ویانا، تہران(جنگ نیوز) ایران نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے سے کہا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی تجاویز پر نظرثانی کرے ،ایران نئے مذاکرات کیلئے تیارہے تاہم ریسرچ ری ایکٹر کیلئے بین الاقوامی سپلائر سے اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے ملائیشیا میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان تجاویز پر کچھ تکنیکی اور معاشی اعتراضات ہیں اس لیے 2روز قبل ہم نے آئی اے ای اے کو اپنے اعتراضات بھجوا دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تکنیکی کمیشن قائم کیا جائے جو تمام پہلووٴں پر نظرثانی کرے۔ دوسری جانب عالمی جوہری ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانی نے کہا کہ ہم ری ایکٹر کیلئے ایندھن بین الاقوامی سپلائر سے خریدنا چاہتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران نے مغربی ممالک کی تجویز مسترد کردی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم تکنیکی مذاکرات کے اگلے مرحلے کیلئے تیار ہیں تاہم ایران کے تحفظات پر بات ضروری ہے۔