<?xml version='1.0' encoding='Windows-1256' ?>
<rss xmlns:atom='http://www.w3.org/2005/Atom' version='2.0'>
<channel>
<title>Daily Jang - Top Stories</title>
<atom:link href='http://jang.net/tp_db_agg/jangfeeds/Top-Stories.xml' rel='self' type='application/rss+xml'/>
<link>http://beta.jang.com.pk</link>
<description>Get latest and breaking news about Pakistan and World, Sports, Business, visit http://beta.jang.com.pk</description>
<lastBuildDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</lastBuildDate>
<language>en-us</language>
<item>
<title>سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کیلئے پاکستان کی مدد کریں گے، چینی وزیراعظم کی یقین دہانی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95018</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95018</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95018_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد (صالح ظافر) چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ توانائی کی پیداوار بڑھانے کی خاطر سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کیلئے پاکستان کی مدد کریں گے ، کراچی سمیت بڑے شہروں میں میٹرو بس سروس اور بلٹ ٹرین سروس اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سرمایہ کاری کی جائے گی ۔ چینی وزیراعظم کی جانب سے اس عزم کا اظہار پاکستانی پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے دوران کیا۔ بعض اہم منصوبوں پر آئندہ بحث کی جائے گی جب نواز شریف وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کریں گے ملاقات کے دوران سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ن لیگی رہنما چوہدری نثار اور سینیٹر اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ نواز شریف نے چینی وزیراعظم سے کہا کہ چین پاکستان کو مدد دینے کی بجائے یہاں سرمایہ کاری کرے اور تجارتی حجم میں اضافہ کرے جس سے جہاں چین کوفائدہ ہوگا وہیں پرپاکستان میں روزگارکے مواقع بھی بڑھیں گے، دونوں ممالک مل کر خطے میں امن و امان اور معاشی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کریں گے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ چین گوادرپورٹ کو جلد از جلد آپریشنل بنائے تاکہ پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کوفروغ مل سکے۔ دونوں رہنماوٴں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جبکہ چینی وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے نواز شریف کی کاوشوں کا سراہا۔ چینی وزیراعظم نے میاں نواز شریف کو عام انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے نئی حکومت اور پاکستان کے عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے خیر سگالی کے جذبات کے اظہار پر چینی وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اپنے عوام کے باہمی مفاد میں ملکر کام کرتے رہیں گے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں میاں نواز شریف نے کہا کہ چین ہمارا قابل اعتماد دوست ہے اور پاکستان اور چین ہر اہم ایشو پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ چینی وزیراعظم نے انہیں دورہ چین کی دعوت بھی دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ چینی وزیراعظم کے ساتھ مختلف منصوبوں کے حوالے سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین ہمارا آزمودہ دوست ہے اور چین کے ساتھ مستقبل میں تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور اقتصادی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔#…اسلام آباد (نمائندہ جنگ / ایجنسیاں) چین کے وزیر لی کی چیانگ نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور چٹان سے بھی زیادہ مضبوط ہے ، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے ساتھ ہیں اور معاشی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے اور اسٹرٹیجک تعلقات جاری رکھیں گے۔ چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے گزشتہ روز سینیٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انفرااسٹریکچر، معاشی ترقی میں مدد، شاہراہ ریشم کی اپ گریڈیشن پاکستانی نوجوانوں کو چین میں تعلیمی مواقع کی فراہمی اور پاک چین اقتصادی راہداری پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر آزمائش میں پورااترنے والا بہترین دوست ملک ہے زلزلے کے بعد مدد پر پاکستان کے ممنون ہیں بہادر اور محنت کش پاکستانی قوم نے تمام چیلنجوں کے باوجود ترقی حاصل کی ہے امن و استحکام میں نمایاں کردار ادا کرنے کی وجہ سے پاکستان کا عالمی اثرورسوخ بڑھ رہا ہے۔ چینی وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی کیلئے کام کرنیوالوں کو سلام پیش کرتا ہوں6 دہائیوں پر مشتمل تعلقات آنیوالی نسلوں کو منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چینی بھائی بھائی ہیں حالات خواہ کچھ بھی ہو چین کسی دباوٴ کے بغیر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھے گا۔ انہوں نے سینیٹ سے خطاب کو اپنے لئے ایک اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کی ہر طرح سے مدد کریں گے جو درحقیقت خودہماری اپنی مدد کے مترادف ہے، پاکستان نے خطے میں ان کیلئے بڑا کام کیا ہے او آئی سی کے اہم رکن کی حیثیت اسلامی جماعت میں پاکستان کی اہمیت بھی ایک غیر معمولی بات ہے۔ پاکستانی قوم محنت کشوں اورجفا کش لوگوں کی عظیم قوم ہے جس نے عام چیلنجز کے باوجود ترقی حاصل کی ہے ہم پاکستانی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ چینی وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی اور داخلی معاہدے خواہ کچھ بھی ہولیکن دونوں ملک عظیم دوست تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ پاکستان نے چین میں آنے والی قدرتی آفات سمیت بعض مشکل مراحل میں جس طرح چین کی مدد اور حمایت کی چینی قوم اسے کبھی فراموش نہیں کریگی، انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان پوری دنیا میں بالخصوص جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں ترقی کیلئے مثبت سوچ اپنانا ہو گی ،چین پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات جاری رکھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو چین میں تعلیم فراہم کرنے کے آسان مواقع فراہم کیئے جائیں گے۔ شاہراہ قراقرم کی توسیع اور پاک چین اقتصادی راہداری پر کام ہو رہا ہے۔ چیئرمین سینیٹر نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں ہوا ۔ تمام جماعتوں کے ارکان سینیٹ نے چینی وزیر اعظم کا خیرمقدمی ڈیسک بجا کر زبردست استقبال کیا ۔ اپنے خطاب میں چینی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کا دورہ کر رہا ہوں پاکستان اور چین کے عوام کی دوستی طویل عرصے پر محیط ہے انہوں نے کہا کہ اس دوستی کو مضبوط بنانے کی کاوشیں کرنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں دوسرا دورہ پاکستان ہے پہلا دورہ 1986 میں کیا تھا پاکستان کے کئی شہر اور دیہات دیکھے عوام دوستوں ، رہنماؤں عام شہریوں سے ملاقاتیں ہوئیں ہر ایک کی زبان پر یہی نعرہ تھا کہ پاک چین دوستی زندہ باد ۔ 27 سال گزر گئے ہیں یہی نعرہ آج بھی میرے ذہن میں گہرے نقوش کی طرح محفوظ ہیں اور اسے کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا ۔ ایک دفعہ پھر پاکستان میں بھائی چارے کے جذبات کو محسوس کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات چٹان کی طرح مضبوط ہیں پاکستان قدیم تاریخ شاندار ثقافت کا حامل عظیم ملک ہے ۔ جب دوسرے ملکوں کی تاریخ اور تہذیب کی شروعات تھی پاکستان میں شاندار قدیم تہذیبیں جنم لے رہی تھیں انہوں نے کہاکہ موئنجو دڑو دل فریب گندھارا برشکوہ قلعہ لاہور ، عظیم بادشاہی مسجد پاکستان کی رنگ رنگ تہذیب اور ثقافت کا اظہار ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں قیام پاکستان سے اب تک ان برسوں میں پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ۔ اس کے باوجود ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے نمایاں کامیابی ملی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے پاکستان عالمی اور علاقائی امور اور امن و استحکام میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے ۔ او آئی سی کا اہم رکن ہونے کی وجہ سے پاکستان اسلامی دنیا کا بااثر ملک ہے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء میں تعاون کے فروغ کے لئے گرمجوشی سے کردار ادا کر رہا ہے ۔ اور علاقائی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کر رہا ہے ۔ شاہراہ ریشم سے یہ رابطے قائم ہوئے اور ناقابل فراموش تاریخ رقم ہوئی ۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ گہرے روابط کے حوالے سے چین کے ایک مندر کی مثال دی اور کہا کہ اس مندر کی تعلیمات پاکستان سے ہی آئی تھیں۔ 1951 میں باضابطہ پاک چین سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور تعاون کا نیا باب رقم ہوا۔ ہر دن یہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں یہ تعلقات اصول ، سچائی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں تعلقات نصف صدی پر محیط ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقتدار اعلیٰ اور خودمختاری کی وجہ سے کردار نے لوگوں کو متاثر کیا ہے ۔ دکھ سکھ سانجھے ہیں بااعتماد اور برادر ملک ہیں ۔ ہم بھائی بھائی ہیں خوشیاں اور غم ، ایک ساتھے رہتے ہیں ۔ چین کے مفادات کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ ثابت قدمی سے مظاہرہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ پچھلی صدی میں 1960 کے عشرے میں پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے چین کے ساتھ فضائی رابطے قائم کئے۔ انہوں نے چینی زبان کے لئے پاکستان کے ایک ہزار اساتذہ کو تربیت فراہم کرنے اور کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ پاکستان کے 100 نوجوان کو مزید تعلیمی اسکالر شپ دیں گے انہوں نے کہاکہ ہم چین کی یونیورسٹیوں میں پاکستانی نوجوانوں کا خیر مقدم کریں گے چینی طالب علم بھی پاکستانی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کریں گے چین کے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم بھی اردو زبان سیکھیں گے۔ چین کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب کو پاک چین دوستی کے نعرہ سے مکمل کیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>الطاف حسین نے ایم کیوایم پاکستان اور لندن کی رابطہ کمیٹی تحلیل کردی، 12 رکنی عبوری کمیٹی قائم</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95019</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95019</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95019_s.jpg</url></image>
<description>کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم پاکستان اور لندن رابطہ کمیٹی اور نائن زیرو کی انتظامی کمیٹی تحلیل کردی ہیں۔ اس بات کا اعلان ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے نائن زیرو عزیزآباد میں تحلیل شدہ رابطہ کمیٹی کے ارکان اور مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کے اجلاس سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے شعبہ اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم کی سابقہ رابطہ کمیٹی کے رکن محمد انور جوکہ لندن میں پارٹی کے انٹرنیشنل افیئرز سے متعلق امور کی نگرانی کرتے ہیں، انہیں ان کی علالت کے باعث ان کی ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیاہے جبکہ تنظیمی معاملات کی نگرانی کیلئے 12رکنی عبوریکمیٹی قائم کردی گئی ہے جو 25 مئی بروز ہفتہ تک تنظیمی امور چلائیگی۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماوٴں اور کارکنان کا دوسرا اہم جنرل ورکرز اجلاس ہفتہ کو لال قلعہ گراوٴنڈ میں منعقد ہوگا جس سے الطاف حسین خطاب کریں گے ، اجلاس میں پاکستان اور لندن کی نئی رابطہ کمیٹی میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان کیا جائیگا۔ دریں اثناء الطاف حسین نے عارضی طور پر تنظیمی امور چلانے کیلئے ایک 12رکنی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر نصرت، ڈاکٹر صغیر احمد، کنور نوید جمیل، عامر خان، سیف یار خان، اشفاق منگی، یوسف شاہوانی، گلفراز خان خٹک، افتخار رندھاوا اور ممتاز انور شامل ہوں گی۔ الطاف حسین نے ایڈہاک کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 25 مئی تک روزانہ کی بنیاد پر تنظیمی امور کی نگرانی کریں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الطاف حسین گزشتہ چار دنوں سے مسلسل تنظیمی امور میں تبدیلی کے حوالے سے لائحہ عمل طے کررہے ہیں، وہ روزانہ 21 گھنٹے کام کررہے ہیں جبکہ تین گھنٹے صرف آرام کررہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی کی تشکیل کے بعد ملک بھر کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی جائیگی، کراچی تنظیمی کمیٹی کی تشکیل کے ساتھ تمام سیکٹرز اور یونٹس کی سطح پر بھی عہدیداروں میں تبدیلی عمل میں لائی جائیگی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الطاف حسین براہ راست لندن سے تمام امور کی خود نگرانی کررہے ہیں۔#…کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطا ف حسین نے ایم کیو ایم کے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طورپر اپنے آپ کو خوداحتسابی کے عمل سے گزاریں اوراپنی اصلاح کریں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کی شب ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو پر رابطہ کمیٹی کے ارکان سے گفتگوکرتے ہوئے کہی الطاف حسین نے تحریک میں خوداحتسابی کے عمل کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ جوتحریکیں اپنے اندرخوداحتسابی کاعمل کرتی ہیں اوراپنی غلطیوں کوتسلیم کرکے ان کی اصلاح کرتی ہیں وہ نہ صرف قائم رہتی ہیں بلکہ اپنے اندر بہتری لاکر ترقی بھی حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی انسان غلطیوں اورخامیوں سے مکمل طورپر پاک ،پرفیکٹ یاکامل نہیں ہوتا، ہرانسان سے غلطیاں اور کوتاہیاں ہوتی ہیں مگریہ انسان کی بشری خامی ہے کہ جب اسے اس کی غلطیوں اورخامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تووہ انہیں تسلیم کرنے کے بجائے اپنی وضاحتیں کرنے لگ جاتاہے اور وضاحتیں کرکے اپنی اصلاح سے گریزکرتاہے، اس طرح وہ اصلاح سے گریز کرکے دراصل اپنے اندر بہتری اورترقی کا دروازہ بند کردیتا ہے لہٰذااگرغلطیوں اورخامیوں کی نشاندہی کی جائے تو ہمیں اس کابرامنانے اور اس پر وضاحتیں کرنے کے بجائے ان غلطیوں اور خامیوں کونہ صرف کھلے دل سے تسلیم کرناچاہیے بلکہ ان کی اصلاح بھی کرناچاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اوربہتری کیلئے اصلاح کا عمل ضروری ہے، جہاں اصلاح کی گنجائش ہے وہیں بہتری اور ترقی ہے اورجہاں اصلاح کی گنجائش نہ ہو وہاں بہتری اور ترقی نہیں ہوسکتی۔ الطاف حسین نے کہا کہ انسان کو اپنے آپ کو پرفیکٹ یا کامل سمجھنے کے بجائے خودکوایک طالبعلم سمجھنا چاہیے اور سیکھتے رہنا چاہیے کیونکہ سیکھنے کاعمل کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ آخری سانس تک جاری رہتاہے۔ الطاف حسین نے کہاکہ اناپرستی اور غرور و تکبر ایسی بیماریاں ہیں جوانسان کوتباہی کی طرف لے جاتی ہیں لہٰذا ہمیں اپنے اندرسے اناپرستی کا خاتمہ کرناچاہیے اورغرور،تکبر اورگھمنڈمیں کسی بھی قیمت پر مبتلانہیں ہوناچاہیے۔انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کوغروروتکبر کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رکھے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>کوئٹہ میں بلوچستان کا نسٹیبلری کی گاڑی پر بم حملہ، 12 اہلکاروں سمیت 13 جاں بحق</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95020</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95020</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95020_s.jpg</url></image>
<description>کوئٹہ(ایجنسیاں) کوئٹہ کے نواحی علاقے گھاس منڈی کے قریب رکشے میں نصب بم کے ذریعے بلوچستان کانسٹبلری کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں 12 اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہو گئے۔ 5 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے کیا گیا جس میں 100 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کی جگہ کئی فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا‘واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو کوئٹہ کے نواحی علاقے مشرقی بائی پاس پر بلوچستان کانسٹبلری کے ریپیڈ ریسپانس گروپ کا ایک دستہ ٹرک میں سول سیکرٹریٹ پر تعیناتی کے لئے آرہا تھا کہ سڑک کنارے رکشہ میں نصب بارودی مواد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنائی دی گئی۔ دھماکے سے بلوچستان کانسٹبلری کا ٹرک مکمل تباہ ہوگیا۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد اہل کاروں کی ہے جبکہ عام شہری بھی دھماکے کی زد میں آئے۔جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو سول اور کمبائن ملٹری اسپتال منتقل کردیاگیا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا اور اس میں تقریباً ایک سو کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ فیاض احمد سنبل کا کہنا تھا کہ بم رکشہ میں نصب کیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے علاقہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ پورے شہر میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور مسلم لیگ ن کے میاں محمد نواز شریف نے حملے کی شدید مذمت کی۔ الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعہ کھلی دہشت گردی ہے، سفاک درندے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں دھماکے اور دہشت گردی کے ذریعے انارکی اور بدامنی پھیلانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔الطاف حسین نے صدرمملکت آصف علی زرداری ،نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو اورارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے دھماکہ کا فی الفور نوٹس لیاجائے اور واقعہ میں ملوث سفاک دہشت گردعناصر کوگرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سے سخت سز ادی جائے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>صلاحیت سے 23 فیصد کم بجلی بنارہے ہیں، لوڈشیڈنگ 8 گھنٹے تک لائی جاسکتی ہے، وزیربجلی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95021</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95021</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95021_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد(ثناء نیوز) بجلی و پانی کے نگراں وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فوری ریلیف کیلئے 18 ہزار ٹن تیل اور 15 کروڑ ایم ایف گیس چاہیے ، سرکاری کارخانے 13 ارب ماہانہ لیکر 650 میگا واٹ دیتے ہیں جبکہ 10ارب نجی اداروں کو دیں تو 1150 میگاواٹ ملیں گے، وزیراعظم سے منظورشدہ ساڑھے 23 ارب میں سے صرف 5 ارب ملے ،یہ بھی پی ایس او کوجانے ہیں،بات مان لی جائے تو پیداوار 13 ہزار میگاواٹ تک لے جا سکتے ہیں۔اپنے ایک انٹرویو میں مصدق ملک نے کہا کہ ہم اپنی صلاحیت سے 23 فیصد کم بجلی بنا رہے ہیں اور اس میں 17 سے 18 فیصد سے ہماری پیداوار ساڑھے بارہ سے 13 ہزار میگاواٹ تک لے جائی جاسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں جاری طویل لوڈشیڈنگ کا فوری حل پیداوار میں اضافے کے لیے ان بجلی گھروں کو ایندھن فراہم کرنا ہے جو اپنی پوری استعداد پرکام نہیں کر رہے۔ اگر بجلی گھروں کوتیل اورگیس فراہم کردیں توآج کی پیداوار میں ہی ڈھائی ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ قابلِ ذکر حد تک کم ہو کر سات سے آٹھ گھنٹے تک آسکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آٹھ سو سے ایک ہزارمیگا واٹ کے یونٹ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے بند ہیں اور جنگی بنیادوں پراگرانہیں بحال کر لیا جائے تو چند ماہ میں یہ اضافی بجلی بھی مل سکتی ہے۔مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگر قوم کو ریلیف دینا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ 16 سے 18 ہزار ٹن تیل، 150 ملین مکعب فٹ گیس یا اس کے متبادل ڈیزل کی فراہمی ہے۔تاہم نگراں وزیر نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے رقم ریلیز نہ کرنے کی شکایت کی اورکہا کہ وزیراعظم کے دفتر سے ساڑھے 23 ارب روپے کی رقم منظورکروا کر نکلے تھے لیکن وزارت تک یہ رقم پہنچ نہیں پائی۔ اور اب تک مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس رقم کے اجراء کی منظوری کے دو دن بعد بھی ان کی وزارت کو صرف 5 ارب روپے ملے ہیں جن کے بارے میں پہلے سے طے ہے کہ یہ پی ایس او کو ملیں گے۔اگر یہ فیصلہ پہلے سے ہونا ہے کہ وزیراعظم جو بھی کہیں ہم پانچ ارب ہی دیں گے اور وہ بھی لکھ کر دیں گے کہ کہاں جانے ہیں تو پھر یہ وزارت بھی انہیں ہی چلا لینی چاہیے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بیشتر اقدامات میں نگراں حکومت کو ناکامی ہی ہوئی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دستیاب وقت میں مسائل کی نشاندہی کرلی ہے۔مصدق ملک نے بتایا کہ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے 76 ارب روپے کی رقم کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ 13 ارب روپے بجلی بنانے والے سرکاری کارخانوں کودیے جاتے ہیں اور ان سے 650 میگاواٹ بجلی ملتی ہے۔ اگر اس کی جگہ دس ارب نجی بجلی گھروں کودیں تو یہ پیداوار 650 کی جگہ 1150 ہوجائے گی۔اوراربوں روپے کی قوم کو بچت بھی ہوگی۔تاہم ان کا کہنا تھاکہ ہم وزارتِ خزانہ کوڈیڑھ ماہ میں دس ارب دینے کے لیے قائل نہیں کرسکے تاکہ قوم کا 76 ارب روپے بچ سکے۔انہوں نے اس خیال کو مستردکیاکہ گردشی قرضے موجودہ بحران کی بڑی وجہ ہیں۔ مصدق ملک نے کہا کہ توانائی کی معیشت کی تنظیمِ نو سب سے ضروری ہے۔نگراں وزیرکا یہ بھی کہنا تھا کہ توانائی کے بحران کے حل کے لیے قلیل یا طویل مدتی منصوبے اس وقت تک کارگر نہیں ہوسکتے جب تک بجلی کے ٹیرف پر نظرِ ثانی نہیں کی جاتی۔جب تک سبسڈی سب کو ملتی رہے گی بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>لندن، برطانوی فوجی کے قتل کے خلاف مظاہرے، مسجد پر حملہ، آگ لگانے کی کوشش ناکام</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95022</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95022</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95022_s.jpg</url></image>
<description>لندن( آصف ڈار/ایجنسیاں)لندن میں گزشتہ روز دو حملہ آوروں کی جانب سے برطانوی فوجی کے قتل پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف برطانیہ پر حملہ تھا بلکہ حملہ آوروں نے اپنے مذہب سے بھی غداری کی، واقعہ ان دونوں حملہ آوروں کا ذاتی فعل تھا اور اس کے لئے مذہب اسلام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ دہشت گردی کو شکست دے گا اور انتہاپسندی کے زہریلے پیغام کا مقابلہ کرے گا۔ ڈیوڈ کیمرون نے ان خیالات کا اظہار برطانوی حکومت کی قومی سلامتی کی کمیٹی ’کوبرا‘ کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے بعد کیا۔ ادھر لندن کے علاقے وول وچ میں برطانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد شہر میں مسلمانوں کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے، نسل پرست انگلش تنظیم ڈیفنس لیگ نے مظاہروں کا اہتمام کیا، وول وچ، کینٹ اور ایسکس میں مساجد پر حملے کیے گئے تاہم پولیس نے مسجد کو آگ لگانے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک 43سالہ شخص کو گرفتار کرلیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں ملزمان کا تعلق نائیجیریا سے ہے۔ نائیجیریا کا کہنا ہے کہ اگر برطانوی حکام نے درخواست کی تو ہم تحقیقات میں مکمل معاونت فراہم کرینگے۔ لندن اور اس کے آس پاس کی تمام فوجی چھاوٴنیوں کی سکیورٹی میں حفاظتی بندوبست سخت کر دیئے گئے ہیں۔ جمعرات کو وول وچ ملٹری بیرکس پر برطانوی پرچم سر نگوں رہا۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی کے قتل میں ملوث ملزمان سے برطانوی سیکورٹی فورسز پہلے بھی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبے میں تفتیش کرچکی ہے۔ ملزمان میں سے ایک 28سالہ مائیکل ادیبولاجو نو مسلم ہے۔ ہلاک ہونے والا فوجی افغانستان میں تعینات رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن کے علاقے وول وچ میں برطانوی فوجی کے قتل کو برطانوی طرزِ زندگی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان قاتلوں نے اپنے مذہب کو بھی دھوکہ دیا ہے۔یہ صرف برطانیہ پر حملہ نہیں تھا بلکہ اسلام سے بھی غداری تھی۔ لندن کے میئر بورس جونسن نے کہا کہ مذہب اسلام کو اس ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرانا بالکل غلط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خرابی مکمل طور پر یہ عمل سرانجام دینے والے لوگوں کی بیمار اور گمراہ ذہنیت میں ہے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم برطانوی مسلم کونسل نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسلام میں اس طرح کے قتل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ برطانوی پولیس نے اس واقعے کے تناظر میں جنوبی لندن میں ایک مکان پر چھاپا مارا، اس مکان سے چار افراد کو تفتیش کے لیے لے جایا گیا ۔ اس کے علاوہ پولیس نے مشرقی قصبے لنکن کے قریبی گاوٴں میں بھی ایک مکان کی تلاشی لی۔حملہ آوروں میں سے ایک کا نام مائیکل ادیبولاجو ہے اور اس نے2001ء میں اسلام قبول کیا تھا۔ لندن اور اس کے آس پاس کے تمام فوجی چھاوٴنیوں کی سکیورٹی میں حفاظتی بندوبست سخت کر دیئے گئے ہیں۔ جمعرات کو وول وچ ملٹری بیرکس پر برطانوی پرچم سر نگوں رہا۔ ادھر اس واقعے کے ردعمل میں مساجد پر حملے کے واقعات پیش آئے ہیں اور اس سلسلے میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ بریٹینی ایسکس میں واقع ایک مسجد میں چاقو لیکر داخل ہونے اور آگ لگانے کی کوشش کرنے کے الزام میں ایک 43 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>امریکا اور اسلام کی کوئی جنگ نہیں، القاعدہ اور اس کے حامیوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رہیں گے، اوباما</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95023</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95023</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95023_s.jpg</url></image>
<description>واشنگٹن(جنگ نیوز/ٹی وی رپورٹ)امریکا کے صدربارک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا اوراسلام کی کوئی جنگ نہیں،القاعدہ اوراس کے حامیوں کے خلاف ڈرون حملے جاری رہیں گے۔ ہمیں افغانستان میں ا پنا آپریشن مکمل کر کے باہر نکلنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی فوجیوں کی جانیں گئیں، افغانستان کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دیں گے، افغانستان کے باہر بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے ، پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن عام نوعیت کا نہیں تھا ، سعودی عرب کی مدد سے امریکا نے بحیرہ اوقیانوس میں ایک طیارہ تباہ ہونے سے بچایا، اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں کئی جانیں جانے کا خدشہ تھا ، ایبٹ آباد کمپاؤنڈ سے اہم ترین دستاویزات ملیں ، اسامہ کے خلاف آپریشن میں افغانستان میں امریکی انفرااسٹرکچر سے مدد ملی ، پاکستان کی حکومت نے اسامہ کے خلاف آپریشن میں تعاون کیا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا ہے۔قبل ازیں اپنے خطاب میں صدراوباما کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نئی انسداد دہشت گردی پالیسی کا اعلان کر رہے ہیں ،امریکا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف برطانیہ کے ساتھ ہے، لندن میں برطانوی فوجی کی ہلاکت خطرناک واقعہ ہے، امریکا کو آزادی کی قیمت کا اندازہ ہے، جنگ کا میدان تبدیل ہوگیا ہے، نائن الیون میں دہشت گردوں کا گروہ امریکا پر حملہ آور ہوا، القاعدہ کے ساتھ جنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے، اسامہ بن لادن مارا جا چکا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے اپنی کچھ بنیادی اخلاقیات ترک کردیں، ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکا محفوظ ہوگیا ہے، بن غازی سے ہوسٹن دھماکوں تک واقعات امریکا کے لئے سبق ہیں ، ڈرون حملوں کی وجہ سے ہم اپنے دشمن کو آسانی سے ہدف بنا سکتے ہیں، 7 ہزار امریکی فوجیوں نے اس جنگ میں اپنی جان دی ، کوئی قوم مسلسل جنگ کر کے کامیابی حاصل نہیں کر سکتی، القاعدہ کی قیادت افغانستان اور پاکستان میں شکست کے قریب ہے ، اب القاعدہ کو ہم پر حملے کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر ہے ، آج ہمیں القاعدہ کی بہت سی مقامی شاخوں کا سامنا ہے، القاعدہ کی مقامی شاخیں دنیا کے کئی ملکوں میں کام کر رہی ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ اسلام اور امریکا کسی جنگ میں ہیں، امریکا اور اسلام کی کوئی جنگ نہیں ہے، اس تاثر کو مسلمانوں کی اکثریت مسترد کر چکی ہے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرنے والی جماعت کے مطالبے پر الیکشن ختم نہیں کرسکتے، چیف جسٹس</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95024</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95024</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95024_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد (ٹی وی رپورٹ/ آن لائن) سپریم کورٹ نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کیخلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دیکرخارج کردیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا جس پارٹی نے بائیکاٹ کیا اس کی درخواست پر تو کبھی الیکشن ریورس نہیں کرینگے، پورے ملک میں اتنا بڑا الیکشن ہوا کیسے ختم کردیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے انتخابی دھاندلیوں سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے ابرار الحق نے عدالت کو بتایاکہ پورے حلقے میں سوگ کا منظر ہے انصاف کیلئے آیا ہوں،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کی درخواست سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، آپ کوالیکشن ٹربیونل میں جانا چاہئے،چیف جسٹس نے جماعت اسلامی کراچی کے وکیل سے پوچھاکہ آئین میں الیکشن بائیکاٹ کا کہاں لکھا ہے،جو الیکشن کا بائیکاٹ کرتا ہے اسے ہم رعایت کیسے دے سکتے ہیں۔ کیا ہم سارے انتخابی عمل کو ریورس کردیں، مبینہ دھاندلی کیخلاف درخواستیں آرٹیکل 184 کے زمرے میں نہیں آتیں۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>سب کے حقوق برابر ہیں، وزیراعظم آئین و قانون سے بالاتر نہیں، سپریم کورٹ</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95025</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95025</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95025_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد(ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے نگراں وزیراعظم کیخلاف غیر قانونی طور پر بیورو کریٹس کے تبادلوں اور توہین عدالت کیس کی سماعت آج جمعہ تک ملتوی کردی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے نگراں وزیراعظم کی جانب سے عدالتی حکم پر جواب داخل نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزیراعظم آئین و قانون سے بالاتر نہیں ۔ وزیراعظم اور سڑک پر چلنے والا عام آدمی حقوق کے لحاظ سے برابر ہیں وطیرہ بن گیا ہے کہ عدالت کا حکم نہیں ماننا۔ یہ بات غلط ہے کہ کوئی وزیراعظم ہونے کے ناطے استثنیٰ مانگے ۔ وزیراعظم کیخلاف اگر کوئی دیوانی مقدمہ قائم کردے تو انہیں پیش ہونا پڑے گا سابق جج ہونے کی وجہ سے عدالتی حکم پر عمل کرنا ان پر اور بھی زیادہ لازم تھا وزیراعظم سے کہیں کہ وہ آج جمعہ کو اپنا جواب عدالت میں جمع کرائیں انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کو دیئے ہیں جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>توقیر صادق کیس، نیب نے راجہ اور گیلانی کو طلب کرلیا، ڈھیڈھی کو بھی نوٹس</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95026</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95026</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95026_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد (رپورٹ…وسیم عباسی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) کے سابق چیئرمین توقیر صادق کے کیس میں سابق وزرا اعظم راجہ پرویزاشرف اور یوسف رضا گیلانی کو طلب کرلیا۔ توقیر صادق 82 ارب روپے کے کرپشن کیس کے بڑے ملزم ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق راجہ پرویز اشرف کو نیب کی تحقیقاتی و تفتیشی ٹیم کے سامنے 27 مئی اور یوسف رضا گیلانی کو 28 مئی کوپیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ راجہ پرویز اشرف اس انٹرویو بورڈ کے چیئرمین تھے جس نے توقیر صادق کا چیئرمین اوگرا کی حیثیت سے تقررکیا تھا، اس وقت یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے، نیب نے گذشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ دونوں وزرا اعظم توقیر صادق کے غیرقانونی تقرر میں براہ راست ملوث تھے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اوگرا کے چیئرمین کی حیثیت سے تقرری کالعدم اور82 ارب روپے کرپشن اسکینڈل میں گرفتاری کا حکم دیے جانے کے بعد توقیر صادق گذشتہ سال ابوظبی فرار ہوگئے تھے۔ توقیر صادق جن کے پیپلزپارٹی کی قیادت سے قریبی تعلقات رہے، اس نے پاسپورٹ منسوخ اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے کے باوجود توقیرصادق کو فرار میں مدد دی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>نگرانوں کی جانب سے عدالتی حکم کی پھر خلاف ورزی، اداروں کے ساتھ کھیل</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95027</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95027</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (انصار عباسی) سپریم کورٹ کی جانب سے نگراں حکومت کو اپنی باقی ماندہ مدت کے دوران مزید تقرریاں، تبادلے اور پوسٹنگ نہ کرنے کے احکامات جاری کرنے کے ایک ہی دن بعد نگراں حکومت نے جمعرات کو ایک آرڈیننس کے ذریعے صوبوں کو منتقل کی جانے والی وزارتوں کے ہزاروں ملازمین کو ان ہی اداروں میں مستقل جن میں ان کا تبادلہ کیا گیا تھا اور وہ اب بھی انہی اداروں میں کام کر رہے ہیں۔ سرکاری معاملات کے فیصلے کے لیے نئی منتخب حکومت کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کا انتظارکرنے کی بجائے نگراں حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ڈیپوٹیشن پر تعینات ہزاروں ملازمین کو ریگولر کردیا اور نہ صرف یہ بلکہ سول سروس کے حلقوں یعنی او ایم جی اور سیکریٹریٹ گروپ میں بھی تعیناتیاں کر ڈالیں۔ ان افسران کی مجموعی تعداد 10/ ہزار کے قریب ہے جس میں ڈھائی سو افسران کا تعلق سترہ سے انیس گریڈ سے ہے جنہیں آفس منیجمنٹ گروپ (او ایم جی) اور سیکریٹریٹ گروپ میں ضم کیا جا رہا ہے۔ بدھ کو ہی سپریم کورٹ نے نگراں حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام تقرریاں، تبادلے، پوسٹنگ اور سینئر عہدیداروں کو تبدیل کرنے کے عمل کو معطل کرتے ہوئے میر ہزار خان کھوسو کی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ نئی تقرریاں، تبادلے اور پوسٹنگ نہ کرے۔ سول بیوروکریسی کے ذرائع کے مطابق نگراں حکومت کا یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت اوایم جی گروپ میں گریڈ سترہ، اٹھارہ، انیس اور بیس میں تقرریوں پر پابندی عائدکی گئی تھی۔ ایک پریشان سرکاری ملازم کے مطابق نگراں حکومت نے یہ اقدامات کرکے غیر سی ایس ایس افرادکو بھی سی ایس ایس کیڈر میں شامل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح بڑے کیڈرکا سروس ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم وقت پر یہ آرڈیننس جاری کرنے کا مقصد خالصتاً سیاسی ہے۔ یہ بڑی ہی دلچسپ بات ہے کہ وزیراعظم یا پھر ان کی حکومت کے کسی ترجمان نے اس آرڈیننس کے متعلق منہ تک نہیں کھولا لیکن یہ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر ہیں جنہوں نے جمعرات کوآرڈیننس کے متعلق بیان جاری کیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>کراچی:فائرنگ،کریکرحملہ اورپرتشدد واقعات میں9افرادہلاک</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95028</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95028</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95028_s.jpg</url></image>
<description>کراچی(اسٹاف رپورٹر) شہرقائد میں فائرنگ، کریکرحملے اور پرتشدد واقعات میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے،جبکہ لیاری میں شدید فائرنگ سے علاقے میں خوف وہراس اور کاروبار زندگی معطل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابقکلری تھانے کی حدود ہنگورآباد گرڈ اسٹیشن کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 32سالہ ابراہیم ولد محمد ہارون ہلاک ہو گیا جس کی لاش کو عباسی شہید اسپتال لایا گیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں 2افراد 22سالہ بلال ولد صالح اور25سالہ شکور ولد ہارون زخمی ہو ئے جن کو سول اسپتال منتقل کیا گیا، فائرنگ کے واقعے کے بعد نامعلوم ملزمان کی جانب سے ہنگورآباد میں ایک دکان کے باہر کریکر سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 2افراد 20سالہ گلزار ولد عثمان اور 22سالہ مرحم ولد عثمان زخمی ہوگئے جن کو سول اسپتال لایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ۔اسی اثناء جونا مسجد روڈ پر بھی نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 17 سالہ نامعلوم نوجوان زخمی ہوگیاجبکہ شاہ لطیف روڈ پر فائرنگ سے 50سالہ حاجی موسی ولد حشام زخمی ہوگیا جس کو سول اسپتال لایا گیا ۔بغدادی کے علاقے کھڈا مارکیٹ نیا آباد میں بھی نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 3افراد 35سالہ عدنان ولد محمد اقبال،50سالہ خالد ولد محمد تاج دین اور50سالہ رمضان ولد غلام زخمی ہوگئے جن کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ۔ایس پی لیاری نجم ترین نے بتایا کہ احتجاج اور جلاؤگھیراؤکے بعد علاقے میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے فائرنگ شروع کردی گئی تھی جس کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے پورے لیاری میں پھیل گیا اور بغدادی ،کلری کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ اب تک پولیس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق فائرنگ اورکریکر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 9افراد زخمی ہوئے ۔ایس پی نے کہا کہ لیاری کی کشیدہ صورتحال کے باعث علاقے میں گشت بڑھا دیا گیا ہے اور صورتحال پولیس کے قابو میں ہے،پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو نے والا شخص کچھی رابطہ کمیٹی کا عہدیدار اور ٹرک ڈرائیور تھا ، مقتول دو بچوں کا باپ اور ہنگورآبادکا رہائشی تھا ۔کچھی رابطہ کمیٹی کی جانب سے الزام عائدکیا گیا کہ مقتول کو پولیس نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔ گارڈن تھانے کی حدود غلام حسین قاسم روڈ شالیمار گارڈن کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 55 سالہ محمد حسین ولد یعقوب اسماعیل ہلاک ہوگیا جس کی لاش کو سول اسپتال لایا گیا ۔پولیس کے مطابق مقتول لاکھانی اسکوائر گارڈن ویسٹ کا رہائشی تھا اور واقعے کے وقت وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کار پر سوار تھا جب نامعلوم ملزمان نے اس سے لوٹ مارکی کوشش کی اور مزاحمت پر فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔بریگیڈ تھانے کی حدود صدر پارکنگ پلازہ کے عقب میں قائم دھوبی گھاٹ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے 30سالہ سید فہیم شاہ ولد سید محمد بشیر ہلاک ہوگیا جس کی لاش کو سول اسپتال لایا گیا ۔ایس ایچ او بریگیڈ جاوید سکندرکے مطابق مقتول کا آبائی تعلق لاہور سے تھا اور دو روز قبل ہی وہ اپنے بڑے بھائی کی طبعیت خراب ہونے پرعیادت کے لیے کراچی آیا تھا۔میمن گوٹھ تھانے کی حدود سپر ہائی وے لنک روڈ ڈھیر شریف سے 2افرادکی گولیاں لگی لاشیں ملیں جن کو پولیس نے تحویل میں لے کر جناح اسپتال منتقل کیا۔پولیس کے مطابق دونوں افراد کی عمریں 25سے35سال کے درمیان ہیں اور ملزمان نے ایک شخص کو دو اور دوسرے کو تین گولیاں مارکر قتل کیا اور لاشیں پھینک کر فرار ہوگئے ۔پولیس کے مطابق دونوں کے پاس سے شناخت کے حوالے سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ہے پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاشیں ایدھی سرد خانے منتقل کردی ہیں ۔صدرکے علاقے کالا پل کے قریب واقع ریلوے اسکول کے سامنے نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار 25سالہ فرہاد ولد لعل محمد زخمی ہوگیا ۔سعیدآباد کے علاقے بلدیہ ٹاؤن نمبر4میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی 57سالہ نور محمد ولد چاند خان زخمی ہوگئے ۔ایس ایچ او سعید آباد ظفر اقبال نے بتایا کہ زخمی نور محمد جمعرات کی صبح علاقے میں واقع اپنی کریانہ کی دکان کھولنے کے لیے آئے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار 3نامعلوم ملزمان آئے اور ان سے لوٹ مارکی کوشش کی جس پر زخمی نور محمد نے مزاحمت کی تو ملزمان ان کی ٹانگ پر ایک گولی مارکر فرار ہو گئے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔جبکہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔تھانہ کلری کی حدود لیاری، شاہ عبداللطیف بھٹائی روڈ، جونا مسجد کے قریب نالے کے پاس سے ایک 28/ سالہ شخص کی لاش ملی جسے فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ متوفی کی فوری شناخت نہیں ہوئی اس نے سفید قمیض شلوار پہنی ہوئی تھی مقتول کی لاش سول اسپتال پہنچائی گئی۔ تھانہ پیر آباد کی حدود منگھوپیر روڈ، چٹائی ہوٹل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 45/ سالہ محمد اسحاق ولد میر علی ہلاک اور 25/ سال گل زرین ولد وکیل خان زخمی ہوگیا متوفی کی لاش اور زخمی کو عباسی اسپتال پہنچایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کالعدم تنظیم انصار الامہ کا ذمہ دار تھا۔ تھانہ سائٹ اے سیکشن کی حدود میٹروولII، اکبری مسجد کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 40/ سالہ رضوان ولد عمیر ہلاک ہوگیا۔ متوفی جامعہ بنوریہ العالمیہ کے ایک مفتی کا ڈرائیور اور اسی علاقے کا رہائشی تھا اس کی لاش عباسی اسپتال پہنچائی گئی۔ تھانہ سہراب گوٹھ کی حدود نیو سبزی منڈی، ناردرن بائی پاس کے قریب جھاڑیوں سے 30/ سالہ شخص کی لاش ملی جو 15/ روز پرانی بتائی جاتی ہے لاش کو جانوروں نے نوچا ہوا تھا اس کی فوری شناخت نہیں ہوئی اسے عباسی اسپتال پہنچایا گیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>نوازشریف نے افسران کوچن لیا، تمام ان کے بھائی کے قریبی ہیں</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95029</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95029</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (انصار عباسی) آئندہ حکومت میں وزیراعظم کے امیدوارمیاں نوازشریف نے بیوروکریٹس کی ٹیم کی فہرست تیارکرلی ہے جنہیں وہ اپنے ویژن پر عملدرآمدکے لیے وفاقی سطح پر مقررکرنا چاہتے ہیں۔ مختلف علاقوں اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے بیوروکریٹس کی اچھی ٹیم بنانے کی اپنی کوشش میں، نواز شریف نے زیادہ ترایسے افسران لیے ہیں جنہیں ان کے بھائی شہباز شریف نے پنجاب کی بیوروکریسی میں مقررکیا تھا۔ اس سلسلے میں بڑے بھائی نے شہباز شریف کے اہم اسٹاف ممبران پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔ اچھی ساکھ کے حامل بیوروکریٹ ناصرکھوسہ آئندہ وزیراعظم نوازشریف کے اہم بیوروکریٹک مشیرہوں گے۔ جاوید اسلم پنجاب میں شہبازشریف کے ماتحت نئے چیف سیکرٹری ہوں گے۔ دیگرکے علاوہ پنجاب کے سیکرٹری خزانہ طارق باجوہ، سیکرٹری محتسب سمیع سعید، خیبرپختونخوا کے بیوروکریٹ صاحبزادہ سعید، سیکرٹری داخلہ پنجاب شاہد خان، سیکرٹری سافرون حبیب اللہ، وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکرٹری ندیم حسن آصف، سیکرٹری ای اے ڈی ارباب شہزادکا نام ایسے افسران میں لیا جا رہا ہے جن کا میاں نواز شریف اسلام آباد میں تقرر چاہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ شہباز شریف کو اپنے ہونہار مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور فواد حسن فواد کو کھونا پڑ جائے کیونکہ وہ اسلام آباد میں نواز شریف کے ماتحت کام کریں گے۔ ایک ذریعے کے مطابق، شہباز شریف ڈاکٹر توقیرکو چھوڑنا گوارا نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹر توقیر شہباز شریف کے اہم مشیرکی حیثیت سے دن رات محنت اور لگن سے کام کرتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نوازشریف نے فیصلہ کیا ہے کہ مرکز میں بیوروکریٹس کی ان کی ٹیم میں دیگر علاقوں اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران بھی شامل ہوں گے۔ حتیٰ کہ اسلام آباد کی انتظامیہ میں چیف کمشنر، آئی جی پی، ڈپٹی کمشنر، ایس ایس پی وغیرہ کے عہدے بھی مختلف خطوں اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران کو دیے جائیں گے۔ ناصر کھوسہ کو بڑے بھائی کے ماتحت کرنے کے بعد شہباز شریف چاہتے ہیں کہ جاوید اسلم کو پنجاب کا چیف سیکرٹری لگایا جائے۔ لیکن، نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو پنجاب کی موجودہ حکومت کی درخواست کے باوجود مذکورہ افسرکو اس عہدے پر لگانے سے گریزکر رہے ہیں۔ موجودہ چیف سیکرٹری جاوید اقبال کی جانب سے تبادلے کی درخواست کرنے کے بعد پنجاب کی بیوروکریسی گو مگو کی کیفیت کا شکار ہے۔ پنجاب کی نگراں حکومت نے جاوید اقبال کی جگہ پر عارضی بھرتی کرنے کی کوشش کی لیکن نگراں انتظامیہ نے اس معاملے پر آئندہ وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مشاورت کی تو انہوں نے عارضی کی بجائے، جو چند ہی دنوں میں تبدیل ہوجائے گا، جاوید اسلم کو باضاطہ طور پر چیف سیکرٹری لگانے کا کہا۔ ذرائع کے مطابق، نگراں وزیراعظم، جن کی حکومت کے طرز حکمرانی پر نہ صرف میڈیا بلکہ عدلیہ نے بھی سوالات اٹھائے ہیں، یہ کام کرنے کے لیے اپنا وقت لے رہے ہیں۔ جاوید اسلم فی الوقت مرکز میں سیکرٹری شماریات ڈویژن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے جبکہ صوبے میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ماضی میں شریف خاندان کے ساتھ کام کرنے والے ایسے کئی بیوروکریٹس ہیں جو مرکز اور صوبوں بالخصوص پنجاب میں اہم عہدوں کے حصول کے لیے اپنے رابطے استعمال کر رہے ہیں لیکن اس مرتبہ شریف خاندان کسی پر بھی مہربانی کرنے کی بجائے کارکردگی دکھانا چاہتا ہے۔ لیکن، اب تک اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی کہ وزیراعظم کا پرنسپل سیکرٹری، کابینہ سیکرٹری اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کون ہوگا کیونکہ نوازشریف کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ فی الحال راز دل میں چھپائے ہوئے ہیں۔ لیکن دونوں بھائیوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ان تین اہم عہدوں میں سے کسی ایک پر ناصرکھوسہ نواز شریف کے ساتھ کام کریں گے۔ موجودہ نگراں وزیراعظم ہزار خان کھوسوکی ٹیم کو نئے وزیراعظم کی جانب سے خدا حافظ کیا جائے گا۔ موجودہ پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ کابینہ سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے والے خواجہ صدیق اکبرکو نوازشریف حکومت میں کوئی اچھا عہدہ ملنے کی توقع نہیں ہے۔ وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر طاہر علی ملک کی خدمات فوج کو واپس کی جائیں گی کیونکہ ان کے اور صدیق اکبرکے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت میں کچھ زیادہ جوش و جذبہ دکھا رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خواجہ صدیق اکبر چاہتے تھے کہ انہیں مستقبل کا ٹیکس محتسب بنایا جائے اور اس سلسلے میں نئی حکومت کے آنے سے قبل ہی نگراں حکومت میں نوٹیفکیشن جاری کرایا جائے۔ لیکن میڈیا کی چیخ و پکارکے بعد نگراں وزیر قانون نے پہلے اپنے کابینہ کے ساتھیوں بشمول وزیراعظم کو خط لکھا اور نگراں حکومت کی جانب سے کی جانے والی تقرریوں پر تحفظات کا اظہارکیا۔ وزیر قانون نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اہم عہدوں پرتقرریاں کرنے کا کام آنے والی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے منتخب حکومت کی آمد سے قبل ہی نگراں حکومت کی جانب سے ہر اہم عہدے پر تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>مشرف کو پی سی او جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا، سپریم کورٹ</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95030</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95030</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95030_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے اہم مقدمات کی سماعت کی وجہ سے سابق صدر پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت تین جون تک ملتوی کردی ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو بطور آرمی چیف پی سی او جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا قانون کے مطابق آرمی چیف ایک ماتحت افسر اور سیکرٹری دفاع کو رپورٹ کرنے کا پابند ہوتا ہے پی سی او لگانے سے قبل انہوں نے جن لوگوں سے مشاورت کی اس کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی نہیں دیا۔ تین نومبر کو اتنا بڑا سانحہ ہوا مگر پیپلز پارٹی کی حکومت نے پرویز مشرف کیخلاف رتی برابر کارروائی نہیں کی آرٹیکل چھ کی تشریح بھی پہلی مرتبہ مشرف کیس میں ہورہی ہے، وزارت قانون نے بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے خصوصی عدالت میں مشرف کیخلاف کارروائی کیلئے کوئی غور نہیں کیا سماعت کے دوران کہیں بھی ذاتی طور پر خود کو متعصب محسوس کیا تو بنچ سے الگ ہوجاؤنگا۔انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>نواز حکومت کو اسمبلی میں 100سے زائد اپوزیشن ارکان کا سامنا ہوگا</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95031</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95031</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد(طارق بٹ) خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو ملا کر324نشستوں پر مبنی قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 100کا ہندسہ عبور کرلے گی،لیکن عمران خان کا نواز شریف اور صدر زرداری مخالف موقف متحدہ اپوزیشن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس طرح نواز شریف کی حکومت کو اسمبلی میں100سے زائد اپوزیشن ارکان کا سامنا ہوگا۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی ایف بھی حزب اختلاف کا حصّہ بن جاتی ہے تو پھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ لیکن فی الحال انکا جھکاوٴ ن لیگ کی جانب ہے تاکہ انہیں وفاق اور بلوچستان حکومت میں حصّہ مل جائے۔ تاہم جماعت اسلامی کے 3 ارکان قومی اسمبلی کے حوالے سے ابھی تک کچھ نہیں معلوم کہ حکومت کا حصّہ بنیں گے یا حزب اختلاف کی نشستیں سنبھالیں گے۔ جماعت اسلامی خیبر پختون خوا کی حکومت میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے اگر یہ وفاق میں بھی تحریک انصاف کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر اپوزیشن کے اراکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ 40 سے زائد اراکین اسمبلی کے ساتھ پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں میں سب سے بڑی جماعت ہوگی، ایم کیوایم کے 20سے زائد اراکین قومی اسمبلی میں ہونگے جبکہ ق لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی 2,2 اراکین ہونگے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے ارکان سمیت آفتاب شیرپاوٴ کی قومی وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کا 1,1 ارکان قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد میں 40 ارکان کا اضافہ کرینگے۔ فاٹا کے 12 ارکان اسمبلی میں سے کچھ نے ابھی تک ن لیگ سے وفاداری ظاہر کردی ہے جبکہ دوسرے ارکان اپوزیشن کی زینت بنیں گے۔ دوسری جانب مسلم لیگ فنکشنل، پختون خوا ملی عوامی پارٹی، بلوچ نیشنل پارٹی مسلم لیگ ضیاء ن لیگ کا ساتھ دیں گے، جبکہ نیشنل پیپلزپارٹی پہلے ہی ن لیگ میں ضم ہوچکی ہے۔ اب اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پیپلزپارٹی سے ہوگا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرکاانتخاب‘پی پی نے 3رکنی کمیٹی بنادی </title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95032</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95032</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95032_s.jpg</url></image>
<description>کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کیلئے مختلف پارلیمانی جماعتوں سے مذاکرات کیلئے مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے ۔جس میں سید خورشید احمد شاہ اور سید نوید قمر شامل ہوں گے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں حکومت سازی میں مختلف جماعتوں کی شمولیت اور ان سے رابطوں کیلئے بھی سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی قائم کردی ہے جس میں نثار کھوڑو ،آغا سراج درانی اور شرجیل انعام میمن شامل ہوں گے ۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>سندھ میں حکومت سازی کیلئے پی پی، متحدہ مذاکرات شروع</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95033</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95033</guid>
<image><url></url></image>
<description>کراچی(اسٹاف رپورٹر) پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) کے صدر مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ سندھ میں حکومت بنانے کے لیے پیپلزپارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو باضابطہدعوت دے دی ہے، ایم کیوایم کے ساتھ مذاکرات کا باقاعدہ آغازہو چکا ہے، صحافیوں کے ایک گروپ سے جمعرات کو بات چیت کرتے ہوئے مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ سندھ میں پی پی پی حکومت بنائے گی اور عوام دوست پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھے گی۔دوسری جانب ایم کیو ایم کے رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت میں متحدہ کے کردار سے متعلق واضح فیصلہ آئندہ چند روز میں سامنے آجائے گا اور سندھ بالخصوص کراچی کے عوام نے جو مینڈیٹ ایم کیو ایم کو دیا ہے، ان کی قیادت انہیں مایوس نہیں کرے گی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>گدوتھرمل اسٹیشن میں فنی خرابی،ملک بھرمیں بجلی کا بریک ڈاوٴن</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95034</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95034</guid>
<image><url></url></image>
<description>کوئٹہ(نمائندہ جنگ) گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں فنی خرابی کے باعث ملک بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوگیا۔ سندھ اور بلوچستان جبکہ پنجاب کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ گدو تھرمل پاور اسٹیشن کے یونٹ نمبر 4میں آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے پاور اسٹیشن سے سپلائی بند ہوگئی جس کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 20اضلاع میں تاریکی چھا گئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کی شب تقریباً ساڑھے 9بجے کے قریب پاور اسٹیشن ٹرپ کر گیا جس سے ملک کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>سبی: موٹر سائیکل سواروں کی مکان پر فائرنگ، 4خواتین سمیت 5ہلاک</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95035</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95035</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95035_s.jpg</url></image>
<description>سبی (آئی این پی )سبی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 4خواتین سمیت 5افراد ہلاک جبکہ 2 خواتین زخمی ہوگئیں‘زخمیوں کو سول ہسپتال سبی منتقل کردیاگیا ۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے انکوائری شروع کردی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مکان میں غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری تھیں، ہوسکتا ہے کسی نے مشتعل ہوکر کارروائی کی ہو۔ جمعرات کو پولیس ذرائع کے مطابق سبی کے علاقے مال پڑی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ایک مکان پر فائرنگ کردی ۔ فائرنگ سے 4خواتین سمیت 5افراد ہلاک اور 2خواتین زخمی ہوگئیں ۔ ہلاک اورزخمی ہونے والوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے ۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title> جے ایس بنک کی درخواست پر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کیخلاف حکم امتناع</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95036</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95036</guid>
<image><url></url></image>
<description>لاہور (عامر ریاض) سندھ ہائیکورٹ نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو جے ایس بینک لمیٹڈ کے خلاف توہین آمیز اور بے بنیاد جھوٹے مواد کو پھیلانے سے روک دیا ہے اور اس سلسلے میں ٹی آئی پی کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ عدالت عالیہ نے یہ حکم جے ایس بینک کی جانب سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے خلاف 5/ ارب روپے کے ہتک عزت کے دعویٰ پر جاری کیا ہے جو بینک کے خلاف جھوٹے اور توہین آمیز اطلاعات پھیلانے پر دائر کیا گیا تھا۔ مدعی بینک نے ٹی آئی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعد رشید، اس کے مشیر سید عادل گیلانی، اس کے چیئرمین اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کو مدعا علیہ بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار بینک نے اپنے وکیل خالد جاوید خان کے ذریعے موقف اختیار کیاکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے گھناؤنی پروپیگنڈہ مہم کے باعث سخت پریشانی، تکلیف، نقصان اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹی آئی پی کے عہدیداروں نے اپنی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے قومی پریس و میڈیا میں الزامات عائد کئے تھے۔ یہ سب کچھ عادل گیلانی کی قیادت میں ہوا جو ایک اسٹاک بروکر اور جناب جہانگیر صدیقی کے از خود کاروبار رقیب عقیل کریم ڈھیڈی کے ملازم/بزنس ایسوسی ایٹ ہیں۔ انہوں نے ٹی آئی پی کے پلیٹ فارم کا انتہائی نازیبا استعمال کرکے مدعی کے خلاف میڈیا میں توہین آمیز، گھناؤنی و بیہودہ مہم چلائی، بینک نے نشاندہی کی کہ بدعنوانی کیخلاف قومی و بین الاقوامی نگراں ہونے کی دعوے دار ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان خود اپنے اسٹاف ممبران کو اس پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے روکنے میں مکمل اور افسوسناک حد تک ناکام رہی یہ لوگ نہ صرف دوسروں کو نقصان و ضرر پہنچارہے ہیں بلکہ ٹی آئی اور ٹی آئی پی کے نام اور ساکھ کو بھی شدید طور پر متاثر کررہے ہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ قومی میڈیا میں ٹی آئی پی کے مشیر عادل گیلانی پر ذاتی بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد ہونے اور ر پورٹ ہونے کے باوجود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور ٹی آئی پی نے ان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ جے ایس بینک پر ٹی آئی پی کے سنگین الزامات اور منفی میڈیا مہم سے بینک کے قابل قدر نام، ساکھ اور کاروبار کو سخت نقصان پہنچا۔ مزید برآں بینک کے حصص یافتگان اور صارفین کوبھی ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ درحقیقت اس ٹی آئی پی کے مشیر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی خواہش اور مقاصد ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے ساتھیوں کی خواہش پر انہیں فائدہ پہنچانے کے لئے ان کے مجرمانہ مقاصد پر عمل کیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جے ایس بینک کے خلاف گھناؤنی مہم بعض اخبارات میں شائع ہونے والی توہین آمیز اور غلط نیوز رپورٹ پر مبنی تھی جس کا عنوان تھا ”حصص کی قیمت، اسٹیٹ بینک کی جے ایس بینک کے خلاف کارروائی کی ہدایت“ اس خبر کو ٹی آئی پی کی ویب سائٹ پر بھی دکھایا گیا اس میں بتایا گیا کہ ٹی آئی پی نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کوایک خط لکھا ہے جس میں جہانگیر صدیقی گروپ آف کمپنیز اور جے ایس بینک کے خلاف ان سائڈر ٹریڈنگ کے الزامات کو اجاگر کیا گیا اور اسٹیٹ بینک کے حکام پر الزام لگایا گیا کہ وہ مدعی بینک کو تحفظ فراہم کررہے ہیں، ٹرانسپرنسی نے الزامات کے حوالے سے کبھی جے ایس بنک سے یوچھا تک نہیں نہ اُس کا موٴقف جاننے کی کوشش کی، جے ایس بنک نے کئی بار اپنا موقف بھجوایا مگر وہ بھی ٹی آئی پی نے اپنی ویب سائٹ پر نہیں ڈالا اور منفی مواد دکھاتے رہے۔مزید براں، نیوز رپورٹ کے مطابق ٹی آئی پی کے مشیرگیلانی نے اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر کو ایک خط لکھا تھا جس میں اسٹیٹ بینک کے ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو مدعی بینکوں کو تحفظ دے رہے تھے۔ خط میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) کی تصدیق کے باوجود کہ جے ایس بی ایل بینک کی جانب سے ازگرد نائن لیمٹڈ(اے این ایل) کے حصص میں اندورنی طور پر غیر قانونی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی مدد سے حصص قیمتوں میں اتار چڑہاوٴ سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے، اسٹیٹ بینک نے بنیکاری کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے بینک کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ جے ایس بینک نے اخبار کو اپنی صفائی جاری کی اور اسی کے مطابق 16مئی 2013 کو ایک اخبار نے بینک کا صفائی نامہ شائع کیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ایس ای سی پی کی جانب سے دستاویزی شواہد سے تصدیق ہوئی ہے کہ2007-08 اے این ایل کے حصص میں کاروبار کے حوالے سے مدعی بنک کے خلاف کچھ نہیں ہے۔ تاہم ، اخبار کی جانب سے درج بالا صفائی نامہ پیش کیے جانے کے بعد ٹی آئی پی نے مذکورہ صفائی نامہ نہ شائع کیا نہ ہی اسے اپنی ویب سائٹ پر چسپاں کیا اور نہ ہی اس سے قبل شائع ہونے والی جھوٹی خبر کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹایا۔ اس سے ٹی آئی پی کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اور مشیر کی بد نیتی واضح ہے۔ کونسل نے کہا کہ ٹی آئی پی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو بھیجے گئے خط میں عائد کردہ الزامات مکمل طور پر جھوٹ ، گمراہ کن اور بد نیتی پر مبنی ہیں جو کہ14مئی کو اخبار میں شائع ہوا تھا۔ اگر ٹی آئی پی جے ایس بینک کے کیے گئے کسی کاروبار یا لین دین کے حوالے سے واقعی فکر مند تھے تو انہیں باقائدہ طریق کار کے تحت مدعی بینک کی رائے معلوم کرنا چاہیئے تھی۔ اگر کبھی ایسا ہوتا اور اگر تھوڑی بہت بھی انکوائری کی جاتی تو یہ فوری واضح ہوجاتا کہ ایس ای سی پی نے مدعی بنک کے خلاف کبھی الزامات کی تصدیق نہیں کی جیسا کہ غلط طور پر بیان کیا گیا۔ واقعی اسکے برخلاف، اس سیاق و سباق میں ایس ای سی پی نے مخصوص طور پر مدعی کے کسی بھی غلط کام کے حوالے کلیئر کردیا تھا۔ کونسل نے مزید کہا اسی طرح مدعی اور اسکے کسی معاون نے ایگری ٹیک کے حصص نیشنل بنک کو کبھی فروخت نہیں کیے ، جیسا کہ غلط طور مشتہر کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ غلط الزامات شرارتاً اور جان بوجھ کر سید گیلانی کی جانب سے ٹی آئی پی کے پلٹ فارم کی وساطت سے اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے اور اپنے آقاوٴں کی ایماء پر عائد کیے گئے۔ ٹی آئی پی اور ٹی آئی گیلانی کی بدنیتی کے عمل کو روکنے میں ناکامی کے لیے پوری طرح ذمہ دار ہیں اور انہیں گیلانی کے شرارتی کارروائیوں کے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آئی پی کے رہنما اصولوں کے مطابق ہمیں ایسے موقف اختیار کرنا چاہیے جو بامقصد ہو مستحکم اور پیشہ ورانہ ہو اور جس کی بنیاد مضبوط تحقیق پر ہو۔ یہ واضح ہے کہ گیلانی صاحب نے ٹی آئی پی کے رہنما اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔ کونسل کا کہنا ہے کہ گیلانی کو اس بات کو پوری طرح ادراک تھا کہ مدعی بنک پر اے این ایل حصص کے حوالے سے کسی غیر قانونی کاروبار کا الزام نہیں تھا، گزشتہ برس2012 کے بھی اس دور میں جو کہ ایس ای سی پی کی جانب سے زیر تفتیش رہا ، جس کے حوالے سے گیلانی کی جانب سے غلط الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مدعی بنک اے این ایل کے حصص میں غیر قانونی طور پر کاروبار میں ملوث نہیں رہا اور یہ حقیقت 4 اپریل 2013کو جاری کئے گئے ایس ای سی پی کے خط سے بھی عیاں ہے۔ ایس ای سی پی کے اس خط میں گیلانی کے اسٹیٹ بنک کے لکھے گئے خط کو جھوٹا قرار دیا گیا جس کی میڈیا میں تشہیر بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے ٹی آئی پی کی جانب سے ایک اور خط کا حوالہ بھی دیا جو دوسرے اخبار میں بھی شائع ہوا تھا اور اسے بھی جھوٹا قرار دیا۔ مدعی بینک کو ٹی آئی پی عہدیداران کی جانب سے دلیری اور فراڈ انداز میں اپنی حیثیت کے کھل کر بے جا استعمال پر صدمہ اور حیرانی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں مدعی بینک کی نیک نامی اور وقار کو دھچکا لگا۔ 16 مئی 2013ء کو ایک اُردو اخبار کی اشاعت کے مطابق ٹی آئی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ایس ای سی پی کو ایک خط لکھا جس میں بیان کیا گیا کہ مدعی بینک کو اپنے ہی ایک ڈائریکٹر کو مشاورت کی فیس کی مد میں 42 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہیں جو شیئرز کی غیرقانونی خرید و فروخت کے سلسلے میں ہے۔ وکیل نے بتایا کہ مدعی بینک کا ایسی کسی منتقلی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مدعی بینک پر یہ الزام جھوٹا اورگمراہ کن ہے، جس کی بینک کے سالانہ مالی بیان سے بخوبی تصدیق کی جا سکتی ہے۔اگرٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور مشیرکرپشن کے خلاف نیک نیت اور عوامی ذہن کے حامل فعال کارکن ہیں تومدعی موجودہ مقدمہ دائر نہیں کرتے بلکہ مدعی کا بینک کسی غیر جانبدار ادارے کی کوششوں کو سراہاتا جوکرپشن کی لعنت کے خاتمے اور اختیارات کے غلط استعمال کے تدارک کے لیے مخلص ہو۔ تاہم ٹی آئی پی کے ای ڈی او مشیر خصوصاً موخرالذکر کی حقیقی تصویر نہایت بھیانک اور چشم کشا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کی ناقابل تردید شہادت موجود ہے کہ مسٹر گیلانی تعمیراتی منصوبوں کریک ٹیریسیس پروجیکٹ اور سٹی وسٹا پروجیکٹ میں عقیل کریم ڈھیڈی کے پے رول پر تھے۔ انہوں نے اس حوالے سے 5/ مئی 2009ء کو معاہدے پر گواہ کی حیثیت سے دستخط کیے۔ وکیل نے مزید کہا کہ یہ ٹی آئی پی کی جانب سے مشیر اور ای ڈی کو دیے گئے اختیارات کا غلط اور بے جا استعمال تھا۔ گیلانی اسٹاک بروکر کی ملازمت میں رہتے ہوئے ایسا نہیں کرسکتے تھے، یہ مفادات کے تنازع کا کھلا کیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی غلط کاریوں کی ایک تاریخ رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں جب وہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں سرکاری ملازم تھے تو ان پر ایف ٹی سی بلڈنگ کے تعمیراتی ٹھیکے میں فراڈ کے الزامات لگے۔ ایف آئی اے نے ان کے خلاف انکوائری شروع کی بعد ازاں انہوں نے کنسلٹنٹ کی حیثیت سے مختلف کاروباری اداروں میں بھی خدمات انجام دیں۔ ان پرمزید یہ بھی الزام لگا کہ انہوں نے ٹی آئی پی کے عہدیدارکی حیثیت سے اپنی حیثیت اور اختیارات کو مختلف سرکاری ٹھیکے دیے جانے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خبر ”ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستان میں سربراہ کرپشن کی معاونت کررہے ہیں“ شائع ہوئی۔ جس میں گیلانی پر سنگین کرپشن اور بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے جس میں اربوں روپے کے این آئی سی ایل اسکینڈل کا خصوصی حوالہ دیا گیا۔ آرٹیکل میں یہ بھی کہا گیا کہ اپنے رشتہ دار ایک مفرور بورڈ ممبر کو بچانے کی کوششوں میں تحقیقات روکنے کے لیے عقیل کریم ڈھیڈی نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آئی پی چیئرمین نے سپریم کورٹ میں این آئی سی ایل افسران کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کی پیشکش کی۔ اس کے جواب میں این آئی سی ایل ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سفارش کردہ نجی پارٹیوں کو ٹھیکے دیتی۔ اسی طرح کی خبریں میڈیا میں گردش کرائی گئیں کہ گیلانی کے بیٹے نے پی این ایس سی بورڈ سے استعفیٰ دے دیا ہے جس کی ابتدائی تقرری خراب طرزحکمرانی کی مثال کے طورپر پیش کی جاتی ہے۔ وکیل نے کہا مسٹرگیلانی سب کچھ جانتے ہوئے ایک طًرف تو بلیک میل بھتہ خوری، کرپشن اور متنازع اسٹاک بروکر کے مفادات اور ایجنڈے کو فروغ دینے میں بری طرح ملوث رہے۔ ٹی آئی پی چیئرمین اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بھی گیلانی کی جانب سے اپنی پوزیشن کے غلط استعمال کے ذمہ دار ہیں۔ ٹی آئی پی کی جانب سے جھوٹی اور بدنام کرنے والی خبروں کے مضر رساں اثرات نے مدعی اور اس کے گاہکوں پر منفی اثرات مرتب کیے جنہیں جاری میڈیا مہم پر شدید تشویش لاحق تھی۔ اس کی وجہ سے مدعی بینک کے کاروبار اور آپریشنز پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے جونیوز جاری ہیں جس سے مدعی کو شدید نقصانات سہنے پڑ رہے ہیں۔ مدعی اب بھی ٹی آئی پی عہدیداروں کے بدنامی پر مبنی اقدامات اور منفی رپورٹنگ کے تباہ کن اثرات کوکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے وکیل نے کہا کہ ٹی آئی پی کی جانب سے جھوٹے اور گمراہ کن مواد کی اشاعت کے نتیجے میں مدعی کی مارکیٹ اور کاروباری حلقوں کے ساتھ عوامی حلقوں میں خیر سگالی اور حیثت گری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدعی کو گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی مہم کا نشانہ بنایا گیا اور ٹی آئی پی کی میڈیا میں متعصبانہ مہم سے انہیں سنگین نقصانات برداشت کرنے پڑے ہیں۔ مدعی بینک نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ٹی آئی پی کے الزامات کو جھوٹے، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی قرار دے اور اسے ایسے مواد کی اشاعت اورگردش سے روکے۔ مزید یہ بھی استدعا کی گئی کہ عدالت مدعی کو مدعا علیہان کی جانب سے 5/ ارب روپے ہرجانہ ادا کرنے کی ہدایات جاری کرے مدعی نے ٹی آئی پی عہدیداروں کوکام کرنے سے روک نے کی بھی استدعا کی اب اس مقدمے کی آئندہ سماعت 28/ مئی کوہوگی۔ تاہم عدالت نے عادل گیلانی و ٹی آئی پی کو الزامات عائدکرنے سے روکنے کے لئے عبوری حکم امتناع جاری کردیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title> ڈاکٹرشکیل آفرید ی کی امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست مسترد</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95037</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95037</guid>
<image><url></url></image>
<description>واشنگٹن(ٹی وی رپورٹ) پاکستان میں مبینہ طورپر اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدددینے والے ڈاکٹرشکیل آفرید ی کی امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست مستردکردی گئی ہے۔یہ بات امریکی میڈیا نے جمعرات کو بتائی گئی ہے۔شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کی تلاش کے لئے امریکا میں 5سال کے لئے سی آئی اے جوائن(شمولیت اختیار) کی۔ایبٹ آبادکمیشن کے خفیہ رپورٹ کے چند حصے امریکی میڈیا کو مل گئے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>تحریک طالبان کا نواز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقدم</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95038</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95038</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (احمد حسن) تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے نامزد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے امن بات چیت کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسلام آباد اور پشاور میں صحافیوں سے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ ان کی تنظیم نامزد وزیراعظم کی طرف سے امن بات چیت کا آپشن استعمال کرنے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت اقتدار سنبھالتے ہی اپنے اس ارادے پر عملدرآمد شروع کرے گی۔ جنگ سے مختصر بات چیت میں احسان نے کہا کہ تحریک طالبان اپنی تنظیم کی ہائی کمان میں اس پیشکش پر غور کے بعد باقاعدہ رد عمل ظاہر کرے گی۔ یاد رہے گذشتہ اتوار کے روز لاہور میں ملک بھر سے آئے ہوئے پارٹی سے منسلک ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ پچھلے بارہ سالوں سے جاری انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں چالیس ہزار جانیں ضائع ہو چکیں اور اربوں ڈالر کا قومی نقصان ہو چکا۔ اب وقت آگیا ہے کہ طالبان کے ساتھ میز پر بیٹھ کر امن بات چیت کے آپشن کو استعمال کیا جائے۔ نواز شریف کے اس اہم بیان کی اہمیت یہ تھی کہ انہوں نے اس سے کچھ ہی دیر پہلے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ ملاقات کی تھی جنہوں نے وار آن ٹیررزم سمیت تمام معاملات پر انہیں غیر سرکاریطور پر انہیں بریف بھی کیا تھا۔ اس کے بعد نامزد وزیر اعظم نے جعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراو سے بھی ٹیلیفون پر بات کر کے انہیں طالبان کے ساتھ مفاہمتی بات چیت شروع کرنے کے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>الیکشن کمیشن کا متنازع کردار،پارلیمانی حلقوں میں نئی بحث چھڑگئی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95039</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95039</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (طاہر خلیل) الیکشن کمیشن کے متنازع کردار پر پارلیمانی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔ حالیہ انتخابات میں متعدد منتخب اراکین نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کیا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ کراچی سے ایم کیو ایم کے نو منتخب ایم این اے ایس اے اقبال قادری نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے بعد ثابت ہوگیا کہ قواعد میں خلا تھا۔ سینیٹ کی الیکشن کمیٹی میں واویلا کرتا رہا کہ قواعد و ضوابط میں بڑے خلا ہیں انہیں ختم کیا جائے مگر میری کسی نے نہ سُنی، تمام انتخابی مرحلوں میں سنگین بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ انہوں نے توقع ظاہرکی کہ نومنتخب پارلیمانی الیکشن کمیشن کی کمزوریاں ختم کرنے کے لیے موٴثرقانون سازی کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ 40 حلقوں میں دھاندلی کی باتیں سامنے آئی ہیں الیکشن کمیشن کا کردار شفاف نہیں تھا بعض حلقوں میں تو 130 سے 150 فیصد تک ووٹنگ شرع رہی یہ سب کیسے ہوا؟ غور کر لیں، میں کچھ کہوں گا تو بات کچھ اور بن جائے گی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>میڈیاکمیشن کیس، سپریم کورٹ نے آڈیٹرجنرل سے فنڈزکی تفصیلات مانگ لیں</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95040</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95040</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95040_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت آج جمعہ کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل سے کنسولیڈ یٹڈ اور پبلک فنڈز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جمعرات کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل پیش کا آڈٹ درکا ر ہے یا اسے فنڈز سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں جس پر بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالت کسی کی حق تلفی نہیں کرنا چاہتی لیکن ہر جگہ پر غریب کی جیب کاٹی جا رہی ہے، عدالت کسی کی جیب سے غلط طور پر ایک دھیلا نکالنے کی اجازت بھی نہیں دے گی، ہمیں بعض چیزوں سے متعلق وضاحت کی ضرورت ہے، عدالت کو مکمل آڈٹ کی نہیں فنڈز کی تفصیلات چاہئیں، انہوں نے مزید کہا کہ 2 کروڑ روپے کے آڈٹ کیلئے آپ نے تین ہفتے کی مہلت مانگی تھی اب چار ارب روپے کیلئے تو چا رمہینے درکار ہوں گے،عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ اے جی پی آر میں کل729ٹرانز یکشنز ہوئی ہیں، بعد ازاں فاضل عدالت نے آڈیٹر جنرل سے کنسولیڈیٹڈ اور پبلک فنڈز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>غیرمستحق افسران کی سفارتخانوں میں تقرری کے احکامات ختم کرنیکی سمری</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95041</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95041</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (حنیف خالد) سابقہ حکمرانوں نے غیرمستحق افسران کی جو تقرری کی تھی، اسے منسوخ کرنے کی سمری حکومت کو بھجوادی گئی ہے۔ میرٹ کے بغیر بیرون ملک سفارتخانوں میں عہدے حاصل کرنے والوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسی حوالے سے ڈائریکٹریٹ جنرل امیگریشن و پاسپورٹس نے وزارت داخلہ کو سمری بھجوا دی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ امریکا،کینیڈا، ناروے، یواے ای، سعودی عرب، ملائیشیاء ، برطانیہ میں سابق حکمرانوں نے سفارش یا کسی اورمصلحت کی بناء پر جو درج ذیل افسر میرٹ پر پورا نہ اُترنے کے باوجود بھجوائے ہیں اُن کو فوراً واپس بلا لیا جائے۔ اُنکے نام یہ ہیں۔ نادر گبول (نیویارک) ، شہزاد محسن (لاس اینجلس) ،مصطفی باجوہ (ٹورنٹو)، نقاش ناصر (اوسلو)، سعید آغا (دبئی)، کامران رضا اور اختر حسین (جدہ)، ارباب یاور حیات (کوالالمپور)، محمد عمران (واشنگٹن ڈی سی)، سمیع الرحمن (بریڈ فورڈ) اُنکے عہدے ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن نے دو ہزار سے زائد بلیو پاسپورٹ (سرکاری پاسپورٹ) منسوخ کرنے کی سمری وزارت داخلہ بھجوا دی ہے۔ یہ سرکاری پاسپورٹ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کی طرف سے پرائیویٹ افراد کو جاری کرائے گئے جو غیرقانونی طور پر جاری کرائے گئے حالانکہ قانون کے مطابق صرف سرکار کی بیرون ملک نمائندگی کرنے والے بنیادی اسکیل نمبر18،بنیادی اسکیل نمبر19، بنیادی اسکیل نمبر20، بنیادی اسکیل نمبر21 اور بنیادی اسکیل نمبر22 کے سرکاری عہدیدارزکو بلیو کلرکے سرکاری پاسپورٹ کا اجراء ہو سکتا ہے۔ اسکے علاوہ ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ کو بلیو پاسپورٹ مل سکتا ہے۔ ارکان صوبائی اسمبلی تک بلیو پاسپورٹ کے مجاذ نہیں ہیں۔ ایک اور سمری ڈائریکٹریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے سربراہ ذوالفقار احمد چیمہ کی طرف سے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی طور پر پاسپورٹ کی میعاد 5سال سے 10سال اسی فیس کے ساتھ کی گئی۔ اس فیصلے سے خالی قومی خزانے والی قوم کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ 5سال کے پاسپورٹ کی اجرائی فیس کے مقابلے میں 10سالہ میعادکے پاسپورٹ کی اجرائی فیس میں تناسب کے لحاظ سے فوری اضافہ کیا جائے کیونکہ محکمہ پاسپورٹ سالانہ 13ارب روپے قومی ززانے میں جمع کرا رہاہے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>نوازشریف کے حلف لیتے ہی لاشیں ملنا بندہوجائیں گی،عبدالمالک بلوچ</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95042</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95042</guid>
<image><url></url></image>
<description>کراچی (جنگ نیوز) نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ چلتے ہوئے بلوچستان کو تنازعات سے نکالنا چاہتے ہیں، اُمید رکھتا ہوں جس دِن نوازشریف نے حلف لیا اس کے بعد بلوچستان میں کسی سیاسی ورکرکو اُٹھا کر غائب کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو مار کر اُس کی لاشیں سڑک پر پھینکی جائے گی۔ بلوچستان کے عوام کو اس بات کا کر یڈٹ جاتا ہے کہ خوف کے باوجود اُنہوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ گوادر پورٹ کے معاملے پر پیپلزپارٹی نے معاہدہ کرکے ہم سے بے ایمانی کی۔اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے جیونیوزکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو میں کیا۔ مباحثے میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ خان ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی اور انتخابی دھاندلی کے حوالے سے بات کرنے کے لیے حیدرآباد سے (ن) لیگ کی رہنما ڈاکٹر راحیلہ مگسی نے بھی اپنا موقف پیش کیا۔ مختلف سوالات کے جواب میں عبدالمالک بلوچ کا مزیدکہنا تھا کہ ہمارا اُصولی موقف رہا ہے کہ پورٹس (بندرگاہیں)صوبوں کوملنی چاہئیں، گوادر پورٹ کے حوالے سے پیپلزپارٹی نے کہا تھا کہ ہم سے آئینی گارنٹی نہ مانگیں ہم آپ کو آئین میں ترمیم کرکے گوادر پورٹ دے دیں گے، پیپلزپارٹی نے معاہدہ کیا تھا کہ گوادر پورٹ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بلوچستان حکومت کے پاس ہوگا جس کی کمٹمنٹ رضا ربانی، نوید قمر، خورشید شاہ نے بھی دی تھی۔ لیکن بعد میں پیپلزپارٹی نے یقین دہانی کے باوجود ہمارے ساتھ بے ایمانی کی اور وہ اس معاملے کو قانون سازی میں لیکر نہیں گئے۔ گوادر ہو یا دیگر وسائل تمام چیزوں پر بلوچستان کے عوام کو آن بورڈ لینا ہوگا اگر تمام فیصلے صرف اسلام آباد کی حد تک ہوئے تو پھر بلوچستان میں اُن پر عملدرآمد مشکل ہوجائے گا لہٰذا وفاقی حکومت اگر بلوچستان کی صوبائی حکومت سے تعاون رکھے تو چیزیں درست سمت میں چل سکتی ہیں۔ بلوچستان میں (ن) لیگ کے ساتھ ملکر حکومت کریں گے، (ن) لیگ کے ساتھ کسی تنازع میں جانا نہیں چاہتے، وزارتوں کی تقسیم کے معاملات حکومت میں شامل تینوں جماعتیں کریں گی۔ حکومت میں آئے تو پہلی ترجیح بلوچ قائدین کے ساتھ با عزت طور پر بات چیت کرنا ہوگی۔ گڈ گورننس ، اداروں کی بحالی اورکرپشن کا خاتمہ بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہوگا۔ بلوچستان کے اندر ہونے والے انتخابات میں کسی ادارے نے مداخلت نہیں کی البتہ لوکل سطح پر کچھ شکایات ملی ہیں۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ بلوچستان میں عوام کو تحفظات ہیں، وہاں عوام آزادی کی باتیں کررہے ہیں، دُنیا میں سب اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں، ہم ہی ہیں جو اچانک فیصلے کردیتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ فیصلے سطحی طور پر نہیں ہونے چاہئیں، ہمیں سب سے پہلے بلوچستان کا استحکام اور یکجہتی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ بلوچستان کے سیاسی اسٹیک ہولڈرزکو مطمئن کیے بغیر فیصلے نافذ نہیں کرنا چاہتے۔ بعض اوقات فیصلے سیاست سے بالاتر ہوکر کرنا پڑتے ہیں، اگر مجھے موقع ملے تو بلوچستان میں اُن لوگوں کو اقتدار میں لاؤں جو آگ بجھانے میں کارآمد ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں ایسی حکومت بنے جس سے وہاں معاملات ٹھنڈے ہوں، بلوچ عوام کی تکالیف دور ہوں گی تو پاکستان کے مسئلے بھی حل ہوں گے۔ اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ حالیہ انتخابات میں کوئی ادارہ ملوث نہیں تھا۔ تبدیلی کی دعویدار جماعت ایک کروڑ ممبران کا دعویٰ کررہی تھی اب دھاندلی کی شکایات کررہی ہے۔ تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ خدا کا شکر ادا کرے کہ اُنہیں اتنے ووٹ مل گئے کہ ایک صوبے میں حکومت بناسکیں۔ (ن) لیگ نے دعوے نہیں کام کرکے دکھائے۔ اُنہوں نے کہا کہ لاہورکے کئی پولنگ اسٹیشن میں تحریک انصاف کے پولنگ ایجنٹس نہیں تھے، پتہ نہیں وہ جنون کہاں گیا جس کا 17 برس سے انتظار تھا۔ حکومتیں جنون سے نہیں عقل وخرت سے چلتی ہیں۔ تحریک انصاف کا ایک بھی انقلابی لاہور سے منتخب نہیں ہوا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دھرنے اور مظاہروں سے فرق نہیں پڑتا ، یہ اُن کا جمہوری حق ہے، پی ٹی آئی کو امپائرکا حتمی فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔ بے نظیر شہید کے قتل کے بعد جو ووٹ پڑ اتھا اس بار پیپلزپارٹی کو اُس سے بھی زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ اسحاق خاکوانی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا الیکشن ہے جس میں ہرسیاسی جماعت دھاندلی کی شکایات کررہی ہیں۔ پہلے انتخابات ہیں کہ جیتی ہوئی جماعتیں بھی دھاندلی کی شکایات کرتی نظر آرہی ہیں۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>زرعی اراضی ملکیت کی دستاویزات کی منسوخی کیس کی سماعت کل ہوگی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95043</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95043</guid>
<image><url></url></image>
<description>لیاقت پور (نمائندہ جنگ) لیاقت پورکی مقامی عدالت نے میسرز دیوان شوگرملزلمیٹڈکی جانب سے مسماة حنایوسف کولیاقت پورکی 8 کروڑ روپے کی زرعی زمین کی رقم ادا نہ کرنے پر ملکیت کی دستاویزات منسوخ کرنے کے متعلق سول کیس کی سماعت 25-05-2013 کو کرے گی اور مدعا علیہان حنا یوسف زوجہ دیوان محمد یوسف فاروقی کو سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ قبل ازیں میسرز دیوان شوگر ملز لمیٹڈ نے حنا یوسف کے خلاف لیاقت پورکی مقامی عدالت کے روبرو ایک سول کیس منسوخی دستاویزات بذریعہ کونسل سید عباس حیدر زیدی ایڈووکیٹ نے مورخہ 16-7-12کودائرکیا۔ جس میں میسرز دیوان شوگر ملز لمیٹڈ نے موقف اختیارکیا ہے کہ دیوان شوگر ملز لمیٹڈ کے ایل پی روڈ جن پور تحصیل لیاقت پور ضلع رحیم یار خان کے چیف ایگزیکٹو دیوان محمد یوسف فاروقی ہیں اور زمین کو فروخت کرنے کے مجاز ہیں۔ دیوان شوگر ملز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو دیوان محمد یوسف نے مورخہ 2 مئی 2011ء کو حنا یوسف زوجہ دیوان محمد یوسف فاروقی کو چک نمبر 130 این پی موضع پیراراں شریف کے ایل پی روڈ جن پور تحصیل لیاقت پور ڈسٹرکٹ رحیم یار خان میں 8 کروڑ روپے میں کھاتہ نمبر 184 کھتونی نمبر 229 سے 8,231 کنال کھاتہ نمبر222 /222 کھتونی نمبر 275 میں 862 کنال 7 مرلے کھاتہ 224/223 میں کھتونی 277 میں79 کنال 14 مرلے کھاتہ 225/226 میں کھتونی نمبر 279 میں 115 کنال 3 مرلے فروخت کی مگر مدعا علیہا حنا یوسف نے مذکورہ بالا زمین کی مقرر کردہ رقم 8 کروڑ روپے ادا نہیں کی جبکہ مذکورہ بالا زرعی زمین کی دستاویزات حنا یوسف کے نام بن چکی ہیں جبکہ حنا یوسف اب تک رقم ادا نہیں کرسکی ہے لہٰذا معزز عدالت مذکورہ بالا زرعی زمین کی ملکیت کی منتقلی کی دستاویزات کو منسوخ قرار دے دے اور اس زمین سے متعلق ریکارڈ مرتب کرنے والے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ اس زمین سے متعلق تمام دستاویزات کو منسوخ کردے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>کامیاب ارکان کو اضافی نشستیں چھوڑنے کیلئے 10جون کی ڈیڈ لائن</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95044</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95044</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (اے پی پی، این این آئی) الیکشن کمیشن نے ایک سے زائد نشستوں پر جیتنے والے ارکان کو اضافی نشستیں چھوڑنے کیلئے 10 جون کی ڈیڈ لائن دیدی۔ ایک سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے ارکان نے دی گئی ڈیڈ لائن تک اگر اپنی اضافی نشست/نشستوں کو نہ چھوڑا تو قانونی طریقہ کار کے مطابق سیریل نمبر کے حساب سے آخری نشست پر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق نواز شریف حلقہ این اے 68سرگودھا کی نشست اپنے پاس رکھیں گے اور حلقہ این اے 120لاہور سے مستعفی ہو جائینگے۔ اس نشست پر ہونیوالے ضمنی انتخاب میں انکی صاحبزادی مریم نواز کے حصہ لینے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ شہباز شریف پی پی247جام پور کی نشست اپنے پاس رکھیں گے اور پی پی 159‘ 161لاہور اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129لاہورسے دستبردار ہو جائینگے ۔ حمزہ شہباز شریف این اے 119لاہور کی نشست اپنے پاس رکھیں گے جبکہ پی پی 147لاہورسے دستبردار ہو جائے گی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>رحمن ملک کی الطاف حسین سے ملاقات، انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95045</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95045</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95045_s.jpg</url></image>
<description>لندن (پ ر) پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رحمن ملک نے گزشتہ لندن میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین سے ملاقات کی اور ان سے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔سینیٹر رحمن ملک نے الطاف حسین کو صدرآصف زرداری کا خصوصی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے الطاف حسین کو عام انتخابات میں ایم کیوایم کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ الطاف حسین سے ملاقات سے قبل سینیٹر رحمن ملک نے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ایم کیوایم کے سینئر اراکین سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھی صدر آصف زرداری کا پیغام پہنچایا، ملاقات میں ایم کیوایم پیپلز پارٹی تعلقات اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔ اس موقع پر یہ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی رابطوں کا سلسلہ جاری رہے گا، ملاقات میں ندیم نصرت ، مصطفی عزیز آبادی ،قاسم علی رضا،طارق جاوید ،سیلم شہزاد ،محمد انور اور طارق میر شریک تھے ۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>سی پی جے کا نواز شریف سے صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95046</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95046</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (رپورٹ:عمر چیمہ) نیویارک میں قائم ایک بااثر تنظیم کمیٹی کو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اپنی ایک رپورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ اور آئی ایس آئی پر صحافیوں کو ہراساں اور قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نامزد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے 23/ صحافیوں کے قتل کے مقدمات کھولنے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیاہے۔ سی پی جے جودنیابھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہے، مسلم لیگ (ن) کی آئندہ حکومت سے انٹیلی جنس اداروں کو پارلیمانی نگرانی میں لانے کے لئے قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا۔ سی پی جے کے ڈائریکٹر ایشیاء باب ڈائٹز نے کہا کہ صحافیوں کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا یقینی بنا کر اور پریس مخالف تشدد کے دور کاخاتمہ کرکے نواز شریف اور ان کی حکومت ملک میں جمہوریت کے دیرپا تحفظ کو یقینی بناسکتی ہے۔ سی پی جے کی51/ صفحات پرمشتمل رپورٹ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ کے ایک دن بعد جاری ہوئی ہے جس میں ریاستی سیکیورٹی فورسز، سیاسی جماعتوں اور مذہبی عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے صحافیوں کو درپیش سنگین خطرات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ سی پی جے کی رپورٹ میں آئی ایس آئی اور ایم کیوایم کی جانب سے صحافیوں کے خلاف سخت حربوں کو نمایاں جگہ دی گئی ہے جس میں جسمانی اور ذہنی اذیت دیئے جانے کا ذکرکیا گیا ہے تاہم ایم کیوایم اورآ ئی ایس آئی نے عائد کئے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ رپورٹ کی مصنفہ اور نیویارک ٹائمزکی سابق نامہ نگارالزبتھ روبن نے جیو ٹی وی کے رپورٹر ولی خان بابر، وائس آف امریکا کے رپورٹر مکرم خان، عاطف اور سلیم شہزاد کے قتل کی تفصیلی تحقیقات کی۔ سی پی جے کی تحقیق دکھاتی ہے کہ 2003ء سے 2012ء کے دوران پاکستان میں 23/ صحافیوں کو قتل کردیاگیا۔ باب ڈائٹز نے لکھا کہ قتل کے کم از کم 7/ واقعات میں حکومت، فوج یا انٹیلی جنس حکام مبینہ طور پر ملوث رہے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ انتہائی بے خوفی اور بے دھڑک انداز میں کی گئیں۔ گزشتہ دہائی کے دوران صحافیوں کے قتل کا ایک بھی مقدمہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ جنوری 2011ء میں ولی خان بابر کے قتل سے متعلق رپورٹ میں لکھا گیا کہ پولیس نے ایم کیوایم سے وابستہ کئی ملزمان کو گرفتار کیا لیکن دوران تفتیش دھمکیوں اور قتل کی وارداتوں سے مقدمے کو پٹڑی سے اتار دیا گیا۔ کیس سے متعلق 5/ گواہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو قتل کردیا گیا، دو پراسیکیوٹرز وجوہ بتائے بغیر برطرف کردیئے گئے۔سی پی جے رپورٹ میں ایک ایڈیٹر کا ان کی درخواست پر نام لئے بغیر حوالے سے کہا گیا کہ ایم کیو ایم سے متعلق خبریں اور مواد شائع کرنے میں نہایت محتاط رہنا پڑتاہے وہ ان باتوں کو نہیں بھولتے۔ ایم کیوایم کے بارے میں لکھے گئے ایک ایک لفظ اور جملے کی چھان پھٹک کرناپڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150/ رپورٹرز کی مجھ پر ذمہ داری ہے اور بائی لائن خبر دینے میں بڑی احتیاط کرناپڑتی ہے۔ ایک ٹیلی ویژن ایگزیکٹو نے کہا کہ ایم کیوایم پروگرام پسند نہ آنے کی صورت میں کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر اسے بند کرادیتی ہے ، ایک اور ایڈیٹر کا کہناتھا کہ انہیں طالبان سے زیادہ ایم کیوایم کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ طالبان د ھمکی دیں تو کم از کم حکام سے مدد طلب کی جاسکتی ہے جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے، یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ سی پی جے نے کراچی پریس کلب میں کئی صحافیوں سے ولی خان بابر کے قاتل نہ گرفتار کئے جانے کے بارے میں دریافت کیا، ایک کا جواب میں کہناتھا کہ ہر انگلی ایم کیوایم کی جانب اٹھتی ہے لیکن پراسیکیوٹرز اور ججز بھی دھمکیوں کے زیر اثر ہیں۔ رپورٹ میں مکرم خان عاطف کے قتل پر بھی روشنی ڈالی گئی جن کے قتل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔ مکرم کے ساتھی اس دعوے پر شک کا اظہار کرتے ہیں، مکرم نے سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی فوج کی ہلاکت خیز حملے کی رپورٹنگ کی تھی جس کے نشر ہونے کے بعد ملٹری اور انٹیلی جنس حکام نے انہیں مسلسل دھمکیاں دی تھیں۔ سی پی جے کے ذرائع کے خیال میں قتل کے پیچھے سرکاری حکام کا ہاتھ ہے فوج اور عسکریت پسندوں میں تعلق کو ظاہر کرنا ایسی سرخ لکیر ہے جسے پار نہیں کیا جانا ہے۔ رپورٹ میں اپنی سفارشات کے باب میں ولی خان بابر اور مکرم عاطف سمیت 23/ صحافیوں کے قتل کے مقدمات کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں کے قتل کی سرکاری تحقیقات کو سامنے لایا جائے۔ خصوصاً حیات اللہ خان کے بارے میں جنہیں حساس قومی سلامتی معاملے کی رپورٹنگ پر 2006ء میں قتل کردیا گیا تھا۔ سی پی جے نے آئندہ وزیراعظم میاں نواز شریف سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو روکیں۔ سلیم شہزاد کمیشن کی سفارشات کے تحت رپورٹ میں میڈیا سے و ابستہ افراد کو ریاستی اداروں کے ساتھ شکایات کے ازالے کے لئے محتسب کے دفتر کے قیام کابھی مطالبہ کیا گیا۔ صحافیوں پر حملوں کو وفاقی جرم قرار دیا جائے اور صحافیوں کی سلامتی سے متعلق اقوام متحدہ کے ایکشن پلان پر عمل کیا جائے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>نئے ٹیکس آرڈیننس کے اجراء میں تاخیر</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95047</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95047</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (مہتاب حیدر) نئے ٹیکس آرڈیننس کے اجراء میں تاخیر کا سامنا ہے ۔نئے ٹیکس نافذ کرنے کیلئے صدارتی آرڈیننس کا مستقبل مخدوش ہوگیا کیوں کہ نئی آنے والی ن لیگ کی حکومت کے ساتھ معاہدے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ نگراں وفاقی کابینہ کے ایک وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ ٹیکس قوانین کے ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کیلئے مسلم لیگ ن سے مشاورت جاری ہے۔ نئی آنے والی حکومت چاہتی ہے کہ نگراں حکومت ٹیکس کے معاملات میں سخت فیصلے کرے تاکہ ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آئے اور سارا ملبہ نگراں حکومت پر گرے۔ٹیکس اصلاحات کے مشکل فیصلوں کے ساتھ جڑے سیاسی معاملات کے پیش نظر صدر اس متنازع آرڈیننس کو پاس کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس فیصلے کی مسلم لیگ ن سے توثیق چاہتے ہیں۔اگر ٹیکس کے نئے قوانین نافذ نہیں کئے گئے تو ایف بی آر کو 300سے350ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا ہوگا۔ ٹیکس وصولی کا ہدف پہلے 2381ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جس میں تین بار کمی کی گئی اور اب یہ ہدف 2050ارب روپے ہے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگر نئے ٹیکس قوانین نافذ کردیے جائیں تو 100سے 150ارب روپے اضافی حاصل کیے جاسکتے ہیں اور مجموعی وصولی 2200ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے، نئے ٹیکس نافذ نہ ہوئے تو 2000ارب روپے کی سطح کو بھی چھونا ناممکن کوجائے گا۔اس سلسلے میں جب سینئر ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں مذکورہ آرڈیننس کے بارے میں علم نہیں اور وہ صدر کی دستخط شدہ کاپی کے منتظر ہیں جس کے بعد اس معاملے میں وضاحت جاری کی جائے گی۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے شکیل عمر سلیم تاجک اور فاروق سلیم کو معطل کردیا</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95048</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95048</guid>
<image><url></url></image>
<description>کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کارکنان و عوام کومطلع کیا ہے کہ تازہ ترین فیصلوں کے مطابق رابطہ کمیٹی کے رکن شکیل عمر، سلیم تاجک اور کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق رکن فاروق سلیم کوغیر معینہ مدت کیلئے تنظیم سے معطل کر دیا گیا ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران ،کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان معطل ارکان سے کسی قسم کا قطعی کوئی رابطہ ہرگز نہ رکھیں جو ذمہ داران یا کارکنان اس ہدایت کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے ان کیخلاف بھی تنظیمی نظم ضبط کے تحت کارروائی کی جائیگی۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کی عارضی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے سینکڑوں سابق کارکنوں کی فون کالز موصول ہورہی ہیں جنہیں تنظیمی نظم وضبط کی خلاف ورزی پر پارٹی سے معطل یا خارج کردیا گیا تھا لیکن اب وہ ہفتہ کو ہونے والے جنرل ورکرز اجلاس میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ایم کیوایم کے اعلامیئے کے مطابق عارضی رابطہ کمیٹی نے کہاکہ جن لوگوں کو سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی بنیاد پر ایم کیوایم سے خارج کیا گیا تھا ان کو پارٹی میں واپس لیے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،تاہم جن ذمہ داروں اور کارکنوں کو پارٹی ڈسپلن کی معمولی خلاف ورزیوں پر معطل یا خارج کیا گیا تھا وہ پارٹی میں واپسی کی درخواست اپنے فون نمبر کے ساتھ براہ راست لندن فیکس کر سکتے ہیں جہاں موجود ذمہ داران انکی درخواستوں کا جائزہ لیکر کوئی فیصلہ کر یں گے ۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>چینی وزیراعظم کا کفایت شعاری کا پیغام ، میرے لئے کسی استقبالیے کا اہتمام نہ کیا جائے، رقم پاکستانی عوام کی بہبود پر خرچ کی جائے، لی کی چیانگ</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95049</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95049</guid>
<image><url></url></image>
<description>اسلام آباد (طاہر خلیل) پاکستان اور چین کے درمیان پر خلوص دوستی کی ایک بہترین مثال اس وقت پیش ہوئی جب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے مہمان وزیراعظم لی کی چیانگ نے پاکستان کے مشکل اقتصادی حالات کا اندازہ کرتے ہوئے کفایت شعاری کے جذبے کے تحت حکام کو ہدایت کی کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سینٹ سے خطاب کے موقع پر ان کیلئے کسی قسم کی مفرحات کا بندوبست نہ کیا جائے، اس یادگار اور تاریخی موقع پر پارلیمنٹ سیکرٹریٹ نے چینی وزیراعظم کیلئے ایک شایان شان اور پُر تکلف استقبالیہ کا اہتمام کیا تھا مگر چینی وزیراعظم نے حکام کے ذریعے واضح پیغام دیا کہ ان کیلئے کسی استقبالیہ کا اہتمام نہ کیا جائے اور یہ رقم پاکستانی عوام کی بہبود کیلئے منتقل کر دی جائے۔ بعد میں چینی وزیراعظم اور وفد کیلئے سادہ چائے اور جوس وغیرہ کا اہتمام کیا گیا مگر مہمان وزیراعظم نے اس سے بھی منع کر دیا اور پارلیمنٹ میں دو گھنٹے قیام کے دوران انہوں نے صرف سادہ پانی پر اکتفا کیا اور پاکستانی قوم کیلئے کفایت شعاری کا بہترین پیغام دیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر چینی وزیراعظم نے اپنے استقبالیہ کیلئے بچوں سے گلدستے وصول کرنے کے بعد دونوں بچوں کو تحفے میں چینی پاؤنڈ اور بھالو کے کھلونے دیئے۔ سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا اور صحت کے حوالے سے خوشگوار کلمات کہے۔ کانفرنس روم میں بھی چینی وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مفرحات اور مشروبات نہیں رکھے گئے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>صدر نے سول سرونٹس ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دیدی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95050</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95050</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95050_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد (آن لائن) صدر آصف زرداری نے سول سرونٹس ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دیدی جس کے تحت صوبوں کو منتقل ہونیوالی وزارتوں میں سول سرونٹس مستقل ہو جائینگے۔ صدر آصف زرداری نے وزیراعظم کی ہدایت پر سول سرونٹس ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دیدی جس کے بعد وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کے ملازمین کو جہاں بھی منتقل یا تبدیل کیا گیا ہے وہاں پر ان کی سروس مستقل ہوجائیگی،اس آرڈیننس کے نفاذ سے صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کے ملازمین کی سروس دیگر اداروں میں منتقل ہونے کے ساتھ ان کی مراعات اور دیگر امور بھی شامل ہیں۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>سوئس ماہرین بڑھاپے کی پراسراریت جاننے کے قریب پہنچ گئے</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95051</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95051</guid>
<image><url></url></image>
<description>جنیوا(اے ایف پی) سوئس ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ بڑھاپے کی پراسراریت جاننے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ چوہے پر کیے جانے والے تجربے میں زندگی طویل کرنے والی جین کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور اینٹی بائیوٹک طریقہ علاج کے ذریعے کیڑوں کی عمر میں 60فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ یہ کیڑے نہ صرف زیادہ دن زندہ رہے بلکہ پہلے سے زیادہ تندرست بھی ہوگئے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>فوج ظفر موج ،ایف بی آر میں افسروں کی تعداد 1551ہو گئی</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95052</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95052</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95052_s.jpg</url></image>
<description>اسلام آباد (حنیف خالد) ایف بی آر نے 22 مئی 2013ء کو جاری گئے گئے نوٹیفکیشن نمبر 1210۔ آئی آر 2013/A II میں انکشاف کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کسٹم سروس (پی سی ایس) کی بنیادی سکیل نمبر 22 کی ایک آسامی، بنیادی سکیل نمبر 21 کی اٹھارہ آسامیاں بنیادی سکیل نمبر 20 کی 45 آسامیاں بنیادی سکیل نمبر 19 کی 98 آسامیاں بنیادی سکیل نمبر 18 کی 150 آسامیاں بنیادی سکیل نمبر 17 کی 101 آسامیاں ہونگی۔ اس طرح پاکستان کسٹم سروس میں بنیادی سکیل نمبر 17سے نمبر 22 کی 413 آسامیاں ہونگی جبکہ ان لینڈ ریونیو سروس کی 1138 آسامیاں کی گئی ہیں۔ ان میں بنیادی سکیل نمبر 22 کے دو افسر بنیادی سکیل نمبر 21 کے 46 افسر بنیادی سکیل نمبر 2 میں 102 افسر بنیادی سکیل نمبر 19کے 233 افسر بنیادی سکیل نمبر 18 کے 377 افسر اور بنیادی سکیل نمبر 378 افسران ہونگے۔ پاکستان کسٹم سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس ایف بی آر کے تحت کام کرتی رہیں گی۔ اس طرح ایف بی آر میں افسروں کی فوج ظفر موج کے باوجود رواں مالی سال کے میزانیاتی ریونیو ہدف میں 350 ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>میرے بعد پاکستان انکم سپورٹ پروگرام کا نہ صرف نام تبدیل کیا گیا بلکہ شفافیت کی تمام شرائط بھی پس پشت ڈال دی گئیں ، اسحاق ڈار </title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95053</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95053</guid>
<image><url>http://images.thenews.com.pk/jang/95053_s.jpg</url></image>
<description>لاہور (نمائندہ جنگ) مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر اسحاق ڈار نے بعض اخبارات میں بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کی وضاحت کی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے 2008ء میں وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر 34 ارب روپے کی خطیر رقم سے پاکستان انکم سپورٹ پروگرام کا منصوبہ تشکیل دیا تھا جس کا مقصد انتہائی غریب اور نادار افراد کی مالی معاونت کرنا تھا۔ منصوبے میں یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ یہ پروگرام مکمل شفاف اور کرپشن سے پاک ہو گا۔ میرے وزارت چھوڑنے کے بعد پروگرام کا نہ صرف نام تبدیل کر دیا گیا بلکہ اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے میری طے کردہ شفافیت کی تمام شرائط کو پس پشت ڈال دیا گیا۔جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی خود یہ تسلیم کر چکی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مالی مدد حاصل کرنے والے 37 لاکھ خاندانوں میں سے ساڑھے سات لاکھ خاندانوں کو اس لیے خارج کرنا پڑاکہ آڈٹ کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ یا تو یہ خاندان مالی مدد کے مستحق نہیں تھے یا پھر ان خاندانوں کاسرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
<item>
<title>ڈالر کی قیمت میں کمی، سونا مہنگا، تیل سستا</title>
<link>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95054</link>
<guid>http://beta.jang.com.pk/details.asp?nid=95054</guid>
<image><url></url></image>
<description>لندن(رائٹرز) ڈالر کی قدر میں کمی، سونا مہنگا اور تیل سستا ہوگیا۔ سونے کی قیمت 1.2فیصد اضافے کے بعد 1384.70ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا جبکہ ڈالر کی قدر میں 0.6فیصد کمی واقع ہوئی۔ تیل کی قیمت تین ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ خام تیل کی قیمت 1.22ڈالر کمی کے بعد 101.20ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت 1.36ڈالر کمی کے بعد 92.92ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔</description><pubDate>Fri, 24 May 2013 00:00:00 +0500</pubDate>
</item>
</channel>
</rss>
