کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر برائے خوراک اور ایگری کلچر نذر محمد گوندل نے کہاہے کہ عوام کو چینی کی فراہمی صوبوں کی ذمہ داری ہے ‘ پنجاب‘ سندھ سمیت ملک کے دیگر مقامات پر چینی کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف چھاپے مارے جارہے ہیں‘ کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت نے باسمتی چاول کے 1250 روپے‘اری 6کے 600روپے جبکہ 385چاول کے 1000روپے فی من حکومتی نرخ مقرر کردئیے ہیں جبکہ دوسری جانب چاول کے برآمدکنندگان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے چاو ل کے برآمدکنندگان کوکم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی کے لیے وزیرخزانہ سے بات چیت کی جائیگی یہ بات انہوں نے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان(ریپ) کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر خوراک برائے سندھ سید علی نواز شاہ‘سیکرٹری خوراک محمد ضیاء الرحمن‘پاسکو کے منیجنگ ڈائریکٹر میجر جنرل انور سعید خان‘ریپ کے چیئرمین ملک جہانگیر‘ وائس چیئرمین رفیق سلیمان اور دیگر حکومتی عہدیداران بھی موجود تھے نذر محمد گوندل نے کہا کہ کسانوں کو چاول کی مناسب قیمت فراہم کی جائیگی اور مارکیٹ میکنزم کے تحت ملک کی 18کروڑ عوام کی بہتری اور خوراک کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ اری 6چاول کی فصل کی تیاری پر چاول کے برآمدکنندگان 600روپے فی من کسانوں کو دینے کے لیے تیارہوگئے ہیں اور جب برآمدکنندگان چاول کی خریداری کرینگے تو کسانو ں کو بھی فائدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ باسمتی چاول مقامی سطح پر استعمال نہیں ہوتا بلکہ برآمد کیا جاتا ہے اور امسال باسمتی چاول کی پوری دنیا میں پیداوار کم ہوئی ہے انہوں نے ایک سوا ل کے جواب میں کہا کہ پاسکو نے پنجاب سے باسمتی کا ہدف حاصل کرنا شروع کردیا ہے جبکہ سندھ سے شروع ہونے والا ہے نذر گوندل نے کہا کہ رائس ایکسپورٹر ز ایسوسی ایشن نے چاول کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے اپنا بھر پور تعاون فراہم کرنے کے لیے کہاہے جس کے تحت بیرونی ممالک سے سائنسدانوں کو ملک میں بلایا جائیگا اور کسانوں کو تربیت بھی فراہم کی جائیگی انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے چاول کی خریداری اور برآمد کے لیے جاری کردہ ٹینڈر واپس نہیں لیا جاسکتا۔ وائس چیئرمین ریپ رفیق سلیمان نے کہا کہ اگر ٹی سی پی کی جانب سے چاول کی خریداری اور برآمد کا ٹینڈر واپس نہیں لیا گیا تو چاول کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا مشکل ترین ہوجائیگا ۔