| اسلام آباد (جنگ نیوز) پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ طالبان کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، جنوبی وزیرستان سمیت پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں القاعدہ کے لوگ موجود ہیں اور ان کے خاتمے کے لئے پاکستان، افغانستان اور امریکہ کو مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے رحمان ملک نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ حکومت جنوبی وزیرستان کے شدت پسندوں سے کوئی معاہدہ نہیں کرے گی لیکن جو لوگ ہتھیار پھینکنے اور تائب ہونے پر تیار ہوں ان کے کیسز پر حکومت غور کرے گی۔ رحمن ملک نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر موجود ہے۔ جنوبی وزیرستان میں 5 ہزار سے اوپر القاعدہ کے لوگ ہیں جو سب باہر سے آئے ہوئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ القاعدہ افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر موجود ہے، ہم نے ان کے گرد گھیرا تنگ بھی کیا ہے۔وزیر داخلہ نے زور دیا کہ طالبان اور غیرملکی جنگجووٴں کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لئے امریکہ اور افغانستان کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک اسلحہ اور بارود کی ترسیل بند نہیں ہوتی اس وقت تک ہمارے لئے مسئلہ رہے گا۔ دریں اثناء وزیر داخلہ رحمن ملک سے ایم کیو ایم کے ایک وفد جس میں وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز ڈاکٹر فاروق ستار اور سید حیدر عباس رضوی ایم این اے شامل تھے نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سندھ کی مجموعی سیاسی صورتحال اور مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ |
|