| اسلام آباد (جنگ نیوز) مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ این آر او کے ذریعے جرائم معاف کرانے والوں کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں، انہوں نے اس امر کا انکشاف بھی کیا کہ این آر کے معاملے پر ان کی جماعت کا ایم کیو ایم سے رابطہ ہے، اور پارٹی رہنما اسحاق ڈار اور چوہدری نثار علی خان اس سلسلے میں فضا ہموار کرنے کیلئے بات کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت سے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس ایک کالا قانون ہے، اس مسئلے پر قوم، پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کو امتحان میں نہ ڈالا جائے، حکومت نے اگر قوم کی آواز نہ سنی تو نہ صرف عدلیہ سے رجوع کریں گے بلکہ عوام کے پاس بھی جائیں گے، مراعات یافتہ طبقے کو پلاٹ الاٹ کرنے کے معاملے پر لانگ مارچ بھی کرنا پڑا تو کریں گے، قومی ایجنڈے کی تشکیل کیلئے حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، عوام کی قسمت کا فیصلہ کسی اور کو کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔وہ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔پریس کانفرنس کے دوران اپنے اثاثوں کے حوالے سے ایک سوال پر نواز لیگ کے رہنما جذباتی ہوگئے۔پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان، سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر راجہ ظفر الحق، اقبال ظفر جھگڑا، احسن اقبال اور سینیٹر مہتاب احمد عباسی بھی موجود تھے۔ میاں نواز شریف نے راولپنڈی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کے جوانوں سمیت دیگر سیکورٹی اداروں کے شہید ہونے والے افراد کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات قومی مفاد میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف این آر او کا اصل فائدہ حاصل کرنے والا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر پلاٹوں کی بندر بانٹ کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے، اگر ایسا ہوا تو ہم اس کے خلاف بھی تحریک چلائیں گے۔ پہلے سے امیر لوگوں کو مزید امیر بنایا جا رہا ہے۔ عوام تین مرلے کے پلاٹ کو ترس رہے ہیں، اگر پلاٹ دینے ہی ہیں تو 17 کروڑ عوام کو دیے جائیں۔ اس موقع پر میاں شہباز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ بھارتی مداخلت پر بات ہو چکی ہے، ہمارا موٴقف ہے کہ اگر بھارت ان کارروائیوں میں ملوث ہے تو اس کو راز نہیں رکھنا چاہیے۔ |
|