Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  مراسلات 
 
بھارت کے وزیر داخلہ چدم برم نے کہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند تنظیمیں بھارت میں در اندازی کی تیاری کررہی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں موجود بعض شدت پسند گروپ لشکر طیبہ، حبیش محمد اور حزب المجاہدین اور دیگر بھارت میں دہشت گردی اور افراتفری پھیلانے کی نیت سے در اندازی کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ان سب کا مقصد یہ ہے کہ بھارت میں افراتفری پید ا کی جائے اگر ان کو روکا نہیں گیا تو خطرہ ہے کہ یہ پورے جنوبی ایشیاء میں پھیل سکتے ہیں۔ چدم برم کے اس بیان سے یہ بات عیاں ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کینہ توزی میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ جہاں سے واپس آنا خوداس کیلئے بھی ممکن نہیں۔ ایسے ہی موقع کیلئے لارڈ بائرن نے کہا ہے کہ ”نفرت دل کا پاگل پن ہے“ اور آج اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا یہ قول ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حکمران پر پوری طرح سے صادق آتا ہے۔ بھارت ہمارے خلاف برائی کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ دنیا کی توجہ پاکستان کے اچھے کاموں پر سے ہٹا کر ان منفی اور پوشیدہ مفروضات اور مقاصد پر لگا دی جائے کہ جن کاحقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہو اور دنیا اس کو حقیقت تصور کرنے لگے جو بھارت دیکھ اور کہہ رہا ہے اور اس میں بھی شک نہیں بھارت اپنے اس عمل سے دنیا کو یہ باور کرانے میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔ بھارت صرف یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ساری دنیا پاکستان کے خلاف ہوجائے اور پاکستان کے اچھے کاموں میں بھی سو سو کیڑے نکالنا شروع کردے۔ بھارت نے ساری دنیا میں اپنی ایک منظم اور مربوط سازش اور خارجہ پالیسی کے تحت پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی ایک ایسی مہم چلا رکھی ہے کہ دنیا بھارت کی عیاری اور سازش سے آگے بچھی بچھی جارہی ہے اور پاکستان سے متعلق اس کے کہے ہوئے غلط کو بھی درست جاننے لگی ہے۔ اگرچہ یہ ٹھیک ہے کہ بھارت ہمارا کبھی بھی اچھا پڑوسی نہیں رہا ہے اور شایدوہ ہمارا اچھا پڑوسی بن کر رہنا بھی نہیں چاہتا ہے ہے کیوں کہ یہ اپنی منافقانہ عادتوں کے ہاتھوں مجبور ہے کہ یہ اپنی ان عادتوں کی وجہ سے وہ کبھی پاکستان کا اچھا پڑوسی خود کو ثابت بھی نہیں کروا سکتا۔ اسی وجہ سے یہ پاکستان کا ہمیشہ سے مخالف رہا ہے اور شاید ہمیشہ ہی رہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان دنوں پاکستان کے اندرونی حالت کچھ اچھے نہیں ہیں مگر اتنے بھی برے نہیں ہیں کہ پاکستان کے پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت اور افغانستان اس کے ان بگڑے ہوئے حالات پر اپنی سیاست چمکائیں اور وہ خود کو پارسا ثابت کرنے کی جدوجہد میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے دنیا کو پاکستان سے متعلق گمراہ کرتے رہیں پاکستان ایسا ہے؟ تو پاکستان ویسا ہے؟۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جسے دنیا بھی بچشم خود دیکھ بھی رہی ہے تو سن بھی رہی ہے کہ پاکستانی حکمران اور عوام اپنے اندرونی حالات کو درست کرنے کیلئے اپنے کام میں مصروف ہیں کہ پاکستان کے حالات جلد سدھر جائیں او رحکومت کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے آج ہر محب وطن پاکستانی کی یہ دلی آرزو ہے کہ پاکستان میں جلد از جلد ایسا مثالی امن قائم ہوجائے۔ پاکستان کی بقا و سلامتی اور خودمختاری کا اس کرہ ارض پر اگر کوئی دشمن ہے تو وہ صرف بھارت ہے کیونکہ اس کی نظر میں پاکستان اس کا دشمن ہے حالانکہ پاکستان نے تو بھارت کو اپنا ایک اچھا پڑوسی جانتے ہوئے اس سے اپنے اچھے مراسم قائم کرنے کی بڑی کوششیں کیں مگر بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے جذبہ دوستی کا اب تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے ۔
(محمد اعظم عظیم۔ کراچی )
 
Print Version


 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback