Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
اہم خبریں
 
Share زرداری کو استعفے کا مشورہ نہیں دیا، نظام چلایا جائے خواہ بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے، الطاف حسین
کراچی(پ ر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے صدر زرداری کو مستعفی ہونے کا مشورہ نہیں دیا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسا فیصلہ کیاجائے کہ سسٹم چلتا رہے خواہ اس کیلئے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ ذاتی طور پر قومی مفاہمتی آرڈیننس (NRO) کی مخالفت کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں متحدہ کے ارکان کی جانب سے این آر اوکی مخالفت یا غیرجانبدار رہنے کے بارے میں حتمی فیصلہ رابطہ کمیٹی دو چار روز میں کرلے گی جو یقیناً پاکستان کے عوام کی امنگوں، ایم کیو ایم کے منشور اور کرپشن کے خلاف اس کی تبلیغ کے عین مطابق ہوگا، میں نے آصف علی زرداری کو استعفیٰ دینے کا کوئی مشورہ نہیں دیا ہے۔ پیرکو مختلف ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے الطاف حسین نے انکشاف کیا کہ صدر زرداری سے ملاقات میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ این آر اوکو اسمبلی میں نہ لایا جائے لیکن اسے پیش کر دیا گیا ہے، انہوں نے تجویز دی کہ ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن بنایا جائے۔ الطاف حسین نے کہا کہ یوں تو ملک میں بدقسمتی سے ہر ایک نے دوسرے سے بڑھ کرکرپشن کی جو افسوسناک عمل ہے، اسی لیے میں نے حال ہی میں تجویز پیش کی تھی کہ موجودہ یا ریٹائرڈ ججوں پر یا ایسے ججوں پرمشتمل جنہوں نے جنرل مشرف کے دور میں پی سی اوکے تحت حلف نہیں اٹھایا، ایک ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن (Truth and Reconcilition Comission) بنایا جائے جہاں سب ایک مرتبہ آکر اپنی اپنی غلطیوں کا اقرارکریں، عوام سے معافی مانگیں اور آئندہ ایمانداری اور دیانتداری سے کام کرنے کا عہدکریں۔ انہوں نے اس امر پر تاسف کا اظہارکیا کہ ہم نے ہرکڑے اور مشکل وقت میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے لیکن بڑے اور اہم فیصلے کرتے وقت ایم کیو ایم کو ہی نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی حلیف جماعت کے صدر آصف علی زرداری اور ان کے دوستوں کی خدمت میں ایک سچے دوست کی حیثیت سے یہ درخواست اورگزارش کرتا ہوں کہ ملک و قوم، جمہوریت اور نظام کو بچانے کیلئے وہ قربانی دیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنے کسی عمل سے موجودہ حکومت کیخلاف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم جب سے وجود میں آئی ہے اس کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، وفاقی و صوبائی وزراء و دیگر حق پرست عوامی نمائندوں کو ہمیشہ یہ درس دیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کوکرپشن سے دور رکھیں، سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دورحکومت میں ہمارے ایک بزرگ صفوان اللہ ہاوٴسنگ کے وزیر تھے، جب ان کے بارے میں شکایتیں آئیں تو میں نے ان کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی بنائی تو معلوم ہوا کہ صفوان اللہ کسی کرپشن میں ملوث نہیں ہیں البتہ ان کا عملہ کرپشن میں ملوث ہے، ہم نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی سفارشات پر صفوان اللہ کو محض اس لیے وزارت سے برطرف کیا کہ وہ اپنی وزارت میں کرپشن نہیں روک سکے تھے جو ان کی ذمہ داری تھی۔ ایک اور سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود این آر اوکا مسئلہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا تھا، ایم کیو ایم کے آئینی ماہرین اور رابطہ کمیٹی کے ارکان گزشتہ ایک ہفتے سے رات دن این آر اوکے آئینی اور قانونی پہلووٴں کا جائزہ لے رہے ہیں اور دوچار روز میں ایم کیو ایم کا فیصلہ عوام کے سامنے آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے اور مشورہ اپنے ساتھیوں کیلئے یہی ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں کسی طور پر بھی کرپشن کی حمایت نہ کریں۔ الطاف حسین نے کہا کہ میں صدر زرداری، ان کے دوستوں اور وفاداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جمہوریت کو پٹڑی سے نہ اتاریں، انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں گزارے ہیں لہٰذا آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی بڑے پن کا مظاہرہ کرے اورکوئی ایسا فیصلہ کیا جائے جس سے آصف علی زرداری کے وقار اور عزت میں اضافہ ہو اور سسٹم چلتا رہے خواہ اس کیلئے انہیں بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ الطاف حسین نے پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں اور آصف علی زرداری کے دوستوں سے بھی کہا کہ اگر انہیں صدر آصف علی زرداری کی عزت اور وقار عزیز ہے تو محض ان کی خوشنودی حاصل کرنے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے کیلئے انہیں غلط رائے نہ دیں بلکہ صائب رائے دیں جو عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہو۔ ایک سوال کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے آئینی ماہرین اور پارلیمنٹرین نے مجھے بتایا ہے کہ ایم کیو ایم کے لوگوں کے خلاف جومقدمات تھے باقاعدہ ایک کمیشن کی سفارش پر عدالتوں کے ذریعے ختم کیے گئے ہیں، ایم کیو ایم پر بڑے بڑے بہتان لگائے گئے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ایم کیو ایم پرکرپشن کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکا اگر ہمارے خلاف مقدمات دوبارہ کھلتے ہیں تو ہم ان کا سامنا کرنے کو تیار ہیں کیونکہ جیل و مقدمات کا ایم کیو ایم سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حالات میں عوامی دباوٴ پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے پورے انٹرویو میں زرداری کے استعفے کی کوئی بات نہیں کی ، ہم پیپلز پارٹی یا زرداری کیخلاف نہیں ہیں، ہمارے مشورے کو منفی انداز میں لیا گیا تو ایم کیو ایم اس کی ذمہ دار نہیں ہوگی اور نہ ہی ایم کیو ایم کرپشن کو اسمبلی کے ذریعے قانونی شکل دینے میں حصہ بن سکتی ہے۔

 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback