اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں چوتھے درجے کی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد طویل مدت کے منصوبوں کو بند کر دیا گیا ہے تاہم ہنگامی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں امدادی اور تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں اور وہاں سے عملے کو واپس بلالیا گیا ہے۔ آن لائن کے مطابق پیر کے روز اقوام متحدہ مرکز اطلاعات (یو این آئی سی )کے جا ری کردہ پیغام میں انہوں نے کہاکہ نئی حکمت عملی کے تحت صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں موجود اقوام متحدہ عملے میں کمی کی جائیگی۔ اِن علاقوں میں کام کرنے والے مقامی و بین الاقوامی عملہ کے تحفظ کیلئے بھی خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوتے ہی نئے منصوبوں کا آغازیقینی بنایا جا سکے ،اقوام متحدہ پاکستانی عوام کو ہر ممکن امداد کی فراہمی اور مشکلات سے نکالنے کیلئے جہاں ضرورت ہوگی بھر پو ر تعاون فراہم کرتا رہیگا ۔بیان کے مطابقان علاقوں میں اقوام متحدہ کے عالمی اسٹاف کی تعداد میں کمی کر دی جائے گی۔صرف ہنگامی اور ضروری نوعیت کے منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔ ان منصوبوں میں کام کرنے والے سٹاف کی حفاظت کیلئے مزید سخت اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اقدام کا بنیادی مقصد عملہ کی سیکورٹی کواس انداز میں یقینی بنانا ہے جس سے سرحد اور قبائلی علاقوں میں عوامی ضروریات پوری کرنے کیلئے جاری منصوبوں پر بھی منفی اثرات مرتب نہ ہوں جبکہ رواں سال عوامی خدمت پر معمور گیارہ اہلکاروں کی ہلاکت کے بعدچوتھے مرحلے کا آغازاقوام متحدہ عملے کی سیکورٹی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