Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  مراسلات 
 
برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے اپنے نظریاتی وطن پاکستان کے قیام کیلئے جس طرح ان گنت اور بیش بہا قربانیاں دی تھیں آج وہ اسی طرح اب وطن عزیز بقا اور سا لمیت کے لئے قربانیاں دینے پر مجبور کردئیے گئے ہیں۔ پچھلے آٹھ سالوں سے پاکستانیوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ پوری دنیا جانتی ہے، مگر دشمن اب بھی ہمیں ہر طرف سے کمزور اور خوفزدہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس کے جاسوس ہمارے جوہری ہتھیاروں کی بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔حد یہ ہے پاکستان میں کوئی تنکا بھی ٹوٹ جائے تو انہیں ہمارے جوہری اثاثے خطرے میں گھرے نظر آتے ہیں اور وہ اپنی اس خواہش کو مشتہر کرنا شروع کردیتے ہیں کہ عنقریب پاکستان کے جوہری ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے والے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ مطالبہ کرنے بھی کرنے لگتے ہیں کہ یہ ہتھیار فوری طور پربین الاقوامی کنٹرول میں دے دئیے جائیں۔حقیقت کو سمجھنے کیلئے دورجانے کے ضرورت نہیں۔ ملک میں رونما ہونے والے دو حالیہ واقعات پر ہی اگر غور کرلیاجائے توہمیں اپنے دشمنوں کی ذہنیت اور شاطرانہ چالوں کااندازہ ہوجائے گا۔ GHQ پر ھ حملے کے واقعے کو بھی اس ذہنیت کے تحت نے خوب خوب اچھالا گیا اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کی اہم ترین تنصیبات اور اہم ترین ادارے خطرے میں ہیں اور وہ کسی بھی وقت دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں، اسی طرح دوسرا واقعہ کامرہ میں ائیربیس کی طرف جانے والی سڑک کے سامنے جی ٹی روڈ پر دھماکے کا ہے۔ اس حادثے کے بعد تیس منٹ کے بعد مغربی میڈیا کے حوالے سے یہ خبر نشر ہوئی کہ یہاں پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں۔ ان واقعات سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا کہ دہشت گردی کی یہ واداتیں کون اور کس مقصد کے تحت کرا رہا ہے اور اس کے پس پردہ کیا عزائم ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے دشمنوں ہربات کی تان ہمارے جوہری ہتھیاروں پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے؟ جہاں تک دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے کا تعلق ہے تو صرف فوجی کارروائی اس کا حل نہیں ایسی فوری کارروائی سے یہ مسئلہ دب تو ضرور جائے گا لیکن یہ اس مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہے۔ مسئلے کا پائیدار حل سوات، فاٹا، وزیرستان کے علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں لانا ہے، جس کیلئے ان جامع ترقیاتی منصوبوں کی پر عمل ضرورت ہے، جن میں فاٹا اور سوات کیلئے تعلیم، صحت اور ذرائع آمد و رفت کے مسائل کیلئے کئی مفید حل تجویز بھی کئے گئے ہیں لیکن ان منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ امریکہ پہلے تو اس کام میں پیش پیش تھا لیکن جب ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔ فوجی طاقت سے وقتی طور پر تو حالات قابو میں آجائیں گے لیکن فوج کے واپس آجانے کے بعد کیا حکمت عملی ہوگی…؟ فوج کا کام تو صرف لگی ہوئی آگ کا بجھانا ہے لیکن اس کے بعد کا کام تو ہم نے خود کرنا ہے اور یہ کام ہم اسلامی آئیڈیالوجی کو فروغ دئیے بغیر نہیں کرسکتے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں سے طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرکے انہیں اسلامی نظریاتی نظام کا گہوارہ بنائیں ، یہی ہماری نجات ہے۔
(ڈاکٹر فوزیہ چوہدری۔ کراچی)
 
Print Version


 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback