اسلام آباد (رپورٹ، حنیف خالد) پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے چینی کے بحران کے حل کیلئے اہم فیصلے کیے ہیں ان فیصلوں پر عملدرآمد سے صارفین کو چینی کنٹرول ریٹ پر ملنا شروع ہو جائیگی، ایک فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں شوگر ملوں کے بوائیلرز کو 5 نومبر سے چلا دیا جائے گا۔ 15 نومبر سے پنجاب میں شوگر ملیں چینی کی پیداوار شروع کر دیں گی۔ پنجاب کی شوگر ملوں کے پاس موجود 5 لاکھ ٹن چینی کا 70 فیصد حصہ کھلی مارکیٹ کے حوالے کر دیاجائیگا۔ 30 فیصد چینی ڈی سی اوز صاحبان کے ذریعے صارفین کو 40 روپے کلو پرچون میں ملا کرے گی۔ بیکری والوں، مشروبات بنانے والوں، حلوائیوں اور دوسرے تجارتی و صنعتی صارفین کو چینی مذکورہ فیصلے کے بعد 47 روپے کلو ملنا شروع ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے چینی کی فروخت کو اوپن کر دیا ہے۔ ملک میں چینی بنانے کے 80 کارخانے ہیں جو سیاسی خاندانوں اور بااثر طبقے کی ملکیت ہیں۔ سندھ میں مٹیاری شوگر ملز، انصاری شوگر ملز سمیت سات شوگر ملوں کے بوائیلر چالو کر دیے گئے ہیں۔ 15 نومبر سے جنوبی پنجاب کے اضلاع رحیم یار خان، بہاولپور وغیرہ کی شوگر ملوں میں چینی کی پیداوار کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ امسال گنے کی فصل سے 3 ملین ٹن سے زیادہ چینی کی پیداوار ہو گی۔ ملک کے اندر 7 لاکھ ٹن چینی کا ذخیرہ ہے جو 17 دسمبر تک کی ملکی ضروریات کیلئے کافی ہے جب کہ نومبر کے وسط سے مارکیٹ میں نئی چینی آنا شروع ہو گی۔
|
|