کراچی (اسٹاف رپورٹر) گذری فلائی اوور کو دسمبر کے پہلے ہفتے میں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا، ڈی ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ نے رواں مالی سال میں ترقیاتی کاموں کے لئے6 ارب60 کروڑ روپے بجٹ کی منظوری دے دی۔ ڈی ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ کا ایک اہم اجلاس پیر کو کور ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شاہد اقبال جو ڈی ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ کے صدر بھی ہیں، نے کی۔ اجلاس میں ڈی ایچ اے کے میگا پروجیکٹس اور جاری ترقیاتی کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے کے لئے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر خالد ترمذی نے ڈیفنس کے ترقیاتی منصوبوں پر ایگزیکٹو بورڈ کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ایگزیکٹو بورڈ نے رواں مالی سال2009-10ء میں ڈی ایچ اے کے ترقیاتی کاموں کے لئے6 ارب60کروڑ روپے کے ریکارڈ ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی۔ ترقیاتی کاموں میں ڈی ایچ اے فیز8 کے انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ پروجیکٹ، خیابان اتحاد اور کورنگی روڈ کے سنگم پر ایک فلائی اوور کی تعمیر، سن ڈائل چوک پر فلائی اوور پروجیکٹ، کریک ایونیو پر انڈر پاس کی تعمیر، گذری کریک پر فٹ برج کی تعمیر، زمزمہ کار پارکنگ پلازہ اور زمزمہ شاپنگ مال کی تعمیر شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گذری فلائی اوور کی تعمیر کا کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے اور اسے دسمبر کے پہلے ہفتے میں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا جب کہ فلائی اوور سے ملحقہ سڑکوں کی تعمیر اور کارپٹنگ کا کام جنوری2010ء کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سپرہائی وے پر تعمیر ہونے والے ڈی ایچ اے سٹی کے منصوبے کی سائٹ پر انفارمیشن سینٹر قائم کردیا گیا ہے جہاں لوگوں کو مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ سپرہائی وے پر ڈائریکشن سائن نصب کردیئے گئے ہیں جب کہ دو بڑے بڑے بل بورڈ بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ علاقے میں پانی کی تلاش میں جگہ جگہ بورنگ کی جا رہی ہے جس کے نتائج بڑے حوصلہ افزا ہیں۔ ڈی ایچ اے سٹی کا علاقہ ونڈ کوریڈور میں ہے اس لئے ساحلی ہواؤں سے ونڈمل جنریشن کے پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے کامیابی سے بجلی حاصل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جو مستقبل میں بجلی کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ ڈی ایچ اے سٹی سے ملحقہ گوٹھ اللہ داد گاؤں میں ایک کمیونٹی سینٹر اور ڈسپنسری قائم کی جا رہی ہے جہاں ڈاکٹر کی نگرانی میں مقامی لوگوں کو مفت طبی سہولتیں اور ادویات میسر ہوں گی۔ کور کمانڈر نے مزید ہدایت کی کہ ڈی ایچ اے سٹی میں تھیم پارکس، مصنوعی جھیلیں، ڈزنی لینڈ کی طرز پر تفریحی مقامات، رولر کوسٹرز اور ایک تحقیق اور علم کے فروغ کے لئے انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے۔