Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  اہم خبریں 
 
اسلام آباد(رپورٹ…انصار عباسی) صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول علی زرداری کے نام ایک کمپنی نے رواں سال مارچ میں اسلام آبادکی قیمتی2 ہزار460 کنال (307 ایکڑ) زمین خرید کی ہے۔کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نرخوں کے مطابق اس زمین کی قیمت 2 ارب روپے سے زائد ہے لیکن اسے صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خرید کیا گیا ہے۔ اس واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 1997ء میں مسٹر زرداری کے خلاف اسی ڈیل کے متعلق دائرکیا گیا نیب آرڈیننس درست تھا لیکن اسے گم شدہ کڑیوں کی وجہ سے ختم کردیا گیا تھا۔ 1997ء میں مسٹر زرداری پر جس ڈیل کا الزام عائدکیا گیا تھا وہ بالآخر 15 سال بعد قانونی مقدمات کے پیچیدہ عمل سے گزرنے کے بعد، ایک ایسے شخص جسے اس وقت کی حکومت نے آصف علی زرداری کا اہم ترین ساتھی قرار دیا تھا، ایک اور شخص جسے صدر زرداری کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور ایک ایسی نجی کمپنی کے درمیان پوری ہوئی جس کے مالک مشترکہ طور پر آصف علی زرداری، ان کے صاحبزادے اور چند دیگر افراد ہیں۔ دی نیوزکے پاس دستیاب معاہدہٴ فروختگی، دستاویزات، قانونی کاغذات اور اسلام آباد کی پی سی او ہائی کورٹ کے فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کی ایک نجی کمپنی پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ نے فیصل سخی بٹ سے سنگ جیانی کے قریب ڈھائی ہزارکنال زمین خرید کی۔ فیصل سخی بٹ نے یہ زمین ہیوسٹن (امریکا) میں مقیم ایک پاکستانی نژاد امریکی باشندے محمد ناصر خان سے صرف 62 ملین روپے میں خریدکی تھی۔ ناصر خان اس زمین کا حقیقی مالک تھا جس نے یہ زمین1994ء میں خریدکی تھی اور اسے1997ء میں دائرکردہ نیب ریفرنس میں زرداری کا فرنٹ مین قرار دیاگیا تھا۔ قیمتوں کے جائزے کیلئے سی ڈی اے کے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی جانب سے خریدکی جانے والی زمین سے ملحق زمین کی قیمت 8 لاکھ 50 ہزار روپے فی کنال ہے، اگر پارک لین کی زمین کی قیمت سی ڈی اے کے جائزے کے مطابق طے کی جائے تو اس زمین کی مجموعی قیمت2 ارب روپے بنتی ہے۔ سی ڈی اے اسی نرخ پر صدرکی زمین کے سامنے والی زمین خریدکر رہی ہے لیکن مسٹر زرداری اور ان کی کمپنی کی جانب سے حاصل کی گئی زمین 25 ہزار روپے فی کنال کے نرخ پر خریدی گئی ہے جسے ہر لحاظ سے ایک جادوئی ڈیل کہا جا سکتا ہے، تاہم جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ زمین کی خریداری اور اس کی پارک لین کمپنی کو منتقلی کیلئے تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔ اس کمپنی کے اینوئل ریٹرن کے فارم اے کے مطابق اس کا شیئرکیپٹل ایک لاکھ 20 ہزار شیئرز ہے۔ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا ریکاڈ بھی یہی بتاتا ہے۔ ان تمام شیئرز میں سے مسٹر زرداری اور ان کے بیٹے بلاول کے پاس مجموعی طور پر ساٹھ ہزار شیئرز ہیں۔ مسٹر زرداری کو کمپنی کا ڈائریکٹر ظاہرکیا گیا ہے جبکہ ان کے بیٹے کو دیگر چار افراد کے ساتھ ممبران اور ڈی بینچر ہولڈرز ظاہرکیا گیا ہے۔ زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی اور فیڈرل بی ایریا کراچی کے رہائشی محمد اقبال میمن نہ صرف کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیں بلکہ انہیں ڈائریکٹر ظاہرکیا گیا ہے اور ان کے پاس بھی تیس ہزار شیئرز ہیں۔ اقبال میمن کے ایڈریس / پتے پر رہنے والے تین مزید افراد کو ممبر ظاہرکیا گیا ہے اور ان کے پاس بھی تیس ہزار شیئرز ہیں۔ بینظیر بھٹوکی دوسری حکومت کے خاتمے پر اسی اقبال میمن کو مطلوب شخص قرار دیدیا گیا تھا۔ 31/ اگست 2008ء تک کی معلومات کے مطابق مسٹر زرداری اور اقبال میمن کے علاوہ رحمت اللہ حبیب، محمد یونس اور الطاف حسین بھی اسی کمپنی کے ڈائریکٹرز ہیں۔ یہ تمام ڈائریکٹرز اور بلاول علی زرداری کے پاس مجموعی طور پر ایک لاکھ بیس ہزار شیئرز ہیں۔ معمولی نرخوں پر زمین کی اس خریداری کے نتیجے میں صدر زرداری اور ان کی جانب سے 1994ء میں حاصل کی گئی زمین کے متعلق کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں، جس میں مبینہ طور پر زمین کے مالکان کویہ زمین ناصر خان کو بیچنے پر مجبورکیا گیا جسے احتساب بیورو نے مسٹر زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا گیا تھا۔ ان سے ایک اور شخص نے2007ء میں یہ زمین خریدکی اور جب 2008ء میں پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو یہ پوری زمین مسٹر زرداری اور ان کے صاحبزادے کی کمپنی کے نام منتقل کردی گئی۔ کمپنی کی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ مسٹر زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول اس کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈرز ہیں، جس سے ایسی صورتحال میں مفادات کے تصادم اور طاقت کے غلط استعمال کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔1997ء میں احتساب بیورو نے مسٹر زرداری کے خلاف دائرکیے گئے ریفرنس میں اسی طرح کے الزامات عائدکیے تھے لیکن اس وقت کچھ گم شدہ کڑیاں موجود تھیں کیونکہ اس وقت تک زمین مسٹر زرداری کی کمپنی کو منتقل نہیں ہوئی تھی۔ اب یہ دستاویزات اور مارچ 2009ء میں ہونے والا معاہدہ جامع انداز سے ثابت کرتا ہے کہ1997ء میں مسٹر زرداری کے خلاف دائرکیے جانے والے ریفرنس میں جان تھی لیکن اس کا فیصلہ نہ ہوسکا۔15 / برس بعد اسی زمین کی کم قیمت میں خرید نے یہ ثابت کردیا ہے کہ زمین اصل میں مسٹر زرداری کی ملکیت تھی جسے اب قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ بصورت دیگر دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو 2 ارب روپے کی زمین مارکیٹ سے بھی کم نرخوں یعنی 62 / ملین روپے میں فروخت کرے۔ مقامی باشندوں کے ساتھ کی جانے والی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنگ جیانی میں ہر شخص کو معلوم ہے کہ مذکورہ زمین مسٹر زرداری کی ملکیت ہے۔ مقامی افراد کے مطابق مسٹر زرداری نے بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں زمین کا دورہ بھی کیا تھا۔ 1997ء میں میاں سیف الرحمن کے تحت جب احتساب بیورو نے مسٹر زرداری کے خلاف مقدمہ شروع کیا تو ایف آئی اے نے اس معاملے میں چند گرفتاریاں کی تھیں۔ 1997ء میں میڈیا رپورٹس میں الزام عائدکیا گیا تھا کہ زرداری نے مذکورہ زمین کے ڈھائی ہزار کنال زبرستی حاصل کیے تھے اور اسلام آباد سے25 منٹ دور سنگ جیانی کی اس زمین پر پولوگراؤنڈ اور رائیڈنگ پویلین قائم کرنے کیلئے یہاں سے300 خاندانوں کو بھگا دیا تھا۔ احتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمن نے10/ جون1997ء میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس (جس کی خبر دوسرے روز اخبارات میں شائع ہوئی تھی) میں کہا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے (مرحوم) شفیع سیوہانی، جو پی پی کے مقررکردہ تھے، بھی اس اسکینڈل میں ملوث ہیں۔1994ء میں سردار اسحٰق، راجہ محبوب الٰہی اور حاجی بشیر جیسے مقامی رہائشی نے بھی صحافیوں کے آگے دعویٰ کیا تھا کہ اپنی زمین معمولی نرخوں پر فروخت کرنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا اور زرداری سنگ جیانی میں پولوگراؤنڈ بنانا چاہتے تھے۔ اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ امریکی شہری ناصر خان کو زرداری نے فرنٹ مین بنایا ہے۔1997ء کی ایک خبرکے مطابق ناصر خان ایسے افراد سے زمین خریدنے کا ذریعہ تھا جن کی زمینوں پر اسلام آبادکی ریونیو انتظامیہ نے زبردستی قبضہ کرلیا تھا وہ بھی کسی سرکاری پروجیکٹ کیلئے نہیں بلکہ ناصر خان کی ذاتی ملکیت کیلئے۔ ناصر خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ مسٹر زرداری کیلئے کام کرتے ہیں۔ اپنی شکایت میں اسحٰق نامی شخص نے اس وقت وہ واقعات بتائے تھے کہ کس طرح اسے اگست 1994ء میں اسلام آبادکے تحصیل دار طارق حیدری نے طلب کیا اور اسے وزیراعظم ہاؤس لے گیا تاکہ اسے چار ہزار روپے فی کنال کے نرخ پر 392 کنال اور8 مرلے زمین بیچنے کیلئے رضامندکیا جا سکے۔ یہ رقم اس وقت بھی مارکیٹ کے نرخوں سے انتہائی کم تھی۔ بعد ازاں اسحٰق پر ناصر خان کی رہائش گاہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ معاہدے پر دستخط کردے۔ اسحٰق سے کہا گیا کہ اگر اس نے تعاون نہ کیا تو اس کی زمین2900 روپے فی کنال کے نرخ پر سی ڈی اے کے ذریعے حاصل کرلی جائے گی۔1997 سے لے کر اب تک صورتحال تبدیل نہ ہوئی کیونکہ ناصر خان زمین کا قانونی مالک بنا رہا۔ اس سلسلے میں کچھ کڑیوں کی کمی کی وجہ سے بھی نیب کچھ نہ کرسکی، تاہم2007ء میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت کے تحت مسٹر زرداری کے ایک اور دوست فیصل سخی بٹ نے اسلام آبادکی سول کورٹ میں دیوانی مقدمہ دائرکیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے 2460 کنال اور17 مرلہ زمین ناصر خان سے62 ملین روپے میں18/ جنوری2007 ء کو خریدی ہے۔ مسٹر بٹ نے عدالت کو بتایا کہ مئی2007ء میں انہوں نے ناصر خان کو61 ملین روپے ادا کیے اور ایک ملین باقی چھوڑ دیا۔ بٹ کے مطابق انہوں نے ہیوسٹن امریکا میں رہائش پذیر ناصر خان سے کہا کہ وہ اسلام آباد میں سب رجسٹرارکے سامنے پیش ہوکر معاہدہٴ فروختگی مکمل کرلیں لیکن انہوں (ناصر خان) نے کوئی جواب نہ دیا۔ مسٹر بٹ نے عدالت سے مدعا علیہ کے خلاف فیصلے کی درخواست کی۔ بظاہر یہ لوگ عدالت میں ایک جھوٹی لڑائی لڑ رہے تھے تاکہ زمین کی منتقلی کو قانونی شکل دی جا سکے۔ امریکا سے بھیجے گئے اپنے جواب میں ناصر خان نے کسی طرح کی مخالفت نہ کی اور مسٹر بٹ نے جو بھی مطالبات کیے تھے ان کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ ناصر خان نے وضاحت پیش کی کہ تجارتی مصروفیات اور ناسازی طبع کے باعث وہ معاہدہٴ فروختگی کے سلسلے میں امریکا چھوڑکر پاکستان نہیں آسکتے۔ انہوں نے استدعا کی شق کی مخالفت نہیں کی اور اپنے وکیل کے ذریعے باقی رہ جانے والے ایک ملین روپے کی ادائیگی یقینی بنانے کے بعد عدالت کو مسٹر بٹ کے حق میں فیصلہ سنانے کی اجازت دیدی۔ اس طرح سے سول کورٹ نے جون2008ء میں مسٹر بٹ کے حق میں فیصلہ سنایا اور معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا جہاں مسٹر بٹ معاہدے پر عمل درآمدکیلئے پہنچے تھے۔11/ نومبر2008ء کو ناصر خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ مسٹر بٹ یا ان کے نامزدکردہ کسی شخص کے حق میں عدالتی عہدیدارکی موجوگی میں معاہدہٴ فروختگی پر عمل درآمدکے حوالے سے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مسٹر بٹ کے وکیل نے بیان دیا کہ وہ عدالت میں اسائنمنٹ ڈیڈ جمع کرانا چاہتے ہیں لہٰذا سماعت ملتوی کرکے تین ہفتوں کا وقت دیا جائے۔ عدالت نے 16/ دسمبرکو سماعت کی اگلی تاریخ کے طور پر مقررکیا۔16 / دسمبرکو مسٹر زرداری کی پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آئی جب مسٹر بٹ کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ مسٹر بٹ کی طرف سے فرمان پر عملدرآمد اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے حقوق کراچی کی پارک لین اسٹیٹس کو تفویض کیے جا رہے ہیں جس کیلئے پارک لین اسٹیٹس کی طرف سے اسی دن ایک نئی ایگزیکیوشن پٹیشن دائرکی جائے گی۔ یہ کام اسی طرح اور بڑی جلدی کے ساتھ ہوا اور یہ کیس پہلے کے مقدمہ فیصل سخی بٹ بمقابلہ محمد ناصر خان سے ہٹ کر پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ بمقابلہ محمد ناصر خان (مدعا علیہ) اور فیصل سخی بٹ (اوریجنل ڈیکری ہولڈر) میں تبدیل ہوگیا۔ اس پٹیشن کے مطابق مسٹر بٹ نے اپنے حقوق پارک لین اسٹیٹس کو فروخت کردیئے۔ پارک لین اسٹیٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس نے مسٹر بٹ کو ڈیڈ آف اسائنمنٹ کے مطابق27/ نومبر2008ء کو46 ملین روپے کی ادائیگی کردی ہے۔ نتیجتاً 29/ جنوری 2009ء کو اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پی سی او جج نے مندرجہ ذیل فیصلہ جاری کیا: ” مدعا علیہ نمبر ایک (ناصر خان) اور مدعا علیہ نمبر 2 کے فاضل وکیل کو پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ کے حق میں معاہدہ پر عملدرآمدکے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں۔ آفس کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ترمیم شدہ فرمان (Decree) تیارکرے۔ مدعا علیہ نمبر ایک کو ترمیم شدہ فرمان پر عملدرآمدکے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں۔ مدعا علیہ نمبر ایک کے فاضل وکیل کا کہنا ہے کہ محمد ناصر خان امریکا میں رہتے ہیں اور ذاتی طور پر معاہدہٴ فروختگی دستخط کیلئے دستیاب نہیں ہوسکتے۔ دونوں فریقوں نے یہ استدعا کی ہے کہ عدالت کی جانب سے عہدیدار مقرر کیا جائے جو رجسٹرارکے سامنے پیش ہوکر معاہدہٴ فروختگی پر دستخط کرے اور اس کی رجسٹریشن کا اعتراف کرے۔ پٹیشن کے متعلق ہدایت دی جاتی ہے کہ سیل ڈیڈ ریکارڈ پر رکھی جائے جو اسٹامپ پیپرز پر پرنٹ یا ٹائپ کی گئی ہو، ان اسٹامپ پیپرزکی قیمت زمین کی قیمت کے مطابق ہونا چاہیے، یہ کام دو ہفتوں میں مکمل کرلیا جائے۔ عدالتی عہدیدارکی فیس کیلئے 10 ہزار روپے بھی جمع کرائے جائیں۔ معاملہ نمٹایا جاتا ہے۔ دستخط چیف جسٹس“۔ چنانچہ3/ مارچ 2009ء کو ناصر خان، جن کی نمائندگی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریڈر نور محمد نے کی، اور پارک لین کے درمیان معاہدہٴ فروختگی طے پایا۔ اس معاہدے کو جوائنٹ / سب رجسٹرار اسلام آباد نے 12 لاکھ 40 ہزار روپے بطور CVT کی ادائیگی پر رجسٹرکیا۔ بعد میں ریونیو ڈپارٹمنٹ نے 29 جون 2009ء کو ایک فرد جاری کی جس میں ناصر خان کی جانب سے 62 ملین روپے کے عوض زمین پارک لین اسٹیٹس کو فروخت کیے جانے کی نشاندہی کی گئی۔ ہرکام پرسکون انداز سے ہوا۔ ناصر خان اور فیصل بٹ نے غلامانہ انداز میں تعاون کیا اور زمین مسٹر زرداری کی ملکیت پارک لین اسٹیٹس کو منتقل کی۔ ناصر خان اب بھی امریکا میں ہیں، انہیں صدر زرداری کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ فیصل بٹ بھی زرداری کے قریبی ساتھی ہیں۔ انہیں گزشتہ سال غیر رسمی طور پر سی ڈی اے کا مانیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ 23/ جنوری کو انہوں نے دی نیوزکو بتایا کہ میں سی ڈی اے میں اپنی شمولیت اس لیے کر رہا ہوں تاکہ اس کام میں تیزی آسکے۔ اسی خبر میں انہیں صدر زرداری کا قریبی ساتھی بتایا گیا تھا۔ اس وقت اس خبرکے متعلق کسی نے کوئی چیز مسترد نہیں کی تھی۔ آج کل مسٹر بٹ سی ڈی اے کی معاملات میں بہت اہم شخص اور وفاقی دارالحکومت میں کام کر رہا ہے۔ فیصل اسلام آباد ڈیولپمنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا رکن ہے جس کے سربراہ بابر اعوان ہیں۔ پی پی پی کے سینیٹر نیربخاری بھی اس کے رکن ہیں۔ متعدد کوششوں کے باوجود مسٹر بٹ تبصرے کیلئے موجود نہیں تھا۔ دی نیوزکے ایک سینئر اہلکار نے پیرکوکم ازکم تین بار اس کے خفیہ آفس کا دورہ کیا جو مکان نمبر5گلی نمبر 8، F-6/3اسلام آباد میں واقع ہے لیکن وہ میڈیا کا سامنا کرنے سے گھبرا رہا تھا۔ ان کے موبائل پر متواتر پیغام چھوڑے گئے جو ہر بار ان کی پی اے نے موصول کیے جنہوں نے اپنا تعارف بخت کے نام سے کرایا۔ جب ایوان صدرکے ترجمان فرحت اللہ بابر سے دی نیوز نے رابطہ کیا تو ابتداء میں انہوں نے پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کسی کمپنی میں صدر زرداری کے شیئرز سے انکارکردیا اور کہا کہ یہ قیاس آرائی پر مبنی الزامات ہیں، تاہم فرحت اللہ بابر نے اعتراف کیا کہ زرداری کیخلاف1997ء میں سنگ جانی کی زمین کے حوالے سے ایک کیس شروع کیا گیا تھا لیکن یہ کیس ختم ہوگیا کیونکہ کرپشن کا الزام ثابت کرنے کیلئے شواہد موجود نہیں تھے۔ جب فرحت اللہ بابرکو بتایا گیاکہ سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی دستاویزکے مطابق آصف علی زرداری کمپنی کے ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی اسی عہدے کے ساتھ اس کے شیئر ہولڈر ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات میرے علم میں نہیں۔ ان الزامات کے حوالے سے کہ ناصر خان 90ء کی دہائی میں زمین خریدنے کیلئے زرداری کے فرنٹ مین تھے، فرحت اللہ بابر نے ایک بار پھر لاعلمی کا اظہارکیا۔ جب ان سے پوچھاگیا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ صدر زرداری کے قریبی دوست فیصل سخی بٹ نے ناصر خان سے کوڑیوں کے دام میں اس زمین کو خریدا تھا اور پھر پارک لین اسٹیٹ جو صدر زرداری کی ملکیت ہے،کو اسی دام فروخت کردیا تھا تو بابر اعوان نے ناواقفیت کا اظہارکیا۔ اس کھیل کے ایک اور اہم کھلاڑی محمد اقبال میمن سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے دی نیوزکو تصدیق کی کہ وہ پارک لین اسٹیٹ کے سی ای او تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر زرداری اور ان کے بیٹے بلاول ان کی کمپنی کے ڈائریکٹرز یا شیئرز ہولڈرز تھے، اقبال میمن نے کہا کہ انہیں صحیح طور پر یاد نہیں۔ جب پوچھا گیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ پارک لین اسٹیٹ نے سنگ جیانی اسلام آباد میں2460کنال زمین صرف 6 کروڑ 20لاکھ میں خریدی تھی، ابتدائی طور پر اقبال میمن نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکارکیا لیکن جب جواب دینے کیلئے ان پر دباوٴ بڑھایا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا صدر زرداری جو اس کمپنی کے ڈائریکٹر تھے، نے اس زمین کوکوڑیوں کے دام حاصل کرنے کیلئے اپنے صدارتی عہدے کا استعمال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ ”نہیں، نہیں، اثر ورسوخ استعمال نہیں کیاگیا ۔ یہ ایک صاف بزنس ڈیل تھی“۔



 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback