۔انہیں اپنے عہدے ، اپنی یونیفارم اور اپنے ایجنڈے کے ساتھ رہتے ہوئے بہت سے پل صراط عبور کرنے ہیں۔ اگر ان کے ارادے متزلزل ہو گئے تو پھر قوم کی ان امیدوں کا کیا ہو گا جو ان سے وابستہ کر لی گئی ہیں۔ صدر صاحب جلد قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔ یقین رکھنا چاہیے کہ ان کی تقریر میں تھکن کو کوئی عنصر نہیں ہو گا۔ اور وہ پہلے کی طرح عزم و ہمت کا پیکر بن کر قوم کو نئی منزلوں کی جانب پیش رفت کی نوید سنائیں گے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1135</link><pubDate>6/30/2007</pubDate></item><item><title>لال مسجد کا معاملہ کیا رنگ لائے گا؟</title><description>لال مسجد عرصہ دراز سے ایک حساس مسئلہ بنتا جا رہا تھا۔ ہر کوئی پریشان تھا۔منگل کی صبح سے لال مسجد کی انتظامیہ اور رینجرز کے درمیان اچانک فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اب تک کئی ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور بہت سے زخمی ہوچکے ہیں۔اس سلسلہ میں پہلے بھی کافی کوششیں کی گئیں لیکن یہ مسئلہ حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان ایک متنازعہ شکل اختیار کرگیا ہے۔ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہمارے ملک میں تحمل و برداشت افہام و تفہیم سے کام لینے کا جذبہ ماند پڑگیا ہے۔ اب آئندہ کیا ہوگا؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔سیاسی و مذہبی جماعتوں کو چاہئے اس نازک وقت میں آگے بڑھ کر ملک میں افراتفری کو بڑھنے سے روکیں اور حکومت کو بھی چاہئے کہ اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اس طرح کا کشت و خون ساری دنیا میں ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بجائے ہمیں اس طرف دھکیل رہا ہے جہاں ہم سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ کرسکیں۔ جامع حفصہ اور لال مسجد میں کئی ہزار طالبات اور طلباء رینجرز سے مقابلہ کر رہے ہیں کہ جیسے ہم کسی اندرونی جنگ میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ ہم اپنی انگلیاں خود ہی جلا رہے ہیں۔ کسی اور کو کیا کہیں۔ اپنے ہی گھر کو جلتا دیکھ رہے ہیں جو انتہائی خوفناک اور مایوس کن صورتحال ہے۔ کوئی تو آگے بڑھ کر اس آگ کو ٹھنڈا کرے۔ ساری دنیا کے مسلمان اس سے کیا نتیجہ اخذ کریں گے۔مغربی دنیا کیا کہے گی ؟ اور…آپ کیا کہتے ہیں اس معاملے پر…؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1145</link><pubDate>7/3/2007</pubDate></item><item><title>شعیب اختر اور محمد آصف عالمی ثالثی عدالت سے بری</title><description>کھیلوں کی عالمی عدالت نے بی سی سی پی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے تیز ترین باؤلرز شعیب اختر اور محمد آصف کی بریت کے خلاف ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ ایجنسی (واڈا ) کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ دیدیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بھارت کے شہر جے پورمیں آئی سی سی چمپئن ٹرافی کے آغاز سے قبل ان دونوں کھلاڑیوں پر قوت بخش ادویات کے استعمال کا الزام لگا دیاگیا۔ جسٹس فخر الدین علی ابراہیم کی سربراہی میں اپیلٹ ٹریبونل نے دونوں کو بری کردیا تھا۔واڈانے شعیب اختر اور محمد آصف کی بریت کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں اپیل دائر کردی تھی۔واڈا نے آئی سی سی پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے مکمل طور پہ واڈا کی پالیسی اور ضابطہ اخلاق پر عمل در آمد کرنے کو کہا ہے۔ اس طرح دونوں کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہوگیا ہے۔ اب وہ پوری توجہ اپنی باؤلنگ پر دے سکیں گے ا ور آئندہ ایسی ادویات کا استعمال ترک کرتے ہوئے خود کو کرکٹ کے لئے فٹ رکھ سکیں گے۔واڈا کا یہ فیصلہ دنیائے کرکٹ میں قابل تعریف کہلائے گا۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1159</link><pubDate>7/5/2007</pubDate></item><item><title>برقعہ پوش مجاہد؟</title><description>لال مسجد میںآ پریشن سائلنس کے دوران مسجدکے خطیب مولانا عبدالعزیز نے برقعہ پہن کر راہ فرار اختیار کرنے کوشش کی مگرناکام رہے حالانکہ اس سے قبل انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مجھے بشارت ہوئی ہے کہ مسجد میں میرا خون گرے گا جس سے انقلاب برپا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ کل تک جہاد کے حکم دیا کرتے تھے اور شریعت کے نفاذ کے دعویدار بنے ہوئے تھے انہوں نے سیکڑوں طلبہ و طالبات کو مسجد سے نکلنے نہیں دیا ، ان سے شہادت کی قسمیں لیں اور خود اپنی جان بچانے کی خاطر برقع کا ا ستعمال کیا۔ان کا یوں چھپ کر نکلنا کئی سوالات ذہنوں میں چھوڑ گیا ہے۔ کیا ان کا یہ انداز صحیح تھا؟آپ کیا سمجھتے ہیں؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1174</link><pubDate>7/6/2007</pubDate></item><item><title>لال مسجد بحران.....آخرکیا ہوگا؟</title><description>پورے پاکستان کی نظریں اس وقت لا ل مسجد اور جامعہ حفصہ پر لگی ہوئی ہیں،لمحہ لمحہ

....کشیدگی....خوف....ہراس....آخرکیا ہوگا۔

....1حکومت کا موقف: "ہتھیار ڈالیں ورنہ ایکشن ہوگا"

....2لال مسجد والوں کا موقف: "گرفتاری کسی صورت میں نہیں دیں گے،حکومت ہم سب کو محفوظ راستہ دے"

دونوں صورتوں میں مسجد میں موجود بچوں ،بچیوں ،خواتین اورلوگوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کا امکان ہے۔آپ بھی اس سنگین صورتحال کو لمحہ لمحہ دیکھ رہے ہیں،خبریں سن رہے ہیں،آپ بتائیں کہ آپ کے خیال میں کیا طریق کار اختیارکیا جائے کہ انسانی ہلاکتیں نہ ہونے پائیں،بچے،بچیاں،خواتین اورلوگ زندہ بھی رہیں اور بحران بھی ختم ہوجائے۔اس سلسلے میں درج ذیل آپشنز میں سے آپ کس کی حمایت کرتے ہیں اورکیوں.......؟

1)لال مسجد والے مجرم ہیں،ان کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے،کسی قسم کی رعایت سے دوسرے انتہاپسندوں اورمجرموں کے حوصلے بڑھیں گے اورملک میں غلط مثالیں قائم ہوں گی۔

2)مجرم ضرور ہیں.....لیکن دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انسانی جانیں بچانے کیلئے مصالحتی راستے اختیار کئے گئے،یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہئے

3)بچوں،بچیوں کا کوئی قصور نہیں،ایکشن سے پہلے ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

4)لال مسجد بحران کی وجہ سے ملک بدنام ہورہا ہے،اس کے قابل قبول حل کیلئے جلد از جلدکسی تیسرے فریق کا تعاون حاصل کرنا چاہئے۔

5)فی الوقت ان سب کو رہا کردیا جائے،بعد میں مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

6)تمام مجرموں کو عام معافی دے دی جائے۔

آپ نے حکومت اور لال مسجد کے موقف ملا حظہ کئے۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟،اپنی رائے سے ہمیں بھی آگاہ کیجئے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1192</link><pubDate>7/8/2007</pubDate></item><item><title>کیا لالٹین اورموم بتی کا دور واپس آرہا ہے؟</title><description>ہر سال کی طرح امسال بھی بجلی کے بحران نے ساری قوم کو ایک اذیت میں مبتلا کئے رکھا۔ گاؤں گاؤں شہر شہر یہ شور سنائی دیتا ہے کہ کہیں سے بجلی کی بحالی کا بندوبست ہوجائے ۔ بجلی کے بحران سے بچنے کے لئے ایک عام شہری اگر استطاعت رکھتا ہے تو چھوٹے سے سے چھو ٹا جنریٹر یا یو پی ایس خرید سکتا ہے لیکن ایک کم آمدنی والا اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔اس لئے کہ وہ اس تنخواہ میں گھر چلا ئے یا اس طرف دھیان دے۔ بڑے لوگ تو ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز خرید کر کام چلاتے ہیں کیونکہ وہ اس بوجھ کو برداشت کرلیتے ہیںآ ج کل تو جنریٹر یا یو پی ایس بنانے والوں کے سر کڑھائی میں اور چاروں انگلیاں گھی میں ہیں اوربجلی کا بحران ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ لگتا ہے کہ لالٹین اور موم بتی کا دور واپس آرہا ہے تاکہ ہم اپنے بچوں کو بتلا سکیں کہ پہلے زمانے میں بجلی نہیں تھی لیکن سکون تھا۔ اب یہ حال کہ ہر کام بجلی کی وجہ سے رکا پڑا ہے اور روز مر ہ کے کام روکے نہیں جاسکتے۔ایسی صورت میں آپ کے پاس کوئی کارگر علاج ہے تو بتلائیں؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1228</link><pubDate>7/10/2007</pubDate></item><item><title>مستحق سیلاب زدگان تک امداد پہنچ رہی ہے؟</title><description>گذشتہ ہفتے بارش اور طوفان سے سندھ اور بلوچستان کا بیشتر علاقہ متاثر ہوا۔ کئی ایک صحرا ئی علاقے سمندروں میں تبدیل ہوگئے۔ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ۔ ان کا مال و اسباب اس طوفان میں بہہ چکاہے۔ کئی اموات بھی ہوگئیں۔ امدادی ٹیمیں اور ان کے لئے فنڈز جمع کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر میں امدادی ریلیف کیمپ قائم ہیں اور حکومت بھی ان کی بحالی کے لئے اقدام کر رہی ہے۔ کسی کو اونٹ کے منہ میں زیرہ دے کر تسلی کروادی گئی۔ اس رویہ سے تنگ آکے متاثرہ خاندانوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ کہ ان کو امداد نہیں ملی۔ کسی کو کھانا کسی کو کپڑے اور کسی کو سر چھپانے کے لئے چھت درکار ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے نظر آتے ہیں کہ خدارا کوئی مدد کو پہنچے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے، آخر یہ امداد کس کو پہنچ رہی ہے؟ موجودہ ریلیف کیمپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا کوئی انتظامی کمزوری ہے یا امداد کی غیر منصفانہ تقسیم جسے بندربانٹ کہا جاتا ہے ،جاری و ساری ہے۔ آخر یہ لوگ کس سے فریاد کریں؟ آپ کیا کہیں گے اس بارے میں؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1229</link><pubDate>7/10/2007</pubDate></item><item><title>لال مسجد آپریشن کیا اثرات چھوڑ گیا</title><description>لال مسجد کاواقعے نے پاکستانیوں کو ہی نہیں پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیاہے۔ لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے ذمہ داروں کے خلاف آپریشن منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ حقیقت کیا ہے اور کیا تھی یہ تو شاید ہی سب کے سامنے آسکے ۔مگر یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آپریشن کے دوران متعدد انسانی جانیں اس آپریشن کی نذر ہوگئیں ہیں۔اسلام آباد کے عین وسط میں ایک مذہبی اور جنونی انتہا پسندی کی علامت بننے والا ادار ہ جہاں ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور طالبات زیر تعلیم اور اس ادارے کی ملکیت بن کر رہ گئے تھے،وہ زور و زبردستی کی فضاء میں سانس لے رہے تھے، وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ساری دنیا میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔سلام کے نام پر جس شدت پسندی کا عملی مظاہرہ خود اپنے ہی ملک میں ہوا،اس نے عوام الناس کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ یہ سب کچھ آستین میں سانپ پالنے کے مترادف لگ رہا تھا۔اب جبکہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے اور اس ادارے کے سربراہ بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ملک کی تاریخ کا یہ واقعہ ہر ذہن میں کچھ نہ کچھ تاثرچھوڑ گیا ہے۔ ہمیں بتائیں اس واقعے نے آپ کے ذہن پر کیا تاثر چھوڑاہے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1245</link><pubDate>7/12/2007</pubDate></item><item><title>صدر مملکت کا خطاب توقع کے مطابق تھا؟</title><description>صدر مملکت نے قوم سے خطاب میں ان واقعات کی مذمت کی جو لال مسجد سے متعلق تھے۔صدر نے اسلام کے نام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے افراد پرکڑی تنقید کی اور اس اآپریشن میں حصہ لینے والے سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت پر انہیں خراج تحسین پیش کیااور معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے حکومت کے آئندہ اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کی تقریر کا انداز دھیما اوردہشت گردوں کی جانب اشارة سخت الفاظ میں تنبیہ پر مشتمل تھا۔ خطاب میں کچھ واقعات سے روگردانی بھی کی گئی۔جیسا پچھلے چار ماہ میں رونما ہونے والے کچھ ایسے بھی معاملات تھے جن پر صدر مملکت نے چپ سادھ لی۔مثلاً لال مسجد کے قرب وجوار میں جہاں یہ سب کچھ ہورہا تھا قریب ہی ایک حساس ادارے کا دفتر بھی موجود تھا ، وہاں یہ اسلحہ کیوں کر پہنچا؟ اور وہ بھی اتنی خاموشی سے کہ کسی کو کان و کان خبر تک نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ حساس ادارے کو لال مسجد انتظامیہ کی مشکوک سرگرمیاں تک محسوس نہ ہوئیں؟ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کو ڈھیل کیوں دی گئی؟بلا شناخت کے تدفین کا مقصد کیا تھا؟قومی اسمبلی کو اعتماد میں لئے بغیر فوجی کارروائی کا جواز بنتا ہے؟پھر یہ بھی سامنے آنا چاہئے تھا کہ اس میں کون کون لوگ ملوث تھے؟کچھ سوالات بھی تشنگی کا سبب ہیں مثلاً کیا مدرسوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم مزید کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے؟حکومت اپنی رٹ کی خاطر کسی کو خاطر میں لانے سے گریزاں ہے۔ کیا یہ پالیسی حکومت کے لئے پریشان کن نہیں ہوگی؟آئندہ آنے والے الیکشن اور وردی کے مسائل پرکچھ نہیں کہا گیاجس کی قوم منتظر ہے؟خطاب پرقارئین کی رائے کا انتظار ہے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1254</link><pubDate>7/13/2007</pubDate></item><item><title>موجودہ حالات میں پر امن انتخابات کا انعقاد</title><description>پاکستان میں دہشت گردی کے سنگین خطرات کے پیش نظر آئندہ الیکشن اور ساتھ ہی صدر کا دوبارہ صدارت کے لئے موجودہ اسمبلی سے انتخاب کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی قوم ان حالات کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور سیاسی محاذ پر بھی ایک سکوت طاری ہے۔ بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت میں پر امن انتخابات ممکن ہوسکیں گے؟ با الفاظ دیگر اس کی جگہ کوئی اور سلسلہ متوقع ہوسکتا ہے۔ کیونکہ منظر نامہ کچھ اور ہی خیالات کا مظہر ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں ،عوام اور حکومت کی حکمت عملی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔حکومت فی الواقعی پریشان ہے یا ممکنہ الیکشن پہ مصرہے۔ ماہ جولائی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا جا رہا ہے کہ کیا کیا تبدیلیاں ظہور پذیر ہونے کو ہیں۔ کیا (ق )لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی؟ کیا موجودہ اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی؟ یا انہی اسمبلیوں کی مدت بڑھادی جائے گی؟ سنگین خطرات نے مزید سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کہیں کسی ایمرجنسی کے نفاذ یا مارشل لاء کا امکان تو نہیں ؟ خود کش حملوں اور سرحد میں سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت نے نئی داغ بیل ڈال دی ہے۔ حالات کیا رخ اختیار کریں گے؟ سیاسی پارٹیاں کیا سوچ رہی ہیں؟کیا ہم آئندہ الیکشن کے خواب کی تعبیر دیکھ سکیں گے؟کیا صدر مملکت اپنی صدارت کو مع وردی کے برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور الیکشن کے نتائج پر حکومتی حلقے اور سیاسی جماعتیں اسے قبول کرنے پرتیار ہوجائیں گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ آپ کا ذہن کیا کہتا ہے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1274</link><pubDate>7/16/2007</pubDate></item><item><title>خود کش حملے ملکی سلامتی کے لئے چیلنج !</title><description>ابھی لا ل مسجد کا غم  غلط نہیں ہوا تھا کہ دہشت گردی کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے جہاں صوبہ سرحدمیں سیکورٹی اہلکاروں کی پے در پے ہلاکت نے ایک اور نیا محاذ کھول دیا ہے۔ ملکی سلامتی کے لئے سیکورٹی کے فرائض انجام دینے والے اہلکار سرحدوں پر ہونے والی دہشت گردی روکنے میں پیش پیش تھے کہ اچانک مخالف سمت سے آنے والی ایک کار میں سوار خود کش حملہ آوروں نے اپنی گاڑی سیکورٹی قافلے سے ٹکرا دی جس کے نتیجہ میں قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اسی طر ح کے دیگر واقعات میں متعدد اہلکار شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے جبکہ عام شہری بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ ایک اندوہناک صورتحال ہے اسی وجہ سے ملک کے دیگر صوبوں میں بھی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔پاکستان کا ایک پڑوسی ملک پہلے ہی اسی طرح دہشت گردی کا شکار ہے لیکن اب یہ دہشت گردی خود کش حملوں کی صورت میں ہماری دہلیز تک آن پہنچی ہے۔ ذہنوں میں کئی ایک خدشات جنم لے رہے ہیں کہ آئندہ آنے والے حالات پر قابو پایا جاسکے گا یا نہیں؟ ہمیں اس پر قابو پانے کے لئے کیا کرنا ہوگا؟ حکومت اپنی ساری جہت کر رہی ہے لیکن کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ارد گرد کے پر خطر حالات پر کڑی نظر رکھیں اور با ہوش وحواس ایسی مجرمانہ حرکت کرنے والوں کی نشان دہی کریں جو عام شہری اور سیکورٹی اہلکاروں کی جان و مال کے دشمن ہے اور ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں ۔یہ موجودہ رجحان ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے۔ ان خود کش حملوں سے بچنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے کیونکہ یہ ہماری ملکی سلامتی کے لئے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1275</link><pubDate>7/16/2007</pubDate></item><item><title>حکومت اب ایمرجینسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کرے گی</title><description>لال مسجد، جامعہ حفصہ آپریشن اور اس کے بعد ہونیوالے لگاتار خونی دھماکے اس قدر شدت پکڑ گئے ہیں کہ اب اہم قومی امور پر بحث و تمحیص پس پشت چلی گئی ہے۔ ان میں چیف جسٹس کا معاملہ، صدر مملکت کا انتخاب، صدر کی یونیفارم، ملک میں آئندہ عام انتخابات کا انعقاد سرفہرست ہیں۔ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کو تاحال خارج از امکان قرار دیا جاتا رہا ہے لیکن اب حکومت اسے بھرپور سنجیدگی کے ساتھ زیرغور لائے گی جس کے نتیجے میں عام انتخابات معرض التوا میں ڈالے جاسکتے ہیں اور اسمبلیاں ایک سال یا چھ ماہ کی توسیع حاصل کرسکیں گی۔ اس تجویز کو پارلیمنٹ کی دو تہائی تائید درکار ہوگی۔ یہ امر حددرجہ تشویشناک ہے کہ یہ واقعات ایسے موقع پر ہورہے ہیں جب بعض معاملات کی ڈیڈ لائن سر پر آن پہنچ رہی ہے۔ ماحول اس قدر ابتر ہوگیا ہے کہ اس میں ملک میں عام انتخابات کا انعقاد حد درجہ مشکل ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی عمر عزیزکے انتہائی نازک دور میں داخل ہوگیا ہے۔ پاکستان کو غیرمستحکم بنانے کی خواہاں قوتیں جو کچھ عرصہ قبل سرگرم ہوئی تھیں، اب ان کی سرگرمیاں نکتہ عروج پر پہنچ گئی ہیں۔بظاہرچیف جسٹس کے پنڈال کے قریب دھماکے کا ہدف پاکستان پیپلز پارٹی تھی کیونکہ اس کی رہنما بے نظیر بھٹو نے انتہا پسندی کے خاتمے کے حکومتی عزم و ارادے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد وکلاء کنونشن کے موقع پر جلسہ گاہ سے متصل پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بڑا کیمپ لگا رکھا تھا اس طرح وہ اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلانا چاہتے تھے۔ اس دوران اس دلخراش واقعے کے ایک دوسرے پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا جارہا ہے کہ دھماکے کا نشانہ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری تھے تاہم یہ اندازہ قرین قیاس دکھائی نہیں دیتا۔ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ کارروائی خودکش بمبار نے انجام دی ہے جو وکلاء کے اجتماع میں گھس کر پھٹ جانا چاہتا تھا لیکن حفاظتی بندوبست اس کی راہ میں آگیا ۔۔۔ وفاقی درالحکومت کئی دنوں سے ریڈالرٹ پر تھا، اس کے باوجود خودکش بمبار اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔اس خبر پر آپکی کیا رائے ہے ؟
</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1285</link><pubDate>7/18/2007</pubDate></item><item><title>لال مسجد کا رنگ تبدیل ہوجائے گا</title><description>لال مسجد کے حوالے سے تازہ ترین اطلاع آئی ہے کہ اس کا رنگ تبدیل کیا جارہا ہے۔ اب اسے لال سے بدل کر سفید کئے جانے کا منصوبہ ہے ۔ رنگ تبدیل کرنے کا مقصد اسے امن کی علامت بنانا ہے۔ حالانکہ لال مسجد اب ایک تاریخی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ آپ اسے کوئی بھی رنگ دے دیں ، اس کی سماجی ،سیاسی اور مذہبی اقدار کو کم نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے قبل پی آئی اے کے طیاروں اوربعد ازاں ریلوے بوگیوں کا رنگ بھی تبدیل کیا گیا اور دلیل یہ دی گئی تھی کہ اس طرح فضائی اور ریل حادثات کم ہوں گے۔پھر کاروبار بھی منافع بخش ہوگا…جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب ٹوٹکوں کا دور نہیں رہا۔سچائی کوقبول کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا محض رنگ بدلنے سے اس سے جڑے واقعے کو بھلایا جاسکے گا؟کیا سانحے میں مرنے والوں کی یاد بھلائی جاسکے گی؟ …اس نئے فیصلے سے متعلق آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1286</link><pubDate>7/18/2007</pubDate></item><item><title>قومی ٹیم کا نیا غیر ملکی کوچ</title><description>سابق آسٹریلوی بولر جیف لاسن کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیا کوچ مقرر کیا گیا ہے۔اس بات کا اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کیا۔ جیف لاسن 1999 ء کے ورلڈکپ سے اب تک قومی ٹیم کی کوچنگ کا عہدہ سنبھالنے والے آٹھویں شخص ہیں۔ ان سے پہلے مشتاق محمد، وسیم حسن راجہ، رچرڈ پائی بس،انتخاب عالم ، جاوید میانداد،مدثر نذر اور باب وولمر کوچنگ کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔قبل ازیں اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ آنجہانی با ب وولمر کی طرح کسی مقامی کھلاڑی کو کوچ کا عہدہ سنبھالنے کی پیش کش کی جائے گی۔ لیکن کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے غیرملکی کوچ کو یہ ذمہ داری سونپ دی ہے۔ جسے بیشتر سابق کھلاڑیوں نے سراہا ہے اور چند ایک نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کے کھلاڑیوں کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہے ۔لہذا کوچ اور کھلاڑیوں میں ابلاغ کا مسئلہ رہے گا۔ جیف لاسن کو انٹرنیشنل سطح پر کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ دیکھنا یہ کہ وہ پاکستان ٹیم کی کوچنگ کس اندا ز میں کرتے ہیں۔کپتان شعیب ملک سے ان کے تعلقات کیسے بنتے ہیں۔ شعیب اختر اور شاہد آفریدی جیسے کھلاڑیوں کو وہ کس طرح ہینڈل کرتے ہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1289</link><pubDate>7/18/2007</pubDate></item><item><title>چیف جسٹس کی بحالی</title><description>20 جولائی 2007ء ایک تاریخی دن کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ عدالت عظمی ٰ نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے انہیں اپنے عہدے پر بحال کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل بینچ نے دس تین کے تناسب سے فیصلہ سنایا ہے۔ اور قرار دیا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی غیر قانونی تھی۔ عدالت کے اس تاریخی فیصلے پر وکلا ء برادری کی صفوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اور وہ ملک بھر میں جشن منا رہے ہیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے عدالت کے فیصلے کو من و عن قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یقین رکھنا چاہیے کہ اس فیصلے کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔منصف کو تو انصاف مل گیا ہے۔ عام لوگوں پر بھی انصاف کے دروازے کھل جائیں گے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1299</link><pubDate>7/20/2007</pubDate></item><item><title>کیا امریکا قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کرے گا؟</title><description>لال مسجد کے واقعہ کے بعدملک میں امن وامان کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،تواترکے ساتھ خودکش حملے کیے گئے جن میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔موجودہ صورتحال میں امریکی حکام کے بیانات تشویشناک ہیں جن میں القاعدہ اور طالبان کو جواز بناکر پاکستان کے اندر کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں غیرملکی افواج کا حملہ ناقابل قبول ہوگا، دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی اقدام پاکستان کی اپنی سیکورٹی فورسز کریں گی۔دوسری جانب بعض امریکی سینیٹرز نے بھی بش حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کارروائی سے متعلق امریکی حکام کے بیانات کا مقصد پاکستان پر محض دباؤ ڈالنا ہے یا امریکا واقعی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے۔ کیا امریکی بیانات ہمارے لئے خطرہ کی گھنٹی تو نہیں ہیں، اگر ایسا ہوا توآپ کے خیال میں ہم کس قسم کی صورتحال سے دوچار ہوسکتے ہیں۔؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1320</link><pubDate>7/24/2007</pubDate></item><item><title>استعفوں کی سیاست!</title><description>ہمارے ملک میں کافی عرصہ سے استعفوں کی بات کی جارہی ہے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے گاہے گاہے اس طرح کے بیانات آتے رہے ہیں کہ ایسا ہوا یا ویسا ہوا تو وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں گے، لیکن قوم حیرت سے انہیں دیکھتی اور سنتی رہی ہے لیکن استعفے ایک ترپ کے پتے کے طور پر ڈھونگ یا حکومت کو جھانسے دینے کے لئے استعمال کئے جاتے رہے لیکن اب اپوزیشن کے ایک مرکزی رہنما ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد نے قومی اسمبلی میں با ضابطہ استعفیٰ پیش کردیا ۔اس استعفے کی وجوہات کئی ہوسکتی ہیں، اب لا ل مسجد کے واقعے کے بعد اپوزیشن کے پاس ایک اہم موضوع ہاتھ آگیا ہے، ماہ ستمبر میں صدر کے دوبارہ انتخاب کو روکنے کے لئے بھی ترپ کی چال کہی جاسکتی ہے۔ ابھی بینظیر کے بیان کے بعد مزید امید ہوچلی ہے کہ ایسا ممکن ہوسکے گا کہ پی پی پی بھی اس ڈگر پہ چل پڑے، جس سے صدر کے دوبارہ انتخاب میں مشکلات پیش آئیں اورملک کی تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال کے ضمن میں ان استعفوں کو اہمیت حاصل ہوسکے گی۔ادھر خود ق لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں استعفے کی پالیسی کامیاب رہے گی یا نہیں۔ کیا حکومت اس سے گھبرا کر کوئی اور قدم اٹھا سکتی ہے۔ کیا استعفوں کی سیاست بروقت ثابت ہوگی اوراس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1321</link><pubDate>7/24/2007</pubDate></item><item><title>شادی بیاہ کی تقریبات میں تاخیر کا رجحان کیسے روکا جائے؟</title><description>آج کل شادی بیاہ کی تقریبات کا زور ہے مہندی منگنی اور شادی تک کے لمحات نوید مسرت کا پیغام ہوتے ہیں عام گھروں سے لے کر بڑے بڑے شادی ہالوں میں مبارکبادیوں کے تبادلوں گپ شپ کے دوران ہنستے مسکراتے چہروں پر اس وقت اوس پڑجاتی ہے، جب شادیوں کی تقریبات میں اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ بچے بڑے اور بوڑھے اور خواتین پریشان ہوجاتے ہیں، کہیں بارات دیر سے پہنچتی ہے کہیں کھانے میں خوامخواہ دیر لگادی جاتی ہے اور اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ لوگ باگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میزبان اور مہمان دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے زحمت بن جاتے ہیں رات کو دیر ہونے کی وجہ سے رکشہ ٹیکسی منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں بچوں کو اسکول جانے کے لئے صبح اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ دیر تک جاگنا اور شادیوں سے دیر تک لوٹ کر آنااب ایک روایت بن گئی ہے۔ کھلے عام ڈکیتی، موبائل کی چھینا جھپٹی عام ہے۔اب توکہ یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ہم آئندہ توبہ کرتے ہیں ۔ان تقریبات کو خیر باد کہہ دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ رشتہ داریاں قائم رکھنی پڑتی ہیں اخلاقی تقاضوں کو پورا کرنا پڑتا ہے۔کیا شادی کے اوقات اس طرح مقرر کردیئے جائیں کہ انہیں لوگ انہیں رد نہ کرپائیں۔شادی ہالوں پربھاری جرمانے عائد کر دیئے جائیں۔ یا شادی کی تقریبات کی آخری حد رات دس بجے مقررکردی جائے اور اس کی کوئی خلاف ورزی نہ کرسکے ۔زرق برق لباس اور سونے کے زیورات سے لدی خواتین کسی ناگہانی لوٹ مار کا شکار ہوجائیں تو کون ذمہ دار ہے ہم سب اس پر تنقید کرتے ہیں لیکن اس کا حل کسی کے پاس نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں اس رجحان کو کیسے روکا جا سکتا ہے ؟

 کیا شادی ہالوں پر بھاری جرمانوں سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟

 کیا یہ تقریبات کو صرف اتوار کو دن میں مقررکرکے جان چھڑائی جاسکتی ہے؟

 لمبی رسومات اورویڈیوکے رجحان کو ختم کیا جاسکتا ہے؟

 تاخیر کو روکنے کے لئے دولہا کو گرفتار کرنے کی دھمکی یا بھاری جرمانہ کی ترکیب کار آمد ہوسکتی ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1322</link><pubDate>7/25/2007</pubDate></item><item><title>کیامشرف بینظیرملاقات دور رس نتائج کی حامل ہوسکتی ہے؟</title><description>ابوظہبی میں ہونے والی مشرف بے نظیر ملاقات کی خبر کوسیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جارہی ہے اور اس بارے میں مختلف رائے سامنے آرہی ہیں۔ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ ملاقات ایک اہم موڑ کہی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں آئندہ انتخابات، صدر کی وردی اور جمہوریت کی بحالی سے لے کر کئی ایک معاملات میں پیش رفت ناگزیر ہوگئی ہے۔ موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں ملاقات کیا رخ اختیار کرے گی، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، ذہن کیا کہتا ہے۔ بغور جائزہ لینا ہوگا۔کیا اپوزیشن جماعتیں اپنی ترجیحات تبدیل کرلیں گی۔ میثاق جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا، سیاسی اتحاد قائم رہ سکے گا۔کیا پی پی پی اور ق لیگ کے درمیان سیاسی اتحاد ہوسکتاہے۔ نواز شریف اور بینظیر کے درمیاں سیاسی تلخیاں بڑھ جائیں گی ، کیا یہ ملاقات ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کیلئے تو نہیں، ایم ایم اے کا رول کیا ہوگا۔ کیا رابطے عوامی غیض و غضب کا شکار تو نہیں ہوجائیں گے۔ صدر مشرف جونواز شریف اور بینظیرکو ملک سے باہر رکھنے پر مصر تھے، اب کیوں ملاقات پر آمادہ ہوئے۔ اس تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی اور ایسا کس کی ایماء پر ہوا۔ صدر مشرف اوربینظیر بھٹوکی ملاقات مزید کسی بحران کو جنم تو نہیں دے گی۔ ایم کیو ایم ، ن لیگ اور اے آرڈی میں شامل جماعتیں کیا سوچ رہی ہیں۔ آپ پاکستان کا سیاسی مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں؟اپنی رائے اور تجاویز ہم تک پہنچائیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1330</link><pubDate>7/28/2007</pubDate></item><item><title>صوبہ سرحدکا نام افغانیہ ہوجائے گا؟</title><description>سرحد حکومت نے صوبے کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت صوبے کا نیا نام افغانیہ ہو گا ۔اس مقصد کیلئے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے بین الصوبائی امور کی وزارت کو صوبے کے نام کی تبدیلی کیلئے آئین میں ترمیم کی سفارش کی ہے اور مسودہ قانون جلد تیار کر کے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے لئے اکثر ماضی میں بھی ذکر ہوتا رہا ہے۔خصوصا کسی بھی منعقدہ انتخابات کے موقع پر اس طرح کی تجاویز زیر غور آتی رہی ہیں لیکن قابل عمل نہ ہوسکیں۔سرحد کے زیر غور ناموں میں پختون خواہ،پختونستان،خیبر ،سرحد اور افغانیہ شامل ہیں۔ابھی اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ خیبر اور سرحدکے نام تو پہلے ہی ایک تاریخی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔یہ سرحد کے غیور عوام (پٹھانوں) اوران کی بہادرانہ صلاحیتوں سے عبارت ہیں ۔ کیا اس طرح نام کی تبدیلی سے سیاسی حالات اور رویوں میں فرق پڑسکتا ہے؟ عوام اور سیاستدانوں کے لئے آئندہ انتخابات کے موقع پر ایک اچھا موضوع ہاتھ لگ سکتا ہے اور سیاست چمکانے کا بہانہ بھی۔بہرحال امید ہے کہ اس بار کچھ نہ کچھ فیصلہ ہوجائے گا۔ آپ کے خیال میں کون سا نام بہتر رہے گا؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1338</link><pubDate>8/2/2007</pubDate></item><item><title>سعودی عرب اقتصادی قوت بن جائے گا</title><description>ایک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ کے تجزیہ کے مطابق سعودی عرب آئندہ تیس سالوں میں ایک زبردست اقتصادی قوت بن کے ابھرے گا۔ سعودی عرب کی مضبوط معیشت کا راز وہاں موجود تیل کی پیداوار ہے جو ساری دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے۔ تیل کے ذخائر کے علاوہ وہاں انڈسٹری کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت میں قومی پیداوار کا حصہ ستر کی دہائی میں جو کبھی دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوتاتھا ،اب بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ صرف تیل سے ہونے والی آمدنی 540ارب ڈالرز سالانہ ہوگی۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت نے سعودی عرب کو کئی بلین ڈالرز کا اسلحہ بھی اس کی حفاطت کے لئے دیاہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی معیشت کے لئے مضبوط دفاع بھی اس کی ترقی کا اہم راز ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک سعودی تیل سے اپنی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کی اقتصادی ترقی خلیجی ممالک کے لئے بھی ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے۔ عراق اور ایران کے مد مقابل سعودی ترقی میں اہم پیش رفت کی واحد وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کسی قسم کا سیاسی انتشار بھی نہیں پایا جاتا، اسی لئے سب کی نگاہ میں سعودی عرب واقعی ایک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں منفرد نظر آتا ہے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1339</link><pubDate>8/2/2007</pubDate></item><item><title>فلمی ہیرو6سال جیل میں رہے گا</title><description>بھارتی اداکار سنجے دت کوغیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور اس سزا پر عمل درآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنجے دت نے پہلی رات جیل میں جاگ کر گزاری۔ بھارت کی شوخ و چنچل اداکاراؤں اور اداکاروں نے ان کے لئے معافی کی درخواستیں دیں، کئی ایک نے مظاہرے کئے اور ان کی ذاتی شہرت کے حوالے دیئے لیکن بھارت کی عدالت نے کسی کی نہ سنی اور اپنا فیصلہ دیدیا۔سنجے دت کے لئے یہ سزا ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔گو کہ سنجے دت نے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگراس سزا کے بعد نا صرف ان کی زیر تکمیل 100 کروڑ روپے کی فلموں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہوگیا ہے بلکہ اب یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اب انہیں وہی عش و عشرت کی زندگی دوبارہ نصیب ہوسکے گی جس کے وہ عادی ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1340</link><pubDate>8/2/2007</pubDate></item><item><title>امریکی صدارتی امیدوار کی دھمکی</title><description>امریکی صدارتی امید واراورڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے بیرک اوباما نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان حکومت القاعدہ کے خلاف کارروائی میں ناکام رہے تو وہ صدر بن کر پاکستان میں القاعدہ ٹھانوں پر حملوں کا حکم دیں گے۔ ان کا لہجہ سخت اور پاکستان سے مخاصمت رکھنے والا تھا۔ ان کی اس تقریر کو انتخابی حربہ کہہ سکتے ہیں ۔ادھر دفتر خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم کا کہنا ہے کہ چونکہ اوباما امریکا کے صدر نہیں ، انفرادی سیاست دان ہیں لہذا ان کے بیان پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ بش انتظامیہ اور آئندہ صدارتی امیدوار بیرک اوباما کے بیان کا تضاد اور پاکستان کی اپنی سلامتی کو در پیش خطرات نے سیاسی صورتحال میں نئی تشویش کی لہر دوڑادی ہے ۔ اسے پاکستان کے خلاف ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان سمجھا جارہا ہے ۔ حکومت کیا سوچ رہی ہے، عوام کا ردعمل کیا ہونا چاہئے اور اس غیر ذمہ دارانہ بیان کو کس تناظر میں دیکھنا جانا چاہئے ؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1341</link><pubDate>8/2/2007</pubDate></item><item><title>جاوید ہاشمی کی رہائی…ایک بڑا فیصلہ…!</title><description>چیف جسٹس کی بحالی کے بعد عدلیہ کا وقار بلندہوا ہے۔ اعتماد کی فضاء قائم ہوئی ہے ۔سپریم کورٹ نے از خود نوٹس پر کئی ایک اچھے فیصلے کئے ہیں۔ وہیں آج اس کی ایک اور نظیر بھی سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر جاوید ہاشمی جنہیں احکومت کے خلاف بغاوت کیس میں 19 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے اپنے ایک فیصلے میں انہیں ضمانت پر رہائی کا حکم دیاہے۔ اس سے پہلے بھی ان کی سزا کے خلاف درخواستیں التواء کا شکار رہیں تھی لیکن اب اس فیصلے نے عدلیہ کی آزادی اور انصاف پر مہر ثبت کردی۔اس فیصلے کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور گھٹن کی فضاء بھی ختم ہوجائے گی۔کیا عوام کی توقعات کے مطابق یہ فیصلہ درست سمت میں ایک اچھا قدم ہوسکتا ہے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1343</link><pubDate>8/3/2007</pubDate></item><item><title>کیا صدر مشرف کے لئے کوئی"محفوظ رستہ " ہے؟؟</title><description>اقتدار کے آٹھویں برس صدر جنرل پرویز مشرف ۔۔۔جانتے ہیں کہ وہ غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری جیسے صدور کی طرح اپنے آبائی گاؤں جاکر دھیمی زندگی نہیں گزار سکتے!! نہ ہی اسلم بیگ کی طرح عسکری ماہر ، وحید کاکڑ کی طرح خاموشی اور جہانگیر کرامت کی طرح سفارت کی راہ اپنا سکتے ہیں!! وہ بے نظیر کی طرح ملک ملک جلا وطنی، نواز شریف کی طرح شاہی مہمان، شوکت عزیز کی طرح کسی مالیاتی ادارے کے ملازم ، چوہدری شجاعت کی طرح…کسی لولے لنگڑے سیاسی ڈھانچے کے سربراہ اور جمالی کی طرح ہاکی فیڈریشن کے صدر بننے کی امید بھی نہیں رکھ سکتے کہ یہ تمام شایانِ شان تو نہیں لیکن "محفوظ رستے" ضرور رہے!!کیا صدر مشرف کے لئے کوئی"محفوظ رستہ " ہے؟؟ آج وہ ایک ایسے کمانڈو کی طرح مختلف محاذوں پر لڑ رہے ہیں جس کی قوت رفتہ رفتہ کم ہورہی ہے اور دشمن چاروں طرف سے غالب آرہے ہیں!! یقینا یہ ان کی تربیت کا حصہ رہا ہوگا کہ وہ اِس مرحلے پر کب تک مورچے پر قابض رہتے مد مقابل قوتوں کو الجھاتے ہیں!! بیرونی کمک آنا بند ہورہی ہے!! اور انہیں اپنی صفوں میں اْن قوتوں کو شریک کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے جن پر وہ اعتماد نہیں کرتے اور جانتے ہیں کہ حتمی فیصلہ صرف بندوق کی نال ہی کیا کرتی ہے۔ اْن سے کہا جارہا ہے کہ وہ بندوق چھوڑ دیں تو انہیں "محفوظ رستہ " مل سکتا ہے!! خدا کرے ایسا ہی ہو !! ( ڈاکٹر شاہد مسعود کے کالم "میرے مطابق: محفوظ راستے" سے اقتباس)

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1344</link><pubDate>8/3/2007</pubDate></item><item><title>مکہ اور مدینہ پر حملہ: امریکی صدارتی امیدوار کی ہرزہ سرائی</title><description>امریکا کے ری پبلکن صدارتی امیدوار ٹام ٹین کریڈو نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے امریکا پر ایٹمی حملے کی صورت میں مکہ اور مدینہ پر جوابی حملہ کردینا چاہئے۔ ریاست کولراڈو سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس نے کہا کہ دہشت گردوں کے جوہری حملے سے بچنے کا بہتر راستہ یہ ہے کہ مقدس اسلامی مقامات پر جوابی حملوں کی دھمکی دی جائے یا پھر حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کردی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں دہشت گرد امریکا پر جوہری حملہ کرسکتے ہیں اس لئے امریکا کو چاہئے کہ ایسے حملوں سے قبل ہی انہیں روکنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے میری رائے معلوم کی جائے تو میرے خیال میں ہماری سرزمین پر جوہری حملے کا جواب مقدس اسلامی مقامات پر حملہ ہوگا کیونکہ میرے مطابق یہی ایک طریقہ ہے جس سے دہشت گردوں کو ایسے ممکنہ حملوں سے روکا جا سکتا ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ٹام ٹینکریڈو نے ایسی ہرزہ سرائی کی ہو۔ اس سے قبل 2005ء میں ایک ریڈیو پروگرام کے دوران بھی انہوں نے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1345</link><pubDate>8/3/2007</pubDate></item><item><title>ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف رائے</title><description>ابھی آئندہ انتخابات کا شیدول آنا باقی ہے تاہم ابھی سے سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ کئی ایک پارٹی اراکین اپنی وفاداریاں ماضی اور حالات حاضرہ کے مطابق کرنے کے طریقے ڈھونڈھ رہے ہیں جبکہ کچھ کسی نہ کسی خوش فہمی میں آنکھوں میں خواب سجائے ہوئے ہیں۔ادھر لوٹا کریسی اپنی جگہ کام کرتی نظر آرہی ہے۔ مشرف بے نظیر ڈیل کے علاوہ جاوید ہاشمی کی رہائی نے متعلقہ حلقوں میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ بھی پس پردہ جاری ہے لیکن ان سب باتوں میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ موجودہ انتخابی اور سیاسی بنیادوں پر الیکشن ٹکٹوں کے حصول پر کچھ بندر بانٹ اور کچھ اہمیت کے حامل حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلاف رائے سامنے آرہا ہے۔یہی ملک اور پارٹی سے وفاداری کاامتحانی وقت ہے۔ حکومتی حلقے اور مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے پریشان ہیں کہ وہ کہاں جائیں؟ اور کیا کریں ؟امکان ہے کہ آئندہ انتخاب میں کافی اپ سیٹ ہوگا اور سیاسی پارٹیوں کی نوعیت بھی بدل جائے گی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم منصفانہ ہوسکے گی… یا سیاسی بازیگری اپنا کام دکھلائے گی؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1351</link><pubDate>8/4/2007</pubDate></item><item><title>ٹوئنٹی- 20 ورلڈ کپ ٹیم سے تجربہ کار کھلاڑی آوٴٹ !</title><description>اگلے ماہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے لئے قومی ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ ٹیم شعیب ملک (کپتان)، سلمان بٹ (نائب کپتان)، عمران نذیر، محمد حفیظ، یونس خان، مصباح الحق، شاہد خان آفریدی، یاسر عرفات، کامران اکمل (وکٹ کیپر) عبدالرحمن، شعیب اختر، محمد آصف، عمر گل، راؤ افتخار انجم اور فواد عالم پر مشتمل ہے ۔ ٹیم میں محمد یوسف، عبدالرزاق اور محمد سمیع کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ مصباح الحق، یاسر عرفات، عبدالرحمن،شعیب اختراور فواد عالم وغیرہ کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ٹیم میں 3 اوپنرز، چار آل راؤنڈرز، دو مڈل آرڈر بیٹسمینوں، ایک وکٹ کیپر، ایک اسپنر اور چار فاسٹ بولرز کو رکھا گیا ہے جبکہ بقیہ 15 کھلاڑی ریزرو ہوں گے۔ ٹیم کے اس انتخاب پر بعض حلقوں نے حیرانی کا اظہار کیا ہے تو بعض نے اس پر کڑی تنقید بھی کی ہے۔ حقیقت یہ کہ محمد یوسف کو شامل نہ کرکے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مرتبہ پھر بحث کا نیا موضوع دے دیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تجربہ کار اور سب سے زیادہ قابل اعتماد کھلاڑی کی جگہ جس نوجوان (مصباح الحق)کو جگہ دی گئی ہے اس نے 3سال سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی۔

ٹیم کے انتخاب پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا متوازن ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے؟ کیا اعلان کردہ ٹیم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ جیت جائے گی؟ ایسی صورتحال میں کہ جب کھلاریوں کو انڈین لیگ میں شمولیت کے لئے کروڑوں روپے کی آفر ہو ،ڈراپ ہونے والے کرکٹرز کے لئے انڈین لیگ میں شمولیت کی راہ ہموار تونہیں ہوگئی؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1356</link><pubDate>8/8/2007</pubDate></item><item><title>لوٹے حاضر ہوں…!</title><description>کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاست میں لوٹے مرکزی کردار ادا نہیں کر رہے ہیں؟ارے جناب یہی تو وہ لوٹے ہیں جو سیاسی انتشار اور خلفشار کا باعث ہوتے ہیں۔ نہ خود چین سے ہی رہتے ہیں نہ رہنے دیتے ہیں۔ آخر بے پیندے کے جو ٹہرے۔ویسے دیکھا جائے تو بے پیندے کے لوٹے ہی سب سے زیادہ مشہور ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے ادھر ادھرلڑھکتے پھرتے ہیں۔یہ پیندے نیچے سے گول ہوتے ہیں، کسی کروٹ چین سے نہیں بیٹھتے۔ جدھر سہارا دیکھتے ہیں اسی کے ہولیتے ہیں ۔الیکشن کے موقع پر ہر پارٹی ان کی تلاش میں رہتی ہے اور دبی آوازمیں یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ لوٹے حاضر ہوں۔ اور لوٹے بھنک پاتے ہی آواز کی طرف چل پڑتے ہیں۔ایک نظم بعنوان لوٹا نامہ سے ماخوذ شاعر نیاز سواتی نے کیا خوب کہا ہے ۔ 

 نہیں ہیں کسی کے وفادار لوٹے … کسی سے یہ کرتے نہیں پیار لوٹے

 ضمیر اپنا یہ بارہا بیچتے ہیں… یہ منڈی میں بکتے ہیں سو بار لوٹے 

 یقیں جو دلائے وزارت کا ان کو… اسی کا سجاتے ہیں دربار لوٹے 

 یہ لوٹا کریسی کبھی ختم بھی ہوگی یا نہیں؟ کچھ آپ بھی کہیں اس بارے میں؟

 سلمان احمدکا لاہورسے ارسال کردہ مراسلہ</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1357</link><pubDate>8/8/2007</pubDate></item><item><title>بی اے مشکل یا بیاہ…؟</title><description>مجھے یاد ہے پچھلے الیکشن کے موقع پر انتخابات کے اکھاڑے میں اترنے والے امیداروں کے بی اے کرنے پر بڑا شور اٹھا تھا۔ اب ایک بار پھر الیکشن قریب ہیں …گوکہ اس دوران میں بھی گریجویٹ اور بیاہ کرچکا ہوں لیکن یہ سوال میرے لئے کسی دلچسپی سے کم نہیں کہ بی اے مشکل ہے یا بیاہ…دیکھا جائے تو یہ خاصا متنازعہ مسئلہ ہے کیونکہ بہت سے لوگ بیاہ کوبی اے پر ترجیح دیتے ہیں اور اپنے روشن مستقبل کو تاریک کرلیتے ہیں جبکہ بعض والدین کو جدائی کا غم دے کر سسرال کو پیارے ہوجاتے ہیں۔بعض طلباء بی اے کرکے گریجویٹ "بے روزگار ان "میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح بی اے اور بیاہ دونوں کے روشن و تاریک پہلوہوتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بیاہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں صرف والدین کو راضی کرنا پڑتا ہے۔ بہدیگر صورت وہ مجبور ہوتے ہیں کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔پھر وہ خود ہی معرکہ سر کرلیتے ہیں لیکن بی اے کرنے کے لئے ذہن اور وقت سے زیادہ بس ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انہیں تو روز ہی بسوں میں کالج پہنچنا ہوتا ہے اور جوتے گھسنے ہو تے ہیں تب کہیں اہلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ بہر حال دونوں صورتوں میں پسند نا پسند اور دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ پڑھائی الگ متاثر ہوتی ہے۔ چیٹنگ بھی کام نہیں آتی۔ ادھر شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیاں وعدے وعید اور اختلاف بنیاد بن جاتے ہیں۔ اب آپ خود ہی بتلایئے کہ بیاہ کرنا مشکل ہے یا بی اے کرنا؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔( مرسلہ محمد ریحان… اسلام آباد۔ اخبار سے ماخوذ)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1358</link><pubDate>8/8/2007</pubDate></item><item><title>شریف برادران کو واپس آنے دیا جائے؟</title><description>مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے صدر جنرل پرویز مشرف پر زور دیا ہے کہ وہ عام انتخابات سے قبل شریف برادران کو پاکستان آنے کی اجازت دیں۔ یہ تجویز شریف برادران کی جانب سے سپریم کورٹ میں فائل کی جانے والی درخواست جیسی ہی ہے۔ اس حوالے سے چوہدری شجاعت نے اس سرکاری موقف کو نہیں دہرایا جس کے تحت شریف برادران کو ڈیل کے مطابق مزید تین سال تک کے لئے پاکستان سے باہر رہنا ہے۔ ظاہری طور پر شجاعت حسین کی یہ اپیل صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ابوظہبی میں بینظیر بھٹو کے ساتھ معاملات طے کرنے کا مقابلہ کرنے کیلئے معلوم ہوتی ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق شجاعت حسین نے 2 اگست کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی جس میں غلام سرور خان جیسے کئی وزراء نے ان کے موقف کی بھرپور حمایت کی۔ چوہدری شجاعت حسین نے جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے بعد اور عام انتخابات سے قبل شریف برادران کی واپسی کی حمایت کی ۔ سپریم کورٹ میں 2 اگست کو دائر کی گئی درخواست میں بھی شریف برادران نے عام انتخابات سے قبل واپسی کی بات کی ہے۔ 

ذرائع کے مطابق صدر پرویز نے چوہدری شجاعت کی اس تجویز کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔آپ کے خیال میں کیا صدر کو یہ تجویز مان لینی چاہئے؟ شریف برادران کی وطن واپسی کی صورت میں ملکی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی؟ جمہوریت پر اس کی کیا اثرات مرتب ہوں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1359</link><pubDate>8/8/2007</pubDate></item><item><title>بارش رحمت یا زحمت…!</title><description>کراچی جیسے شہر میں بارش کم ہی ہوتی ہے لیکن جب ہوتی ہے تو ایسی کہ لوگ کان پکڑنے لگتے ہیں حالانکہ بارش ایک ایسا موسم ہے جسے ہر کوئی انجوائے کرتا ہے۔ قوس قزح کی رنگت دلوں کو گرما دیتی ہے کہ ساون کی جھڑی لگنے والی ہے۔ بارش کا لطف اٹھانے کے لئے بچے بوڑھے جوان بھی تیار رہتے ہیں اور پکنک مناتے اور گرما گرم پکوڑوں اورچٹخارے دار کھانوں کے ساتھ سیر تفریح کرتے ہیں۔ اسے دنیا کا حسین ترین موسم بھی کہا جاتا ہے۔ دیہات اور شہروں کی زندگی تھوڑی مختلف ہوتی ہے۔ وہاں کے حالات اور سیدھی سادھی زندگی بالکل مختلف ہوتی ہے لیکن شہری زندگی بارش کا سارا مزہ اس وقت کرکرا کردیتی ہے، جب شہر میں نکاسی کا معقول انتظام نہ ہو۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں اور لوگ گھنٹوں تک پانی اور بجلی کے ناقص نظام سے متاثررہیں ۔ ایسی صورت میں بارش رحمت کی بجائے زحمت بن جاتی ہے۔ جب گاڑیاں گڑھوں میں پھنس جائیں، جب راستہ نہ ملے، جب بجلی کی سپلائی بند ہو، پانی بھی نہیں آرہا ہو، گٹر ابل رہے ہوں، ترقیاتی کام روک دیئے گئے ہوں۔تب بارش کسے اچھی لگے گی!اسکول بند ہوں، گھر میں بارش کا پانی ٹپک رہا ہو۔ ایسے میں بجلی کی چمک اور بادلوں کی دھمک سے دل گھبرا رہا ہو اور کوئی ریڈیو پر گا رہا ہو" بھیگے ہوئے موسم کا مزہ کیوں نہیں لیتے" کہئے کیا کہتے ہیںآ پ؟ کیا آپ بھی بارش کے متاثرین میں سے ہیں؟ (ثناء رحمن۔ْ گلشن اقبال کراچی)

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1365</link><pubDate>8/11/2007</pubDate></item><item><title>شعیب اخترکا مزاج یا مذاق…؟</title><description>ہمارے کھلاڑیوں کا کھلنڈرانہ پن شاید کبھی ختم نہ ہو۔ یوں تو ساری دنیا میں کسی کا مزاج کسی سے نہیں ملتا۔ ہر کوئی اپنے آپ اپنی نظر سے دیکھتا ہے۔ اچھے بیٹسمین، اچھے باؤلرز اور اچھے فیلڈرز کی کمی نہیں مگر چند ایک نامور ایسے بھی ہیں جن کے مزاج سب سے مختلف ہوتے ہیں۔ کوئی اکڑ خوں ،کوئی مغرور اور کوئی دوستانہ رویہ رکھنے والا اور کوئی کم گو۔ پاکستان میں دنیا کے سب سے تیز ترین باؤلر شعیب اختر ایک انفرادی خصوصیت کے مالک ہیں۔ وجیہہ شکل، دولت مند اور باؤلنگ کے شعبہ میں نام کمانے والے شعیب اختر کسی نہ کسی الجھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ ان کی یہ عادت ان کی ترقی کی راہ میں حائل ہوتی ہے لیکن وہ پرواہ نہیں کرتے۔ اگر ان پہ جرمانہ بھی لگادیا جائے تو سر پہ جوں نہیں رینگتی۔ آخر کیوں ؟کسی نہ کسی سے لڑائی جھگڑا، بال پٹخ دینا، شیشہ توڑدینا ، یا بلا پھینک دینا، آخر ایسا کیوں ہے ؟ (نسیم اختر، کراچی )

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1366</link><pubDate>8/11/2007</pubDate></item><item><title>محبت میں ناکامی کے صحت پراثرات</title><description>کہتے ہیں کہ محبت خدا سے ہو تو عبادت بن جاتی ہے ،غریبوں ے ہو تو رحم دلی بن جاتی ہے۔مریضوں سے ہو تو ہمدردی بن جاتی ہے۔والدین سے ہو تو فرمانبرداری کہلاتی ہے۔ محبوب سے ہو تو رسوائی بن جاتی ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ دکھوں کی سرزمین اور آنسوؤوں کا سمندر موت کی وادی اور زندگی کا خاتمہ بن جاتی ہے…لیکن برطانوی ماہرین طب کہتے ہیں کہ محبت میں ناکامی صحت کوتباہ کردیتی ہے اور جس کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل ،رد عمل بن جاتا ہے۔ انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے وہ مرجھائے ہوئے پھول کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ نا امیدی واضح ہوجاتی ہے، ناکام عاشق ایسی زندگی سے موت کو ترجیح دیتے ہیں اورعارضہ قلب، آنکھوں کے گرد حلقے اور جسم لاغر ہوجاتا ہے۔ بقول شاعر اس حالت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:" دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا" کیا محبت میں واقعی کشش ہوتی ہے یا صرف دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایسی محبت سے ہم باز آئے جو دل کو جلائے دکھائے رلائے۔۔ سوچ کر جواب دیں۔(محمد انیق الرحمن۔کراچی)

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1368</link><pubDate>8/11/2007</pubDate></item><item><title>نئے چہروں کی تلاش ممکن ہے…؟</title><description>ہم نے اپنی آزادی کے ساٹھ سال مکمل کرلئے ہیں ان ساٹھ سالوں میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن عوام وہی بے روزگاری ،مہنگائی ،معاشی بدحالی اور سیاسی ابتری کا شکا ر ہی ۔ وعدے وعید کے سنہرے دن کب پورے ہوں گے کوئی نہیں جانتا۔ کوئی نظام کی تبدیلی کی بات کرتا ہے تو کوئی چہروں کی تبدیلی کی ۔ ہمارے یہاں شروع دن سے ہی زمیندار،جاگیردار،وڈیرہ شاہی اور بیوروکریسی کا دور دورہ رہا ہے۔اب کچھ عرصے بعد پھر انتخابات ہونے والے ہیں جن میں عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کن چہروں کو آگے لایا جائے۔ کیوں کہ پچھلے ساٹھ سالوں سے گنے چنے چہرے ہی بار باراقتدار میں آتے رہے ہیں۔ عوام کو وہ کچھ نہ دے سکے اور ملک وہیں کھڑا ہے جہاں سے چلا تھا۔ غربت ،مہنگائی، بے روزگاری اور نا خواندگی دور کرنے کے لئے نئے چہروں کی ضرورت ہے۔ آزمائے ہوئے کو آزمانہ جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔ جب تک یہ چہرے تبدیل نہ ہوں گے نہ ملکی کی حالت بدلے گی اور نہ عوام میں بہتری آئے گی۔ کیا کیا جائے؟ وقت کا تقاضہ ہے کہ نئے چہروں کو موقع دیا جائے؟ سیاسی پارٹیوں کی تعداد کم کی جائے؟ ڈیرے، جاگیردا ر، سرداروں اور خانزادوں سے کیسے بچا جائے ؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1378</link><pubDate>8/15/2007</pubDate></item><item><title>صدر کا با وردی انتخاب؟</title><description>گذشتہ تین سال سے جاری صدر کی وردی پہ بحث ومباحثہ جاری ہے اور کراچی کے دورہ پر صدر نے یہ بات واضح بھی کردی ہے کہ عام انتخابات سے پہلے صدارتی انتخاب موجودہ اسمبلیوں ہی سے ہوگا۔ اس ضمن میں صدر نے مسلم لیگ (ق)کو اعتماد میں لیاہے ۔صدر کا کہنا تھا کہ آئین کی کوئی بھی شق میرے صدارتی انتخاب کو نہیں روک سکتی ۔ ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی صدر اسی مسئلہ پر بات چیت جار ی رکھے ہوئے ہیں۔ادھر مسلم لیگ (ق) میں اس معاملہ پر اختلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔ کئی ایک مقتدر اثر و رسوخ رکھنے والے عمائدین نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ باوردی صدر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ق)اہم کردار ادا کرے گی۔صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے اور کسی کو عدم استحکام پیدا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ آپ کے خیال میں ا باوردی صدر کے انتخاب کو اولیت کیوں دی جارہی ہے؟ اس کے پس پردہ کیا راز پنہاں ہے ؟کیاحزب اختلاف جو استعفوں کی دھمکی پر عمل پیرا ہوسکے گی؟صدر کا باوردی انتخاب ملکی مفاد میں ہے یا ان کے ذاتی مفاد میں یا اقتدار کی کشمکش؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1379</link><pubDate>8/15/2007</pubDate></item><item><title>کیمبرج سسٹم : ایک نیا رجحان</title><description>ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی ناقص کارکردگی، نتائج میں غلطیوں اور پوزیشنوں میں مبینہ تبدیلیوں کی وجہ سے کراچی کے پرائیویٹ اسکولوں نے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ اور کیمبرج سسٹم کا رخ شروع کرلیا ہے۔ کراچی کے 57 اسکولوں نے میٹرک بورڈ کراچی کو خیرباد کہہ کر آغا خان امتحانی بورڈ اور 100 سے زائد اسکولوں نے کیمبرج سسٹم کو اپنا لیا ہے۔ قواعد کے مطابق میٹرک کے بیک وقت دو سسٹم سے کوئی الحاق نہیں رکھ سکتا، اسی لئے کراچی کے معروف اسکول تیزی سے ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سے اپنا الحاق خود منسوخ کررہے ہیں۔ آغا خان بورڈ ایک فیڈرل بورڈ ہے جو نویں اور دسویں کے مشترکہ امتحان لیتا ہے۔ یہ بورڈ اب 2009ء میں انٹر کے بھی مشترکہ امتحانات لے گا جبکہ اس سال میٹرک کے نتائج کا اعلان بھی ملک میں سب سے پہلے آغا خان بورڈ ہی نے کیا تھا۔آپ بتائیے کیمبرج سسٹم اور نئے بورڈ سے الحاق کا نتیجہ مثبت رہے گا یا منفی؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1380</link><pubDate>8/15/2007</pubDate></item><item><title>اسکول کی چھٹی کے لئے …دیکھتے رہئے جیو نیوز</title><description>14اگست کو پاکستان کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ اپنی باوقار زندگی کے 5سال مکمل کرنے والا ملک کا پہلا مکمل ٹی وی چینل ”جیو نیوز“ پاکستانیوں کی زندگی کا حصہ بننے کے ساتھ ساتھ اب ملک کے اسکولز اور کالجز کے "نصاب "میں بھی شامل ہوتا جارہا ہے۔ عام طور پر محسوس کیا گیا ہے کہ کالجز میں اساتذہ طلبا و طالبات ”جیو نیوز“ کی خبروں اور تبصروں کو آگاہی کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں جبکہ ملک میں کسی ہنگامی صورتحال یا حادثاتی واقعات کے بعد اگلے دن مختلف پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں میں چھٹی ہونے یا نہ ہونے کے بار ے میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد ”جیو نیوز“ کے دفاتر فون کرکے صورت حال معلوم کرتی رہتی ہے۔ تقریباًہر اسکول یا کالج میں ٹیچرز اگلے دن چھٹی ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بچوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ ”جیو نیوز“ دیکھتے رہیں اور چھٹی ہونے یا نہ ہونے کی خبروں کے بارے میں جیو نیوز کی خبر پر عملدرآمد کریں۔ اس سلسلے میں ایک بچے تعلیمی اداروں سے واپس آکر والدین سے کہتے ہیں کہ ٹیچرز نے کہا ہے کہ ”جیو نیوز دیکھتے رہنا اگر چھٹی کی خبر آجائے تو کل اسکول مت آنا اگر خبر نہ آئے تو اسکول آجانا“اس سلسلے میں بعض کمسن بچوں کی معصومیت بھی دیکھنے میں آئی جو ”جیو نیوز“کے دفاتر فون کر کے اپنی معصوم فرمائش کرتے ہیں کہ ”انکل ٹی وی پر کل چھٹی کی خبر چلا دیں“۔ عموماً ہر وقت کارٹون اور ڈرامے دیکھنے والے بچے اب ہنگامی صورتحال کے دنوں میں ”جیو نیوز“ کی نشریات دیکھنے لگے ہیں۔کیا واقعی میڈیا نے بچوں کی حساس طبیعت کو بھانپ لیا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جیو کی نشریات کا دائرہ تعلیم کے فروغ میں علمی افادیت کو اجاگر کر رہا ہے؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1381</link><pubDate>8/15/2007</pubDate></item><item><title>عبدالرزاق بھی "کیچ آوٴٹ " ہوگئے</title><description>پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عبدالرزاق بھی بلا آخر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہاتھوں "کیچ آوٴٹ " ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کرکٹ بورڈ کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر انٹر نیشنل کرکٹ سے دستبردار ی کااعلان کردیا ہے۔ تاہم بعد کی حکمت عملی کے بارے میں انہوں نے سوچنے کا وقت لیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ آئندہ کالائحہ عمل وہ بعد میں اور حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بطو رکھلاڑی حریف ٹیمو ں سے تو مقابلہ کرسکتے ہیں لیکن ا پنے ہی بورڈ سے نہیں لڑسکتے ۔ عبدالرزاق نے کہاکہ ڈھائی سو ون ڈے میچز کھیلنے کے بعد ان سے بورڈ کا ایسا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے اور اب واپسی کی بات ان کی اپنی شرائط پر ہی ہوگی ۔ انڈین لیگ میں شمولیت کے حوالے سے انہوں نے بھی دیگر کھلاڑیوں کی طرح کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ واضح رہے کہ انضمام الحق بھی کرکٹ بورڈ کے رویئے سے دلبرداشتہ ہیں اور انڈین لیگ کھیلنے کے حوالے سے ان کا بار بار نام لیا جارہا ہے کیوں کہ انڈین لیگ کروڑوں روپے معاوضہ کی پیشکش کرچکی ہے۔ شعیب اختر ،محمد آصف بھی پی سی بی سے نالاں ہی۔ محمد یوسف نے گوکہ کھل کر پی سی بی کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دی لیکن سب جانتے ہیں کہ اسٹار بیٹسمین ہونے کے باوجود انہیں موقع نہیں دیا گیا تو اس پر ان کا رویہ کیسا ہوگا؟سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسی طرح اچھے کھلاڑیوں کو کھوتے رہے توکرکٹ میں ہماری کارکردگی کا کیا بنے گا۔کیا کرکٹ کی دنیا میں واقعی کوئی بحران آگیا ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1387</link><pubDate>8/20/2007</pubDate></item><item><title>سٹے باز… جنوبی افریقہ کے سفر پر</title><description>کہتے ہیں کہ سٹے بازی وہ کھیل ہے جو "ہرقیمت" پر کھیلا جاتا ہے۔اب کرکٹ کو بھی اس نے اپنے حصار میں لے لیا ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ کی تمام ترکوششوں کے باوجود سٹے باز اب جنوبی افریقہ کا رخ کر رہے ہیں جہاں آئندہ ماہ ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ ہوگا۔ ان کا مقصد ہے کہ کھلاڑیوں اور آفیشلزکو بھاری رشوت دے کر اس گھناؤنے کاروبارکو فروغ دیا جائے۔ آئی سی سی میچ فکسنگ کوختم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے دوران بھی کرکٹ کی عالمی تنظیم اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اپنے سسٹم کے تحت کام کرے گی۔ ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں چونکہ نتیجہ جلد آجاتا ہے اس لیے ان میچز میں زیادہ پیسہ سٹے بازی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹوئنٹی20 ورلڈکپ میں سٹے بازوں کی تمام تر نظریں پاک بھارت میچ پر لگی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ابتدا میں ٹیسٹ کرکٹ سے سٹے بازی کا آغاز ہوا تھا، بعد میں ون ڈے کرکٹ میں نتائج تبدیل کر نے کے لیے کروڑوں ڈالرزکا سٹہ کھیلا جاتا تھا، اب 20 اوورز میں مزید بڑی رقوم کا سٹہ کھیلا جائے گا۔ سٹے بازی کرکٹ کی تباہی کا شاخسانہ ہے… آپ کیا کہتے ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1388</link><pubDate>8/20/2007</pubDate></item><item><title>ذہانت ہجرت کررہی ہے…</title><description>وفاقی وزارت محنت، افرادی قوت و سمندر پارپاکستانی کی جانب سے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2006ء سے جون 2007ء تک 2 لاکھ33ہزار7 سو 86 افراد ملازمت کی غرض سے بیرون ملک گئے ۔ سب سے زیادہ افراد یعنی 24,496افرادمئی 2007ء میں پاکستان سے بیرونی دنیا پہنچے جبکہ جون اور اپریل 2007ء میں بالترتیب 23,424 اور 21,137 افراد نے پاکستان سے کوچ کیا۔ ان افراد نے دینا کے 46 ممالک کا رخ کیا لیکن سب سے زیادہ یعنی 115,180افراد نے متحدہ عرب امارات کو اپنی منزل بنایا۔ جن ممالک میں افراد نے ہجرت کی ان میں سعودی عرب، اومان، کویٹ، اٹلی، قطر، بحرین، ملیشیاء ، برطانیہ، کوریا، چین، امریکا، لیبیا، اسپین، یمن ، سوڈان ، برونائی ، نائجیریا، جنوبی افریقہ اور جاپان وغیرہ شامل ہیں۔اگرچہ ان افراد نے بہتر روزگار کی خاطر اپنے وطن کو خیر باد کہا۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ ذہین و ہنرمند و تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہوں گے ۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا دوسرے ممالک چلے جانا ذہانت کی ہجرت نہیں؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1389</link><pubDate>8/20/2007</pubDate></item><item><title>شریف برادران وطن واپس آسکتے ہیں،سپریم کورٹ</title><description>سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے شریف برادران کی وطن واپسی سے متعلق درخواست پرفیصلہ دے دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ شریف برادران پاکستانی ہیں اور وہ وطن واپس آسکتے ہیں اور ملکی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔فیصلے میں کہا گیاہے کہ آئین کے آرٹیکل 15کے تحت درخواست گزارپاکستان کے شہری ہیں اس لئے ان کی درخواست قابل سماعت ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 3کے تحت کسی شہری کو ملک سے باہر نہیں رکھا جا سکتا اورگزشتہ روزحکومت کی طرف سے پیش کی گئی دستاویز کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ۔ اس فیصلے پر عوام کو بھی پاکستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملے گا اور سیاسی جماعتیں بھی اپنا لانحہ عمل نئے سرے سے استوار کرسکیں گی۔ صدر مشرف اس فیصلہ پر کیا سوچ رہے ہیں؟ حکمراں جماعت کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا نواز براداران اپنی سیاسی بقا کو قائم رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ کیاسیاسی پارٹیاں اس فیصلے پر اپنا موقف تبدیل کرلیں گی۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1396</link><pubDate>8/23/2007</pubDate></item><item><title>معصوم ذہن کی پختہ خواہش</title><description>کہتے ہیں کہ خواہ کوئی بھی معاشرہ ہو اس پر فلم اور ٹی وی کے اچھے یا برے اثرات ضرور پڑتے ہیں۔ برائی میں چونکہ زیادہ دلکشی محسوس ہوتی ہے اس لئے لوگ اس کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ پچھلے دنوں اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق کہروڑ پکا (پنجاب) میں خالہ زاد سے شادی کی خواہش پوری نہ کرنے پر 8/ سالہ بچے نے زہریلی دوا پی لی جس سے اس کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ تفصیل کے مطابق نواحی علاقہ خان واکھوہ کے رہائشی 8/ سالہ زاہد جو ایک مقامی مدرسہ میں قرآن پاک حفظ کررہا ہے ، اس نے والدین سے کہا کہ وہ اس کی شادی خالہ زاد سے کریں۔ والدین نے سمجھایا کہ بڑے ہونے پر تمہاری شادی کردیں گے جس پر زاہد حسین نے گھر میں موجود اسپرے پی لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ زاہد 15/ روزہ چھٹیوں پر گھر آیاتھااور اس دوران وہ مسلسل فلمیں دیکھتا رہا تھا۔کیا واقعی معصوم و نا پختہ ذہنوں  پر پڑھنے والے فلمی اثرات اتنے بھیانک ہوسکتے ہیں؟ آپ کیا کہتے ہیں…اس کا کیا تدارک ہوسکتا ہے؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1401</link><pubDate>8/24/2007</pubDate></item><item><title>کرکٹرز برائے فروخت!!</title><description>انڈین کرکٹ لیگ کی وجہ سے آج کل جو بحران آیا ہوا ہے ویسا ہی ایک بحران 1977ء میں بھی آچکا ہے جب آسٹریلیا کے میڈیا ٹائی کون کیری پیکر نے آسٹریلین کرکٹ بورڈ کی جانب سے اپنے نشریاتی ادارے "چینل نائن" کو میچز دکھانے کے حقوق سے انکارپر دنیا بھر کے کرکٹرز کو انتہائی کثیر سرمایہ کی پیشکش دے کر انہیں اپنے کیری پیکر سرکس میں شامل کر لیاتھا۔ دنیا کی چیدہ چیدہ ٹیموں کے نامور کھلاڑیوں نے کیری پیکر سرکس میں شامل ہو کر دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ یہی کچھ حال ہی میں بھارتی میڈیا ٹائی کون سبھاش چندرا کے ساتھ ہوا ۔ان کے نشریاتی ادارے کی جانب سے سب سے زیادہ پیشکش کے باوجود انڈین بورڈ نے انہیں کرکٹ میچوں کے نشریاتی حقوق دینے سے انکار کردیا جس کے بعد انہوں نے انڈین لیگ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان سمیت دنیا کے درجنوں کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی ہے جس سے عالمی کرکٹ حلقوں میں ایک طوفان برپاہوگیا ہے۔ انڈیا، پاکستان اور سری لنکا کے کرکٹ بورڈز نے کھلاڑیوں پر واضح کر دیا ہے کہ جو کھلاڑی بھی انڈین لیگ میں شمولیت اختیار کر ے گا ،اسے زندگی بھر کے لیے اپنے ملک کی کرکٹ کھیلنے سے محروم کردیا جائے گا۔لیگ کے اعلان کے مطابق پاکستان سے انضمام الحق، محمد یوسف، عبدالرزاق، عمران فرحت اور اظہر محمود نے انڈین لیگ میں شرکت کا اعلان کیا ہے ۔کیا ان کھلاڑیوں کا انڈین لیگ میں کھیلنے کا فیصلہ درست ہے؟اگر ہاں تو کیا پی سی بی کو بخوشی اس کی اجازت دے دینی چاہئے؟ آخر کرکٹ بورڈ کو لیگ پر کیا اعتراض ہے؟ کیا یہ معاملہ افہام تفہیم سے حل ہوجائے گا؟کیا پیسے کی لگن لیگ کو کامیاب بنا دے گی؟آپ کیا کہتے ہیں؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1406</link><pubDate>8/27/2007</pubDate></item><item><title>مکے پہ مکہ …</title><description>صدر مشرف نے سیاسی معاملات پہ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری مکہ تو ہمارا ہی ہوگا۔ اس کے جواب میں اپوزیشن بھی "مکے پہ مکہ" کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بیانات داغ رہی ہے لہذا مکے والی بات چل نکلی ہے تو دیکھیں کہاں تک پہنچے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں یہ مکوں کا سیاسی اکھا ڑا نہ بن جائے کیوں کہ انتخابات قریب ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں کھسر پھسرجاری ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ بھی بس شروع ہی سمجھئے ۔ پچھلے چند ماہ سے جو حالات ہیں انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کہیں مکے بازی کا یہ مقابلہ باقاعدہ باکسنگ کی صورت نہ اختیار کرلے۔ اس رنگ میں ایک طرف صدر اور ان کی پارٹی تو دوسری جانب حزب اختلاف ہوگی۔یہ سیاسی مکہ بازی کس کے حق میں ہوگی ؟اور اس کا فیصلہ کون کرے گا؟حکومت کہہ رہی ہے کہ آخری مکہ ہمارا ہوگا جبکہ اپوزیشن بضد ہے کہ وہ بھی مکے بازی میں کسی سے پیچھے نہیں رہے گی۔ آپ کے اندازے کیا ہیں، کہیں یہ سیاسی مخالفین کے لئے نفسیاتی حربے تو نہیں ؟ کہیں مکوں کی سیاست کسی خطرناک امکان کی صورت تو اختیار نہیں کرلے گی؟ آخری مکہ کا استعارہ کس بات کو ظاہر کرتا ہے ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1408</link><pubDate>8/28/2007</pubDate></item><item><title>دولہا…قربانی کا بکرا؟</title><description>صاحب، مثالیں تو بہت سی ہیں لیکن بے چارہ غریب دولہا اپنی زندگی کے سنہرے دن جیسے جیسے قریب دیکھتا ہے اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ ایک جانب دوست تنگ کرتے ہیں تو دوسری جانب سسرال والے معصوم دولہا کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے اور شاید دلہن بھی اتنا نہیں شرماتی جتنا آجکل کے دولہے۔ دوست چھیڑتے ہیں کہ چلو تمہیں بیوٹی پارلر لے چلیں۔ کوئی قربانی کا بکرا کہہ کے بلاتا ہے تو طعنہ دیتا ہے کہ ان کا تو ابھی سے یہ حال ہے دلہن آئے گی تو مزاج ہی نہیں ملیں گے ۔ ہائے بے چارہ غریب دولہا کس کی سنے اور کس کی نہیں۔ ادھر سالیاں پہلے سے پروگرام بناتی ہیں کہ مہندی اور مایوں میں دولہا سے کس طرح تفریح لی جائے۔ منہ دکھائی یا کھیر چٹائی میں کیا لیا اور دیا جائے۔ پان کی بجائے پالک کے پتے کھلانے کا سوچا جاتا ہے…اور سب سے بڑھ کے جوتا چھپائی کی رسم … جہاں منہ مانگی رقم کا مطالبہ ہوتا ہے اور دولہا میاں سر کھجاتے نظر آتے ہیں۔ کوئی دوست دلہن کا روپ دھارے کمرے میں جا بیٹھتا ہے اوردولہا میاں اپنا سا منہ لئے رہ جاتے ہیں۔ بات قہقہوں تک جا پہنچتی ہے۔ کوئی سہرے کے لئے پھولوں کا، کوئی بلب کے قمقموں کا سہرا باندھنے اور کوئی بارات گدھے پر لیجانے کا کہتا ہے۔ بس بے چارے کی کیفیت قابل دید ہوتی ہے۔ گویا شادی نہیں تماشہ ہو رہا ہے۔ دولہا کبھی خود کو آئینہ میں دیکھتا ہے کبھی دلہن کا تصور لئے شرما جاتا ہے۔ 

 اگر آپ کو بھی اسی طرح کا دولہا بننا پڑا تو کیا کریں گے؟ کچھ جواب دیں گے یا شرماکے رہ جائیں گے؟ دلہن کا گھونگھٹ اٹھا کے پہلا جملہ کیا کہیں گے؟ کہیں دھوکہ تو نہیں کھا جائیں گے… جو پسند کی تھی وہی ہے…یا میک اپ کا کمال؟ (تحریر: محمد انیق الرحمن… کراچی)</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1415</link><pubDate>8/29/2007</pubDate></item><item><title>بے نظیر تجاویز</title><description>ان دنوں پاکستانی سیاست ڈیل، ڈائیلاگ اور قابل عمل سمجھوتے اور تجاویز کے گرد گھوم رہی ہے اور قوم کی نگاہیں ملک کے مستقبل کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو سیاسی حلقے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ شایدمشرف صاحب بھی وردی اور بغیر وردی سے متعلق کسی فیصلے پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ایسی صورت میں سابق وزیر اعظم بے نظیر نے کچھ متبادل تجاویز دی ہیں تاکہ کوئی ایسا حل نکل آئے جو عوام، سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لئے بہتری کا راستہ متعین کرسکے۔ ان کے مطابق تجاویز یہ ہیں: ملک میں عام انتخابات کے لئے ایک با اختیارنگراں حکومت قائم کی جائٴے۔نگراں وزیر اعظم مقرر کیا جائے اور آزاد الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔نگراں اور قومی حکومتوں میں پیپلز پارٹی کو ایک تہائی نشستیں دی جائیں ۔آپ بتایئے کیا یہ تجاویز قابل عمل ہیں؟ ملکی سیاست پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1416</link><pubDate>8/29/2007</pubDate></item><item><title>کراچی حادثہ کئی سوال چھوڑ گیا…</title><description>کراچی میں ہفتے کی دوپہر شیر شاہ کے علاقے میں پراچہ چوک پر واقع نادرن بائی پاس پل کا ایک حصہ اچانک زمیں بوس ہوگیاجس میں دب کر کئی افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ۔واقعے کے وقت متعدد گاڑیاں پل پرمحو سفر تھیں جو نیچے گرکر ملبے تلے دب گئیں۔ پل حال ہی میں تعمیر ہوا تھا اور پچھلے ماہ ہی اس کا افتتاح ہوا تھا۔اس اندوہناک واقعے نے ناصرف ایک مرتبہ پھر پوری قوم اور خاص کر کراچی کی عوام کو غمزدہ کردیا ہے بلکہ انگنت سوال بھی کھڑے کردیئے ہیں۔ مثلاً نو تعمیرشدہ پل کس طرح ڈیزائین کیا گیا کہ وہ لوڈ برداشت نہ کرسکا۔ تعمیر میں کون سا اور کس قسم کا میٹر یل استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے پل زمیں بوس ہوا ۔ اس نقص کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اسوقت کراچی میں ترقیاتی منصوبے رو بہ عمل ہیں اور کئی ایک پل ،،فلائی اوورزیر تعمیر ہیں، اس سانحہ نے ان کی تعمیر پر بھی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ کراچی میں ٹریفک کے جام ہونے کی وجہ سے عوام پہلے ہی پریشان تھے اس حادثے سے دیگر زیر تعمیرپل بھی مشکوک ہوگئے ہیں۔کیا مضبوط لوہے اور کنکریٹ کی مدد سے تعمیری پل  کیا ریت کے پل ثابت ہوں گے؟ کیا اس حادثے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جاسکے گی ؟ مستقبل میں اس طرح کے حادثات روکنے کے لئے کس قسم کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں؟عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والا خوف کس طرح دور کیا جاسکے گا ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1420</link><pubDate>9/1/2007</pubDate></item><item><title>کیا ایران ترنوالہ ثابت ہوگا؟</title><description>امریکی تھنک ٹینک اورپینٹاگون نے ایران کے طول و عرض میں فوجی کارروائی کا عندیہ دے دیا تاکہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو تباہ کیا جاسکے۔ اس ممکنہ فضائی حملوں میں اہم ایرانی اہداف کو تباہ کیا جائے گا، جس کے لئے ایران پر بارہ سو فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔صدر بش نے اس سلسلے میں اپنی تقریروں میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو تباہ کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہ حملہ کب ہوگا اس کی حتمی تاریخ کا اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن یہ حملہ اس ضمن میں کیا جائے گا کہ ایران مشرق وسطی میں اپنا اثر رسوخ قائم نہ کرسکے۔ اس کے لئے وہ اسرائیل کو بھی اس حملے میں استعمال کرسکتا ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اب وہ اس کا بدلہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کی تباہی سے لینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے لئے تر نوالہ ثابت ہوگا؟حملے کی صورت میں مشرق وسطی اور یورپی ممالک کا رد عمل کیا ہوگا؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1459</link><pubDate>9/4/2007</pubDate></item><item><title>پھر وہی بم دھماکوں کی گونج…</title><description>آج پھر ایک اندوہناک واقعہ…پھر وہی بم دھماکوں کی گونج…اورپھر وہی مرنے و زخمی ہونے والے افراد کی چیخیں اور ریڈیو ، ٹی وی اور اخبارات کی شہ سرخیاں بن رہی ہیں۔آناً فاناً پے در پے 2دھماکے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے 2 درجن سے زائد افراد ان کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ لوگ کون ہیں، کیا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا … ان میں انسانیت بھی نہیں ہوتی…سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے ان پے در پے واقعات نے ساری قوم کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ بم دھماکے اور خود کش حملے اس تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں کہ ابھی ایک واقعہ سے سنبھل نہیں پاتے کہ دوسرا ہوجاتا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ لڑتے لڑتے ہم خود دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں جن میں اب تک سینکڑوں قیمتی جانیں جا چکی ہیں۔ سینکڑوں زخمی اس کے علاوہ ہیں۔راولپنڈی کے بازاروں میں منگل کی صبح ہونے والے 2 بم دھماکوں نے صورتحال مزید سنگین بنادی ہے۔ اس صورتحال پر آپ کیا کہیں گے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1460</link><pubDate>9/4/2007</pubDate></item><item><title>آوے ای آوے …جموریت آوے…یا…؟؟</title><description>شراکت اقتدار کے لئے مشرف اور بے نظیر کے درمیان مفاہمت ،مذاکرات اور مشترکہ مفادات کی دوڑ جاری ہے اور سیاسی حلقے بغور اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے… نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ حکومتی ذرائع اور پیپلز پارٹی والے خود انگشت بدنداں ہیں کہ پاکستان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔ طرح طرح کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں ۔ ایم ایم اے اور ن مسلم لیگ و دیگر جماعتیں آئندہ سیاسی حالات پر اپنا اپنا عندیہ اور امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کسی کو اعتماد میں نہ لینے کا غم ہے، کسی کو اقتدار سے دور رکھنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ کسی کو شراکت اقتدارمیں لانے کے لئے معاملات زیر بحث ہیں۔ اس سلسلے میں آئین اپنا کیا کردار ادا کرے گا۔ عوام خاموشی سادھے دیکھ رہے ہیں کہ مستقبل میں سیاسی ڈھانچہ کیا ہوگا۔ وہ کس کو اپنا رہنما منتخب کریں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئندہ وزیر اعظم کون ہوسکتا ہے؟ صدر مشرف کی پوزیشن کیا ہوگی؟ ایم ایم اے کا رول کیا ہوگا؟ مسلم لیگ ن کہاں کھڑی ہوگی ؟ ق لیگ قائم رہ سکے گی یا بکھر جائے گی؟ کیا الیکشن منصفانہ ہو سکیں گے یا کوئی غیر جمہوری اقدام ملک پر مسلط کردیا جائے گا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1465</link><pubDate>9/5/2007</pubDate></item><item><title>بس…بے بس</title><description>"بس" وہ سواری ہے جس میں بیٹھ کر انسان" بے بس" ہو جاتا ہے۔ یہی وہ سواری ہے جس کی وجہ سے دیرسے گھر پہنچنے پر بیگم سے اور دفتر پہنچنے پر افسر سے ڈانٹ کھانا پڑتی ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ بسوں میں سفر کرنے پر کیا کیا گزرتی ہے اور کیا کیا سہنا پڑتا ہے۔ اور تو اور لیڈیزسیٹ کے سامنے لگے آڑھے ترچھے شیشے بھی حسن کا نظارہ دکھلاتے ہیں کہ کسی طرح تو مسافر کا دل بہل جائے۔ ڈرائیور بھی اسی کوشش میں ہوتا ہے کہ مسافروں کا دل بہلارہے اسی لئے وہ ٹیپ پر گانے بجتا رہتا ہے ۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ مسافر پسینے سے شرابور ہو تے ہیں اورگانا چل ہوتا ہے "آدمی مسافر ہے ۔۔آتا ہے۔۔ جاتا ہے۔۔۔" گانے کی تیز آواز بس کی مری ہوئی رفتار پر کوئی صبر کا دامن ہاتھ سے کھو بیٹھتا ہے اور آواز لگاتا ہے ۔۔۔ او ئے بند کر یہ بکواس۔۔۔ کوئی آواز لگاتا ہے۔ "چل۔۔ چل میرے بھا ئی۔۔ تیرے ہاتھ جوڑتا ہوں" کوئی ٹریفک جام دیکھ کر شعر گنگناتا ہے:"سڑکوں پہ یہ منظر تو ہمیشہ عام ہوتا ہے۔ جدھر چاہے نکل جاؤ ٹریفک جام ہوتا ہے" کوئی واہ واہ کرتا ہے اور کوئی جواب کستا ہے: بسوں میں بے بسی انسان کی دیکھی نہیں جاتی۔۔۔ شرم تم کواے بس والو نہیں آتی" لاکھ کچھ کہہ لو۔ کوئی گرتا ہے گرے ان کی بلا سے۔کوئی مرتا ہے مرے ان کا کیا جائے گا۔ کبھی ہڑتال کبھی پہیہ جام ۔۔۔ اور پبلک پریشان۔ ترقی عروج پہ ہے پہلے لوگ بس کے اندر بیٹھ کر سفر کرتے تھے اب بسوں کی چھت بھی ناکافی ہوتی ہے۔ٹریفک پولیس کا نام و نشاں نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ نہ ان کا بس چلتا ہے اور نہ ان کی مرضی سے بس چلتی ہے۔ بس کیا چل رہی ہے زندگی چل رہی ہے سرپٹ دوڑ رہی ہے۔ آپ بھی اس طرح روز سفر سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے۔ کیسی گزرتی ہے اور اگر بیوی بچے ساتھ ہوں تو کیا ہوتا ہے کہیں بیوی رہ گئی کہیں کوئی بچہ رہ گیا۔۔۔ اورکنڈیکٹر کی نظر سارجنٹ پہ ہوتی ہے ۔ اگر اٹک گیا تو گئی کمائی۔ ورنہ سارجنٹ کی بن آئی۔ کہئے یہی کچھ ہوتا ہے۔۔۔ نا! آپ بھی رائے دیجئے۔آپ کے ساتھ کیا گذری۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1467</link><pubDate>9/6/2007</pubDate></item><item><title>جان لیوابجلی کا بل</title><description>لیاقت کالونی میں بچوں کی ٹافیاں فروخت کرنے والے شخص اسلام الدین عرف اسلامو کی بیوی نے حیسکو کی جانب سے ساڑھے چار ہزار روپے کے جاری کیے جانے والے بجلی کے بل سے خوفزدہ اور دلبرداشتہ ہوکر پھلیلی نہر میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام الدین کی بیوی چار بچوں کی ماں چالیس سالہ زرینہ ایک چھوٹے سے مکان میں اپنے چار بچوں اور شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی اور گھر میں ایک پنکھا‘ ایک ٹیوب لائٹ اور ایک زیرو بلب زیر استعمال رہتا تھا جس کا حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)کی جانب سے ساڑھے چار ہزار روپے کا بل جاری کیا گیا جس کی درستگی کے لئے وہ گذشتہ ایک ہفتے سے حیسکو کے آر او آفس کے چکر لگارہی تھی لیکن اسے جب حیسکو کی جانب سے حتمی جواب دیا گیا کہ ساڑھے چار ہزار روپے کا بل تمہیں جمع کرانا ہوگا جس پر وہ خوفزدہ اور دلبرداشتہ ہوگئی جس نے پھلیلی نہر میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔ دریں اثناء حیسکو نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لیاقت کالونی سب ڈویژن کے علاقے میں ایک عورت مسماة زرینہ نے گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے پھلیلی نہر میں چھلانگ لگاکر خودکشی کی ہے۔ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض افراد اس کو غلط تاثر دیکر حیسکو کی جانب سے ڈیٹکشن بل بھیجنے کی وجہ بتارہے ہیں جو سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1468</link><pubDate>9/6/2007</pubDate></item><item><title>شعیب اخترنے محمدآصف کو بلا کیوں مارا؟</title><description>جوہانسبرگ میں20-20 ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی قومی ٹیم ایک مرتبہ پھر نئے تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔جمعرات کو پریکٹس سیشن کے دوران فاسٹ بولر شعیب اختر کسی بات پر ساتھی فاسٹ بولر محمد آصف سے جھگڑ پڑے اور انہیں بلا مار کر زخمی کردیا۔شعیب کے اس اقدام کے خلاف انضباطی کارروائی کرتے ہوئے ٹیم انتظامیہ نے انہیں پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی کا کہنا ہے ابتدائی تحقیقات کے بعد جو شواہد سامنے آئے ہیں ان میں شعیب اختر اس معاملے میں ملوث ہیں اورشعیب نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا ہے۔شعیب کی تیز مزاجی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اب تو وہ اپنے مزاج کے ہاتھوں ایسی حرکتیں کرنے کے لئے" مشہور" ہوچکے ہیں۔شائد اسی لئے سابق کرکٹرعاقب جاوید نے کہا ہے کہ شعیب پر ہمیشہ کے لئے پابندی عائدکردی جائے۔ سابقہ واقعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شعیب اختر کا غصہ ہمیشہ ناک پر رہتا ہے۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ 20-20 ورلڈ کپ کے اس اہم موقع پر بچوں کی طرح لڑناٹیم اور خود ان کے کیرئیر کے لئے نقصان دہ ہے۔ کہیں یہ انڈین لیگ کی آفر قبول کرنے کا بہانہ تو نہیں؟ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا پی سی بی کاشعیب اخترکو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ درست ہے ؟ آپ کی کیا رائے ہے؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1471</link><pubDate>9/7/2007</pubDate></item><item><title>جھگڑے کی خبر شاہد آفریدی نے پھیلائی ،شعیب اختر کا الزام</title><description>قومی ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اختر نے محمد آصف سے جھگڑے کے حوالے سے شاہد آفریدی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے محمد آصف کو جان بوجھ کر بلانہیں مارا۔ محمد آصف میرے چھوٹے بھائی کی طرح ہے ۔اس جھگڑے کو آفریدی نے بڑھاوا دیا اورشاہد آفریدی نے ٹیم منیجر سے شکایت کی کہ میں نے آصف کو بلا مارا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آصف نے بات ختم کرتے ہوئے ٹیم منیجر سے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اورشعیب بھائی نے کچھ نہیں کیا لیکن شاہد آفرید ی نے یہ بات میڈیا میں لیک کردی ۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اگر آفریدی میری فیملی کے بارے میں غلط بات نہ کرتاتو بات وہیں ختم ہوجاتی ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اپنی فیملی کے بارے میں غلط بات برداشت نہیں کرتا چاہے وہ مذاق میں ہی کیوں نہ کی گئی ہو۔ان کا کہنا تھاکہ وہ اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا۔انہوں نے کہا کہ ٹیم میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں میرے سامنے ٹیم میں کئی بار لڑائیاں ہوئی ہیں ،انضمام الحق کے دور میں بھی کئی لڑائیاں ہوئی لیکن ہم نے کبھی بھی میڈیامیں لیک نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان 20ٹوئنٹی ٹورنامنٹ بولنگ کی وجہ سے ہار گیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ جھگڑا س لئے کیا ہے کہ انڈین کرکٹ لیگ جوائن کرنا چاہتے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ اگر مجھے آئی سی ایل جوائن کرنی ہوتی تو پہلے ہی کر لیتا۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1474</link><pubDate>9/8/2007</pubDate></item><item><title>جان جوکھوں میں ڈال کروطن آوٴں گا۔۔۔اعتدال پسندی کو فروغ دوں گی</title><description>سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف10ستمبر کو اسلام آباد ایئر پورٹ پہنچ رہے ہیں اورانہوں نے اس سلسلے میں ہر قسم کے دباوٴکو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں جان جوکھوں میں ڈال کر ہر صورت وطن واپس آوٴں گاجبکہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اقتدار میں آکراعتدال پسندی اورجمہوریت کو فروغ دوں گی۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ وطن واپس آکرعوام کے حقوق،جمہوریت کی بقا اورآئین کی بحالی کے لئے جدو جہد کریں گے۔نواز شریف کے مطابق وہ اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ قوم کے لئے وطن واپس آ رہے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ صدر مشرف وردی اتار کردونوں عہدوں سے علیحدہ ہوجائیں ۔نواز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ جا ری رکھیں گے لیکن جمہوریت کے ذریعے دہشت گردی کیخلاف جنگ موٴثرطریقے سے لڑی جا سکے گی ۔انہوں نے کہا ہے کہ دس ستمبر کی صبح ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔دوسری طرف سابق وزیر اعظم اورپاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر کے آخر میں یا عید کے بعد اپنے ہم وطنوں کے درمیان ہو ں گی ۔انہوں نے کہا کہ وہ اقتدار آکر اعتدال پسندی اورجمہوریت کو فروغ دیں گی ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دوبارہ حکومت میں آئیں گی ۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی واپسی کا مذاکراتی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ہر صورت پاکستان واپس آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کے غریبوں ، کسانوں ، خواتین ، نوجوانوں اور غیر مراعات یافتہ طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جنہیں ہر حکومت نے نظر انداز کیا ہے ۔پی پی پی کی چیئر پرسن کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں سے پاکستان میں لوگوں کو صحت کی بہتر سہولتیں مہیا ہوں گی جبکہ بے وزگاری کا خاتمہ ہوگااور اس کے لئے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بنیادی اصولوں پر چلیں گی۔

آ پ کے مطابق دونوں سابق وزرائے اعظم میں سے کون ملک و قوم کی بہتر طریقے سے خدمت کرسکتا ہے ؟





</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1478</link><pubDate>9/9/2007</pubDate></item><item><title>نواز شریف :ایک بار پھر جلاوطن</title><description>اسلام آباد…سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایک بار پھر جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا ۔ انہوں نے سرزمین پاکستان پر ساڑھے چار گھنٹے گزارے اور اس کے بعد خصوصی طیارہ انہیں ایک مرتبہ پھر ملکی حدود سے دور لے گیا۔ سابق وزیر اعظم سات سال کی جلاوطنی کے بعد پیر کی صبح پی آئی اے کی پرواز پی کے 786 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے تھے۔اس موقع پر ائیرپورٹ پر ریڈ الرٹ تھا۔اس دوران اسلام آباد میں مختلف مقامات پر پولیس پی ایم ایل این کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور آنکھ مچولی ہوتی رہی ۔ان کی وطن واپسی اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے آج کا دن خاصا اہم اور گرماگرمی سے پھر پور رہا۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی وطن واپسی صرف عدالتی تقاضے ہی پورے کرسکی جبکہ ان کی آمد سے ایک رات قبل کچھ شہروں میں پولیس کے چھاپے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری رہیں۔ بعض جگہوں سے ہنگاموں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ جان جوکھوں میں ڈال کر وطن پہنچیں گے …وہ وطن آئے بھی مگرانہیں ائیرپورٹ سے ہی واپس کردیا گیا۔ آپ بتائیے حکومت کا یہ اقدام ملک میں سیاسی صورتحال اور خاص کر جمہوریت کے حوالے سے کیا اثرات مرتب کرے گا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1481</link><pubDate>9/10/2007</pubDate></item><item><title>کلثوم نوازبمقابلہ بے نظیر بھٹو؟</title><description>نواز شریف ایک مرتبہ پھر جلا وطن ہوگئے جبکہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے عندلیہ دیا ہے کہ وہ بھی پاکستان آسکتی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی سنبھال لیں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاجس طرح اس سے قبل شہباز شریف اور پیر کو نواز شریف کے ساتھ ہوا ایسی صورتحال میں کیا یہ ممکن ہے کہ کلثوم نواز کو پاکستان آنے دیا جائے گا؟اگر واقعی کلثوم نے پارٹی باگ ڈور سنبھالی تو حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ ادھر پیپلز پارٹی کی قیادت بھی پاکستان آنے کا سوچ رہی ہے۔آنے والے وقت میں کلثوم بمقابلہ بے نظیر بھی تو ہوسکتا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بنگلہ دیش میں خالدہ ضیاء اور حسینہ واجد آمنے سامنے ہوسکتی ہیں تو یہاں کلثوم اور بے نظیر مقابلے پر کیوں نہیں ہوسکتیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ ق لیگ کا کیا بنے گا؟ مذہبی پارٹیوں کا رد عمل کیا ہوگا؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1484</link><pubDate>9/10/2007</pubDate></item><item><title>ورلڈ کپ 20/20 ہمارا ہوگا!</title><description>سال 2007ء اس حوالے سے اہم ہے کہ اس سال دو کرکٹ ورلڈ کپ ہونے تھے ایک مارچ /اپریل میں ہوچکا ہے جبکہ دوسرا ورلڈ کپ20-20 آج شروع ہونے کو ہے ۔ ایک مرتبہ پھر عالمی کرکٹ ٹیمیں آمنے سامنے ہیں اور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے در پہ ہیں۔بدقسمتی سے گزشتہ ورلڈ کپ میں پاکستان یک نہ شد کئی شد… کئی سنگین بحرانوں میں گھرگیا جن میں باب وولمر کی موت کے ساتھ ہی شروع ہونے والا بحران بھی شامل تھا۔ دوسرا ورلڈ کپ یعنی 20/20 ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ شعیب اختر اور محمد آصف کے درمیان ہونے والے جھگڑے نے ایک نیا بحران کھڑا کردیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ شعیب اختر نا صرف خود تنقید کا نشانہ بنے بلکہ ان پر پابندی لگنے کے باعث ٹیم پر بھی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ ادھر انضمام جو کیپٹن کی حیثیت سے ٹیم کو سنبھالے ہوئے تھے وہ بھی اسکرین آوٴٹ ہوگئے۔ اب کیپٹن کی ذمے داری شعیب ملک کے سر ہے۔20/20 ورلڈ کپ کے لئے پی سی بی کی طرف سے جس ٹیم کا اعلان کیا گیاان میں منتخب نہ ہونے والے کھلاڑیوں نے بھی بورڈ سے ناراضگی کا اظہار کیا اور سلیکشن ٹیم کو برا بھلا کہا۔ آئی سی ایل یعنی انڈین کرکٹ لیگ نے بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی اور اس حوالے سے بھی کئی کھلاڑی خبروں میں آگئے۔ اس تمام صورتحال کی موجودگی میں کیا ہماری ٹیم کی مجموعی پرفارمنس کسی نئے ریکارڈ کا باعث ہوگی؟ کیا ورلڈ کپ 20/20 ہمارا ہوگا؟ ٹیم کے ہر پلیئر کی پرفارمنس پر آپ کا تبصرہ درکار ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1490</link><pubDate>9/11/2007</pubDate></item><item><title>پاکستان کی سیاست ۔نشیب و فراز</title><description>دنیا کا شائد ہی کوئی ایسا ملک ہوگا جہاں پاکستان میں ہونے والی سیاست کو امیزنگ نہ کہا جاتا ہو،تاریخ پر روشنی ڈالیں تو نشیب و فراز کی ایک عجب داستان رقم ہے۔پاکستان کی سیاست میں جو کوئی نہیں سوچتا وہ ہوجاتا ہے۔پہلی غلطی اسکندر مرزا کی تھی جو صدر ایوب کو لائے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ آنے والا وقت اتنا کڑوا ہوگا کہ ان کے جسد خاکی کو بھی جنرل ایوب ارض پاک میں سپرد خاک کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنرل ایوب کا ساتھ دیا ذوالفقار علی بھٹو نے… لیکن بعد میں مخالفت یحییٰ خان کو اقتدار میں لے آئی۔حالات اس قدر خراب ہوئے کہ ارضِ پاک دو لخت ہوگئی۔ذوالفقار علی بھٹو کو پورا پلیٹ فارم میسر آیا تو اس لیڈر کی عوام کیلئے قربانیاں اور محنت کوتو فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ ناواقف تھے کہ جس جرنیل کو وہ اپنے دور اقتدار میں پِک کریں گے وہی انہیں پھانسی کے پھندے تک لے کر جائے گا۔ ایک اہم دور اپنے اختتام کو پہنچا تومحمد خان جونیجو کی باری آئی اور ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا جو پچھلے ادوار میں فوج اور سیاست دانوں کے درمیان ایک عجیب سے ریلیشن شپ کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔سیاست کیا ہوئی قیام پاکستان کے بعد تو بس اقتدار کی ایک دوڑ ہی نظر آئی ۔ اب جب سولی چڑھائے گئے لیڈر کی بیٹی کو پہلی بار اقتدار ملا تو کرپشن نے ان کا بھی تختہ الٹ دیا۔ایک نئے لیڈر کو موقع ملا اقتدار کا… اسلامی جمہوری اتحاد قائم ہوا بینظیر بھٹو کے خلاف لیکن یہاں بھی اس وقت کے صدر غلام اسحق خان نے نواز شریف کا وہی حال کیا جو اس سے پہلے وہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کرچکے تھے۔کامیابی نے ایک بار پھر قدم چومے بی بی کے…حکمرانی کرنے کا دوسرا موقع یقینابھٹو خاندان کیلئے باعث ِ اعزاز تھالیکن یہ سیاست بھی کیا چیز ہے کہ کوئی بھی دور دیکھ لیجیے جس نے کسی کا ساتھ دیا اس نے ہی وار کیا۔ فاروق احمد خان لغاری کو صدر کی کرسی تک لانے والی اپنے ہی ساتھی کی شکار بنیں۔یہ ایک ایسا دور تھا جہاں فوج ورسز سیاست دان نہیں بلکہ سیاستدان ورسز سیاستدان تھااور وہ بھی علیحدہ نہیں بلکہ ایک ہی پارٹی تھے۔اب موقع ملا اپوزیشن کو اور جنرل ضیاء کی انگلی پکڑ کر سیاست کے گر سیکھنے والامیاں خاندان کے روشن خواب کو تعبیر تو دے گیا لیکن سولہ کروڑ پاکستانی وہیں کے وہیں کھڑے نظر آئے۔ شاید اب تک آنے والے سیاستدانوں کے خاندان تو بہتر زندگی گزار رہے ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک عام آدمی وہی تین وقت کی روٹی کی فکر سے آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔ فوج پھر مد مقابل ہوئی اور کارگل کے بعد کی صورتحال سب کے سامنے ہے جس کے بعد جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف کے درمیان سال 2000ء میں ہونے والا مافیا طرز کا معاہدہ طے پایا ۔ یہ ہے وہ صورتحال جہاں عوام اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یقین کس پر کیا جائے۔ وہی نواز شریف جو ملک کی ترقی اور خوشحالی کے وعدے کرتا ہے ایک بار معاہدہ نہ کرنے کا بیان تو دوسری طرف پانچ سال کے ایگریمنٹ کا اعتراف بھی ۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا اس کا علم ہمارے سیاستدانوں اور جرنیلز سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لیکن اب لگتا یہ ہے کہ پاکستانی معاملات میں حرف آخر کی حیثیت رکھنے والی دنیا کی واحد طاقت نہیں چاہتی کہ نوازشریف مستقبل کے اس سیاسی منظر میں بگاڑ پیدا کریں جو وہ جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے اشتراک سے ترتیب دینا چاہتی ہے تو اب دو ہی راستے نظر آرہے ہیں یا تو سیاستدان فوج سے شراکت اقتدار کو کڑوی گولی کی طرح نگل لیں یا متحد ہو کر فوج کو بیرکوں میں واپسی کا راستہ دکھائیں۔جیت کسی کی بھی ہو وقتی طور پر تو کامیابی کے شادیانے بجیں گے لیکن گزرے اوقات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھنا یہ ہوگا کہ فوج اور سیاستدان کے مابین یہ نیا اتحاد آنے والے وقت میں بھی برقرار رہے گا؟ …(جیو ٹی وی کی ایک رپورٹ سے ماخذ )</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1494</link><pubDate>9/14/2007</pubDate></item><item><title>کرکٹ کی دنیا میں کروڑو ں کی باتیں</title><description>بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے دو نئی اورمنفردٹوئنٹی 20 لیگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی انعامی رقم 35 کروڑروپے ہے۔یہ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی انعامی رقم ہے۔ چیمپئنز ٹوئنٹی 20 لیگ کی انعامی رقم 50 لاکھ ڈالرز (22کروڑ روپے) اور انڈین پریمیئر لیگ کی انعامی رقم 30لاکھ ڈالرز (13 کروڑ روپے) ۔انڈین پریمیئر لیگ اپریل اور چیمپئنز ٹرافی ٹوئنٹی 20 لیگ آئندہ سال اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔ پریمیئر لیگ کے 44 دن میں 39میچ ہوں گے۔ ہر ٹیم میں 16 کھلاڑی ہوں گے جن میں چار انٹرنیشنل اور چار مقامی ہوں گے۔ ہر سینٹر پر سات میچ ہوں گے۔ میچ ہفتے کو شام 5سے رات 8بجے تک کھیلے جائیں گے۔ میچ ہوم اور اوے کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ لیگ انڈین کرکٹ لیگ کے مقابلے میں کرائی جارہی ہے۔ بھارتی بورڈ کی لیگ کو آسٹریلوی فاسٹ بولر گلین میک گرا، سابق کیوی کپتان اسٹیفن فلیمنگ کی خدمات حاصل ہوں گی۔ انڈین پریمیئر کرکٹ لیگ میں ٹیمیں بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کی نگرانی میں حصہ لیں گی۔ انڈین کرکٹ لیگ کے اعلان کے بعد اس کے منتظمین کابھارتی بورڈ سے تنازع چل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح بڑی بڑی انعامی اسکیموں کے اجراء سے کرکٹ کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا انڈین کرکٹ ٹیم اور بھارتی بورڈ کا یہ تنازعہ کرکٹ کی تباہی کو جنم دے رہا ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1495</link><pubDate>9/14/2007</pubDate></item><item><title>مفاہمت یا ناکام ڈیل اور بے نظیرکی واپسی کا اعلان</title><description>بے نظیر بھٹو اور صدر مشرف کے درمیان کسی قسم کی ڈیل یا مفاہمت کے طویل دورانئے کے بعد بالاآخر بے نظیر نے پاکستان واپس آنے کا اعلان کردیا اور دبے الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ کسی قسم کی ڈیل یامفاہمت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے اب سیاست کا رخ دوسری جانب مڑ گیا ہے۔ اب وہ18 اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گی جہاں پی پی پی کے نمائندوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا شاندار استقبال کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ادھر ایم کیو ایم نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ایم کیو ایم کی جانب سے خیرمقدمی کا اعلان اچھی حکمت عملی اور جمہوری جد وجہد کی آئینہ دار ہوگی ۔ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مضبوط سیاسی قوت ثابت ہوں گی۔ سیاسی حلقے اپنے طورپہ کیا محسوس کر رہے ہیں، حکومت وقت کیا سوچ رہی ہے اور دیگر جماعتیں کیا سوچ رہی ہیں۔کیا پنجاب میں ق لیگ ٹوٹ پھوٹ سے بچ جائے گی؟ عام انتخابات کسی التواء یا بہانے کا شکار تو نہیں ہوجائیں گے؟ق لیگ اور پی پی پی میں کوئی اشتراک ممکن ہوسکے گا ؟ کیا بے نظیر کی واپسی کا فیصلہ درست ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1498</link><pubDate>9/15/2007</pubDate></item><item><title>"آٹے دال کا بھاؤ"</title><description>رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی آٹے دال کی قیمتوں میں30 سے 35فی صد اضافہ ہوگیا ہے۔آٹا دال ہی کیا ٹماٹر، پیاز اور دیگر سبزیوں کے بھاوٴ بھی آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ فلور ملزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سندھ کی فلور ملز کو صرف 30 فیصد سپلائی کی جارہی ہے جبکہ سرحد کو100 فیصد اور پنجاب کو 50 فیصد سپلائی ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سپلائی کم اور ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں ۔ یہی حال پھلوں کا بھی ہے۔ پہلے روزے کو امرود 25 روپے پاوٴ اور کیلے 25 روپے درجن فروخت ہوئے۔ ہر چیز کی قیمت ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ اور بے چارے عوام " ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم" کا شکار ہیں۔ قیمتوں میں بے د ریغ اضافہ مہنگائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ انصاف طلب کیا جائے تو کس سے؟ رمضان پیکیج کیا ہوا؟ پرائس چیک کمیشن کیا کر رہا ہے؟ کیا ماہ رمضان کی برکتیں مہنگائی کی نذر ہوجائیں گی ؟ ناظمین ان روز مرہ کی اشیاء صرف پہ نظر نہیں رکھ پاتے َ؟ یقیناآپ بھی اس مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہوں گے، اپنی آنکھوں دیکھی توکہئے ذرا؟اس ماہ رمضان میں آپ پر کیا بیتی؟
</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1509</link><pubDate>9/17/2007</pubDate></item><item><title>سیاچن کی سیاحت یا بھارت کی سیاست</title><description>پاکستان نے سیاچن کے متنازعہ علاقے کو سیاحوں کے لئے کھولنے پربھارت سے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ ایشوپاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں عرصہ دراز سے زیر بحث ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کا سیاچن پر غیر قانونی قبضہ ہے اور اب بھارت اسے سیاحوں کے لئے کھولنے کی بات کر رہا ہے۔ اس کا براہ راست تعلق ہماری سرحدی سلامتی سے بھی ہے۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر کو واضح تنبیہ کردی ہے کیونکہ یہ ایک سیاسی سرحدی اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والی بات ہے۔ خود پاکستانی قوم بھی ان نازک معاملات میں بھارت کا اس طرح ملوث ہونا پسند نہیں کرے گی۔ اس طرح کل وہ مزید تنازعات کھڑا کرسکتا ہے۔ آپ بھی ہماری اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے اس مسئلہ پر اظہار خیال کرسکتے ہیں۔ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1515</link><pubDate>9/18/2007</pubDate></item><item><title>وی وی آئی پیز بھی غیر محفوظ ہوگئے !</title><description>ہمارے وی وی آئی پیز کس قدر غیر محفوظ ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز پچھلے دنوں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اب اپنے سیکرٹریٹ میں کیا۔ یہاں تک کہ دریائے چناب کے شاہ جیونہ (جھنگ) پل کا افتتاح بھی سیکریٹریٹ میں ہوا جو اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے سیکورٹی وجوہات پر اسلام آباد کے نئے ضلعی کچہری کمپلیکس اور پریس کلب کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے بھی پرائم منسٹرسیکرٹریٹ کا انتخاب کیا۔ مزید برآں بارہ کوہ کے لئے سوئی گیس فراہمی کی افتتاح تقریب اور پاک سیکرٹریٹ کے نئے بلاکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب تمام پی ایم سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئیں۔ وزیراعظم کاافتتاح کے لئے شہروں میں نہ جانا واضح کرتا ہے کہ اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص بھی اس ملک میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ وزیراعظم راولپنڈی کا سفر کرنے کے لئے اکثر ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں۔خبر کے مطابق وزیراعظم کا موقف جاننے کے لئے متعدد کوششوں کے باوجود ان کے ترجمان سے رابطہ نہیں کیا جا سکا۔ حتی کہ یوم آزادی کی تقریبات بھی ایک بند ہال کنونشن سینٹر میں منعقد کی گئیں۔ یوم دفاع پر فوجی دربار میلے منعقد نہیں ہو سکے۔ سکیورٹی وجوہات کی بناء پرجنگجوؤں کی جانب سے حملوں کے خوف پر فوجی اہلکاروں کو عوامی مقامات پر یونیفارم زیب تن نہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔غرض یہ کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کی باتیں کرنے والے آج خود خوف زدہ ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وی وی آئی پی محفوظ نہیں تو ایک عام آدمی کو تحفظ کو ن دے گا؟ کیا وی وی آئی پی کلچر کے بغیر سادہ زندگی نہیں گذاری جاسکتی! آخر عوام بھی تو اسی ماحول میں گزر بسر کرتے ہیں۔ یہی وہ عوام ہیں جو انہیں منتخب کرتے ہیں اور سادہ زندگی گذارتے ہیں۔ انہیں بھی اپنی جا ن کا تحفظ درکار ہے۔ دہشت گردی کسی بھی روپ میں ہوسکتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سب کے لئے یکساں ہونی چاہئئے یا نہیں؟ آپ کیا کہتے ہیں ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1518</link><pubDate>9/19/2007</pubDate></item><item><title>صدارتی انتخاب کے شیڈول کا اعلان</title><description>الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق صدارتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی 27 ستمبر کو وصول کئے جائیں گے اور 29 ستمبر کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور صدارتی انتخاب 6۔اکتوبر کو ہوگا۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ صدر انہی اسمبلیوں سے ووٹ لیں گے۔ اس پر اپوزیشن جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ میں صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔اسی مقدمے کی سماعت کے دوران گزشتہ روز سرکاری وکیل نے ایک بیان عدالت میں جمع کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر الیکشن کے بعد فوجی عہدہ چھوڑ دیں گے۔ اس بیان پر بھی اپوزیشن رہنما خاصے سیخ پا ہوئے تھے ۔ صدارتی الیکشن کا شیڈول کیا جلی پر تیل کا کام کرے گا؟ صدر کے انتخاب کے حوالے سے آپ کے تبصروں ، تجزئیوں اور خیالات کا انتظار ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1524</link><pubDate>9/20/2007</pubDate></item><item><title>کچی شراب ، مہلک عذاب</title><description>کراچی کے مختلف علاقوں میں زہریلی شراب پینے سے 30 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور متعدد بے ہوشی کے عالم میں ہیں۔یہ افسوس ناک واقعہ ریلوے سٹی کالونی میں پیش آیا۔مرنے والوں میں مسیحی، ہندو اور مسلمان شامل ہیں۔غورطلب بات یہ ہے کہ اس افسوسناک حادثے سے 30 افرادہی نہیں مرے بلکہ پورے30 خاندان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے ہیں،ان میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔کئی ایک گھر ایسے بھی ہوں گے جہاں کفالت کے مسائل کھڑے ہوگئے ہوں گے۔ کتنی مائیں اپنے لخت جگر سے بچھڑ گئیں، کتنی بہنوں کے بھائی اور کتنی ہی عورتوں کے شوہر لمحے بھر میں پیوست خاک ہوگئے۔جو بچے یتیم ہوئے ان کا کیا قصور ہے؟ واقعہ افسوسناک ہے اور کئی سوال اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اس گھناوٴنے کاروبار میں ہمارے محافظ بھی شامل ہیں۔ارباب اختیار اس سلسلے میں بر وقت کارروائی سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے واقعات با ربار ہوتے ہیں۔ شراب پکی ہو یا کچی ، دونوں صورتوں میں مضر صحت ہے لیکن کاروبار کرنے والوں کو اس کی کیا پرواہ۔ کیا اس طرح کی اموات معاشرہ میں انتظامیہ کی کمزوری کی علامت ہیں؟آپ کیا تبصرہ کریں گے اس خبر پر؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1534</link><pubDate>9/21/2007</pubDate></item><item><title>موت کاسامان تیار کرنے والے ممالک !</title><description>سابق امریکی جنرل تھامس میکنزی نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے پاس دنیا کا طاقتور ترین سپر بم موجود ہے جو 14 ٹن وزنی اور80 میٹر کی گہرائی تک سب کچھ بھسم کرسکتا ہے۔ ایک روسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل نے کہا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 70ممالک کے پاس 1400 سے زائد زیر زمین مقامات پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ اس سے قبل روس نے بھی ایک ایسے بم سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بم Father of the bomb کہلائے گا جو انتہائی تباہ کن ہوگا۔ دنیا کی دو سپر طاقتوں کی جانب سے اس طرح کے ہتھیاروں کی موجودگی دنیا کے لئے چیلنج ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جوایک طرف تو دہشت گردی اور بم دھماکوں کے خلاف ہیں اور دوسری طرف خود ہی خطرناک سے خطرناک بم بنا رہے ہیں۔اسلحہ کی دوڑ میں مہلک ہتھیار کے ذخائر دنیا کا امن بگاڑنے اور جارحیت کو فروغ دینے کا عملی مظاہرہ ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے مہلک ہتھیار رکھنا ضروری ہے؟ کیا اس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے؟کیا موت کا سامان تیار کرنے والے، امن و امان کے محافظ ہوسکتے ہیں ۔ مثل مشہور ہے کہ دوسرے کو نصیحت خود میاں فصیحت ۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1536</link><pubDate>9/22/2007</pubDate></item><item><title>رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی</title><description>برطانوی ریڈیونے اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے تبصرے میں کہا ہے کہ :" مولانا فضل الرحمن سیاست کے مے خانے میں ”رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنگ نہ گئی“ کی روشن تصویر ہیں۔ وہ آئیڈیل ازم اور عملی سیاسی تقاضوں کو نہ صرف خلط ملط نہیں ہونے دیتے بلکہ بے وقت کی راگنی پر بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔یہ تبصرہ برطانوی ریڈیو کے کالم بات سے بات میں کیا گیا ہے۔ ریڈیو کے مطابق مولانا فضل الرحمن طالبان کے بھی ہیرو ہیں اور اینٹی طالبان لابی کے بھی آئیڈیل۔ وہ امریکا کے خلاف جب چاہیں آگ اگل سکتے ہیں اور جب چاہیں اس آگ پر ٹھنڈی بالٹی انڈیل سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن موجودہ کشمیر پالیسی کے بھی حق میں ہیں اور اس ناتے بحیثیت سرکاری ایلچی بھارت کے غیر سرکاری دورے کو بھی بہت اہم سمجتے ہیں۔ وہ نواز شریف کے بھی ہمدرد ہیں اور پرویز مشرف بھی انہیں اپنا آدمی سمجھتے ہیں۔ وہ قائد حزب اختلاف بھی ہیں اور سرکاری ہیلی کاپٹر کو بھی محبوب سواری جانتے ہیں۔ فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے جمگٹھے میں ہوں تو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ سے کم کسی بات پر راضی نہیں اور باہر ہوں تو جنرل مشرف کی اقتدار پسندی اور روشن خیالی کو بھی حرام نہیں کہتے، بس مکروہ سمجھتے ہیں۔ وہ فوج حکومت کے یکسر مخالف بھی ہیں اور موجودہ سیٹ اپ میں وزیر اعظم بننے کے خواہشمند بھی ۔ وہ ایک بالادست پارلیمنٹ بھی چاہتے ہیں لیکن نیشنل سیکورٹی کونسل میں اپنے ہی وزیر اعلیٰ کی شرکت پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ الغرض مولانا فضل الرحمان فی الوقت واحد سیاستداں ہیں جو ایک ہی وقت میں 5مختلف رنگوں کی گیندیں ہوا میں اچھالنے کے ماہر ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔ ان ہی اوصاف کے سبب بعض مولانا فضل الرحمان کو محض ایک سیاستدان ہی نہیں بلکہ ون مین پولیٹیکل آرمی سمجھتے ہیں"اس تبصرے پر آپ کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1541</link><pubDate>9/24/2007</pubDate></item><item><title>روایتی حریف : معرکہ کس کے سرہوگا</title><description>بھارت اور پاکستان کے درمیان آج ایک تاریخی کرکٹ میچ ہورہا ہے…یعنی ورلڈ کپ 20/20 کا فائنل میچ…اس وقت ساری دنیا کی نگاہیں اسی میچ کی طرف لگی ہیں۔ دونوں ممالک کرکٹ کے پرانے حریف ہیں ۔دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے کے خلاف شکست بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ ادھر دونوں ممالک کے میڈیا کا بھی یہی حال ہے کہ ہارگئے تو ہر پہلو سے میچ کا آپریشن اور جیت گئے تو کونے کونے میں منایاجانے والا فتح کا جشن سہ سرخیوں میں بیان کرتاہے۔ بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں جیت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادینے کا دعویٰ کررہی ہیں مگر ہوگا کیا یہ آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔ اسی میچ کے حوالے سے یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ میچ پر کروڑوں کاسٹہ کھیلا جارہاہے۔آپ کے خیال میں کون جیت سکتا ہے؟ کس کا پلہ بھاری رہے گا؟ کیا شعیب ملک اور یوراج ہی اس میچ کے وننگ کھلاڑی ہوں گے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1542</link><pubDate>9/24/2007</pubDate></item><item><title>احمد رضا قصوری کے چہرے پر کالا رنگ</title><description>اسلام آباد…سپریم کورٹ میں صدر کے دوعہدوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت سے پہلے پیرکوپشاور سے آئے ایک وکیل نے وفاق کے سینئر وکیل احمد رضا قصوری کے چہرے پر سیاہ رنگ کا اسپرے کردیا۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب احمد رضا قصوری سپریم کورٹ پہنچے تو وہاں پشاور سے آئے وکیل محمد خورشید نے اچانک ان کے چہرے پر سیاہ رنگ کا اسپرے کردیا۔ واقعے کے بعد احمد رضا قصوری مقدمے کی سماعت کرنے والے نو رکنی لارجر بینچ کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر غم و غصہ کا اظہار کیا۔بینچ کے سربراہ جسٹس رانا بھگوان داس نے انہیں ہدایت کی کہ وہ تحریری شکایت پیش کریں۔بتایا گیا ہے کہ وکیل محمد خورشید ایک سیاسی پارٹی کے دیرینہ رکن رہے ہیں۔ انہوں نے 2002ء میں پارٹی کے ایک فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو گولی مار کر زخمی کرلیا تھا۔ادھر احمد رضا قصوری نے کہاہے کہ میرے ساتھ ایساکر نے والے کالے کوٹ میں دہشت گرد ہیں ، یہ لوگ ہمارے پیشے پر بد نما دھبہ ہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1545</link><pubDate>9/24/2007</pubDate></item><item><title>اور ہم معرکہ میں ورلڈ کپ ہار گئے!</title><description>پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ فائنل سنسنی خیز مقابلہ بالا آخر پاکستان کی شکست پر ختم ہوا۔ جس پر پاکستانی قوم نے مایوسی کا اظہار کیا۔ ہم بہت ڈینگیں مارتے ہیں۔ اور وہ کچھ نہیں کر پاتے جس کے دعوے کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں اور بورڈ کے تنازعے اکثر سننے میں آتے ہیں آج ہمارے کھلاڑی بیٹنگ باؤلنگ اور فیلڈنگ میں کھیل کا وہ معیار قائم نہ رکھ سکے۔ جس کی امید کی جارہی تھی، تمام اچھے بیٹسمین اور باؤلرز کی کارکردگی نا قابل بیان ہے ۔گو کہ بھارت بھی اس معیار کا کھیل پیش نہ کرسکا۔ لیکن بھارتی باؤلرز نے ہمت نہ ہاری۔ لیکن پاکستان اس کے مقابلے توقع کے بر خلاف کھیلا ،عوام دعائیں کرتے رہ گئے۔ وہ پاکستان کا نام اونچا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ٹیم کی مجموعی کارکردگی ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔ شعیب ۔آفریدی اور یونس خان بھی فیل ہوگئے۔ صرف تنویر سہیل اور مصباح الحق نے میچ میں جان ڈالدی تھی۔ اور وہ بھی جس طرح آؤٹ ہوئے اس کی وجہ سے ہم ورلڈ کپ حاصل نہ کرسکے اور باؤلرز میں سوائے عمر گل کے کوئی خاص باؤلر کامیاب نہ ہوسکا۔ شعیب اختر، محمد یوسف اور عبد الرزاق باہر بٹھا دئے گئے۔ ہمارا کرکٹ بورڈ منہ دیکھتا رہ گیا۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے آپ اس پر رد عمل کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ہم کہاں کہاں کمزوری کا شکار ہوئے۔ بھارت نے بازی جیت لی اور ہم معرکہ ہارگئے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1549</link><pubDate>9/24/2007</pubDate></item><item><title>ڈاکٹر قدیر تک رسائی یا سیاسی ہیرا پھیری؟</title><description>واشنگٹن کی مڈل ایسٹ ا نسٹیٹیوٹ میں خطاب کے دوران بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو عالمی ایٹمی ایجنسی کو ڈاکٹر قدیرتک رسائی دیں گی تاہم انہوں نے ایٹمی سائنسدانوں کے خلاف مغربی دباؤ کو قبول کرنے سے مسترد کردیا۔انہوں نے خطاب کے دوران مزید کہا کہ پرویز مشرف کی حمایت امریکی حکمت عملی کی فاش غلطی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ صدر مشرف عوام اور فوج میں بھی حمایت کھوچکے ہیں۔ یہ فوجی ڈکٹیٹرشپ ہی تھی جس نے دہشت گردی کو ہوا دی۔ بے نظیر سیاسی حکمت عملی اپناتے ہوئے امریکی زعماء سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ وہ پاکستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات اور جنرل الیکشن کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر نا چاہتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ کسی ڈیل پہ یقین نہیں رکھتیں اور تیسری بار ویزاعظم بننے کے کے لئے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ مندرجہ بالا بیان سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ ان کے اس خطاب سے کیا سیاسی حکمت عملی یا منظر نامہ سامنے آتا ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ اس بیان سے عالمی ایٹمی ایجنسی کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟ کیا وہ واقعی پاکستان آکر کوئی انقلاب برپا کرسکتی ہیں؟آپ کیا رائے دیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1557</link><pubDate>9/26/2007</pubDate></item><item><title>ایک ،دو، تین…</title><description>صدارتی انتخاب کے سلسلے میں کافی عرصے سے بحث و مباحثے جاری ہیں ۔ انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے ان میں حصہ لینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔پہلے ایک تھا ، پھر دو ہوئے اب تین میدان میں ہیں۔ کچھ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور عام افراد نے بھی نامزدگیوں کی غرض الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ امیدواروں کی حتمی تعداد کے بارے میں تو مقررہ وقت پر ہی معلوم ہوسکے گالیکن اہم بات یہ ہے کہ اس صدارتی انتخاب میں صدر کے مقابلے میں جو اہم شخصیات میدان میں آئی ہیں ان کی اپنی اہمیت نظر انداز نہیں کی جاسکتی جن میں جسٹس ریٹائرڈوجیہہ الدین احمد اور پیپلز پارٹی کے رہنماء امین فہیم شامل ہیں۔ وکلاء تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کا پروگرام بنایا ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد کو پہلے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے ۔یہ سیاسی صورتحال جتنی اہمیت کی حامل ہے اس سے کہیں زیادہ امن و امان کے لئے مسئلہ بن سکتی ہے۔ ایک طرف امن و امان کی مخدوش صورتحال ہے تو دوسری طرف یہ ابھی تک طے نہیں ہوسکا کہ صدر موجودہ اسمبلیوں سے ووٹ لیں گے یا نئی اسمبلیوں سے۔ ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1558</link><pubDate>9/26/2007</pubDate></item><item><title>جبری عیدی مہم</title><description>ایک اطلاع کے مطابق ملک کے طول وعرض میں ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جہاں ذخیرہ انداوزی اور منافع خوری و مہنگائی اپنے عروج پر ہے وہیں پولیس کی جانب سے جبری عیدی مہم کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ انتظامیہ عوام کی خدمت کے لئے ہوتی ہے پرائس کنٹرول کمیٹیا ں بھی اپنا کام کر رہی ہیں لیکن عوام کسی طرح بھی مہنگائی سے چھٹکارا نہ پاسکے۔ ابھی رمضان کا آدھا مہینہ باقی ہے۔ ادھر پولیس نے چائے پانی کے نام پر اپنا دھندا شروع کردیا ہے۔ وہ دوکانداروں اورپتھاریداروں سے اپنی عیدی وصول کرنے سے باز نہیں آتے۔ یہ وہ قوم کے سپو ت ہیں جو انتظامی امور اورقانون کے نفاذ اور اس کے محافظ کہلاتے ہیں ۔ دوکان دار اپنی محنت و پسینے کی کمائی میں سے پولیس کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔یہ منظر دیکھ کر آپ کا دل کیا کہتا ہے؟پولیس کا ہے فرض مدد آپکی؟؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1560</link><pubDate>9/27/2007</pubDate></item><item><title>آوٴ استعفیٰ ، استعفیٰ کھیلیں</title><description>آل پارٹیز ڈیمو کریٹک جماعتوں نے استعفے دینے اور سرحد اسمبلی توڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماء مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اکٹھے قومی اسمبلی جاکر اسپیکر کو استعفے پیش کریں گے اور جنرل پرویز کے صدر بننے کا راستہ ہر حالت میں روکا جائیگا اور ہر قیمت پر عوام کو آمریت سے نجات دلائیں گے۔ ایک اور رہنماء اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی ہوا چل پڑی ہے لہذا جنرل پرویز کیلئے کوئی راستہ نہیں بچا۔ ذرائع کے مطابق قائد حزب اختلاف کو استعفوں پر انتہائی مشکل سے رضامند کیاگیا۔سرحد اسمبلی توڑنے کے حوالے سے 2 اکتوبر کی تاریخ دی گئی ہے۔گویا استعفیٰ ، استعفیٰ کھیلیں کا راگ پھر سنائی دینے لگا ہے۔ اس حوالے سے رمضان ہونے کے باوجود سیاسی گہماگہمیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہیں۔ دوسری جانب کچھ حکومتی ارکان یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی اسمبلی کیوں نہ ٹوٹے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔آپ بتایئے کیا استعفوں کی یہ سیاست رنگ لے آئے گی؟ اپوزیشن ایک عرصے سے مستعفی ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہے کیا واقعی اس بار اپنا کہا پورا کرسکے گی؟ استعفوں سے کوئی نیا سیاسی موڑ آئے گا، یا ایوانوں سے اٹھنے والی ہوا استعفوں کو اڑا لے جائے گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1564</link><pubDate>9/28/2007</pubDate></item><item><title>43 افرادکی دوڑ…گیٹ…سیٹ …گو …</title><description>صدارتی انتخاب کے سلسلے میں جمعرات کے روز ملک بھر سے 43 امیدواروں نے 71 کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ یعنی صدارتی ریس میں اب 43 افراد دوڑیں گے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے ایک آواز بلند ہوگی …گیٹ…سیٹ …گو …اور دوڑشروع ہوجائے گی۔ سب سے زیادہ صدر پرویز کی طرف سے کاغذات جمع کرائے گئے جن کی تعداد 17 ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار امین فہیم اور وکلاء کے صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے 3, 3 کاغذات جمع کرائے گئے۔ کراچی میں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے بھی کاغذات جمع کرائے۔اس بارے میں فوری طور پر اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوسکے کہ آئے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اتنے افراد نے صدارت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے یا پہلے بھی کبھی ایسا ہوچکا ہے۔ان 43 افراد میں سے اقتدار کی ہما کس کے سر پہ بیٹھے گی یہ تو بعدکی بات ہے اور آنے والا وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا لیکن یہ بتایئے کہ آپ کس امیدوار کو برسر اقتدار دیکھنا پسند کریں گے؟ اور کیوں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1565</link><pubDate>9/28/2007</pubDate></item><item><title>دو عہدوں کی عدالتی جنگ</title><description>عدالت اعظمیٰ نے صدر کو وردی میں انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ فیصلے کی رو سے وہ فوجی اور سیاسی دونوں عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔صدر کے دو عہدوں سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعدسپریم کورٹ کی نو رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے تمام پٹیشن مسترد کردیں۔ فیصلے سے صدر مملکت کے اقتدار کو دوام مل گیا ہے اوران کے وردی میں صدارتی انتخابات لڑنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں ۔یہ فیصلہ بعض سیاسی جماعتوں کی توقع کے برعکس ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں بھی ا س فیصلہ کی باز گشت سنی جائے گی۔ سیاسی پارٹیاں اور عوام بھی بے چینی سے اس فیصلے کے منتظر تھے۔آج کے فیصلے کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں کسی حد تک تبدیلی کا امکان بڑھ گیا ہے۔اس سلسلے میں میڈیا نے بھی گاہے گاہے عوام کو آگاہ رکھا اور سیا سی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس فیصلے سے اندرون ملک اور بیرون ملک کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ا ٓئندہ کیا ہوگا؟ اب حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اپوزیشن جو پہلے ہی استعفوں کا فیصلہ کرچکی ہے اب کیا سوچ اپنائے گی؟کیا وہ حکومت کے خلاف کسی تحریک کو بڑھاوا دینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ایسے ڈھیروں سوال آپ کے ذہن میں بھی اٹھ رہے ہوں گے ۔ہمیں لکھ بھیجئے اس اہم فیصلہ کی بابت آپ کی کیارائے ہے۔ ٍ

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1570</link><pubDate>9/28/2007</pubDate></item><item><title>ایک پر تشدددن</title><description>اسلام آباد…الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپوزیشن اور وکلاء کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے صدارتی انتخاب کیلئے صدر جنرل پرویز مشرف کے تمام کاغذات نامزدگی منظورکرلیے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم امین فہیم، جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور صدر پرویز مشرف کے کورنگ امیدواروں چوہدری امیر حسین اور محمد میاں سومرو کے کاغذات نامزدگی منظور بھی کرلیے گئے ہیں جبکہ دیگر38 امیدواروں کے کاغذات مسترد کردئیے گئے۔ ادھر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ لاجز کے سامنے جمع ہونے والے وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ۔ اس دوران وکلا ء اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اوردونوں جانب سے پتھراؤ کیا گیا ۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ سنیئر وکیل علی احمد کر دکو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایاگیا تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔ دوسری جانب بلیو ایر یا میں جمع ہونے والے اپوزیشن کے کارکنوں اور رہنماؤں کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔دوسری طرف الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرنے والی پیپلز پارٹی کی خواتین کا رکنوں کو گرفتار کیا گیا۔پاکستان کے الیکڑونک میڈیا نے ان واقعات کی براہ راست رپورٹنگ کی اور دوران کئی صحافیوں کوبھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔مجموعی طورپر آج کا دن پر تشدد رہا۔ اس واقعہ پر آپ کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1576</link><pubDate>9/29/2007</pubDate></item><item><title>ہاکی افسردہ ہے۔۔۔</title><description>پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے والی ٹیم کو کروڑوں روپے کے نقد انعامات دے کر مالا مال کردیا ۔ بورڈ نے ٹیم کے15 کھلاڑیوں کو12کروڑ روپے سے زائد رقم بطور انعام دی ۔آئی سی سی ٹیسٹ پلیئر کا ایوارڈ جیتنے والے محمد یوسف کو 2لاکھ ڈالر کاانعام دیا گیا ۔ فائنل کھیلنے والی ٹیم کے15کھلاڑیوں اور8 آفیشلز کو 25 لاکھ فی کس دینے کا اعلان بھی کیاگیا۔ اے کیٹگری میں سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرنے والے ہر کھلاڑی کو ایک لاکھ ڈالر ،بی کیٹگری میں پچاس ہزار ڈالر اور سی کیٹگری میں25 ہزار ڈالر بونس دینے کا اعلان کیا ۔یہ انعامات کرکٹرز کی میچ فیس اور ٹورنامنٹ کے دوران ملنے والے انعامات کے علاوہ ہیں۔ فائنل کھیلنے پر ٹیم کو ساڑھے تین لاکھ ڈالر کی انعامی رقم دی گئی۔ایک گروپ آف کمپنیز کی جانب سے بھی یک کروڑ روپے کا انعام دیا گیا۔گویا کرکٹرز کے لئے انعام و اکرام کی کوئی حد مقرر نہیں جبکہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے مگر اس کے کھلاڑیوں کایہ حال ہے کہ انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں۔رینکنگ کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر ہاکی میں 8واں ہے۔چیمپئنزٹرافی میں ہر سال ٹاپ6-ٹیمیں کھیلتی ہیں مگر چونکہ اس بار پاکستان چیمپئنزٹرافی کی میزبانی کررہا تھا اس لئے اسے کھیلنے کا موقع مل گیا ورنہ یہ چیمپئنزٹرافی سے بھی باہر ہوتا۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہاکی کی حالت نہ گفتہ با ہے، وہ سوتیلے پن کا شکار ہے۔ کھلاڑیوں کوڈھیروں انعام تو درکنار انہیں وہ توقیر بھی نہیں کی جاتی جو کرکٹرز کو دی جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ گویا ہاکی یہ سب دیکھ کر افسردہ ہوگئی ہے۔ اس صورتحال میں کیا کرکٹرز کے لئے انعام و اکرام کا اعلان ہاکی کے کھلاڑیوں میں احساس محرومی پیدا کرسکتا ہے؟ کہیں یہ صورتحال ہاکی کی فیلڈ میں نئے لوگوں کا راستہ روکنے کا سبب تو نہیں بنے گی؟ آپ کی رائے کا انتظار ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1591</link><pubDate>10/2/2007</pubDate></item><item><title>استعفے دے دیئے گئے۔۔۔۔</title><description>اپوزیشن جماعتوں نے آخر کار اسمبلیوں سے اپنے اپنے استعفے پیش کردیئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کو وہ وردی یا بغیر وردی قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان استعفوں کے بعد سیاسی صورتحال مزید ہنگامہ خیز ہوگئی ہے۔ہنگامہ خیزی کی ابتداء ستمبر کی آخری تاریخوں میں ہوئی۔سپریم کورٹ نے صدر کے دو عہدوں کے خلاف تمام درخواستیں مسترد کردیں۔اس فیصلے پر وکلاء نے احتجاج کیا اور اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر دھرنا دیا۔ اگلے دن یوم سیاہ منایا گیا اور اسی دن وکلاء اور صحافیوں پرپولیس کی جانب سے تشدد کیا گیا ۔ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے استعفے دینے اور سرحد اسمبلی توڑنے کا اعلان بھی اسی دوران کیا گیا۔ صدارتی انتخابات کے لئے نامزدگی جمع کرائے جانے کے موقع پر جو احتجاج ہواوہ اگلے دو دنوں تک شہ سرخیوں میں نظر آیا ۔ پھر اسلام آباد میں بیک وقت 80 سے زائد اور صوبوں میں درجنوں استعفوں نے بھی خبروں کو گرم رکھا۔استعفوں پر اپنے موقف کے حوالے سے اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی کے استعفے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے پاس صدارتی انتخاب کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ ایک اور اپوزیشن رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 6اکتوبر تک سرحد اسمبلی تحلیل ہوچکی ہوگی۔انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ صدارتی انتخاب کے خلاف پٹیشن پر حکم امتناع جاری کر ے۔ان کے جواب میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم کے استعفوں سے بے نظیر بھٹو کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ معاملات کو فائنل کر لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد اسمبلی کی تحلیل کے لئے 48 گھنٹوں کا وقت درکار ہو گا اور اس وقت تک صدر کا انتخاب ہو جائے گا۔پل پل بدلتی سیاسی صورتحال پر آپ بھی تو کچھ کہئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1592</link><pubDate>10/2/2007</pubDate></item><item><title>بحیثیت جنرل ،صدرمشرف کا آخری انٹرویو ؟</title><description>صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ" موجودہ اسمبلی سے میرا انتخاب مجبوری ہے، 1000 کے الیکٹورل کالج میں سے 100 ارکان اگر استعفے دے دیں تو ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، 15/ نومبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دوں گا،بینظیر سے شراکتِ اقتدار ہوسکتی ہے، مجھے دولت کی ہوس ہے نہ اقتدار کی چاہت۔صدر مشرف نے مزید کہا کہ موجودہ اسمبلیوں سے منتخب ہونے کے بعد آئندہ اسمبلیوں سے بھی اعتماد کا ووٹ لوں گا، ملک میں قومی مصالحت کا خواہش مند ہوں اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرنا چاہوں گا، اس میں نواز شریف کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں، بینظیر سے مذاکرات میں امریکی کردار سے انکار نہیں کرتا، آگے چل کر بے نظیر سے شراکت اقتدار ہو سکتی ہے، 15/نومبر کے بعد دو مہینے کے اندر عام انتخابات کرادیئے جائیں گے، 6/اکتوبر کو صدارت کا آخری مرحلہ بھی طے ہوجائے گا، اس کے بعد 15 نومبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ سکتا ہوں، حتمی تاریخ کا فیصلہ منتخب ہونے کے بعد کروں گا، دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد نئی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کروں گا، صدر پرویز نے کہا کہ 6 اکتوبر کا آخری مرحلہ بھی عبور ہو جائے گا۔ الیکٹورل کالج برقرار رہے گا، الیکٹورل کالج کے 1170 ارکان میں سے 163 کے استعفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا"صدر کے ان خیالات پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1606</link><pubDate>10/4/2007</pubDate></item><item><title>انضمام کی ریٹائرمنٹ: کرکٹ تنہا ہوجائے گی!</title><description>قومی کرکٹ ٹیم کے نامور کھلاڑی اور سابق کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ وہ جنوبی افریقا کے خلاف لاہور ٹیسٹ کے ساتھ ہی کرکٹ کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ دیں گے۔ 37سالہ انضمام الحق نے پاکستان کی جانب سے119ٹیسٹ میں 8813 رنز اسکور کئے ہیں۔ انہیں سابق کپتان جاوید میانداد کا پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز 8832کا ریکارڈ توڑنے کیلئے صرف 20 رنز درکار ہیں۔انضمام نے تقریباً تین سال ایک بااثر کپتان کی حیثیت سے قومی ٹیم کی قیادت کی۔ انہوں نے اپنے دور میں کئی میچ وننگ اننگز کھیلیں اور بارہا ٹیم کو تن تنہا بحران سے نکالا۔ گزشتہ برس اوول تنازع کے بعد ان کا زوال شروع ہوا جو ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ سے ٹیم کے اخراج کے موقع پر انتہا کو پہنچا۔ ورلڈ کپ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد انہوں نے ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔اس بعد حالیہ دنوں میں انہوں نے بیان دیا تھا کہ جنوبی افریقا اور پاکستان کے درمیان لاہور میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے ساتھ ہی ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیں گے۔کیا کھیل سے انضمام کی دوری کرکٹ کو تنہا کردے گی؟ آپ کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1618</link><pubDate>10/5/2007</pubDate></item><item><title>عدالتی جنگ میں ایک اورنیا موڑ</title><description>صدارتی انتخاب کیلئے صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے دس رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ دیا ہے کہ صدارتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہوگا تاہم صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان17اکتوبر تک نہیں کیا جا سکے گا ۔عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے نتائج کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہ کرے۔ کیس کی سماعت 17 اکتوبرکو دوبارہ ہوگی۔ اس فیصلے پر اٹارنی جنرل نے اطمینان کا اظہار ہے اور میڈیا کے سامنے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔یہ فیصلہ متفقہ تھا جس کے بعد یہ بات واضح ہے کہ جب تک صدارتی انتخابات کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا ، صدر مشرف فوجی عہدہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں گے اور ظاہر ہے کہ وہ نئی مدت کیلئے صدر کا حلف بھی نہیں اٹھا سکیں گے۔اس اعتبار سے 17 اکتوبر اہم دن ہوگا۔اگر غور کریں تو پاکستان کی تاریخ میں صدارتی انتخابات سے چند روز قبل ایسی سخت عدالتی جنگ کبھی نہیں لڑی گئی جیسی ان دنوں جاری ہے۔ ماضی میں یہ انتخابات بہت حد تک پر سکون اور مشکلات سے آزاد ہوتے رہے ہیں۔کوئی بھی صدارتی امیدوار جس کو اپنی کامیابی کا یقین ہواُسے ایسے خوفناک مناظر کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہو گا۔دیکھا جائے تو یہ انتخابات آخری لمحے تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ کم از کم 17 اکتوبر تک تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔فی الوقت یہ فیصلہ

# آئندہ کے حالات پہ کیا اثرات مرتب کرے گا؟ 

#کل کا مورخ اس پہ کیا تاریخ رقم کرے گا؟

#عدالت کا حتمی فیصلہ کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتاسکے گا لیکن اس فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتحال پر آپ کیا کہیں گے؟ 

#کیا یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی ڈیل کرنے والوں میں خدشات کا باعث ہوگا؟ 

#صدر اپنی انتخابی مہم میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس فیصلے سے امیدی اور نا امیدی کی کیفیت ان کے لئے لمحہ فکریہ تو نہیں ہوگی؟

#آپ اس فیصلے کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1623</link><pubDate>10/5/2007</pubDate></item><item><title>عید کے پیغام ۔۔۔اپنوں کے نام</title><description>رمضان کا آخری عشرہ جاری ہے ۔ اس کے فوراً بعد امت مسلمہ عید منائے گی ۔ عید ہمارا ایک مذہبی، روایتی، سماجی اور ثقافتی تہوارہے۔ ہر کوئی اسے اپنی استطاعت کے مطابق مناتا ہے۔ امیر اور غریب نہایت امنگوں اور آرزؤوں سے اس کی تیاری کرتے ہیں۔ہر کوئی اچھے لباس بنواتا ہے، نئے جوتے خریدے جاتے ہیں۔ گھروں کی آرائش کی جاتی ہے۔ بچے عیدی کے منتظر ہوتے ہیں۔ دیدہ زیب عید کارڈز خریدے اور رشتہ داروں اور یار دوستوں کو بھیجے جاتے ہیں ۔ کوئی سجے سجائے عیدکارڈز دیکھ کر ہی خوش ہوجاتا ہے تو کوئی مہنگے سے مہنگا عیدکارڈ خریدنے میں کسر نہیں چھوڑتا۔ ای میل اور ایس ایم ایس کرکے بھی عید کی مبارک بادیں دی جاتی ہیں۔

 اس بار عید پر ہم نے بھی آپ کے لئے ایک الگ اہتمام کیا ہے۔ آپ اپنے عزیز و اقارب اور یاردوستوں کے لئے جنگ بلاگ لکھیں اور انہیں عید مبارک دینے کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پر کوئی اچھا سا پیغام بھی دیں۔ اپنے پیغام میں اپنا اور جسے پیغام پڑھوانا چاہتے ہیں اس کا نام، شہر و ملک کا نام اور ای میل ایڈریس ضرور لکھیں۔پیغام مختصر ہو تاکہ ہم فوری اپنی ویب سائٹ پر اسے پوسٹ کرسکیں۔ آپ جتنے چاہے بلاگ ارسال کرسکتے ہیں۔ ہماری بھی یہی کوشش ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ بلاگ پوسٹ کریں ۔ لہذا جلدی کریں اور فوراً اپنا بلاگ ارسال کردیں۔ آپ کے تمام پیغامات نیک نیتی کی بنیاد پر پوسٹ کئے جائیں گے ۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1631</link><pubDate>10/6/2007</pubDate></item><item><title>غیر سرکاری نتائج اور جنرل مشرف کی فتح</title><description>ان دنوں ملک جن سیاسی سرگرمیوں سے گزر رہا ہے ان میں روز ہی کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جب اسے کسی نا کسی حوالے سے تاریخی دن کا نام دیا جاتا ہے ۔6 اکتوبر کا دن بھی صدارتی انتخابات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔یہ انتخابات سیاسی ایوانوں میں تو لڑے ہی گئے ساتھ ساتھ عدالتوں میں بھی ان کے لئے سخت اعصابی جنگ لڑی گئی۔ کبھی کسی کا پلہ بھاری رہا تو کبھی کسی کا۔ کبھی اپوزیشن نے کوئی چال چلی تو کبھی صدارتی کیمپ نے اس پر ستہ پھینکا۔ کبھی وکلا ء تو کبھی پولیس اورکبھیصحافی گتھم گتھا ہوئے ۔صوبہ سرحد میں اسمبلی کے باہر وکلاء پر لاٹھی چارج اور شیلنگ ہوئی۔ کراچی میں بھی ایک آدھ جگہ سے ہنگامہ آرائی کی اطلاعات ملیں …جیسے جیسے ووٹنگ اختتام کو پہنچتی رہی ویسے ویسے نئی شہ سرخیاں بھی سامنے آئیں اور آخر کار صدارتی انتخابات اپنے اختتام کو پہنچے۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھاری اکثریت سے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔جنرل مشرف کے مقابلے میں وکلاء کے نمائندے جسٹس (ر)وجیہہ الدین احمد کو اتنے کم ووٹ ملے کہ انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ ٹی وی ، ریڈیو، اخباراور انٹرنیٹ کے ذریعے سارا دن صدارتی انتخابات کے حوالے سے آپ کو پل پل کی خبریں ملتی رہیں۔ تجزئیے اور تبصرے بھی آپ نے ضرور پڑھے اور سنے ہوں گے۔ مجموعی طور پر اس انتخاب کے حوالے سے آپ کیا رائے دیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1633</link><pubDate>10/6/2007</pubDate></item><item><title>رات گئی بات گئی۔۔۔</title><description>وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد نہیں بنایا جائے گا بلکہ مسلم لیگ اس کا مقابلہ کرے گی۔ مفاہمتی آرڈی نینس کسی ایک جماعت یا طبقہ کے لئے نہیں ہے اور نہ کسی کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ مفاہمتی آرڈیننس ایک سیاسی چال تھی جو کامیاب ہوگئی ۔ اب رات گئی بات گئی۔صدر مشرف اور بے نظیر کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی اور مصالحتی معاہدے کی ابھی سیاہی خشک بھی نہ ہو پائی تھی کہ ایک نیاتنازعہ کھڑا ہوگیا ۔جب مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے اس مفاہمتی فارمولا کوایک سیاسی چال کہہ کے پیپلز پارٹی کو اچھنبے میں ڈال دیا ہے ۔ کس نے کس کے ساتھ سیاسی چال چلی اور کون کامیاب ہوا ،اس بحث سے قطع سے نظر سیاسی حلقوں نے اس کا نوٹس لیا ہے اور رائے عامہ بھی اضطراب کا شکار ہوگئی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ ایک اور موضوع لگ گیا ہے۔ اگر حکومت اس کی تردید بھی کردے تب بھی تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ آپ کیا کہیں گے؟ کیا اس طرح کسی بھی معاہدے یا مفاہمت کوسیاسی چال کہہ کر طشت ازبام کردینا کسی بھی کاز کو نقصان پہنچانے کے مترادف نہیں ؟ کیا ایک انٹرنیشنل مفاہمتی فارمولے پر اس طرح کا بیان خودبیرون ملک جگ ہنسائی کا باعث نہیں بنے گا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1663</link><pubDate>10/8/2007</pubDate></item><item><title>شعیب اخترنے سبق سیکھ لیا۔۔۔</title><description>پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے فاسٹ باؤلر شعیب اختر پر 13 انٹرنیشنل میچوں کی پابندی عائد کردی ہے۔ علاوہ ازیں ان پر 34 لاکھ ر وپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔یوں تو وہ مسلسل تنازعات کا شکار رہے ہیں مگر اس بار ان پر ساتھی فاسٹ بولر محمد آصف پر بیٹ سے حملہ کرنے کا الزام ہے۔پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی دو سال تک شعیب اختر کے طرز عمل کا جائزہ لے گی۔ اس دوران اگر وہ دوبارہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو ان پر تاحیات پابندی عائد کردی جائے گی۔ یہ پاکستان میں کسی کرکٹر کو دی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی سزا ہے۔ ان پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چار الزامات درست ثابت ہونے پر یہ سزا سنائی گئی ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے علاوہ چار ایک روزہ بین الاقوامی میچز بھی نہیں کھیل سکیں گے۔ واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف نے بی سی پی کو شعیب اختر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی جس پر کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس سزا کا اعلان کیا۔کیا شعیب اخترکو بدترین سزا دیکر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک نئی مثال قائم کی ہے؟ کیا وہ اسی قابل تھے؟ اپنے خلاف سزا سننے کے بعد شعیب اختر کا رد عمل پر سکون تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی کرکٹ سے وابستگی رکھنا چاہتے ہیں اور مزید تنازعات نہیں چاہتے لہذا وہ مستقبل میں ایسے واقعات نہیں دہرائیں گے۔ شعیب اخترنے مزید کہا کہ میں سزا کے خلاف اپیل نہیں کروں گا کیونکہ میں نے اس واقعے سے سبق سیکھ لیا ہے ۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ اپنے اس قول کی پاسداری کریں گے؟ کیا اب وہ اپنے غصہ کو قابو میں رکھ سکیں گے؟ آپ کی "بے لاگ" رائے کے لئے "بلاگ" حاضر ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1703</link><pubDate>10/12/2007</pubDate></item><item><title>اک تیرے آنے سے پہلے ۔۔۔</title><description>پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے18 اکتوبر کو وطن واپس آرہی ہیں۔ ان دنوں ان کے استقبال کی تیاریاں زوروں پرہیں۔ پارٹی کارکنان اور دیگرجماعتیں بھی ان تیاروں میں بھرپو رحصہ لے رہی ہیں۔شہر بھر میں ان کی آمد سے متعلق بینرز اور ہورڈنگز آویزاں ہیں اورجگہ جگہ استقبالی کیمپ لگائے گئے ہیں۔دوسری طرف ان کی آمد پرمختلف قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں ۔ حکومتی حلقے کچھ اور انداز سے سوچ رہے ہیں۔ صدر مملکت پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی کابینہ کے اراکین کا مطالبہ ہے کہ بے نظیر بھٹو اپنی آمد موخر کردیں۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت نواز شریف والی حکمت عملی دہرانا چاہتی ہے۔ ادھر بے نظیر کا عزم ہے کہ اہلیان پاکستان کو مایوس نہیں کریں گی اور ا پروگرام کے مطابق کراچی کے لئے عازم سفر ہوں گی۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں ان کا آنا انتہائی خطرناک ہے۔یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہاہے کہ انہیں دہشت گردی کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ وزیر اعلی سندھ کہہ چکے ہیں کہ وہ ضرور آئیں، ان کے لئے مہمان خانہ تیار ہے۔ اس ساری صورتحال میں آپ کیا سمجھتے ہیں محترمہ کا وطن آنے کا فیصلہ دردست ہے؟ یا انہیں اپنی آمد موخر کردینی چاہئے ؟ان کی آمد کے بعدسیاسی صورتحال کیا ہوگی ؟ ضرور لکھئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1719</link><pubDate>10/16/2007</pubDate></item><item><title>ٹماٹر کے بھی دن پھر گئے</title><description>کچھ سال پہلے کی بات ہے بھارت میں پیاز کی شب و روز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے وہ طوفان بپا کیا تھا کہ اپوزیشن نے اسے پیازکے بحران سے تعبیر کیا تھا۔ ہر طرف پیاز ہی پیاز کے نعرے تھے۔ پرنٹ میڈیا نے پیاز کی قلت پر نت نئے کارٹون شائع کئے تو الیکٹرونک میڈیا نے اس پر خاکے بنانے شروع کردیئے تھے۔ کہیں کسی گھر میں پیاز کی موجودگی پر ڈاکہ زنی دکھائی جاتی تو کہیں پیاز نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کے رشتے توڑتے ہوئے دکھائے جاتے۔ بلاخر اس بحران کاخاتمہ حکومت کو لے بیٹھا ۔ ہمارے یہاں بھی آج کل ٹماٹرکی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ آج ہی خبر آئی ہے کہ ٹماٹر 140 روپے فی کلو ہوگیا ہے۔ اف خدایا۔۔۔کہنے کے لئے یہ معمولی ٹماٹر ہے مگر خریدو تو سونے جیسے ریٹ ۔۔۔گویا اب ٹماٹر کے بھی دن پھر گئے ہیں۔۔۔اب یہ عام لوگوں کے استعمال کی چیز نہیں رہا۔۔۔اب جہاں یہ استعمال ہوں گے لوگ انہیں فخر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔۔۔دوسری سبزیاں بھی ٹماٹر پر فخر کریں گی۔۔۔الیکشن قریب ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ لیڈروں کے بھی وارے نیارے ہی سمجھئے۔۔۔اب کم از کم کسی لیڈر کو ٹماٹر نہیں پڑیں گے۔۔ کہئے آپ کیا کہیں گے ٹماٹر کی شان میں۔۔۔؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1721</link><pubDate>10/16/2007</pubDate></item><item><title>عوامی طاقت پر یقین</title><description>پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے دبئی میں پریس کانفرنس کے دوران ایک مرتبہ پھر اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کل وطن ضرور آئیں گی کیونکہ پاکستان کے عوام ان کے منتظر ہیں ۔ سابق وزیر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے سامنے وعدہ کیا ہے کہ وہ وردی اتار دیں گے ، اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو سب جماعتیں احتجاج کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک واپسی میں خطرات ضرور ہیں لیکن وہ ڈرنے والی نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کے ساتھ ہیں اور انہیں عوام کی طاقت پر یقین ہے ۔ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی کا تعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں ، قومی مفاہمتی آرڈیننس یا صدارتی پٹیشن سے نہیں ہے۔ یہ ایک آزادانہ فیصلہ تھا جو بہت پہلے سیاسی رفقا کے ساتھ مشورے کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے صدر پرویز مشرف سے وردی میں ڈیل کی اور سعودی عرب چلے گئے ۔بے نظیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے نواز شریف سے کہا تھا کہ وہ اے آر ڈی نہ توڑیں لیکن انہوں نے اے پی ڈی ایم بنا لی ، پتہ نہیں وہ ایک بڑی پارٹی کو کیوں چھوڑ گئے ۔تاہم بے نظیر نے کہا کہ وہ ان کااحترام کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ بھی ایک بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں ۔ قومی مفاہمتی آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کے سوال پر بے نظیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیر نے ٹی وی پر آکر جب ایٹمی راز فاش کرنے کا اعتراف کیا تو اس وقت سپریم کورٹ نے مداخلت کیوں نہیں کی تھی ، جب نواز شریف کی سزائیں ختم کرکے انہیں سعودی عرب بھیجا گیا تو اس وقت عدالتی مداخلت کیوں نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے ،ایم کیوایم کے ناظم نے استقبالیہ تقریب میں مداخلت نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ اس کا خیر مقدم کرتی ہیں اور پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات نہیں مانے ، یہ خوش آئند ہے ، عوام کا نعرہ ہے کہ بے نظیر آئے گی ، روزگار لائے گی۔ایک سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے دروازے تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے ، لوگ بے روز گار ہیں ، کھانے کو روٹی ، سر چھپانے کو چھت میسر نہیں ہے۔ ملک کی اندرونی صورتحال بہت خطرناک ہے اور پاکستانی عوام سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1728</link><pubDate>10/17/2007</pubDate></item><item><title>بے نظیر بھٹوکراچی میں</title><description>پاکستان پیپلزپارٹی کی چےئرپرسن بے نظیربھٹو 8سال بعد بلاخر وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔ان کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کی سیاست میں ایک ہلچل یقینی نظر آرہی ہے۔ ان کی آمد سے پیپلز پارٹی کے ہمدردوں اور بے نظیر کے چاہنے والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے خودساختہ جلا وطنی میں آٹھ سال گزارے تاہم اس دوران انہیں مختلف حوالوں سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی گرفتاری کے لئے نوٹس وغیرہ بھی جاری ہوئے لیکن اب یہ باتیں ماضی کا قصہ بن گئی ہیں۔ وہ دبئی ایئر پورٹ سے امارات اےئرلائن کی پروازای کے606سے پونے دوبجے کراچی انٹرنیشنل اےئر پورٹ پہنچیں۔ان کے قریب رفقاء میں سفر میں ان کے ساتھ تھیتاہم ان کی بیٹیاں،بیٹا اور ان کے شوہران کے ساتھ کراچی نہیں آئے ۔ بے نظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اورکراچی اےئرپورٹ کی حدود میں کسی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی جازت نہیں تھی جبکہ اےئرپورٹ کے باہر لوگوں کا بہت بڑاہجوم موجود رہا جو ملک کے مختلف علاقوں سے اپنی رہنما کے استقبال کیلئے آئے ہوئے تھے۔اس موقع پرملک بھر سے آنے والے قافلوں کی قائد آباد اور نرسری تک شاہراہ فیصل پر قطاریں لگ گئیں اور سڑکوں پر عام ٹریفک معطل ہوگیا ۔ سیکڑوں ٹولیاں مختلف مقامات پر ڈھول اور شہنائی پر رقص کر تی رہیں۔یقینا یہ منظر آپ نے بھی ٹی وی پر دیکھا ہوا۔ آپ ان کی کراچی آمد پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1741</link><pubDate>10/18/2007</pubDate></item><item><title>کراچی میں دھماکے</title><description>18 اکتوبر …ایک تاریخ دو واقعات: بے نظیر کی آمد سے جمہوری ماحول خوش رنگ تھا اور سبھی جھوم رہے تھے کہ اسی رات اچانک ایک اور جان لیوا سانحہ ہوگیا…پے در پے دو دھماکے ہوئے جنہوں نے پل بھر میں لوگوں سے ان کی خوشیاں چھین لیں اور رہ گئیں تو صرف آہیں، آہ و بکا ، حسرتیں اور ناامیدیں…پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قافلے میں کراچی کے علاقے کارساز میں دو بم دھماکوں میں سو سے کہیں زائد افراد جاں بحق اورساڑھے پانچ سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔اسپتالوں میں زخمیوں اور مرنیوالوں کے ڈھیر لگ گئے اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔رات گئے تک موت کا کھیل جاری رہا اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اموات میں اضافے کی خبریں آتی رہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں نہ جانے کتنے گھروں کے کفیل تھے، کتنی مائیں اپنے بیٹوں سے اورکتنے باپ اپنے بڑھاپے کے سہاروں سے محروم ہوگئے۔ موت نے بہنوں سے ان کے بھائی اور بیویوں سے ان کے شوہر چھین لئے۔ کتنے ہی بچے یتیم اور کتنی ہی عورتیں بچے اور بوڑھے والدین بے یار ومددگار ہوگئے…کون جانے مرنے والوں کا قصور کیا تھا…کیا جانئے مارنے والے کون تھے…یہاں تو ایک دھماکا ہوا …اور دھماکے کی گرد بیٹھتے بیٹھتے درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے…اس واقعہ پر آپ کا دل کیا کہتا ہے؟ کیوں ہوتے ہیں یہ واقعات؟ درپردہ کیا ہے؟ نوشتہ دیوار کیاہے؟کچھ تو کہئے…</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1756</link><pubDate>10/18/2007</pubDate></item><item><title>سیکورٹی پلان یا سیاسی اجتماعات پر پابندی؟</title><description>حکومت نے سیاسی اجتماعات  کے لئے ایک دس نکاتی سیکورٹی پلان تیار کرلیا ہے جسے سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد نافذ کردیا جائے گا۔ دس نکاتی پلان میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں جلسے جلوس اور ریلیوں پر پابندی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو صرف جلسہ کی اجازت ہوگی۔جلسوں کا انعقاد صرف دن میں ہوگا۔ غروب آفتاب کے بعد اجازت نہیں ہوگی۔ سیاسی جلسوں کے انعقاد کے لئے دس روز قبل پیشگی اجازت لینی ہوگی۔ ہر حلقے کے نمائندے جن کا تعلق قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے ہوگا۔ ْ ناظم یا متعلقہ افسر جگہ یا جلسے کا مقام طے کرسکیں گے۔ہر جلسے کے لئے ایک سیکورٹی آرڈرجاری کیا جائے گا۔سیاسی جماعتوں ، انتظامیہ اور پولیس کے افسروں پر اس کی پابندی کرنا ہوگی ۔ممکنہ حفاظتی اقدامات پر غور و خوص بھی شامل ہے۔ جلسہ گاہ کو خفیہ کیمروں سے فلمبند کیا جائے گا۔ ہر جلسہ کے لئے پولیس کا کنٹرول روم بنایا جائیگا۔ سیاسی جلسوں کے مقامات کے تعین لئے این او سی جاری کیا جائیگا۔ سیکورٹی پلان کو ضابطہ اخلاق کا حصہ بنایا جائے گا۔ کیا اس طرھ کی پابندیاں کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے قابل قبول ہونگی؟کیا سیکورٹی پلان حکومت نے محض اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے اٹھایا ہے؟، کیا اس طرح اجتماعات میں عوام کی شرکت مشکل ہوجائے گی؟کیا تمام سیاسی پارٹیاں اسے من و عن قبول کرلیں گی؟ یا اسے یکسر مسترد کردیں گی؟کیا آپ کا ذہن اسے قبول کرتا ہے؟ یا آپ کے ذہن میں کوئی اور تجاویز ہوں تو لکھ بھیجیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1802</link><pubDate>10/22/2007</pubDate></item><item><title>نگراں وزیر اعظم کی دوڑ کون جیتے گا ؟</title><description>نگراں وزیر اعظم کے منصب کے امیدواروں کی غیر معمولی فہرست میں اچانک کچھ نئے نام شامل ہوگئے ہیں جس کے بعد مولانا فضل الرحمن اور دیگر چار ریٹائرڈ جرنیل جو کہ سیاستدان بھی ہیں چپکے سے اب اس دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔ سیاسی حلقوں نے ان ناموں میں دلچسپی لینا شروع کردی ہے اور عبوری حکومت کے قیام کے لئے نگراں وزیر اعظم کی تلاش زور شور سے جاری ہے۔ جن امیدواروں کے نام ایوان ہائے اقتدار کی راہداریوں میں لئے جارہے ہیں ان میں امین فہیم، مولانا فضل الرحمن، سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر، گورنر پنجاب خالد مقبول، حامد ناصر چٹھہ اور ظفر اللہ جمالی کے نام شامل ہیں۔ آپ کے خیال میں کونسی شخصیت اس منصب کے لئے سب موزوں اور مناسب ہے؟ اور کیوں؟ ہمیں اپنی رائے سے ضرورآگاہ کریں ۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1820</link><pubDate>10/23/2007</pubDate></item><item><title>گرما گرم سیاسی ماحول میں ضابطہ اخلاق</title><description>الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی ہے جس کے مطابق فوج عدلیہ اور غیر ملکی رہنماؤں پر تنقید نہیں کی جاسکے گی جبکہ سیاسی مخالفین کی کردارکشی کی اجازت بھی نہیں ہوگی ۔الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو اس ضابطہ اخلاق پر اپنی تجاویز تین نومبر تک دینے کی ہدایت کی ہے۔امکان غالب ہے کہ عام انتخابات جنوری 2008ء میں ہوں گے۔ بحوالہ2002ء کے ضابطہ اخلاق اور2007ء کے مجوزہ عام انتخابات کے تقابلی جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی موجودہ سیکورٹی کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ اضافی نکات شامل کئے گئے ہیں۔ ضابطہ اخلاق میں مذہبی منافرت ، صنفی امتیاز پھیلانے اور اشتعال انگیز تقاریر پر پابندی ہوگی۔ اسی طرح کسی دیوار یاعمارت پہ وال چاکنگ اور بینرز لگانے پر پابندی ہوگی۔ ان انتخابی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔ اس ضابطہ اخلاق پر کس حد تک عمل ہوسکے گا یہ تو ٓآنے والا وقت ہی بتلائے گا تاہم کیا ہماری سیاسی جماعتیں اسے با ٓسانی قبول کرلیں گی؟ سیاسی تلخیوں کو روکنے میں یہ کہاں تک کامیاب ہوسکے گا؟ اس طرح سیاسی تبصروں، تجزیوں میں میڈیا کی آزادی کیامتاثر نہیں ہوگی؟کیا حکومت اور سیاسی حلقے با وجود اس ضابطہ اخلاق کے نفاذ کو اپنے سیاسی عزائم میں رکاوٹ نہیں سمجھیں گے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ضابطہ اخلاق ہوا میں اڑا دیا جائے گا؟ یہ انتخابی قوانین موثر ہونے کی صورت میں انتخابی گہما گہمی ختم تو نہیں ہوجائے گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1836</link><pubDate>10/25/2007</pubDate></item><item><title>سرد موسم میں گرما گرم معرکہ آرائی</title><description>برصغیر پاک و ہند میں سردیوں کا موسم بھی کم پر لطف نہیں ہو تا۔ صبح کا خنکی بھر ا موسم اور صحن میں بکھری سنہری دھوپ …یہ تصور ہی نرالہ ہوتا ہے۔پھر یخ بستہ راتوں میں لحاف میں بیٹھ کر گھروالوں کے ساتھ مونگ پھلی اور چلغوزے کھانے کامزا بھی کیا حسین ہے۔ اسی موسم کا ایک مزا کرکٹ بھی ہے۔ کہتے ہیں کہ کرکٹ کھیلنے کا اصل موسم ہی سردی ہے ۔ اب اس موسم کا مزا دوبالا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ نومبر دسمبر میں پاکستان کرکٹ ٹیم بھارت کادورہ کررہی ہے۔کرکٹ کے روایتی حریفوں کے درمیان پانچ ایک روزہ اور تین ٹیسٹ میچز ہوں گے۔میچ جیتنے پر شرطیں لگیں گی ، فتح کے جشن منائے جائیں گے، ہارنے پر تنقید ہوگی ۔۔۔اپنی اپنی پسند کے کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے کے لئے کہیں سیٹیوں کا شور ہوگا تو کہیں چوکوں چھکوں پر باجے اور نقاریں بجیں گے۔۔۔ہے نہ اس کھیل کا اپنا ہی مزا۔۔۔بھارت اور پاکستان جب بھی کرکٹ کے میدان میں ایک دوسرے کے مقابلے ہوتے ہیں دیکھنے والوں کا بس نہیں چلتا ہے کہ خود بھی میدان میں کود پڑھیں۔ گوکہ کھیل میں ہمیشہ ایک کی جیت اور ایک کی ہار ہوتی ہے مگر ہار دونوں میں سے کسی کو بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پاک بھارت کرکٹ سیریز 2007ء کا میدان بس سجا ہی چاہتا ہے آپکا کیا خیال ہے کون جیتے گا ون ڈے سیریز ؟کون جیتے گا ٹیسٹ سیریز؟ آپ گنے چنے کھلاڑیوں کو سپورٹ کریں گے یا پوری ٹیم کو؟کون سا کھلاڑی آپ کے نزدیک زیادہ رن بنائے گا؟ زیادہ وکٹیں کس کا نصیب ہوں گی؟ ریکارڈ کے حوالے سے کس کا پلا بھاری ہوگا؟ آپ کیا تبصرہ کریں گے اس سیریز پر۔۔۔۔ہمیں آج اور ابھی لکھ بھیجئے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1868</link><pubDate>10/30/2007</pubDate></item><item><title>چھکے بازوں کے چھکے چھوٹ گئے</title><description>پاکستان جنوبی افریقا ون ڈے سیریز پاکستان دو کے مقابلے میں تین میچوں سے ہار گیا اور یہ سب ہوا شاہدآفریدی ،مصباح الحق،اور شعیب اختر کی لاپرواہی کی وجہ سے۔شاہد آفریدی ایک لوز بال کا فائدہ اٹھانے کے چکر میں ایسے وقت میں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے جب پاکستان کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کیونکہ ان کے پیچھے کوئی بیٹسمین نہیں بچا تھا مگر یہ بات لاپرواہ شاہد آفریدی کو کون سمجھائے۔مصباح الحق بھی چھکا مارنے کے چکر میں وکٹ گنوا بیٹھے۔یوں مصبا ح الحق نے اسی لاپرواہی کا ثبوت دیا جس کا مظاہرہ انہوں نے ٹوئنٹی20ورلڈ کپ کے فائنل میں کیا تھااور آخر میں شعیب اختر تو آئے ہی وکٹ گنوانے کیلئے تھے۔شعیب اختر اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ آخری کھلاڑی ہیں اور یہ کہ پاکستان کو پچیس گیندوں میں پندرہ رنز کی ضرورت ہے ۔انہوں نے پہلے ہی گیند پر آوٴ دیکھا نہ تاوٴ بلا گھمایا اور چھکا ماردیا۔اگر وہ ٹھہر کر ایک ایک رن بناتے تو سیریز پاکستان کے نام ہوسکتی تھی۔اس طرح شعیب اختر نے ٹوئنٹی20ورلڈ کپ میں مصبا ح الحق والی غلطی دہرائی اور یوں پا کستان تین چھکے بازوں کے چھکے چھوٹ جانے سے جیتی ہوئی بازی ہار گیا۔کیا آپ بھی کچھ کہنا چاہیں گے اور ان جلد باز چھکے بازوں کو کچھ سمجھانا چاہیں گے ؟یہ موقع ہے آپ بھی چھکے لگایئے۔آپ کے سامنے کے سامنے ہیں شاہد آفریدی ،مصباح الحق اور شعیب اختر۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1871</link><pubDate>10/30/2007</pubDate></item><item><title>امریکی جریدے کی ہرزہ سرائی</title><description>معروف امریکی جریدے "نیوز ویک "نے اپنی حالیہ اشاعت میں پاکستان سے متعلق ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کا سب سے خطرناک ملک عراق نہیں بلکہ پاکستان ہے ۔میگزین میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ بعض پاکستانی رہنماوٴں نے انتہاپسندانہ ماحول کو ہوا دی اورایک خفیہ ادارے نے اسلامی عسکریت پسند گروپوں کو نہ صرف بھرتی کیا بلکہ تربیت دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا۔ مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ انتہا پسندگروپوں نے صدر مشرف پر دوبار قاتلانہ حملہ بھی کیا جبکہ صدر مشرف کسی  زمانے میں ان عسکریت پسندوں کے حامی رہے تھے۔مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتہاپسندوں کے ہاتھوں چھ سالوں کے دوران 1000 سیکورٹی اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ جریدے کا کہنا ہے کہ جس ماحول میں دہشت گردی آسانی سے پروان چڑھتی ہے وہ ماحول پاکستان میں موجود ہے مثلاً غیر مستحکم سیاسی صورتحال ، انتہاپسندانہ سوچ رکھنے والوں کا نیٹ ورک ، مغرب مخالف افراد اور تربیت گاہیں۔جریدے کا کہنا ہے کہ انتہا پسند رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیل گئے ہیں جس کے سبب دہشت گردانہ سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔اس لحاظ سے پاکستان دہشت گردوں کی جنت ہے اور غیر مستحکم ایٹمی طاقت ہے، اس کے بیشتر قبائلی علاقے دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہیں ۔ قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ عناصر بلا روک ٹوک تربیت حاصل کررہے ہیں۔

پاکستان کے حال اور مستقبل کے حوالے سے یہ ایک خطرناک اور منفی رپورٹ ہے ۔ حکومت پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس مضمون کے مندرجات کی سختی سے تردید کی ہے جبکہ امریکی وزارت خارجہ نے یہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف صف آراء ہے اور امریکادہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان وضاحتوں کے باوجود وطن عزیز کا جو چہرہ اقوام عالم کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کے کیامضمرات ہو سکتے ہیں ۔ اس بارے میں آپ بھی اپنی رائے دیجئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1872</link><pubDate>10/30/2007</pubDate></item><item><title>آئین معطل، عبوری دستوری حکم کا نفاذ، چیف آف آرمی اسٹاف کا فیصلہ</title><description>صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے ماورائے آئین اقدام کے تحت 1973ء کے آئین کو معطل کردیا ہے، ملک میں نئے پی سی او کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک بھر میں تمام نجی چینلوں کی نشریات کو بند کردیا گیا ہے، موبائل فونز جام کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

اس ماورائے آئین اقدام کے بعد ملک میں وفاقی اور صوبائی کابینہ اور حکومتیں موجود ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیاں جوں کی توں برقرار رکھی گئی ہیں۔ وزیراعظم اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ آئینی ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ آئین کے معطل کئے جانے اور ایک متبادل آئینی دستوری حکم کے اعلان کئے جانے کے باوجود آئین کے ماتحت کام کرنے والے حکومتی اور ریاستی ادارے کس قانون کے تحت موجود ہیں اور کیا آئین کی معطلی کا اقدام محض عدلیہ سے ججوں کو فارغ کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے؟جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا ہے۔ 

اس صورتحال پر آپ کیا سوچ رہے ہیں ؟ کیا ہورہا ہے؟ کیا ہونا چاہیے؟ آپ کے کیا خدشات ہیں؟ آپ کیا نئے امکانات دیکھ رہے ہیں؟ یہ بحران کس کروٹ بیٹھے گا؟؟اپنی رائے دیجئے</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1892</link><pubDate>11/3/2007</pubDate></item><item><title>میڈیا پر پابندیاں</title><description>مارشل لائی ایمرجنسی کی آندھی نے جس طرح نجی ٹیلی ویثرن چینلز کے روشن دیئے بجھادیئے ہیں اس کااثر پورے ملک کی ذہنی اور سماجی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ ہر طرف تشویش ، بے یقینی اور افسردگی کا سماں ہے۔ اخبارات پر بھی نئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں اور جنگ گروپ کے پریس کو سیل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ وہی حکمراں جو سینہ پھلاکر میڈیا کو بے مثال آزادی دینے کا دعویٰ کرتے نہ تھکتے تھے اب عوام کو معلومات حاصل کرنے اور اظہار کی آزادی کے بنیادی، انسانی اور آئینی حقوق سے محروم کررہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں میڈیا کی آزادی کو کبھی اس طرح سلب نہیں کیا گیا کیوں کہ اس دفعہ غیر ملکی نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ جیو کے انٹرٹینمنٹ اور اسپورٹس چینلز بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیو اور جنگ گروپ کو خاص نشانہ بنایاجارہا ہے۔ 

 اس پریشان کن اور اضطرابی صورتحال نے آپ کی زندگی کو کس طرح متاثر کیا ہے؟ غیر مصدقہ خبروں اورا فواہوں کی دھند میں آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ ان حالات میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں ہمیں بتایئے۔ جو نیوز چینلز آپ کی روزانہ زندگی کا حصہ تھے ان کے بغیر آپ کے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں؟ اپنے تاثرات، اپنی رائے، اپنے مشورے، مختصر الفاظ میں بیان کیجئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=1964</link><pubDate>11/6/2007</pubDate></item><item><title>ایمرجنسی اور انتخابات</title><description>صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی15نومبرکو اور صوبائی اسمبلیاں20نومبرکو توڑ دی جائیں گی اور عام انتخابات9 جنوری 2008 تک کروادیئے جائیں گے۔صدر کا کہنا ہے کہ انتخانات انتخابی مہم کے 60 دن کے اندر اندر کرادیئے جائیں گے۔اس اعلان پرملک کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے مختلف آراء رجحانات اور رد عمل کا اظہار کیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے انتخابات کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں انتخابات بے معنی ہوں گے۔ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ موجودہ عبوری قوانین کے تحت الیکشن محض ڈھونگ ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انتخابات کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی کے خاتمے کی تاریخ کا اعلان بھی کیا جانا چاہئے تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات محمدعلی درانی نے بھی اعلان انتخابات کا خیرمقدم کیا ہے۔دوسری جانب ملک کی مختلف بار ایسو سی ایشنز کے وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ الیکشن سے قبل ایمرجنسی اٹھائی جائے اور گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔ 

ایسی صورتحال میں جبکہ ایک طرف ملک میں ایمرجنسی نافذ ہو اوردوسری جانب انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہو کیا انتخابات کے تمام حقیقی تقاضے پورے ہوسکیں گے؟ سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قبول کرلیں گی؟آپ کی کیا رائے ہے؟ ہمیں آپ کی رائے کا انتظار ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2056</link><pubDate>11/12/2007</pubDate></item><item><title>گڈبائے اسمبلی</title><description>آخر کار12 ویں قومی اسمبلی نے اپنی مدت پوری کرلی ہے۔ اس حوالے سے یہ پہلی اسمبلی ہے جس نے 5سالہ مدت پوری کی ہے۔اسی اسمبلی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اس نے 5بجٹ پیش کئے۔ ایوان نے ہر سال اوسطاً82دن کام کیااور اس کے ذریعے 73آرڈیننس جاری ہوئے۔ بھارت کی نسبت پاکستان کی قومی اسمبلی میں بلوں کے پاس ہونے کی شرح 5گنا کم رہی۔ نیشنل اسمبلی نے اجلاسوں کے دوران کل 303/ گھنٹے کام کیا۔ یعنی اوسطاً فی دن 3.5 گھنٹے کام ہوا جبکہ مجموعی طور پر چار سالوں کے دوران فی دن اوسطاً 3/ گھنٹے کام کیا۔ اس کے مقابلے میں بھارتی لوک سبھا نے کم سے کم 6/ گھنٹے جبکہ برٹش ہاؤس آف کامن میں فی دن فی کس نشست 8/ گھنٹے کی رہی۔ قومی اسمبلی میں پاس ہونے والے تمام بل ماسوائے ایک پرائیویٹ ممبر بل کے تمام حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے۔ ملک میں قانون سازی کے عمل میں قومی اسمبلی کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام پارلیمانی مدت کے دوران اسمبلی کے ایک پاس کردہ بل کے مقابلے میں ملک میں تقریباً 2/ صدارتی آرڈیننس جاری کئے گئے جو کسی بھی ملک میں قانون سازی کے عمل کے حوالے سے شرمندگی کا باعث ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شوکت عزیز سب سے زیادہ مدت تک برسراقتداررہنے والے ملک کے دوسرے وزیراعظم بن گئے ہیں۔15نومبر تک قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے پر ان کے اقتدار کی مدت 3 سال 2 ماہ 25 دن ہوگئی۔ وہ پاکستان کے دوسرے وزیراعظم ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سب سے زیادہ عرصہ اس منصب پر فائز رہے ۔قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کی مجموعی کارکردگی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں:

کیا اس نے عوامی نمائندگی کا واقعی حق ادا کیا؟یا یہ صرف ڈیسک بجانے اور کارکردگی جتانے تک محدود رہی؟ یا

#جو اسمبلی صدارتی خطاب کیلئے ماحول سازگار نہ کرسکے کیا اسے کامیاب کہا جاسکتا ہے؟

#قومی اسمبلی کی موجودگی کے باوجود اسے اعتماد میں لئے بغیر فیصلے صادرہوتے رہے،آرڈیننس بھی جاری ہوئے۔یہ خاموش تماشائی کیوں بنی رہی؟

#کیا اس اسمبلی کے اراکین دوبارہ عوامی تائید اور حمایت حاصل کرسکیں گے؟

#اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر آپ کو خوشی ہوئی یانہیں؟

# صرف صدر ہی اپنے اختیارات استعمال کرتے رہے اور اسمبلی اراکین مزے کرتے رہے۔اس صورتحال پہ آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2083</link><pubDate>11/15/2007</pubDate></item><item><title>نگرانوں کی حکومت</title><description>محمد میاں سومرو نے نگراں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھالیاہے ۔ان کے ساتھ کی کابینہ نے بھی نگراں کی حیثیت سے حلف لے لیا ہے۔نگراں کابینہ میں بیرسٹر شاہد ہ جمیل، شہزادہ عالم منوں،نثار اے میمن،بیرسٹر حبیب الرحمن،سکندر جوگیزئی، ڈاکٹر سلمان شاہ،انصار برنی،ڈاکٹر شمس کے لاکھا،واجد ایچ بخاری،پرنس عیسیٰ جان، سلیم عباس جیلانی، خواجہ عطا ء اللہ، بیرسٹر محمد علی،لالہ نثار محمد خان،سلمان تاثیر، سید افضل حیدر،راجہ تری دیو رائے،نثار گھمن، انعام الحق، عبداللہ ریاڑ، عباس سرفراز، احسان اللہ خان اورڈاکٹر فہیم انصاری شامل ہیں۔نگراں وزیراعظم بدستور چیئرمین سینیٹ بھی رہیں گے تاہم نگراں وزیراعظم کی حیثیت سے وہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے رخصت پر ہوں گے۔ اس عرصے میں ڈپٹی چیئرمین جان جمالی قائم مقام چیئرمین سینیٹ کے فرائض انجام دیں گے۔

آپ بتائے اس نئی کابینہ سے آپ کیا توقعات رکھتے ہیں؟ نگراں وزیر اعظم کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟کیا نگراں سیٹ اپ ملک میں جاری بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2090</link><pubDate>11/16/2007</pubDate></item><item><title>بالآخر” جیو“ کو بند کردیا گیا</title><description>آپ کے خیال میں حکومت کا یہ فیصلہ ملک کو بہتری کی جانب لے جائیگا؟

 کیا میڈیا اسی طرح نظر بند رہے گا ؟

 کیا میڈیا اسی طرح دوسروں کی مرضی پر چلے گا ورنہ۔۔۔۔۔۔

 آواز بند کرنے کا یہ عمل ہمیں کہاں لے جائے گا؟ 

 ہمیں کون آزادی دے گا؟

 کیا اسی طرح معاشرے کے تمام آزاد طبقات کا خون ہوتا رہے گا؟

 ہم کب آزاد معاشرہ کا رکن بنیں گے؟

 ہمیں اپنی آراء سے نوازیں۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2099</link><pubDate>11/16/2007</pubDate></item><item><title>8جنوری۔۔۔انتخابات کا اہم دن</title><description>ووٹ کی طاقت کو آزمانے کا وقت پھر آرہا ہے۔ 8 جنوری کوعام انتخابات ہورہے ہیں۔گوکہ ابھی خاصہ وقت ہے مگر الیکشن کی بازگشت اور گہماگہمیاں شروع ہیں۔ کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا شورہے ، ٹکٹوں کی تقسیم ہورہی ہے۔پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن)سمیت تمام پارٹیوں نے ایمرجنسی اور پی سی او کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ نگراں حکومت ملک میں آزادانہ اور صاف و شفاف اور پر امن ماحول میں انتخابات کرانے کے دعوے کررہی ہے ۔مختلف پارٹیوں کے منشور بھی چند روز میں سامنے آجائیں گے ۔خبریں گرم ہیں کہ ملک بھر کی 70 سے زائد سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں اتریں گی۔ گرم گرم نعرے لگیں گے، نئے وعدے ہوں گے، تقریریں ہوں گی، مقابلے ہوں گے۔۔۔ہر طرف نت نئے پوسٹر اور رنگ برنگے ہوڈنگز ہوں گے۔کیا آپ نے ان انتخابات کے لئے ذہن بنالیا ہے؟کیا یہ انتخابات ملک میں مکمل جمہوریت کی بحالی کا سبب بنیں گے۔ آپ بھی اپنی رائے دیجئے۔ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2259</link><pubDate>11/24/2007</pubDate></item><item><title>جنرل سے جناب تک</title><description>وقت تاریخ کا ایک اور ورق الٹ رہا ہے۔ وردی اتر چکی ہے۔ آج دنیا نے جنرل (ر) پرویز مشرف کوجناب صدر کی حیثیت سے ایک عظیم مملکت کی صدارت کا حلف اٹھاتے ہوئے بھی دیکھا ۔ یہ پاکستان کی ہنگاموں اور بحرانوں سے بھری تاریخ کا ایک اور اہم دن ہے۔

آج پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ صدر نے دہشت گردی کی جنگ میں امریکی حلیف ہونے کی حیثیت سے جو کردار ادا کیا ہے، کیا اس نے پاکستان کے امیج کو ابھارا ہے! جناب پرویز مشرف کے دور اقتدار میں جہاں ترقیاتی کام ہوئے وہیں دہشت گردی بم دھماکے اور خود کش حملوں نے معیشت و تجارت کو نقصان بھی پہنچایا۔اب جبکہ صدر نے جمہوریت کی بحالی کے لئے قدم اٹھاتے ہوئے وردی کو خیر باد کہااورعام انتخابات کے بروقت انعقاد کے عزم کو دہرایا ہے 

 ملکی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اورکیا صدر اپنے اس عہدے پر رہتے ہوئے اپنے مشن کی تکمیل میں پاکستان کومزید ترقی کی شاہراہ پہ گامزن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ آپ صدر کے فوجی عہد ہ چھوڑ نے پر کیا کہیں گے؟ آپ کی نظر میں یہ دور کیسا رہا؟سول صدر کی حیثیت سے ان کا نیا دورکیسا رہے گا ؟آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2293</link><pubDate>12/1/2007</pubDate></item><item><title>شعیب اختر فلمی دنیا کی پچ پر</title><description>پاکستان کے فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا ہے کہ وہ بھارتی فلموں میں کام کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے مشہور فلم ڈائرکٹرمہیش بھٹ بھی انہیں فلموں میں کام کرنے کی پیشکش کرچکے ہیں۔شعیب اخترکا کہنا ہے کہ وہ پہلے فلم کا اسکرپٹ دیکھیں گے اور سوچ سمجھ کرہی کوئی فیصلہ کریں گے۔شعیب اخترکے مزاج اور شخصیت سے سب ہی لوگ واقف ہیں۔ کرکٹ کی دنیا میں شہرت کمانے کے بعد اب بھارت کی فلمی دنیا میں ان کی دلچسپی باعث حیرت ہے کیوں کہ مزاج کی بدولت ہی وہ کرکٹ میں ہیرو کم اور ولن کی حیثیت سے زیادہ پہچانے گئے ہیں۔ کرکٹ سے دلچسپی کے ساتھ ساتھ فلمی دنیا کے شب و روز سے متاثر شعیب اختر کس قسم کا کردار ادا کریں گے یہ تو وقت ہی بتلائے گا۔۔۔مگر ذراتصور کیجئے کرکٹ کے میدان کا یہ کھلاڑی جب باغوں میں درختوں کے درمیان ، ہیروئن کے آگے پیچھے بھاگے گا تو کیسا لگے گا؟ اور جب…شاہ رخ خان اور شعیب اختر ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے تو کیا سچوئشن ہو گی؟اور سوچئے ذرا۔۔۔ اگر کسی ہیروئن نے شعیب اختر کے ساتھ کام کرنے سے انکارکردیا تو ہمارے غصیلے کرکٹ ہیرو کا ری ایکشن کیسا ہوگا؟ 

آپ بتایئے کیا شعیب اختر کو بھارتی فلموں میں کام کرنا چاہیے؟ آپ کی رائے میں وہ فلمی دنیا کی پچ پہ بطور ہیرو یا ولن کس حد تک کامیاب رہیں گے ؟آپ اپنی رائے سے آگاہ ہمیں ضرور آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2301</link><pubDate>12/4/2007</pubDate></item><item><title>الیکشن کا بائیکاٹ: ممکن یا ناممکن۔۔۔؟</title><description>پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو اورمسلم لیگ (ن) کے رہنمامیاں نوازشریف کے درمیان ملاقات کے بعد ایک مشترکہ کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات ڈید لائن کے اندر منظور نہ ہوئے تو وہ مل کر انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے سر سری جائزہ لیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں موجودہ حالات میں صاف شفاف الیکشن ہوتے نظر نہیں آتے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے صدر مشرف ان کے تحفظات دور کریں۔ ادھرقومی اسمبلی کی نشست این اے 120- سے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیئے گئے جبکہ اس سے قبل شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف بھی یہی ہوا تھا۔ تیسری طرف اے پی ڈی ایم نے 8جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اتحاد میں شامل جماعتوں نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں انتخابات منصفانہ نہیں ہو سکتے،جبکہ قاضی حسین احمد نے کہاہے کہ فضل الرحمن الیکشن لڑنا چاہیں تو مجلس عمل چھوڑنے کیلئے آزاد ہیں،جبکہ فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ایم ایم اے پر ہمارا حق زیادہ ہے۔

سیاست میں بائیکاٹ، بائیکاٹ کا یہ شور کیا گل کھلائے گا؟ کیا بائیکاٹ کے فیصلے پر تمام جماعتیں متفق ہوسکیں گی؟کیانون لیگ ودیگر جماعتوں کا بائیکاٹ ق لیگ کے لئے کھلا میدان چھوڑنے کے مترادف نہیں ہوگا ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2302</link><pubDate>12/4/2007</pubDate></item><item><title>انتخابی منشوراور عوامی خواہشات</title><description>ملک میں آٹھ جنوری کو عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کردیا ہے جس کا مقصد عوام کو اس بات سے آگاہی ہے کہ پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد ملک و قوم کی بہتری کے لئے کیا خدمات انجام دے گی۔ ہر پارٹی کا اپنا موقف ہے اور اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ بر سر اقتدار آکر عوام کی صحت ،تعلیم، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری پہ توجہ دیتے ہوئے ان کے گوناگوں مسائل کو حل کرے تاکہ ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو۔معاشی اور تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں۔اس مقصد کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور و دیگر جماعتوں نے اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کردیا ہے۔ان تمام جماعتوں میں مسلم لیگ ق ایسی جماعت ہے جس کا دور اقتدار ابھی ابھی ختم ہوا ہے اس حوالے سے ان کا منشور بھی توجہ کا طالب ہے۔ق لیگ کے پانچ نکاتی منشور میں انتخابی نعرہ جیو اور جینے دورکھا گیا ہے جبکہ جمہوریت کی ترقی ،اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی، تمام مذاہب کے لئے برابری ،وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور وزارتوں کے اختیارات میں کمی اور مستحکم دفاع شامل ہے۔ادھر پیپلز پارٹی نے اپنے پارٹی منشور میں مساوات، تعلیم، توانائی ، ماحولیات اور روزگار پر توجہ مرکوز کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی مہنگائی ،بے روزگاری اور تعلیم و صحت کی بنیاد پہ انتخابی مہم شروع کرچکی ہیں ۔ جن کے منشور میں عدلیہ اور سابق ججز کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل پہ زور دیا گیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کے منشور کس حد تک قابل عمل ہوتے ہیں ؟ کیایہ باتیں صرف کاغذی کارروائی کا حصہ ہوتی ہیں یا واقعی ان پہ عمل در آمد بھی ہوتا ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2320</link><pubDate>12/11/2007</pubDate></item><item><title>انتخابی ۔۔۔پکوان</title><description>الیکشن 2008ء کے سلسلے میں جہاں امیدوار اور ان کے ورکرز اپنی الیکشن مہم کے سلسلے میں کارنر میٹنگ‘ ریلیاں اور عوامی رابطے کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہاں دیگر چھوٹے کاروباری حضرات بھی اس آس میں ہوتے ہیں کہ الیکشن کے سیزن میں ان کی بھی چاندی ہوگی لیکن الیکشن 2008ء کے انعقاد کی غیریقینی صورتحال کے باعث پکوان اینڈ ڈیکوریٹرز کے ہاں کوئی خاص بکنگ نہیں ہوئی۔ الیکشن کی مہم میں امیدواران اپنے ورکرز اور سپورٹرز کی خاطر مدارت عموماً چکن بریانی‘ زردہ‘ برگرز وغیرہ کی صورت میں کرتے ہیں‘ کراچی کے ایک مشہور پکوان سینٹر کے منیجر کے مطابق انہیں تادم تحریر کوئی بکنگ نہیں ملی تھی جبکہ 2002ء کے الیکشن میں تقریباً 2000 چکن بریانی کے پیکٹ کا آرڈر ملا تھا۔ 10 کلو کی دیگ سے تقریباً پچاس سے ساٹھ پیکٹ بنتے ہیں اور ایک چکن بریانی کی دیگ 2500 سے 3000 ہزار روپے تک آتی ہے۔ ایک اورپکوان سینٹر کے مطابق عیدکے بعد مارکیٹ میں ہلچل کے آثار پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ الیکشن کے زمانے میں تقریباً کراچی میں ڈیڑھ کروڑ روپے کے آرڈرز ملتے تھے۔ ایک پکوان سینٹر کے مالک نے بتایا کہ 2002ء کے الیکشن میں ایک آزاد امیدوار نے تقریباً 100 پیکٹ چکن بریانی کا آرڈر دیا تھا اس نے تقریباً 50 فیصد ایڈوانس بھی دیا‘ بقایاجات ابھی تک نہیں ملے کیونکہ وہ امیدوار الیکشن ہار گیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ تمہاری بریانی لذیذ نہیں تھی اس لیے لوگوں نے مجھے ووٹ نہیں دئیے‘ اب پھر کبھی دیکھیں گے۔ایک جہاندیدا بزرگ سیاسی کارکن کے مطابق ایک زمانے میں ہر سیاسی پارٹی اپنے امیدواروں کے لئے خصوصی پکوان خود تیار کرواتی تھی اور اسے انتخابی پبلیسٹی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اسے پارٹی کے نام سے منسوب کردیا جاتا تھا مثلاً حلوہ پوری حلیم اور چکن بریانی کا مذاقی انداز میں پبلسیٹی کرتی ہیں۔ جیسے ن کی بریانی ، ق کی حلوہ پوری، پی پی کی چکن نہاری اور آزاد امیدواروں کی حلیم۔۔۔فلاں کے چپلی کباب اورفلاں کے سموسے پکوڑے۔۔۔مگر اب وہ پہلے کے سے دن کہاں؟اب پکوان سینٹرز والے پریشان ہیں کہ ہم کس سے آرڈر طلب کریں؟ کس پکوان کو انتخابی پکوان سے تعبیر کریں ، ابھی توہمارا خود کا جلوس نکل گیا ہے۔آپ کیا کہیں گے؟ کہاں گئے الیکشن کے مزے ، کہاں گئے کھانوں کے سلیکشن ۔۔۔کیا انتخابی پکوان کی مہم کومہنگائی مار گئی؟؟؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2322</link><pubDate>12/11/2007</pubDate></item><item><title>سودا آٹے کا یا گھاٹے کا۔۔۔۔؟</title><description>سندھ میں گندم کے ریکارڈ بحران کے باعث حیدرآباد اور اس کے قرب و جوار کی تقریباً 200 چکیاں بند ہوجانے سے آٹے کی قیمت فی کلو 22 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگرگندم کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو آٹے کی قیمت 25سے 26 روپے فی کلو تک پہنچ جائے گی اور آٹے کا شدید بحران شہریوں کو ایک نئی مشکل میں مبتلا کردے گا۔اطلاعات کے مطابق بعض منافع خور اور ذخیرہ اندوز آٹا 22 سے 23 روپے فی کلو فروخت کررہے ہیں۔ لوگ پیسے لیکر گندم کی خریداری کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ آٹا اور اس سے تیار ہونے والی تمام اشیاء بڑھتی ہوئی قیمت سے متاثر ہورہی ہیں ۔ بیکری آئٹمز ہوں یا سوجی میدہ یا اس سے ایک عام آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ گندم اور آٹے کی فراہمی سے لیکر فلورملز تک کے تمام معاملات کچھ عرصہ سازگار ماحول فراہم کرنے کے بعد اچانک سنگینی کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس میں کس کی غلطی ہے؟ آپ کے نزدیک آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لئے موثر حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2323</link><pubDate>12/11/2007</pubDate></item><item><title>ہمارے ہیرو …زیروہوگئے</title><description>قومی کرکٹ ٹیم بھارت کے ہاتھوں شکست کھاگئی اور ہمارے کھلاڑی جو ہیرو کی حیثیت سے بھارت گئے تھے ،واپسی پر زیرو ہو گئے ہیں۔ وطن واپسی کے موقع پر ائیر پورٹ پر ٹیم کے استقبال کو کوئی نہیں آیا، نہ وہ گہما گہمی ، نہ پرستاروں کا ہجوم کوئی دیکھنے میں نہیں آیاالبتہ پی سی بی کے چند آفیشلز وہاں ضرور موجود تھے ۔ عام طور پر ہیروز کا درجہ رکھنے والے کھلاڑی ہوائی اڈے پر موجود لوگوں کی زیادہ توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے، کرکٹرز کے آٹو گراف لینے والا تھا کوئی نہ تھا ۔کسی نے ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کی درخواست نہیں کی ۔ایئر پورٹ پر موجود خواتین نے بھی کھلاڑیوں کو لفٹ نہیں کرائی، یہ مایوس کن حالات دیکھ کر کھلاڑی حیران تھے ۔ لاہور سے کئی پروازیں حاجیوں کو حجاز مقدس لے کر جارہی ہیں ان کے عزیز واقارب بڑی تعداد میں پھولوں کے ہار لیے انہیں الوداع کہتے رہے لیکن کیمرے کی آنکھ ایسا کوئی منظر فلمبند نہ کرسکی کہ جس میں کسی نے کرکٹر کے گلے میں ہار ڈالا ہو۔ دہلی سے لاہور تک کے سفر کے دوران اور ایئر پورٹ پر صرف مصباح الحق ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

ہار جیت کا نام ہی کھیل ہے ۔ ویسے بھی کرکٹ کو بائی چانس کا کھیل کہا جاتا ہے مگر جب بھی ہماری ٹیم کسی سے ہارتی ہے خصوصی طور پر بھارت سے تو لوگ ہار برداشت نہیں کرپاتے اور ان پر ہر طرف سے تنقید ہونے لگتی ہے۔ اب کی بار بھی یہی ہوا ہے۔ ہماری کرکٹ ٹیم جب بھی ہار جائے تو لوگ افسردہ ہوجاتے ہیں کھلاڑیوں کے استقبال تک کو کوئی نہیں پہنچتا ۔کیوں؟ایک میچ ہارتے ہی ہمارے کھلاڑی ہیرو سے زیرو کیوں بنادیئے جاتے ہیں؟

بھارت کے سابق کپتان اور عظیم کرکٹر سنیل گواسکر نے شعیب ملک کی قیادت میں بھارتی دورہ کرنے والی موجودہ ٹیم کو سب سے کمزور ٹیم قرار دیا ہے، کیا واقعی یہ سب سے کمزور ٹیم تھی؟کیا آپ اس خیال سے اتفاق کریں گے؟ بھارت کے ہاتھوں شکست پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2329</link><pubDate>12/14/2007</pubDate></item><item><title>کانٹے دار مقابلہ</title><description>عام انتخابات میں چند دن باقی رہ گئے ہیں ۔ انتخابی مہم بھی بھرپورانداز میں جاری ہے۔چھوٹی بڑی سبھی پارٹیاں میدان میں ہیں اور کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی، نواز شریف کی ن لیگ،سابق حکمران پارٹی ق لیگ ، ایم کیو ایم،جے یو پی ،جے یو آئی ، اے این پی و دیگرسیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں معرکہ کے لئے تیار ہیں۔ آزاد امیدوار بھی کثیر تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔اب قوم کواپنے پسندیدہ امیدواروں کو منتخب کرنا ہے۔ #…آپ کے خیال میں کون کون سی پارٹیاں مضبوط پوزیشن حاصل کرسکیں گی؟ 

#… کچھ جماعتیں خیال ظاہر کررہی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوسکتی ہے؟ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے یا انکار!

