اسلام آباد (طاہر خلیل نمائندہ خصوصی) ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور نئے سیاسی بحران سے بچنے کے لئے حکمران جماعت این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو گئی ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ این آر او پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق یہ فیصلہ پیر کی شب حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد اعلیٰ سطح پر منعقدہ قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اجلاس کی صدارت کی۔ ایوان صدر کے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانیٹرنگ سیل کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو اصل حقائق سے ہٹانے کے لئے سیاست کو ہمارے گرد گھمایا جا رہا ہے۔ ایوان صدر میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی طاقت کے بل بوتے پر ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ عوام اتحادیوں اور پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ این آر او پر قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔ صدر نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ 1973ء کے آئین کو اصل حالت میں بحال کروائیں گے۔ پی پی پی جمہوریت دوست جماعت ہے۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمن اور فاروق ستار نے علیحدگی میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں این آر او پر مشاورت کی گئی۔ صدر نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کو تحفظات ہیں تو بیٹھ کر ان کو دور کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس (ر) ڈوگر کی مدت ملازمت ختم ہونے پر عدلیہ کو بحال کرنا تھا لیکن لانگ مارچ شروع ہو گیا۔ مخالفت کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ اس طرح حکومتیں ختم نہیں ہوتیں۔نمائندہ جنگ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ حکمران جماعت کے اتحادیوں میں این آر او کے سلسلے پر اختلافات اور ان میں پھوٹ پڑنے کے بعد حکمران جماعت کی قیادت این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں نے اس معاملے پر اتحاد کر لیا تھا اور متحدہ حزب اختلاف کی صورت میں ایک نیا الائنس بنانے کی تیاریاں ہورہی تھیں، حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں مبصرین کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتیں بھی آج نئی حکمت عملی طے کریں گی۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ‘ وزیر داخلہ رحمن ملک‘ وزیر پٹرولیم نوید قمر‘ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر‘ سینیٹر میاں رضا ربانی‘ قانون کے وزیر مملکت افضل سندھو‘ فوزیہ وہاب‘ فوزیہ حبیب‘ رخسانہ بنگش‘ سینیٹر حسین بخاری‘ راجہ پرویز مشرف‘ ڈاکٹر بابر اعوان‘ سید خورشید شاہ‘ نذر گوندل‘ احمد مہرین انوار راجہ نے اجلاس میں شرکت کی۔
|
|