| اسلام آباد ( جنگ نیوز) قومی اسمبلی میں این آر او کے معاملہ پر احتجاج کے دوران اسپیکر کے ریمارکس پر اپوزیشن کے ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی، اپوزیشن ارکان نے ایوان میں این آر او اور صدر زرداری کے خلاف نعرے لگائے، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) سمیت متحدہ اپوزیشن نے اکٹھے واک آؤٹ کیا۔ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان اور چوہدری پرویزالہی نے این آر او کے خلاف تقاریر کیں اور اس کی ایوان کے فلور پر بھرپور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم این آر او کو منظور نہیں ہونے دیں گے۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ارکان کو یقین دلایا کہ حکومت جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیگی ، این آر او کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی اتفاق رائے کی ہے اور اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں سے بات چیت جاری ہے، چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اس معاملہ پر ہم کسی وزیر کی تقریر نہیں سنیں گے۔ چوہدری پرویزالٰہی کی تقریر ختم ہوتے ہی اپوزیشن ارکان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے۔ مسلم لیگ (ق) کے رکن رضا حیات ہراج، ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس بھی گئے اور انہیں واک آؤٹ میں شامل ہونے کو کہا لیکن ایم کیو ایم کے ارکان نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور ایوان سے باہر نہیں گئے۔این این آئی کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی این آر او کے خلاف نعرے بازی کو اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی طرف سے ”گندی عادتیں“ قرار دینے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے دوران مسلم لیگ نواز کے ارکان خواجہ محمد آصف، عابد شیر علی،چوہدری برجیس طاہر اور دیگر نے انتہائی تلخ جملوں کا استعمال کیا اور سرکاری زبان نا منظور کے نعرے لگائے۔ اس دوران وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی ایوان میں آ گئے لیکن مسلم لیگ نواز کے ارکان نے ا سپیکر کی طرف سے الفاظ واپس لینے تک بیٹھنے سے انکار کر دیا تاہم بعد ازاں اسپیکر نے کہا کہ اگر کسی کو میرے الفاظ سے کوئی ٹھیس پہنچی ہے تو وہ اپنے الفاظ واپس لیتی ہیں جس کے بعد مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق اور فاٹا کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ این آر او ایک ڈکٹیٹر نے اپنی کرسی بچانے کیلئے جاری کیا تھا، مسلم لیگ (ن) اس کی بھرپور مخالفت کرے گی، قانون و انصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی میں ہماری جماعت کو ارکان کے تناسب سے حصہ نہیں ملا، کوئی وفاقی وزیر کبھی بھی قائمہ کمیٹی کا رکن نہیں بن سکتا، 30 اکتوبر کو سکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر پی اے سی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا لیکن قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ملتوی نہیں ہوا، اس کمیٹی کی تشکیل غیر آئینی و غیر قانونی ہے، آرڈیننس کو دوبارہ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے، کرپشن پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، اسمبلی کو ہم استعمال نہیں ہونے دیں گے، پارلیمنٹ کو مکے دکھانے والا در بدر پھر رہا ہے، آرٹیکل 6 کے تحت اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔ سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویزالہی نے کہا کہ این آر او کی منظوری سے پارلیمنٹ کمزور ہو گی، معمولی سی غلطی ہمیں بہت دور لے جائے گی۔ |
|