#…سرحد اور بلوچستان میں انتخابی صورتحال کیا ہوگی؟

#…ان انتخابات کے نتائج ملک کی سیاسی تاریخ پر کیا اثرات مرتب کریں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2341</link><pubDate>12/24/2007</pubDate></item><item><title>بے نظیر بھٹو کا قتل</title><description>راولپنڈی میں فائرنگ اور بعد ازاں خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹوجاں بحق ہوگئیں۔ دھماکا اس جلسے میں ہوا جس سے کچھ دیر پہلے ہی انہوں نے خطاب کیا تھا۔ دھماکے میں بے نظیر سمیت دو درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حادثہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب عام انتخابات کا انعقاد قریب ہے۔ انتخابی مہم میں کسی حد تک جوش پیدا ہو چلا تھا کہ یہ حادثہ ہوگیا۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بینظیر بھٹو کے جاں بحق ہونے پراپنے رد عمل میں کہا ہے کہ شہید کی بیٹی بھی شہید ہو گئی۔ عالمی رہنماوٴں نے نہ صرف واقعے کی بھرپور انداز میں مذمت کی ہے بلکہ اس حادثے کو اندوہناک قرار دیا ہے۔

آپ کیا کہتے ہیں؟ہمیںآ پ کے خیالات کا انتظار رہے گا۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2351</link><pubDate>12/29/2007</pubDate></item><item><title>الیکشن ملتوی ہوگئے</title><description>الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 8 جنوری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کردیئے ہیں ۔ اب یہ انتخابات18 فروری 2008ء کو منعقد ہوں گے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے فوری بعد یہ سوالات جنم لینے لگے تھے کہ ان حالات میں جبکہ امن و امان کی صورتحال خراب ہواور الیکشن کمیشن کے دفاتر کو نذرآتش کردیا گیا ہو، انتخابی ریکارڈجل کر خاک ہوگیا ہو اور عملے کو اپنے کام میں دشواریوں کا سامنا ہو سکتا ہو تو بروقت انتخابات کس طرح ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کو بھی ان حالات کا بہ خوبی علم تھا لہذا اس نے مختلف سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ملک کی دو بڑی پارٹیاں یعنی مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی 8جنوری کو ہی انتخابات کا انعقاد چاہتی تھی۔ 

 انتخابات کے التواء پر آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2369</link><pubDate>1/2/2008</pubDate></item><item><title>خود کش دھما کے ایک لمحہ فکریہ۔۔۔؟</title><description>لاہور میں جی پی او کے قریب ہونے والے خود کش دھماکے میں پولیس کی بھاری نفری ہلاک اور زخمی ہوگئی ہے۔ آئے دن متواترخود کش پر اسرار دھماکوں نے ساری قوم کے لئے تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے اور یہ خوفناک اور دہشت ناک دھما کے سارے ملک کے لئے لمحہ فکریہ بنتے جا رہے ہیں۔ چاروں صوبوں میں یہی صو رتحال ہے۔ سیاستدان اور عوام بھی محفوظ نہیں ہیں۔ راولپنڈی، لاہور، کراچی براہ راست نشانہ ہیں۔ ان میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ کیا یہ دھماکے اسی طرح ہوتے رہیں گے؟ کوئی بھی ان کی ذمہ داری قبول کرنے تیار نہیں ہے ۔کیا یہ دھماکے روکے نہیں جاسکتے؟ کیا اسے سیکورٹی نااہلی کہہ سکتے ہیں ؟ کیا ہمارے آس پاس موجود دشمن کو پہچانا نہیں جاسکتا؟ اس طرح اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر خود کشی کرنے میں ان کے کیا مقاصد کیا ہوسکتے ہیں؟ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اس بارے میں رائے معلوم کرنا چاہیں گے۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2383</link><pubDate>1/10/2008</pubDate></item><item><title>کیا ملک کی سلامتی کی حفاظت کا حق کسی اور کو دیا جاسکتا ہے؟</title><description>امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سی آئی اے کی خفیہ کارروائی کے سلسلے میں صلاح مشورے جاری ہیں جبکہ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں کسی بھی غیر ملکی کارروائی کو مسترد کردیا ہے۔ مزید یہ کہ امریکی صدارتی امیدواروں نے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی مشترکہ نگرانی ہونی چاہیے اور امریکا کو القاعدہ یا اسامہ بن لادن کے تعاقب کے لئے بلا اجازت پاکستان میں داخل ہونے کا حق حاصل ہے۔ان خبروں پر آپ کے کیا تاثرات اور تحفظات ہوسکتے ہیں ؟ کیا آپ اسے کسی بھی ملک کی سلامتی ، تحفظ اور آزادی پر حملہ تصور نہیں کرتے؟ حکومت نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے اور مناسب جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معاملات چلانا ہماری ذمہ داری ہے۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں؟ اشاروں کنایوں میں جو بات کی جارہی ہے کیا اسی پر اعتبار کر لیا جائے؟ اس سلسلہ میں آپکی حتمی رائے درکار ہے ۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2384</link><pubDate>1/10/2008</pubDate></item><item><title>بے نظیر کاقتل: عالمی سازش؟</title><description>اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے ان رپورٹوں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے جن میں بینظیر بھٹو کی شہادت میں امریکی حکومت کو ملوث کرتے ہوئے اسے ایک عالمی سازش قرار دیا گیا ہے ۔یہ رپورٹیں بھی ان تازہ انکشافات کے دوران سامنے آئی ہیں کہ شہید رہنما نے اپنی شہادت سے کچھ دیر قبل ڈاکٹر اے کیو خان اور لیفٹیننٹ جنرل حمید گل سے بالواسطہ رابطے کئے تھے۔امریکی سفارتخانے کی ترجمان ایلزبتھ کولٹن نے بدھ کو دی نیوز کے بھیجے ہوئے ایک سوالنامے کے جواب میں بینظیر کی شہادت کو پاکستان اور پوری دنیا کیلئے ایک المیہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل میں امریکا کو ملوث قرار دینے کے حوالے باتیں مکمل طور پر اشتعال انگیز اور بے بنیاد ہیں۔ مسز کولٹن سے پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اس تاثر پر تبصرہ کرنے کیلئے کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت ایک عالمی سازش تھی اور اس میں امریکا رہنمایانہ کردار ادا کررہا تھا اور اس کے پیچھے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کیلئے اسے غیر مستحکم کرنے کے بڑے عزائم موجود تھے۔جب ان سے پوچھا گیاکہ کیا واشنگٹن نے مسز بھٹو پرصدر پرویز مشرف سے ڈیل کیلئے دباؤڈالا تھااور یاد رہے کہ یہ وہ حقیقت ہے کہ جسکی خود پیپلزپارٹی اور صدرکے معاونین نے بھی تصدیق کر رکھی ہے، اس سوال پر کالٹن نے کہا کہ ” ہمارا مستقل مفاد یہ ہے کہ پاکستان عوام کے انتخاب پر مبنی اعتدال پسند اور جمہوری ملک کے طور پر کامیاب ہو، ہم کسی خاص شخصیت یا پارٹی کی حمایت نہیں کرتے اور ہم کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہیں جس کا انتخاب پاکستانی عوام اپنی قیادت کیلئے کریں گے۔ امریکی صدارتی امیدوارں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ظاہر کی گئی غیر ضروری تحفظات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ” صدارتی امیدوار اپنی انتخابی مہموں کے دوران مختلف اقسام کی آراء کا ظہار کرتے رہتے ہیں لیکن یہ افراد کی آراء پر مشتمل ہیں۔جب ان سے حال ہی میں شائع ہونے والے چند کالموں میں کئے گئے انکشاف کے حوالے سے سوال پو چھا گیا کہ کیا امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے بینظیر بھٹو سے کہا تھا کہ وہ معزول ججوں کی بحالی کا تذکرہ نہ کریں تو کالٹن نے کہا کہ ججوں کی حیثیت پاکستان کا داخلی معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ بھی پاکستان کو ہی کرنا ہے۔ہم نے بارہا پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کی خود مختاری اور میڈیا کی آزادی کا احترام کرے۔ادھر جبکہ امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے اس تاثر سے فاصلہ برقرار رکھا ہے کہ پاکستان کو اسکی ایٹمی حیثیت سے محروم کرنے کیلئے ایک سنگین بین الاقوامی سازش کا سامنا ہے ، بینظیر بھٹو کی ایک قریبی شخصیت نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ بینظیر کو بین الاقوامی سازشیوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف منصوبے کا اسکرپٹ تبدیل کرنے کی سزا دی گئی کیونکہ وہ پاکستان کو اس عالمی سازش کے نقصان سے بچانا چاہتی تھیں۔ اس ذریعے نے بینظیر کی موت سے چند لمحے قبل ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ 9 سالہ جلاوطنی سے پاکستان واپسی کے بعد بینظیر نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی تھی اور انہوں نے دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے دارالحکومتوں سے فاصلے پیدا کرنا شروع کر دیئے تھے۔ نہ صرف یہ کہ بینظیر نے جنوبی وزیر ستان میں بیت اللہ محسود جیسے لوگوں سے بالواسطہ رابطے پیدا کرلئے تھے بلکہ وہ علاقے میں فوجی طاقت کے استعمال یا بیرونی مداخلت کے بجائے پرامن حل کیلئے کوششیں بھی کررہی تھیں علاوہ ازیں انہوں نے جنرل حمید گل اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو علیحدہ علیحدہ پیغامات بھی بھیجے تھے، ذریعے نے اس نامہ نگار کو دونوں شخصیتوں کے لئے بھیجے گئے قاصدوں کے نام سے بھی آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی کہ ان کا نام شائع نہ کیا جائے۔ذریعے نے مزید بتایا کہ جنرل حمید گل کا نام اگرچہ بینظیر کی جانب سے صدر کو اکتوبر میں بھیجے گئے اس خط میں شامل تھا جس میں ان کی ہلاکت کی صورت میں چار افراد کو نامزد کیا گیا تھا تاہم اس پیغام میں انہوں نے بتایا کہ اس لسٹ میں آئی ایس آئی کے سابق چیف کانام انہوں نے دباؤ کے تحت شامل کیا تھا۔اسی طرح ڈاکٹر اے کیو خان کو پیغام دیا گیا کہ وہ بینظیر کے ان بیانات کو بھول جائیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ برسراقتدار آگئیں تو وہ عالمی ادارہ جوہری توانائی کو ڈاکٹر قدیر تک رسائی دے دیں گی، اگرچہ ڈاکٹر عبدالقدیر یا ان کا کوئی قریبی شخص فوری طور پر اس کی تصدیق کیلئے دستیاب نہیں ہے تاہم ذریعے کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کے اس سائنسدان نے بینظیر کو جواباً پیغام بھجوایا کہ میں تمہیں اپنی بیٹی سے بڑھکر خیال کر تاہوں۔ جنرل حمیدگل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ انہیں دومختلف ذرائع سے بی بی کا پیغام ملا تھا ، انہوں نے بتایا کہ انہیں ان پیغامات میں اس امر سے آگاہ کیا گیا تھا کہ بینظیر اپنی زندگی کے لئے خطرہ بنے ہوئے افراد کی فہرست میں ان کا نام شامل نہیں کرنا چاہتی تھیں۔”آخری پیغام جو مجھے بینظیر کی شہادت سے تین دن قبل ملا” جنرل حمید گل بتاتے ہیں ” اس میں قاصد نے مجھے بتایا کہ بینظیر نے اس سے کہا تھا کہ جنرل صاحب اس دباؤ سے آگاہ ہیں جو مجھ پر ہے۔“جنرل صاحب نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق بینظیر بھٹونے دنیا کے بااثر ترین دارالحکومتوں کا لکھا ہوا اسکرپٹ تبدیل کر دیا تھا اور یہی جرم انکی شہادت کی وجہ بنا، آئی ایس آئی کے سابق چیف نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیشن میں اپنے پیش ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کو پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش کی بھینٹ چڑھایا گیا، یہ کہتے ہوئے کہ بینظیر کا قتل انتہائی جدید ترین اور پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق یہ موساد کا آپریشن تھا، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی طاقتیں جو یہ جانتی تھیں پاکستان کی ایک مقبول رہنما کی حیثیت سے بینظیر بھٹو صدر پرویز مشرف کی حکومت میں ساتھ نہیں دے سکیں گی ، انہو ں نے کہا کہ عالمی قوتوں نے یہ جانتے ہوئے ڈیل کیلئے صدر پرویز اور بینظیر پر دباؤ ڈالا، یہ کسی خواب سے کم نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تاکہ عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔امریکی صدارتی امیدواروں اور البرادی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حالیہ بیانات سمیت یہ سب کچھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف عظیم تر عزائم کا حصہ ہیں۔پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ بینظیر بھٹو نے حال ہی میں جنرل گل سے کوئی رابطہ نہیں کیاانہوں نے مزید کہا کہ جنر ل گل نے بینظیر سے رابطہ کیا تھا تاہم انہوں نے جنرل سے بات نہیں کی، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے علم میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی ایسا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ متعلقہ حلقوں سے تصدیق کرکے اس بارے میں مزید کچھ بتا سکیں گے اور اس کیلئے دی نیوز سے دوبارہ رابطہ کریں گے۔ 

۔۔۔۔اس خبر پر آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2388</link><pubDate>1/12/2008</pubDate></item><item><title>کیا الیکشن ہوں گے؟</title><description>ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ یحیٰی خان کا منصفانہ انتخابات کروانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ وہ تو آخری وقت تک اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے جائز و ناجائز طریقے اختیار کرتارہا مگر عوامی بیداری کی ایسی لہر چلی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں صوبوں میں نتیجہ توقع کے برعکس رہا۔ اگر اس وقت آئین اور قانون کی پاسداری کی جاتی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین نہ کی جاتی تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا۔اس وقت سوال پھر وہی ہے کہ کیا 18فروری کو الیکشن ہوں گے یا ماضی کی غلطیوں کی طرح پھر سے کوئی غلطی دہرادی جائے گی اور الیکشن ملتوی کر دیئے جائیں گے یا الیکشن تو ہوں گے مگر عوامی مینڈیٹ کی پھر سے توہین کی جائے گی اور ایسے راستے اختیار کئے جائیں گے جن کے ذریعے سے عوامی خواہشات کے برعکس فیصلے ممکن ہوں۔

الیکشن ہوں گے یا نہیں؟ آپ بھی رائے دیجئے 

(کالم نگار خالد انصاری۔۔۔ کے کالم سے اقتباس )</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2397</link><pubDate>1/16/2008</pubDate></item><item><title>جیو نیوزاور جیو سوپرکی نشریات بحال</title><description>صدر مملکت پرویز مشرف کی جانب سے پاکستان کے مقبول ترین چینل جیونیوز اور جیو سوپر کی کیبل پرنشریات بحال کرنے کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے پیمرا نے21 جنوری2008 ء کی شام چھ بجے سے نشریات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی۔ 77دن کی بندش کے بعد جیو نیوز اور جیو سپر کی بحالی ایک خوش آئند اقدام ہے، جیو نے اس طویل بندش پر جس  استقامت کا ثبوت دیا وہ قابل تعریف ہے اور عوام بھی قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے اس کڑے وقت میں جیو نیوز کا ساتھ دیااور نشریات کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے۔ جیو نیوز کی بحالی پر آپ کی رائے درکار ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2408</link><pubDate>1/22/2008</pubDate></item><item><title>راشن کارڈ کی ضرورت کیوں ؟</title><description>نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نثار اے میمن نے کہا ہے کہ ملک میں خوراک کا کوئی بحران نہیں ، آٹے کا بحران بھی ختم ہوگیا ہے تاہم غریبوں کو اشیاء خوردنی ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کے لئے حکومت نے راشن کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راشن کارڈ کے ذریعے یوٹیلیٹی اسٹورز سے سستا آٹا چینی چاول دالیں ، گھی اوردیگر اشیاء فراہم کی جائیں گی، قیمتوں کی بلند سطح اور اشیائے خوردنی کی قلت سے لوگ پہلے ہی پریشان تھے، یوٹیلیٹی بلوں کی لمبی قطاریں پہلے ہی پریشان کن تھیں اور اب اس طرح کے اعلانات سے عوام کیا محسوس کریں گے؟ اسے اشیائے خوردنی کی قلت سمجھیں یا نگراں حکومت کی غیر ذمہ داری ؟کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اب راشن کارڈ کی لمبی قطاریں عوام کیلئے مزید پریشانی کا باعث ہوں گی؟کیا آپ سمجھتے ہیں کہ راشن کارڈ کا تجربہ کامیاب رہے گا ؟ اگر آپ کے پاس ان سوالوں کا جواب ہے تو ہمیں ضرور لکھئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2416</link><pubDate>1/23/2008</pubDate></item><item><title>شعیب اختر کے کیریئر کو ایک اور دھچکہ !</title><description>پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بالر شعیب اختر کو سنٹرل کنٹریکٹ کی فہرست سے خارج کرکے اسپیشل کیٹگری میں ڈال دیا ہے۔ بورڈ کے گورننگ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شعیب اختر فٹنس اور کارکردگی کے شعبے چالیس پوائنٹس حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، ان کو اسپیشل کیٹگری میں معاہدہ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان سے ناراض ہیں یا انہیں وارننگ دی گئی ہے، وہ کارکردگی دکھاکر بہتر کیٹگری میں واپس آسکتے ہیں۔ شعیب اختر کی حیثیت اپنے مزاج اور چند واقعات کے حوالے قومی کرکٹ میں متنازعہ رہی ہے، ا ب کارکردگی اور فٹنس کا معاملہ ان کے لئے واقعی ایک دھچکہ ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عالمی شہرت کے حامل شعیب اختر اپنی کارکردگی بہتربنا پائیں گے یا نہیں؟ کیا وہ اس معاملے پر بورڈ کو مطمئن کرسکیں گے ؟ کہیں بہت زیادہ خود اعتمادی اور مزاج ان کی راہ میں حائل تو نہیں ہوگا؟ ہمیں آپ اپنی رائے سے آگاہ کریں ۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2426</link><pubDate>1/26/2008</pubDate></item><item><title>عبدالستار ایدھی کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟</title><description>امریکی حکام نے ممتاز سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو پوچھ گچھ کے لئے روک لیا ہے اور ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عبد الستار ایدھی ایک ممتاز سماجی کارکن اور پاکستان کی پہچان ہیں،اگر امریکی حکام نے ان کا پاسپورٹ واپس نہ کیا تو اس کا سخت نوٹس لیں گے۔ امریکی قوانین کے تحت گرین کارڈ کی تصدیق کے لئے پاسپورٹ لیا جاسکتا ہے، تاہم عبدالستار ایدھی کے گرین کارد کی تجدید کی تاریخ20 فروری ہے اور وہ اس تاریخ سے قبل پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں وطن واپسی سے روک دیا گیا ہے۔عبدالستار ایدھی نے بتایا ہے کہ ان کے قانونی مشیر اس سلسلے میں پاکستانی سفیر سے رابطے میں ہیں اور امریکی حکام سے صلاح مشورہ کر رہے ہیں جبکہ وہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ صرف فلاحی کاموں کے سلسلے میں امریکا آتے جاتے رہتے ہیں ، یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ان کا پاسپورٹ لے لیا گیا ہے۔

 امریکی حکام نے خاص طور پر ایسے شخض کو نشانہ کیوں بنایا جو فلاحی و امدادی کاموں کے حوالے سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون پاکستان بھی شہرت رکھتے ہیں،ان کے ساتھ اس ناروا سلوک پر آپ کیا کہیں گے اور انہیں شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جارہا ہے؟گرین کارڈ کی تجدید و تصدیق کے بہانے انسانیت کے ہمدردشخص کے ساتھ اس طرح کا رویہ کیا معنی رکھتا ہے؟ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2430</link><pubDate>1/30/2008</pubDate></item><item><title>سی این جی کا بحران</title><description>اطلاعات کے مطابق سوئی ناردرن گیس نے پنجاب اور سرحد میں 383 سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی غیر معینہ مدت تک بند کر دی۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام سوئی ناردرن نے ساڑھے 600 ملین کیوبک فٹ گیس کی قلت کے بحران سے نمٹنے اور صنعتی شعبے کو گیس فراہم کرنے کے لئے کیا ہے۔ سوئی ناردرن گیس کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں 91 ، راولپنڈی ، اسلام آباد میں 91، پشاور میں 48، فیصل آباد 28، ملتان میں 11 سی این جی اسٹیشنوں سمیت دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر 383 گیس اسٹیشنوں کو سپلائی غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دی۔ سوئی ناردرن گیس حکام کے مطابق سی این جی شعبے کو 300 ملین کیوبک فٹ گیس کا کٹ لگا کر یہ گیس صنعتی شعبے کو دی جائے گی، سوئی ناردرن گیس کی طرف سے گیس کی فراہمی معطل ہونے پر گیس اسٹیشنوں کے مالکان کی تنظیم سی این جی ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی تنظیم نے سوئی ناردرن حکام سے کہا ہے کہ آپ 48 گھنٹے کی روٹین کے تحت گیس اسٹیشنوں کو باری باری بند کریں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سی این جی کا بحران ملک میں مزید نئے بحرانوں کو جنم نہیں دے گا؟ کیا ملک کی بڑی صنعتیں خصوصاًآٹوموبائل کی صنعت متاثر نہیں ہوگی ؟کیا اس سے ترقی کا پہیہ سست روی کا شکار نہیں ہوجائے گا؟۔ سی این جی کی پیداواری صلاحیت کم ہونے کی ذمہ داری کس کی ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2433</link><pubDate>1/31/2008</pubDate></item><item><title>کیا قومی حکومت کی تشکیل قابل عمل ہے؟</title><description>ابھی الیکشن میں کچھ عرصہ باقی ہے لیکن بعض سیاست دانوں اور مختلف حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ ایک قومی حکومت تشکیل دی جا ئے جو ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل حل کرسکے۔ملک کو اس وقت اندرونی اور بیرونی محاذ پر شدید خطرات کا سامنا ہے، ملک میں خودکش بم دھماکوں اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کی کارروائیوں سے شہریوں میں جان و مال کے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہواہے۔ گیس، بجلی آٹے اور گندم کے بحران کے علاوہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے جبکہ بیرونی محاذ پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے ذمہ دار امریکی حلقوں کے خدشات اور بیانات سے ان کے خطرناک عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ کیاپاکستان کے مختلف حلقوں میں یہ تجویز وسیع تر قومی مفادات سے مطابقت رکھتی ہے کہ انتخابات کے بعد ملک میں ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے ؟کیونکہ بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ اور انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی عمومی پوزیشن کے پیش نظر انتخابات میں کسی جماعت کے قطعی اکثریت حاصل کرنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور یہ صورتحال انتقال اقتدار کے مرحلے کو مشکل بنا سکتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ملک میں الیکشن سے قبل قومی حکومت قائم کی جائے ؟ اور یہ کہ عام انتخابات کے بعد اس تجویز پر عمل درآمد زیادہ سود مند رہے گا۔ہمیں اس سلسلے میں آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2436</link><pubDate>2/1/2008</pubDate></item><item><title>پاکستان میں ایک مرتبہ پھر برڈ فلو وائرس کی تصدیق</title><description>مرغی کا گوشت غریبوں کی دسترس سے باہر ہوگیا

کیا ہمارے ملک میں برڈ فلووائرس سے بچاؤ اور اس کے تدارک کا کوئی قابل عمل انتظام ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پولٹری فارمز کے مالکان اور محکمہ صحت کے حکام صحت وصفائی کے عالمی اصول اپناتے ہیں؟

ہمیں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2446</link><pubDate>2/1/2008</pubDate></item><item><title>اب دودھ بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر؟</title><description>ہمارے ملک میں کسی بھی چیز کی قیمت کا تعین کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے، ابھی آٹے، گھی چاوال کی قیمتوں کا ذکر ہو رہا تھا کہ دودھ کی قیمتوں میں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔دوھ دہی ،گھی ،تیل سب ہی روز مرہ کے استعمال کی اشیاء خورد و نوش میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ دودھ کی قیمتیں سال میں تین بار بڑھنا المیہ ہے ،دودھ 22 روپے لیٹر سے 27روپے اور اب 34 روپے سے 36 روپے لیٹرکردیا گیا ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے دودھ کا حصول روز بروز دسترس سے باہر ہوتا جارہا ہے ۔ امپورٹیڈ خشک دودھ پہلے ہی مہنگا ہے، دودھ کی قیمت میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟ حکام سرکاری نرخ پر دودھ کی فروخت یقینی بنانے میں کیوں ناکام ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دودھ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2450</link><pubDate>2/4/2008</pubDate></item><item><title>شعیب ملک کی شادی: سچ کیا جھوٹ کیا ؟</title><description>شعیب ملک اور بھارتی دوشیزہ عائشہ صدیقی کے نکاح کا اسکینڈل نیا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے،شعیب ملک نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے عائشہ صدیقی سے شادی کی ہے۔ان کے والد کے الزامات من گھڑت ہیں جس سے میری شہرت کا نقسان پہنچا ہے، ادھر عائشہ صدیقی کے والد کا دعویٰ ہے کہ شعیب ملک کا بیان جھوٹ کا پلندہ ہے وہ دنیا کی کسی بھی عدالت سے رجوع کرلیں میں ان کا سامنا کرنے تیار ہوں ، ان کا کہنا ہے کہ شعیب ملک نے میری بیٹی سے شادی کی بلکہ ہنی مون بھی منایا۔انہوں نے شعیب ملک سے طلاق دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ادھر شعیب ملک کا کہنا ہے میری شادی سے متعلق میڈیا میں جو آرہا ہے بے بنیاد ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہ واقعہ پیش آیا کہ نہیں اس بارے میں ابہام ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ کون اس معاملے میں سچا اور کون جھوٹا ہے؟ گو کہ یہ ایک ذاتی مسئلہ ہے لیکن اس طرح کرکٹ کے کھلاڑیوں کو بدنام کرنے کی کوئی سازش ہوسکتی ہے، اس طرح کے اسکینڈل سے کون کیا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ، ؟ ہمیں آپ کی رائے درکار ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2452</link><pubDate>2/6/2008</pubDate></item><item><title>آتشزدگی کے واقعات، حادثہ یاسازش؟</title><description>کراچی میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے مسلسل واقعات خصوصاً ایک ہی روزچار مختلف فیکٹریوں میں آتشزدگی نے ہر خاص و عام کی توجہ مبذول کروالی ہے۔ کورنگی ،لانڈھی اور سائٹ میں کیمیکل اور گارمنٹ کے علاوہ تولیہ فیکٹری اور اس سے قبل ایک بڑی پینٹ کمپنی میں آگ لگنے سے جہاں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا وہیں ہزاروں لوگوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔آپ کیا خیال میں آتشزدگی کے ان مسلسل واقعات کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ کیا اس میں کوئی سازش عناصر ملوث ہیں یا یہ محض حادثات ہیں؟ یہ واقعات ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش تو نہیں؟۔اپنی رائے سے آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2464</link><pubDate>2/8/2008</pubDate></item><item><title>بینظیر کا قتل گولی لگنے سے نہیں ہوا ؟اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ</title><description>سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔آپ کے خیال میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ درست ہے؟،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس رپورٹ سے بینظیر کے قتل کے حقائق سامنے آگئے؟،کیا یہ رپورٹ عوام کو مطمئن کرسکے گی؟،آئیے جنگ بلاگ میں حصہ لیجئے اور ہمیں اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2466</link><pubDate>2/8/2008</pubDate></item><item><title>آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟</title><description>الیکشن میں چند ہی روز باقی ہیں، امیدواروں کی انتخابی مہم زوروں پر ہے، ہربڑی اور چھوٹی جماعت اپنے منشور اور عوام کوبنیادی حقوق دلوانے اور سہولتیں فراہم کرنے کے وعدے وعید لے کر میدان میں اتری ہوئی ہیں ،ان کے علاوہ آزاد امیدوار بھی کثیر تعداد میں سامنے آئے ہیں۔ اٹھار ہ فروری ایک اہم دن ہے، کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔آپ کے خیال میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرسکے گی؟ اور یہ کہ کونسی پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی؟ حکومت کی تشکیل میں کون کون سی جماعتیں اہم کردار ادا کریں گی، آزاد امیدوار کا رول کیا ہوگا اور آپ کے خیال میں آئندہ وزیر اعظم کون ہوگا۔ ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2473</link><pubDate>2/11/2008</pubDate></item><item><title>حیران کن انتخابی نتائج اور آئندہ حکومت</title><description>نگراں حکومت کے تحت ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے ہیں اور 18 فروری2008 ء کو بالآخر انتخابی عمل مکمل ہوگیا۔ غیر متوقع نتائج نے سب کو حیران کردیا، سابق حکومت مسلم لیگ ق کے اراکین بڑے پیمانے پر شکست سے دوچار ہوگئے اور کئی بڑے اپ سیٹ دیکھنے میں آئے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پنجاب، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سندھ میں جبکہ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔مسلم لیگ ق نے بلوچستان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔قومی اسمبلی میں حاصل کردہ نشستوں کے اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے مخلوط حکومت کی صورت میں وزیر اعظم کس جماعت کا ہوگا؟ کیا یہ معاملہ بخیر و خوبی طے پا جائے گا؟کیا ملک میں آئین کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور میڈیا پر پابندی جیسے مسائل با آسانی حل ہو جائیں گے؟۔ہمیں اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2518</link><pubDate>2/19/2008</pubDate></item><item><title>اسٹار کرکٹرز کا نیلا م ،کھلاڑی ”ملین ڈالر مین “بن گئے</title><description>انڈین پریمیئر لیگ نے کرکٹ کی دنیا میں نئی روایت ڈال دی۔ اب کرکٹرزکا نیلام عام شروع ہوا ہے بھارت میں بدھ کو پہلی نیلامی میں دنیا کے دو کرکٹر ”ملین ڈالر مین “ بن گئے۔یوراج سنگھ، سارو گنگولی، سچن ٹنڈولکر اور راہول ڈریوڈ بھی ملین ڈالر کی کیٹگری میں شامل ہوگئے۔ ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ جیتنے والے دھونی15 لاکھ ڈالر اور اینڈریو سائمنڈز ساڑھے تیرہ لاکھ ڈالر میں بکے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے جن اسٹارکرکٹرزکی خدمات حاصل کی تھیں ان کی پہلے سے ایک قیمت مقررکردی گئی ان میں پاکستان کے شاہد آفریدی، محمد آصف، شعیب ملک اور شعیب اختر شامل ہیں۔آسٹریلیا کے گلین میک گرا، مائیکل ہسی، سائمن کیٹچ، سروان، شیونرائن چندرپال، لوٹس بوزمین اور جسٹن لینگر مقررہ قیمت میں شامل ہیں محمد یوسف اورجنوبی افریقا ایشویل پرنس کی بولی نہ ہوسکی۔اس طرح 79میں سے 77کھلاڑی بک گئے۔ شاہد آفریدی کی سب سے زیادہ پونے سات لاکھ ڈالر قیمت لگی۔ محمد آصف ساڑھے چھ لاکھ ڈالر، شعیب ملک پانچ لاکھ اور شعیب اختر سوا چار لاکھ ڈالر میں بکے۔ فاسٹ بولرز میں شعیب اخترکو شاہ رخ خان جبکہ عرفان پٹھان اور بریٹ لی کو پریتی زنٹا نے اپنی ٹیموں کے لیے حاصل کیا۔ شعیب اختر شاہ رخ خان کی کولکتہ جبکہ ایڈم گلکرسٹ حیدرآباد کی ٹیم سے وابستہ ہوگئے۔ شعیب ملک موہالی، یونس خان جے پور، شاہد خان آفریدی حیدرآباد، محمد آصف دہلی، کامران اکمل جے پورکی طرف سے آئی پی ایل کھیلیں گے۔

#…آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس طرح یہ کھیلبزنس نہیں بن جائے گا؟

#… کیا اس طرح کھلاڑی کھیل پرتوجہ دے سکیں گے؟ 

#…کیا اس طرح کی نیلامی سے کرکٹ کونقصان پہنچے گا ؟

#… کیا پاکستانی کھلاڑیوں کو اس سے اجتناب نہیں برتنا چاہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2537</link><pubDate>2/21/2008</pubDate></item><item><title>اب سبزیاں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور؟</title><description>عوام جو پہلے ہی سی این جی، گیس، بجلی اور آٹے کے بحران سے پریشان تھے اب وہ اب سبزیوں کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد سبزیوں کی فی کلو گرام قیمت میں20 سے 50 روپے تک اضافہ سے پریشان ہیں ،سبزی منڈی کے آڑھتیوں کے مطابق قیمتوں میں حالیہ اضافہ گزشتہ دنوں شدید سردی کی وجہ سے فصل متاثر ہونے کی وجہ سے ہوا ہے جس کے بعد لوکی 50روپے سے بڑھ کر 100 روپے،کریلا 80 روپے سے 120 روپے، کھیرا 25 سے 60 روپے ، شملہ مرچ 50 سے 80 روپے ، بھنڈی 60 سے 100 روپے ، ادرک 60 سے 80 روپے، توری 40 سے 60 روپے اور ہری مرچ 50 سے بڑھ کر 80 روپے فی کلو گرام ہوگئی ہے۔ اب یہ خبریں بھی عام ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونے والا ہے، یہ سب آنے والی نئی حکومت اور عوام کے لئے ایک نیا چیلنج بن کے سامنے آرہا ہے ۔ آئے دن قیمتوں کا بڑھ جانا اور کوئی کاروائی نہ ہونے پر آپ کیا کہتے ہیں؟۔ کیا نئی آنے والی حکومت اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے اس طرح کی گرانی روک سکے گی؟ کیا سبزیاں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں؟ غریب آدمی کیاکھائے کیا نہ کھائے ؟۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2556</link><pubDate>2/29/2008</pubDate></item><item><title>پٹر ول ، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ!</title><description>وفاقی حکومت نے پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل ، ایچ او بی سی اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، نئی قیمتوں کا ا طلاق یکم مارچ سے ہو گا۔ اوگرا کے مطابق پٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر، ڈیزل اورمٹی کے تیل ساڑھے تین روپے لیٹر، ایچ او بی سی کی قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافہ کے بعد پٹرول کی قیمت بڑھ کر 58 روپے 70 پیسے، مٹی کا تیل 38 روپے 75 پیسے، ڈیزل 36 روپے 7 پیسے اور ایچ او بی سی 69 روپے 88 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے بعد قیمتوں کو اس سطح پر برقرار رکھنا ناممکن ہو گیابجلی کی 50یونٹس استعمال پر قیمت میں9فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ۔دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے فرنیس آئل کی قیمت میں بھی 1200 روپے تک کا اضافہ کردیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا کیا آپ نہیں سمجھتے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ضروریات زندگی مزید مہنگی ہوجائینگی۔ذرائع نقل و حمل کرائے اور ذرائع آمد و رفت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اس ہوشرباء گرانی پر آپ کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2560</link><pubDate>3/1/2008</pubDate></item><item><title>نئی حکومت کو درپیش چیلنجز؟</title><description>ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں نئی حکومت کو امن وامان،خودکش حملے اورمہنگائی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ حکومت ان مسائل سے کس طرح نبرد آزما ہوگی ۔ عوام ،سرکاری اداروں اور ملکی معیشت سے لے کر صنعتی کاروباری اور عام سماجی مسائل پرتوجہ کے طالب ہیں ،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نئی حکومت امن وامان خصوصاً خود کش حملوں اور مہنگائی جیسے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟۔ آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلی رونما ہوگی یا سابقہ پالیسی ہی برقرار رہے گی،ججز کو بحال کرنے میں نئی سیاسی قیادت میں باہمی اتفاق ممکن ہوسکے گا؟موجودہ صدر کے بارے میں حکمت عملی کیا ہوگی؟ ہم آپکی آراء کے منتظر ہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2573</link><pubDate>3/6/2008</pubDate></item><item><title>پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں معاہدہ</title><description>پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نوازنے مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی اور معزول ججوں کی بحالی سمیت متعدد اہم امور پر اتفاق کرتے ہوئے چھ نکاتی معاہدہ کیا ہے جسے اعلان مری کا نام دیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت معزول ججوں کو نئی وفاقی حکومت کی تشکیل کے 30کے اندرپارلیمنٹ میں قراردادکے ذریعے بحال کیا جائے گا۔نواز لیگ وزارت عظمیٰ کیلئے پی پی کے امیدوار کی حمایت کرے گی،قومی اسمبلی کا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی جبکہ پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نواز لیگ کا ہوگا۔مسلم لیگ ن وفاق اور پیپلز پارٹی پنجاب کابینہ میں شامل ہوگی، دونوں پارٹیاں باہمی اتحاد و اتفاق سے حکومت سازی میں حصہ لیں گی۔ انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا اجلاس فوری بلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ عوام کو ریلیف پہنچانے کا وعدہ بھی کیا گیاہے اور دہشت گردی اور مہنگائی کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اعلان مری کے مطابق پہلا فیصلہ پیمرا کے بارے میں ہوگا۔اس معاہدے پر آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2581</link><pubDate>3/10/2008</pubDate></item><item><title>ملکی تاریخ کی 13 ویں قو می اسمبلی کا اجلاس</title><description>18فروری کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی ملکی تاریخ کی 13ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا جس میں سبکدوش ہونے والے اسپیکر چوہدری امیر حسین اجلاس کی صدارت میں قومی اسمبلی کے 342 رکنی ایوان کے 328نومنتخب اراکین سے حلف لے لیا۔ حلف برداری سے قبل اراکین اسمبلی محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی ۔قومی اسمبلی میں بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سید نوید قمر نے اسمبلی میں کہا کہ اراکین پیپلزپارٹی اور اتحادی 1973کے متفقہ آئین کے تحت3نومبرسے قبل کی شکل میں حلف اٹھایا۔قومی اسمبلی میں کل328امیدوار رکن منتخب ہوئے ہیں جن میں60 فیصد چہرے بالکل نئے ،192ارکان پہلی بار اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے شریک چےئرمین آصف زرداری،مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نوازشریف اور مسلم لیگ(ق) کے رہنما چوہدری شجاعت حسین و دیگرمہمانوں کی گیلری سے اجلاس کی کارروائی دیکھی ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نئی قومی اسمبلی کا یہ اجلاس جمہوریت کی جانب پہلا قدم ہے ؟ابھی قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا ہے، آپ کی نظر میں وزیر اعظم کون ہوگا؟ کیا اس دوران کسی قسم اختلاف رائے جنم لے سکتی ہے؟ کیا عوام واقعی جمہوریت کا ثمر پاسکیں گے؟کیا یہ اسمبلی پانچ سال پورے کرسکے گی؟ اس حوالے سے آپ کی کیارائے ہے ۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2603</link><pubDate>3/17/2008</pubDate></item><item><title>قطر سے بے دخل 106 افراد کراچی ائیر پورٹ سے فرار</title><description>قطر سے ڈی پورٹ کیے گئے 116مسافر منگل کی شب قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پہنچے جس میں سے 106افرادامیگریشن لاؤنج کے شیشے توڑ کر فرار ہوگئے۔ان تمام افراد کو غیر قانونی طور قطر جانے کے الزام میں وہاں سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، ان تمام افراد کے دستاویزات غیر مستند اور جعلی تھے اور ان کا معائنہ امیگریشن میں جاری تھا کہ یہ افراد سیکورٹی اہلکاروں سے جھگڑتے ہوئے اچانک ایئر پورٹ لاؤنج سے باہر نکل گئے۔ سیکورٹی اہلکار وں نے انہیں روکنے کی ناکام کوشش کی۔ پولیس نے واقعہ کی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔اس واقعہ پر آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2606</link><pubDate>3/19/2008</pubDate></item><item><title>قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر</title><description>پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر منتخب ہوگئیں۔249 اراکین پارلیمنٹ نے ان کی حمایت میں ووٹ دیے۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ فہمیدہ مرزا کے اسپیکر قومی اسمبلی انتخاب سے بیرون ملک پاکستان کا سوفٹ امیج بنانے میں مدد ملے گی،کیا وہ اسمبلی کے معاملات زیادہ بہتر طور پر چلاسکیں گی؟ آپ کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2607</link><pubDate>3/19/2008</pubDate></item><item><title>متحدہ قومی موومنٹ کے امیدواروزارت عظمیٰ کی دوڑ سے دستبردار</title><description>متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار ڈاکٹر فاروق ستار وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے دوڑ سے دستبردار ہوگئے ہیں اور ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے مسلم لیگ ق کے قائد چوہدری شجاعت کے ساتھ میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت بعد وزیر اعظم کے عہدے کیلئے دوڑ سے دستبردار ہورہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ اور ان کے درمیان دوستانہ فضاء قائم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں وہ پیپلزپارٹی کے نامزد امیدوار کو سپورٹ کریں گے تاہم اگر مسلم لیگ ن کا امیدوار آتا ہے تو وہ اس کو ووٹ نہیں دیں گے اور غیرجانبداررہیں گے۔فاروق ستار نے بتایا کہ مسلم لیگ ق اگر وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار لاتی ہے تووہ اس میں آزاد ہے ۔ فاروق ستار نے بتایا کہ یہ فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد وسیع تر قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے اس فیصلے سے ملک خصوصاً سندھ کی سیاسی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ،سندھ کے شہری اور دیہی عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوگی؟ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2616</link><pubDate>3/22/2008</pubDate></item><item><title>یوسف رضا گیلانی کی بحیثیت وزیر اعظم نامزدگی</title><description>پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ کیلئے امیدوار نامزد کردیا گیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی بطور بطور وزیر اعظم نامزدگی سے ملک کے سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟،نامزد وزیر اعظم کی قیادت میں نئی حکومت ملک کو درپیش چیلنجزسے نمٹنے میں کامیاب ہوجائے گی؟۔ کیا نئی حکومت عوام کی توقعات پرپورا اترسکے گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2617</link><pubDate>3/22/2008</pubDate></item><item><title>خوش آمدید  ........  وزیراعظم یوسف رضا گیلانی</title><description>پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوارسید یوسف رضا گیلانی دوتہائی اکثریت سے ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔264اراکین اسمبلی نے ان کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ان کے مخالف امیدوار مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہٰی کو42ووٹ ملے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ اس عہدے پر فائز ہوکرملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں گے؟کیا وہ عوام کے بنیادی حقوق ،ججز کی بحالی اور میڈیا کی آزادی کے وعدے پر عمل کرسکیں گے؟ نئے وزیر اعظم سے آپ کو کیا توقعات ہیں؟اپنی رائے سے آگاہ کریں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2629</link><pubDate>3/24/2008</pubDate></item><item><title>آئی سی ایل میں لاہور بادشاہ کی عمدہ کارکردگی</title><description>انڈین کرکٹ لیگ (آئی سی ایل) میں دلچسپ و سنسنی خیز مقابلے جاری ہیں جن میں پاکستانی کھلاڑیوں پر مشتمل لاہوربادشاہ اور بھارت کے کئی شہروں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جو بین الاقوامی اورمقامی کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ ان مقابلوں کے حوالے سے شائقین کرکٹ کا جوش و خروش عروج پر ہے۔ لاہور بادشاہ کی ٹیم اب تک اپنے تمام میچز جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم لاہور بادشاہ کی کارکردگی قابل تعریف ہے ۔آپ کے خیال میں لاہور بادشاہ کی عمدہ کارکرگی کی وجہ کیا ہے؟کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لاہور بادشاہ کی ٹیم انڈین کرکٹ لیگ میں فتح حاصل کرسکے گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2637</link><pubDate>3/27/2008</pubDate></item><item><title>ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ یاگرانی کا ایٹم بم ؟</title><description>پبلک ٹرانسپورٹ میں کم تنخوا ہ دار ملازم ہی نہیں بلکہ متوسط طبقہ بھی سفرکرتا ہے ۔حکومت سندھ کی جانب سے شہری علاقوں میں چلنے ولی بسوں، کوچز اور رکشہ ٹیکسی کے کرایوں میں بالترتیب دو روپے اضافہ کردیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک ماہ میں دو مرتبہ پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافہ ہواہے، ٹرانسپورٹرز کو بھی یہی شکایت رہی ہے ،اگر مان لیا جائے کہ من مانے کرایوں سے ٹرانسپورٹرز کو سپورٹ توملے گی کیا اس کا اثر براہ راست عوام پر نہیں پڑے گا؟ کیا حالیہ کرایوں میں اضافہ غریبو ں کے مسائل میں مزید اضافہ نہیں کردے گا؟ٹیکسی رکشہ اور بسوں میں اس پر تکرار و بحث نہیں ہوگی؟ کیا حکومت بسوں کی حالت زار پر بھی غور کرے گی؟ چھت پر سفر کرنے والوں پر کون سا کرایہ لاگو ہوگا۔رکشہ ٹیکسی کے میٹر اور من مانے کرائے کون چیک کرے گا؟ نئی عوامی حکومت کا ریلیف پیکیج کب آئے گا؟ کیا آپ کے پاس ان سوالوں کا جواب ہے؟ ہمیں اپنی رائے سے آگاہ کیجئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2638</link><pubDate>3/28/2008</pubDate></item><item><title>روشنیوں کا شہرکب تک تاریکیوں میں ڈوبا رہے گا؟</title><description>آئے دن بجلی کے بحران نے عذاب بن کر کراچی شہر کو تاریکیوں میں دھکیل دیا ہے، واپڈا اور کے اے ایس سی کی لڑائی میں کراچی کی شہری آبادی پس کر رہ گئی ہے کیا ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟ کیا اپنے وسائل سے ستر فیصد آمدنی دینے والے شہر کو اسی طرح آزمائش میں مبتلاء رکھا جائے گا۔ کیا اس طرح ترقیاتی کام اور سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی؟ عوام دن رات محنت کی کمائی میں سے بجلی کا بل ادا کرتے ہیں، ان پر یہ اضافی لوڈ شیدنگ کا بوجھ کیوں ؟ بجلی کی سپلائی نہ ہونے کے باوجود مہنگے بلوں کا کیا جواز ہے؟ بجلی کی عدم فراہمی پر بلوں میں کٹوتی کیوں نہیں ہوتی؟ کراچی جیسے بڑے صنعتی شہر کو اس طرح بجلی سے محروم رکھنا شہر کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟ہمیں اپنے جذبات اور جواب سے آگاہ کیجئے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2639</link><pubDate>3/28/2008</pubDate></item><item><title>وزیر اعظم کی انقلابی ترجیحات</title><description>قومی اسمبلی نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کی قراداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے، اس اعتماد پر کامیابی کے بعد وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں اراکین ے خطاب کرتے ہوئے اپنی پالیسی اور ترجیحات کا اعلان کیا ہے ۔وزیر اعظم نے گندم کی امدادی قیمت 510 سے بڑھاکر 625 روپے فی 40 کلو گرام کردی ہے ۔قانون کی حکمرانی اور اس پر عمل درآمدکو ترجیح یتے ہوئے ملک کے تمام اداروں کو استحکام فراہم کریں گے۔مہنگائی بے روزگاری کے خاتمے اور مزدوروں کی فلاح بہبود کا خیال رکھیں گے اسٹوڈنٹ یونین اور ٹریڈ یونین پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا ہے، مزدوروں کی تنخواہ کم سے کم چھ ہزار کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے نئے یونٹس لگانے کا وعدہ کیا ہے اور بجلی بچت کا پیکیج اور عوامی سطح پر مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، بڑے ڈیم بنانے اور پانی سے بجلی حاصل کرنے پر زور دیاہے، اخراجات کو کم کرنے اور چھوٹی گاڑیوں کے استعمال پر زور دیا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات 40 فیصد کم کرنے کا اعلان کیا ہے، ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کے لئے گھر اور جمہوریت کی بحالی کیلئے جانی و مالی نقصان اٹھانے والوں کی امداد کا اعلان بھی کیا ۔ اس کے علاوہ پیمرا قوانین کو ختم کرنے اور میڈیا کو محکمہ اطلاعات کے تحت کرنے کیلئے پالیسی بنانے کا اعلان کیا، نجی اور سرکاری اداروں مین ملازمت دینے کا اعلان بھی کیا ہے، ملک میں دہشت گردی ختم کرنے اور امن و امان بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں معاشی اور سیاسی اصلاحات اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔وزیر اعظم کے ان انقلابی اعلانات پر آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2642</link><pubDate>3/29/2008</pubDate></item><item><title>پاک افغان سرحد ی علاقہ امریکی نشانے پر ؟</title><description>امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے ) کے ڈائریکٹرمائیکل ہیڈن کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے پاک افغان سرحد کے محفوظ علاقوں میں گزشتہ18ماہ سے پناگاہیں قائم کرلی ہیں اورانہیں مغربی ممالک پر حملے کی تربیت دی جارہی ہے جو مغربی ممالک کے لئے خطرہ ہے۔انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ القاعدہ ایسے افراد کو تربیت دے رہی ہے جو بظاہر غیر ملکی نظر آتے ہیں اور ایسے افراد با آسانی امریکا میں داخل ہوسکتے ہیں۔کیامائیکل ہیڈن کا بیان کسی پیشگی خطرے کی گھنٹی ہے؟ کیاامریکا پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کا جواز تلاش کررہا ہے؟امریکی مفاد کو جواز بنا کر ان علاقوں میں کارروائی مزید دہشت گردی کوہوا دینے کی باعث نہیں ہوگی؟ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2647</link><pubDate>3/31/2008</pubDate></item><item><title>چھ ہزارروپے میں گھر کا بجٹ بن سکتا ہے؟</title><description>وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی تقریر کے دوران جو ترجیحات پیش کی ہیں ، ان کے مطابق مزدور کی کم از کم تنخواہ 6 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیر اعظم کا یہ اعلان قابل تحسین تو ہوسکتا ہے لیکن مہنگائی کے اس دور میں چھ ہزار روپے میں گھر چلانا انتہائی مشکل کام ہے۔ایک غریب آدمی کے اخراجات میں مکان کا کرایہ،اشیائے خورد و نوش،یوٹیلیٹی بلز، بچوں کی اسکول فیس اور دیگر اخراجات شامل ہیں جنہیں 6 ہزار روپے میں پورا کرنا آج کے دور میں انتہائی مشکل ہے۔کیا چھ ہزار روپے میں گھر کا بجٹ بن سکتا ہے؟۔آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2648</link><pubDate>3/31/2008</pubDate></item><item><title>اب دودھ بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر؟</title><description>ہمارے ملک میں کسی بھی چیز کی قیمت کا تعین کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے، ابھی آٹے، گھی چاوال کی قیمتوں کا ذکر ہو رہا تھا کہ دودھ کی قیمتوں میں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔دوھ دہی ،گھی ،تیل سب ہی روز مرہ کے استعمال کی اشیاء خورد و نوش میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ دودھ کی قیمتیں سال میں 4 بار بڑھنا المیہ ہے ،دودھ  34 روپے سے 36 روپے اور اب 42 روپے لیٹرکردیا گیا ہے۔ ایک عام آدمی کے لئے دودھ کا حصول روز بروز دسترس سے باہر ہوتا جارہا ہے ۔ امپورٹیڈ خشک دودھ پہلے ہی مہنگا ہے، دودھ کی قیمت میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟ حکام سرکاری نرخ پر دودھ کی فروخت یقینی بنانے میں کیوں ناکام ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دودھ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2649</link><pubDate>4/1/2008</pubDate></item><item><title>شعیب اختر پر5سال کی پابندی</title><description>پاکستان کرکٹ بورڈ کی ڈسپلنری کمیٹی نے شعیب اختر پر پانچ سال کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ان پرپہلے ہی 13میچ کی پابندی لگا دی گئی تھی،اب شعیب اختر پر 5سال کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس بات کا اعلان پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس پابندی پر اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2651</link><pubDate>4/1/2008</pubDate></item><item><title>سندھ اسمبلی میں رونما ہونے والاافسوسناک واقعہ !</title><description>

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پرسابق وزیر اعلیٰ سندھ اور مسلم لیگ ق کے رہنما ارباب غلام رحیم کے ساتھ بعض مشتعل افراد نے بدسلوکی کی اور انہیں زدو کوب کیا۔اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی زبردست نعرے بازی اور ہلڑ بازی کی گئی، اس طرح کے واقعات سے اسمبلی کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لئے سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے کہ اس طرح کے واقعات جمہوری اقدار کے منافی ہیں؟کیا اس طرح جمہوری نظام پنپ سکے گا؟ کیا یہ واقعہ کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تو نہیں؟ ۔آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2681</link><pubDate>4/8/2008</pubDate></item><item><title>شیرافگن پر تشدد!</title><description>لاہور میں وکلاء نے سابق وفاقی وزیر شیر افگن خان نیازی کو تشدد کا نشانہ بنادیا اور اس سے قبل انہیں کئی گھنٹے ایک ہوٹل میں محصور کرکے رکھ دیا اور پاکستان بار کونسل کے صدر چودھری اعتزاز احسن نے وہاں پہنچ کر وکلاء سے انہیں رہا کرنے کی اپیل کی، جو ناکام رہی۔ بعد ازاں وہاں سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہونے والے وکلاء نے انہیں تشددکا نشانہ بنا ڈالا اور وہ بری طرح زخمی ہوگئے۔ چودھری اعتزاز احسن نے اس ناکامی پر پاکستان بار کونسل کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔ 

 کہیں یہ وکلاء کی تحریک کو سبوتاژ کرکے کی گھناؤنی سازش تو نہیں؟ کیا یہ جمہوریت کے فروغ میں رکاوٹ تو نہیں ہے اس کے پس پردہ کون سے عناصر ہوسکتے ہیں ؟ اس طرح بدنظمی پر وکلاء کی تحریک کیا رنگ لائے گی؟ کیا عدالتی انصاف کو گزند نہیں پہنچے گی ؟ کیا یہ کسی مہذبب معاشرے کی علامت ہے؟ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2682</link><pubDate>4/8/2008</pubDate></item><item><title>آئی پی ایل :کر کٹ کے عظیم کھلاڑیوں کا ٹکراؤ</title><description>جنوبی ایشیا میں کرکٹ کا کھیل انگریزوں نے متعارف کرایا جوکسی زمانے میں راجاؤں اور نوابوں کا کھیل ہوتا تھالیکن آج کرکٹر اتنے امیر ہوچکے ہیں کہ راجہ اور نواب بھی ان کے آٹو گراف لینے کے لئے بے چین ہیں ،کیری پیکر کے بعد اب لیگ کرکٹ نے دنیا بھر کے کمرشل اداروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروالی ہے، کیری پیکر نے اپنا سرکس آسٹریلیا میں لگایا تھا لیکن للیت مودی کا میلہ بھارت میں سجے گا۔ اس میلے میں ایک ذہن نہیں آٹھ فرنچائز خریدنے والے اپنے اپنے انداز میں اپنے رنگ ڈھنگ سے میدان میں آرہے ہیں۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والی انڈین پریمئر لیگ کیلئے اسٹیج تیار ہے۔آئی پی ایل میں دنیا بھر کے تقریباً 75 سپر اسٹارز اپنے جوہر دکھائیں گے۔ 45 دن کے دوران 8 ٹیموں کے درمیان 59 ٹوئنٹی 20 میچوں میں سنسنی خیز مقابلوں کی توقع ہے۔ اس ایونٹ کو عالمی کرکٹ میں ایک انقلاب قرار دیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بولی وڈ اسٹار شاہ رخ خان، پریٹی زنٹا، مکیش انبانی اور وجے مالیا جیسے ارب پتی تاجروں نے انڈین پریمئر لیگ کی فرنچائز خریدی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ سے کھلاڑیوں کو سالانہ کروڑروپے کی آمدنی ہوگی جبکہ انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کا بنک بیلنس دو گنا ہوجائے گا۔ انڈین پریمئر لیگ کا آئیڈیا، بھارتی بورڈ کے نائب صدر للیت مودی کا ہے جو خود بھی بزنس مین ہیں انہوں نے طویل عرصہ امریکا میں اسپورٹس مارکیٹنگ کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے انگلش پریمئر لیگ کی طرز پر کرکٹ لیگ چلانے کا چیلنج قبول کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دس سال کیلئے نشریاتی حقوق مقامی کمپنیوں نے66ارب روپے میں خریدے ہیں اور جیو نے ان سے حقوق حاصل کئے ہیں۔

آپ سمجھتے ہیں کہ اس ٹورنامنٹ سے کرکٹ کو فروغ حاصل ہوگا؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2710</link><pubDate>4/17/2008</pubDate></item><item><title>سند ھ پولیس کیلئے مراعات کا اعلان!</title><description>سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے سندھ پولیس میں فوری طور پر ساڑھے آٹھ ہزار اہلکاروں کی بھرتی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان بھرتیوں کے علاوہ مزید 10 ہزار بھرتیاں کرنا ہوں گی تاہم یہ بھرتیاں بعد میں ہوں گی، تمام بھرتیوں کے لئے باقاعدہ اشتہارات شائع کرائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ سندھ خصوصاً کراچی اور حیدرآباد میں امن کا قیام ہماری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ سندھ پولیس میں سپاہی کی بنیادی تنخواہ کو پنجاب کے سپاہی کی بنیادی تنخواہ کے برابر لایا جائے گا۔ آئندہ شہید پولیس اہلکار کے ورثا کو تین کے بجائے 5 لاکھ روپے کی رقم دی جائیگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کوئی پولیس اہلکار وردی کے بغیر اپنے فرائض انجام نہیں دے گا۔ پولیس اہلکاروں سے 16 کے بجائے 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جائے گی اور بعد میں اسے 8 گھنٹے کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں انہیں ہفتے میں ایک یوم کی چھٹی بھی دی جائے گی انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پولیس سے رشوت کا کلچر ختم کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کریں گے کسی پولیس اہلکار پر رشوت ستانی کا الزام ثابت ہوگیا تو اسے برطرف کر دیا جائے گا۔ 

# آپ کے خیال میں اس سے پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی؟ 

# پولیس کے محکمہ میں رشوت کا خاتمہ ہوگا؟

# قانون کی حکمرانی قائم ہوسکے گی؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2711</link><pubDate>4/17/2008</pubDate></item><item><title>پٹر ول اور ڈیزل ایک بار پھر مہنگا ہوگیا!</title><description>حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید تین روپے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت بڑھ کر68 روپے81 پیسے،ڈیزل50 روپے12پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ضروریات زندگی مزید مہنگی ہوجائینگی۔ذرائع نقل و حمل کرائے اور ذرائع آمد و رفت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اس ہوشرباء گرانی پر آپ کیا کہیں گے؟
</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2714</link><pubDate>4/18/2008</pubDate></item><item><title>30 اپریل تک ججز کی بحالی ممکن ہو سکے گی؟</title><description>پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور مرکزی نائب صدرمخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ اگر یکم مئی تک ججز بحال نہ ہوئے تو تو ہم سسٹم تباہ نہیں ہونے دیں گے اور وزارتیں چھوڑ دیں گے جبکہ وفاقی وزیر قانو ن کا کہنا ہے کہ سفارشات مرتب کرکے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو بھجوادی ہیں، فیصلے آئین و قانو ن کے مطابق کئے جائیں گے جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ججزبحالی کی قراداد پیش نہیں کی جاسکی۔

# … کیا 30 اپریل تک ججز کی بحالی ممکن ہوسکے گی؟

#…اعلان مری پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ہوسکے گا؟

#…ججز بحال نہ ہوئے تو ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ 

</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2729</link><pubDate>4/26/2008</pubDate></item><item><title>شعیب اخترپاکستان کے سوا کہیں بھی کھیل سکتے ہیں!</title><description>شعیب ا ختر کو پاکستان کے سوا کہیں بھی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ایپلٹ کمیٹی کے چےئر مین جسٹس(ر) آفتاب فرخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ شعیب اختر 5سال کے لئے پاکستان میں اور پاکستان کی جانب سے نہیں کھیل سکتے تاہم وہ بیرون ملک کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور آئی پی ایل کھیلنا چاہیں تو کھیل سکتے ہیں، ڈسپلنری کمیٹی نے شعیب پر صرف پاکستان میں کھیلنے پر پابندی عائد کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شعیب کو پاکستان ٹیم میں5سال تک کوئی سلیکشن نہیں ملے گی۔کیاآپ سمجھتے ہیں کہ شعیب اختر کو صرف پاکستان سے باہر کھیلنے کی اجازت دے کر ان کی کرکٹ کو محدود کردیا گیا ہے؟ معافی مانگنے کے باوجودشعیب اختر کو ٹیم میں شامل نہ کرنے کے فیصلے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟کیا شعیب اخترکا کرکٹ کیریئر ختم ہوگیا؟ آپ کی کیا رائے ہے۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2738</link><pubDate>4/30/2008</pubDate></item><item><title>ججز کی بحالی:ن لیگ ،پیپلز پارٹی مذاکرات ناکام</title><description>پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان لندن میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے،نواز شریف اور آصف زرداری ججز کی بحالی پر متفق نہ ہوسکے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں بڑی پارٹیوں کا اتحاد قائم رہ سکے گا ؟موجودہ حالات میں قومی اسمبلی کیا صورت اختیار کرے گی؟۔ پیپلز پارٹی کسی دوسرے ممکنہ اتحاد یا اشتراک کا سوچ رہی ہے؟ کیا اب بھی ججز کا مسئلہ نیا بحران پیدا کرسکتا ہے؟ کیا نواز شریف کوئی بڑا قدم اٹھاسکتے ہیں ؟ کیا صدر مملکت آئین سے ماوراء اقدام اٹھاسکتے ہیں ؟ کیا قومی اسمبلی کا مستقبل خطرے میں ہے؟۔اس بحران کو ٹالنے کے لئے کیا حکمت عملی درکار ہوگی؟ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2750</link><pubDate>5/12/2008</pubDate></item><item><title>ن لیگ نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا</title><description>مسلم لیگ ن نے وفاق میں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔ن لیگ کے سربراہ نواز شریف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ججز کی بحالی کے معاملے پر آصف زرداری سے سمجھوتے کی ہر ممکن کوشش کی جوناکامی سے دوچار ہوگئی،لندن میں مذاکرات میں ناکامی کے بعد نواز شریف نے کہا کہ وہ انتہائی دکھ کے ساتھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کررہے ہیں۔ن لیگ کے اس اقدام سے ملک کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیاحکومتی اتحادبرقرار رہ سکے گا؟ ن لیگ حکومتی اتحاد میں رہتے ہوئے شراکت اقتدارسے کس طرح الگ رہ سکے گی؟ پیپلز پارٹی کا اگلا قدم کیا ہوسکتا ہے ؟کیاپیپلز پارٹی ، ق لیگ سے اتحاد کرے گی؟ کیا ن لیگ وکلاء تحریک میں شامل ہوجائے گی؟ اس بدلتی صورتحال پر وکلاء کیا رویہ اختیار کریں گے؟ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2751</link><pubDate>5/12/2008</pubDate></item><item><title>بجلی کی بچت کے لئے اقدامات کا اعلان !</title><description>وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی کی بچت کے لئے کچھ اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔یکم جون سے گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کردی جائیں گی، دکانیں رات 9 بجے بند ہوجائیں گی اور کاروباری مراکز جمعہ کو چھٹی کریں گے، سرکاری دفاتر میں ائیر کنڈیشن صبح 8 سے 11 بجے تک بند رکھنے کاحکم دیا گیا ہے۔بجلی سے چلنے والے سائن بورڈاور ہورڈنگز پر پابندی لگادی گئی ہے۔ بازار اتوار کو کھلے رہیں گے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے ان اقدامات سے بجلی کی بچت ممکن ہوسکے گی؟ کیا ان اقدامات کو پذیرائی مل سکے گی ؟ان اقدامات سے کاروباری سرگرمیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2761</link><pubDate>5/15/2008</pubDate></item><item><title>ڈاکوؤں پر تشدد یا عوام کا عدم تحفظ پر احتجاج</title><description>کراچی میں اسٹریٹ کرائمز کی شرح بڑھتی جارہی ہے موبائل اورپر س چھیننے وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں شہریوں نے از خود کارروائی کرکے ڈاکوؤں کوتشدد کا نشانہ بناکر زندہ جلاکر ہلاک کردیا۔اس نوعیت کا پہلا واقعہ رنچھوڑ لائن جبکہ دوسرا نارتھ ناظم آباد میں پیش آیا۔ اس کے پس پردہ عناصر کون ہیں؟کیا یہ واقعات پولیس پر عوام کے عدم اعتماد کا نتیجہ تو نہیں؟کیا یہ نیا رجحان عوام میں عدم تحفظ اور انتقام کا جذبہ تو پیدانہیں کر رہا ہے؟ اکثر مواقع پر پولیس ان ڈاکوؤں کو کو گرفتار کرنے میں پس وپیش سے کام لیتی ہے ، کیا اسی وجہ سے عوام میں اپنے طور پر سزا دینے کا رجحان پرورش پا رہا ہے؟ پولیس شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے لیکن پولیس کی جانب سے تحفظ کی عدم فراہمی پر شہری اپنی جان و مال کا تحفظ خود کرنے لگے تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوگا؟کیا اس طرح جرائم کا سدباب ہوسکے گا؟آپ کے خیال میں مشتعل شہریوں کو یہ رویہ درست ہے؟ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔</description><link>http://jang.net/blog/blog_details.asp?id=2765</link><pubDate>5/17/2008</pubDate></item></channel></rss>