لندن (جنگ نیوز) وزیر داخلہ ایلن جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے امیگریشن پالیسی پر عمل میں غلطیاں کی ہیں۔ سینٹرل لندن میں رائل سوسائٹی فار دی آرٹس سے خطاب کرتے ہوئے ایلن جانسن نے کہاکہ لیبر نے اس مسئلے سے نمٹنے میں بدانتظامی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیاکہ برطانیہ کے بعض علاقے امیگریشن سے بری طرح متاثر ہوئے اور نئے مکینوں کی آمد سے ملازمتوں اورسروسز پر سخت دباؤ پڑا۔ انہوں نے کہاکہ غلطیوں کے باوجود برطانیہ مائیگریشن کے مسئلے سے دیگر یورپی ملکوں اور شمالی امریکہ کے پڑوسیوں سے زیادہ بہتر طور پر نمٹ رہاہے۔ انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ سیاستدان امیگریشن پر تنقید کرنے سے شرماتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ ہمیشہ اس مسئلے پر بات کرتے رہے ہیں، تاہم امیگریشن کو احتیاط سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ لوگوں کی آمد سے برطانیہ کے کلچر کو تقویت پہنچی اور برطانوی معیشت کیلئے یہ مفید ثابت ہوا۔ ایلن جانسن نے امیگریشن پالیسی پر بحث کو سمیٹتے ہوئے چار اصولوں کو تذکرہ کیا اور کہاکہ امیگریشن پر قطعی پابندی لگادینا موزوں بات نہیں، امیگریشن سے متاثرہ بعض کمیونٹیز کی اس پر تشویش درست ہے کیونکہ اس سے روزگار اور سروسز پر دباؤ پڑا ہے۔ امیگریشن سے بہت سے دیگر ملک بھی متاثر ہوئے ہیں اور یہاں آنے والے لوگوں کو یہاں کی زبان سیکھنی چاہئے، قانون کی پابندی کرنی چاہئے اور ٹیکس ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے ٹوریوں کی جانب سے مائیگریشن پر مکمل پابندی کو یک طرفہ قرار دیا اور کہاکہ اس سے کاروبار متاثر ہوگا کیونکہ تجربہ کار کارکنوں کی ہمیں ضرورت ہے۔
|
|