کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے صوبہ میں علماء کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی ہے جو مدارس و علماء اور حکومت کے درمیان رابطہ رکھے گی۔ انہوں نے حال ہی میں مدارس میں قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائی پر علماء کی تشویش پر انہیں یقین دلایا کہ بہتر رابطے سے اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے گا، وہ علماء کے ایک وفد سے بات چیت کر رہے تھے، جس سے جامعہ رحمانیہ کے ڈاکٹر مولانا عادل کی قیادت میں گورنر ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ وفد میں جامعہ بنوریہ، دارالعلوم کراچی، جامعہ رشیدیہ، جامعہ رحمانیہ اور دیگر دینی جامعات کے نمائندہ علمائے کرام شامل تھے۔گورنر نے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اس میں علماء، مدارس اور ان سے وابستہ لوگوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں ناپسندیدہ عناصرکو شامل نہ ہونے دیں، انہوں نے کہا کہ جامعات کے طلبہ میں اس بارے میں آگہی یقینی بنائیں تاکہ وہ مشکوک عناصر اور سرگرمیوں کی اطلاع اپنے مدارس کے ذمہ داران کو دیں، انہوں نے کہا کہ مدارس کا تاثر دورکرنے کیلئے بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام نے کہا کہ وہ حکومت سے تعاون کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ مدارس میں ایسا نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت ہر طالب علم کے کوائف رکھے جاتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ مدارس میں داخل کوئی طالبعلم کسی بھی غلط سرگرمی میں نہ رہا ہو، انہوں نے کہا کہ ہم وہ تمام ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جو دیگر تعلیمی بورڈز نبھا رہے ہیں، ہم سے کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
|
|