| کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر صنعت و تجارت سندھ رؤف صدیقی نے گزشتہ روز سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ایم ڈی، ڈی ایم ڈی، ریجنل ڈائریکٹر اور ڈائریکٹرزکے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکریٹری انڈسٹریز علی احمد لوند اور ایڈیشنل سیکریٹری ضمیر احمد صدیقی بھی موجود تھے۔ اس میٹنگ میں خصوصیت کے ساتھ SMEDAکے بارے میں تحفظات کا اظہارکیا گیا اور رؤف صدیقی کو بتایا گیا کہ فیڈرل گورنمنٹ سے ٹریننگ سینٹرکی مد میں کروڑوں روپے وصول کرنے کے بعد بھی کام شروع نہیں کیا گیا اور صرف ایک کمرہ تعمیرکیا گیا ہے۔ اس پر رؤف صدیقی نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے ایف آئی اے کو اس کی فوری انکوائری کے لیے خط لکھا ہے اس کے ساتھ ہی ایک دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جوکارپوریشن کے تمام اثاثوں سے متعلق تحقیقات کرے گی۔ اس کے علاوہ بینک میں کلیئر ڈپازٹ کی رقم وقت پر نہ رکھنے کی انکوائری بھی کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی سندھ اسمال انڈسٹری کی جانب سے سندھ کے مختلف شہروں میں تعمیراتی پروجیکٹ کی بھی رپورٹ وزیر صنعت وتجارت کو پیش کی گئیں جس میں بعض تعمیراتی کاموں میں غیر معیاری کنسٹرکشن کی اطلاعات بھی دی گئیں۔ جس پر رؤف صدیقی نے انٹرنیشنل ڈیزائن گروپ کو ان زیر تعمیر پروجیکٹس کی کوالٹی کو چیک کرنے کا ٹاسک دیا اورکہا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر بورڈ کے سامنے اس کی رپورٹ پیش کریں گے جن کے ساتھ ویڈیو فلم اور فوٹوگرافس پر بھی کمیٹی کو پیش کیے جائیں۔ |
|