Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  مراسلات 
 
قیام پاکستان کے وقت ملک میں شکر سازی کی دو ہی ملیں تھیں ایک رہوالی میں اور دوسری تخت بھائی کے مقام پر ، سندھ میں فوجی فاؤنڈیشن نے 1959-60 میں شکر بنانے کی ایک مل قائم کی۔1980ء تک ملک میں شوگر ملوں کی تعداد بڑھ کر 28 ہوگئی اور اس کے بعد اگلے دو عشروں کے دوران یہ تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ کر80تک جا پہنچی۔ 80کے عشرے میں اس وقت کی فوجی حکومت کو سیاستدانوں کی حمایت کی ضرورت تھی جس کے حصول میں حکومت شکر کی نئی ملوں کے قیام کی اجازت دینے سے آسانی ہوتی چلی گئی اور یوں نئی ملیں لگتی رہیں۔ اس طرح پاکستان میں شکر سازی کی صنعت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ اس وقت ملک بھر کی ملوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 56لاکھ ٹن چینی ہے جبکہ بھرپور پیداوار کیلئے اتنا گنا دستیاب نہیں ۔ اس طرح ملک میں شکر بنانے کے تمام کارخانے اپنی پیداواری صلاحیت سے کم کام کررہے ہیں۔ استعداد سے کم کارکردگی پر ملیں چلانے کی وجہ چینی کی پیداواری لاکت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ چینی کی قیمت عالمی منڈی میں کم ہے البتہ پاکستانی صارفین اس صورتحال سے متاثر ہورہے ہیں کہ انہیں چینی مہنگی ملتی ہے۔ پاکستان میں اوسطاً 130 یوم میں چینی کی جو پیداوار حاصل کی جاتی ہے وہ پورے سال کی ملکی ضروریات کے لئے کافی ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایک تخمینے کے مطابق 2008-09 کے دوران سوا آٹھ لاکھ سے زائد کاشت کاروں نے 10لاکھ 29ہزار ایکڑ رقبے کی پیداوار سے 5کروڑ 45ہزار ٹن گنا حاصل کیا۔ اس طرح 48ہزار 634 کلوگرام فی ایکڑ پیداوار حاصل ہوئی جبکہ دنیا کے بہت سے ملک اس سے بھی زائدفی ایکڑ پیداوار حاصل کررہے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ دو عشروں کے دوران گنے کے زیر کاشت رقبے میں اضافہ بھی ہوتا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گنے کی قیمت میں اضافہ نہ ہونے کے وجہ سے کاشتکاروں کا فائدہ بہت معمولی ہے اور کبھی وہ قدرے نقصان سے بھی دوچارہوتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں چینی کا فی کس استعمال بھی زیادہ ہے۔ بھارت میں چینی کا استعمال 17کلو گرام سالانہ فی کس ہے اور چین میں اس کا استعمال محض 9کلو گرام فی کس ہے جبکہ پاکستان میں ایک آدمی سالانہ23کلوگرام چینی استعمال کرتا ہے۔ 1980ء کے بعد سے ہی پاکستان میں چینی کے استعمال میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ 1980ء میں اس کا استعمال 9کلوگرام فی کس سالانہ سے بڑھ کر 1990ء میں 20کلو گرام سالانہ فی کس تک جاپہنچ چکا تھا ۔ 1960 سے قبل ملک میں گڑ کا استعمال زیادہ تھا۔ لیکن گڑ کی پیداوار میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہے۔ 1948ء میں پہلا حکم نامہ ”دی گڑ کنٹرول آرڈر“ جاری ہوا البتہ 1972ء میں اس آرڈر کو ختم کردیا گیا لیکن بعد ازاں 1980ء میں چینی کے صنعت کاروں نے گڑ بنانے والوں پر سختی کرادی۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کو چاہئے کہ وہ گڑ کی تیاری کی حوصلہ افزائی اور اس کے لئے کاشتکاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرے کیونکہ گڑ کے استعمال میں اضافے سے چینی کی طلب میں کمی واقع ہوگی اور یوں ذخیرہ اندوزوں کے لئے چینی چھپانے کا عمل بھی نفع بخش نہیں رہے گا۔
(ایم آئی احمد ۔ کراچی)
 
Print Version


 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback