Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  دل لگی 
 
کراچی(جنگ نیوز) ماڈل و اداکارہ ناہید شبیر نے کہا ہے کہ نئے آنے والے اداکار سنجیدہ کم ہیں اس لئے نوجوانوں کو اس فیلڈ میں آنا چاہئے، فلم کی اجازت مل جائے تو بھی کام نہیں کروں گی ،ملبوسات کی مکمل ذمہ داری اداکار پر ہوتی ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار جیو نیوز کے پروگرام ”نادیہ خان شو“ میں کیا۔ فلموں میں کام کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میرا فلم والا مزاج ہی نہیں ہے۔ کل رات میں نے جیو فلمز کی پیشکش ”محبتاں سچیاں“ دیکھی۔ وہ فلم مجھے بہت پسند آئی، اگر ایسی ہی کوئی اور مہذب فلم بنی تو میں شاید کام کرلوں۔ شادی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجھ سے بڑی تین بہنیں ہیں، شادی گھر والوں کی رضامندی سے کروں گی۔ شادی کے بعد کام کرناآسان نہیں ہے، اگرمیاں کی اجازت ملی تو ہی کام کروں گی۔ ڈراموں میں ملبوسات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اکثر اداکارائیں ملبوسات کے لئے ڈائریکٹر کو موردِ الزام ٹھہراتی ہیں، یہ غلط بات ہے۔ ملبوسات کی مکمل ذمہ داری اداکار پر ہوتی ہے۔ نئے آنے والوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب ہم ڈرامے کی کاسٹنگ کے لئے بیٹھتے ہیں تو وہی دو چار اچھے اداکار نظر آتے ہیں، نئے آنے والے سنجیدہ کم ہیں اس لئے نوجوانوں کو اس فیلڈ میں آنا چاہئے۔ آرٹسٹوں کی یکسانیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں انٹرویو بھی کم دیتی ہوں اور بہت کم شوز میں شرکت کرتی ہوں۔جیو ٹی وی کی ڈرامہ سیریل ”چاند پروسہ“ میں مرکزی کردار نبھارہی ہوں، ”تنویر فاطمہ بی اے “ میں مرکزی کردار نہ کرنے کاافسوس نہیں ہے، کیونکہ ہیروئین کے اوپر بھی بہت ذمہ داری ہوتی ہے اور میں پہلے ہی ”چاند پروسہ“ میں مرکزی کردار نبھارہی ہوں۔ جیو ٹی وی کی نئی ڈرامہ سیریل ”تنویر فاطمہ بی اے“ اور ”چاند پروسہ“ کے پروڈیوسر حسن ضیا نے کہا کہ جیو ٹی وی کے بدر اکرام صاحب کی جانب سے ایک آئیڈیا دیا گیا کہ دھوبیوں کی طرزِ زندگی پر ایک ڈرامہ بنایا جائے جس میں ایک لڑکی بی اے کررہی ہے اور سب اس کے مخالف ہیں۔ اس آئیڈیئے نے ”تنویر فاطمہ بی اے“ کو جنم دیا۔ اس ڈرامے میں دانش نواز نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ ”چاند پروسہ“ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے میں مرکزی کردار عمیمہ عباسی نبھارہی ہیں، اس کے ڈائریکٹر نوید جعفری ہیں۔ ”چاند پروسہ“ میں بھارتی شاعر گلزار کی شاعری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میرا تعلق دینا سے ہے اور گلزار صاحب کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ 2001میں بھارت گیا۔ان سے ملنے کی خواہش تھی ۔ بس اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھ گیا۔ بھارتی شاعر گلزار نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان میں اپنے آبائی علاقے دینا اس لئے نہیں گیا کہ میں اپنے ذہن میں موجود بیتی یادوں کو فراموش کرنا نہیں چاہتا۔ چونکہ کوئی بھی جگہ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی اور اس میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں نے جیسا علاقہ دیکھا تھا اس کا تصور اسی طرح میرے ذہن میں ہمیشہ قائم رہے۔ ”چاند پروسہ“ میں اپنے گانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے کے پروڈیوسر حسن ضیاء میرے بیٹے کی طرح ہیں اور بہت اچھا کام کرتے ہیں۔
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback