Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
مراسلات
 
Share ”بلیک واٹر“
پاکستان میں ”بلیک واٹر“ تنظیم کے حوالے سے طرح طرح کی اطلاعات گردش کرر ہی ہیں لیکن حکومت بار بار ان کی تردید کررہی ہے جس کی وجہ سے جس کی وجہ سے بات کچھ دب گئی تھی لیکن اب ہمارے وزیر داخلہ نے اچانک یہ بیان دے کر کہ امریکہ کو زمین دینے میں کوئی حرج نہیں“ اس سے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے خدشات کی ایک طرح سے بالواسطہ تصدیق کردی ہے۔ ”بلیک واٹر“ ایک خطرناک سیکورٹی تنظیم کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے جو دنیا بھر میں امریکہ کیلئے بھی خطرناک کام انجام دے رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے مقاصد میں مسلمانوں کی نسل کشی اور عیسائیت کا پرچار بھی شامل ہے مگر امریکی حکومت نے ”بلیک واٹر“ کے ان مقاصد کو نظر انداز کرتے ہوئے 2002ء میں اسے امریکی فوجیوں کی حفاظت کا ٹھیکہ دیا۔ اس تنظیم کے سربراہ ایک اعلان کے مطابق اب یہ تنظیم ” بلیک واٹر ورلڈ وائیڈ“ کے بجائے (xe زی) کے نام سے کام کررہی ہے۔ ”بلیک واٹر ورلڈ وائیڈ“ ایک سال میں چالیس ہزار افراد کو فوجی تربیت دیتی ہے جن میں کہ زیادہ تر امریکی فوجی ہوتے ہیں۔ عراق میں اس کمپنی کو عراقی سیکورٹی گارڈ اور فوج کو تربیت دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس دوران زی (xe) کے ذریعے عراقی شہری ہلاک و زخمی کرائے گئے۔ بغداد میں ”تیسور اسکوائر“ میں 16/ستمبر 2007ء کو بہت سے عراقی باشندے ہلاک ہوئے تو عراقی وزیر داخلہ نے اس کمپنی کو ملک سے چلے جانے کا حکم دیا۔ لیکن افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ اب اس بدنام تنظیم کو افغانستان اور پاکستان میں بھی کارروائیوں کے لئے استعما ل کیا جارہاہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوئی۔ اسلام آباد کے ”ایک ہوٹل“ میں جو دو امریکی مارے گئے تھے وہ ” بلیک واٹر“ ہی کے کارندے تھے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمنر کے مطابق سی آئی اے اسی کمپنی کو پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے لئے بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ اس کمپنی کے اہلکار پاکستان کے اور افغانستان کے خفیہ مقامات کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ بظاہر تو ان کا مقصد حفاظت ہے لیکن اس کے ہر کارے پاکستان میں مسلسل آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ درحقیقت ان کا مقصد پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظر رکھنا اور ہمارے پڑوسی ممالک چین اور ایران کا گھیرا تنگ کرنا ہے۔ دنیا بھر میں اس تنظیم سے نفرت کا اظہار احتجاج کے ذریعے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اس لئے پاکستان میں” بلیک واٹر“ کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے پاکستانی عوام میں، جو اب تقریباً ہر روز دہشت گردی اور تخریب کاری کے المناک واقعات سے دوچار ہورہے ہیں فکر مندی اور تشویش کا جنم لینا ایک فطری بات ہے۔میری دعا ہے کہ رب العزت ہمارے وطن کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے اور اپنی پناہ میں رکھے۔ میں حکمرانوں سے بھی یہ استدعا کرتی ہوں کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور عوام کو پوری طرح اعتماد میں لیں۔
(رضوانہ خان ۔ بلال ٹاؤن کراچی)
 
Print Version
 






This Page is not Published.....
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback