کراچی(اسٹاف رپورٹر) پیرکو نئے ہفتے کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ کی سرگرمیاں مندی کی لپیٹ میں رہیں۔ این آر او کے حوالے سے بڑھنے والی سیاسی بے یقینی اور راولپنڈی میں ہونے والے خود کش دھماکے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا جبکہ عالمی مارکیٹوں میں جاری مندی کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی مقامی مارکیٹوں سے اجتناب کیا۔ انڈکس 287 پوائنٹس کی کمی کے بعد 8900 کی حد سے بھی نیچے آگیا۔ لاہور میں 94 پوائنٹس کم ہوئے۔ ہفتے کا آغاز اگرچہ مندی سے ہوا لیکن بم دھماکے کی اطلاعات ملنے پر مارکیٹ میں تشویش بڑھی۔ اس کے علاوہ این آر او کے پارلیمنٹ سے منظوری کے سلسلے میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے بھی کاروباری حلقوں میں مستقبل کے بارے میں مایوسی بڑھی۔ بیشتر معروف حصص میں فروخت کا عنصر نمایاں رہا البتہ بعض مخصوص حصص میں معمولی درجے کی خریداری بھی دیکھنے میں آئی۔ مجموعی طور پر 403 حصص سرگرم رہے جن میں سے 298 میں کمی اور 88 میں اضافہ ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈکس 286.78 پوائنٹس کم ہوکر 8872.40 پر آگیا۔ کاروبار کا حجم 152 ملین حصص کے سودوں تک تھا۔ جے ایس کمپنی میں 15.9، ٹی آر جی 12.8، پاک پی ٹی اے 10 اور الفلاح بینک میں 9.2 ملین حصص کا کاروبار نمایاں رہا۔جے ایس کمپنی 1.75 روپے کم ہو کر 33.35 ، ٹی آر جی 47 پیسے کم ہو کر 2.15، پاک پی ٹی اے 47 پیسے کم ہوکر 6.63، الفلاح 72 پیسے کم ہو کر 12.81، پاک پریمیئر 18 پیسے کم ہوکر 6.32، عارف حبیب سیکورٹیز 2.58 روپے کم ہو کر 49.04، پی ٹی سی ایل 90 پیسے کم ہو کر 17.95، نیشنل بینک 2.90 روپے کم ہو کر 79.38، او جی ڈی سی ایل 2.39 روپے کم ہو کر 101.22 اور بوسیکار 37 پیسے کم ہو کر 8.39 روپے پر ختم ہوا۔ سب سے زیادہ اضافہ یونی لیور فوڈز میں ہوا جو 58.42 روپے بڑھ کر 1226.93 اور سروس انڈسٹریز 13.10 روپے بڑھ کر 308.59 پر آگئے۔ سب سے زیادہ کمی سیمنس میں ہوئی جو 29.48 روپے کم ہو کر 1393.67 اور وائتھ 18.36 روپے کم ہو کر 1212.64 پر ختم ہوئے۔ لاہور کا انڈکس 93.48 پوائنٹس کم ہوکر 2708.84 پر آگیا۔ کاروبار کا حجم 10.8 ملین حصص تک رہا۔