Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ملک بھر سے  
 
اسلام آباد (محمد صالح ظافر) نام نہاد قومی مفاہمتی آرڈیننس نے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان فیصلہ کن پنجہ آزمائی کا میدان سجا دیا ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں اس حوالے سے بڑے کھیل کا ابتدائیہ پیر کو قومی اسمبلی سترھویں اجلاس کے پہلے روز دیکھا گیاجس میں حکمران پارٹی کی بے بسی دیدنی تھی جبکہ حزب اختلاف کے تمام چھوٹے بڑے گروپ اس رسوائے زمانہ قانون کی راہ روکنے کے لیے یکجا ہوگئے۔پاکستان مسلم لیگ نون، قاف اور ہم خیال دھڑے جوگزشتہ ہفتے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے دکھائی دے رہے تھے اجلاس کے پہلے دن یوں شیر و شکر دکھائی دیے جیسے وہ ماں جائے ہوں۔ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نکتہٴ اعتراض پر اسپیکر اور حکومت کی گوشمالی کرچکے ۔ وہ ایک اہم وفاقی وزیر کے تقریر کے لیے اٹھنے پر واک آؤٹ کا ذہن بنا چکے تھے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی سربراہ چوہدری پرویز الٰہی اظہار رائے کے لیے اپنی نشست پرکھڑے ہوگئے چوہدری نثار علی خان نے جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے واک آؤٹ کے لیے اٹھے اپنے قدم روک لیے اور اعلان کیا کہ وہ کسی بھی وفاقی وزیر کی گفتگو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تاہم وہ چوہدری پرویز الٰہی کی تقریر سننے کے لیے رک گئے ہیں۔ پھر یوں ہواکہ چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی تقریر میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی کا ذکر بڑے والہانہ انداز میں کیا یہی نہیں چوہدری پرویز الٰہی کی تقریر پر ہر چند بعض حکومتی ارکان نے وزیراعظم کی موجودگی میں ہوٹنگ کی لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اور حزب اختلاف کے دیگر پارلیمانی گروپس کے ارکان نے بار بار ڈیسک بجا کرانہیں فراخدلانہ خراج تحسین پیش کیا ان کے اس مطالبے پر کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے و الے نورانی چہروں کو بے نقاب کیا جائے اور ان ارکان کی فہرست ایوان میں پیش کی جائے جنہوں نے اس سیاہ قانون سے مفادات اٹھائے ہیں تو اس پر حکومتی صفوں میں سناٹا چھا گیا جبکہ حزب اختلاف کے ارکان نے جی کھول کر داد دی۔ پارلیمانی راہداریوں میں یہ قیاس آرائی زوروں پر رہی کہ ایسے ارکان جو اپنے پارلیمانی گروپ سسے بغاوت کرکے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے تیار ہونگے ان کے وارے نیارے کردیے جائیں گے اس سلسلے میں بیس بیس کروڑ کی بات کی جاتی رہی لیکن قبائلی علاقوں کے ارکان نے اسے ہائے حقارت سے ٹھکرادیا۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ارکان کو حکومتی دباؤ کا سامنا رہا وہ وفاقی اور سندھ کابینہ کا بھی حصہ ہیں تاہم ان کے قائد الطاف حسین نے قبل ازیں جیو ٹی وی پر ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں واضح کردیا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس قانون کی مخالفت کرینگے اس بارے میں انہوں نے غیر جابندار رہنے کو بھی مسترد کردیا تھا۔ الطاف حسین کے حوالے سے یہاں تک بتایا گیا تھا کہ انہوں نے صدرآصف زرداری کو مستعفی ہونے کامشورہ دیدیا ہے۔ جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس متنازع آرڈیننس کے بارے میں غیر یقینی پن میں مبتلا دکھائی دیے انہوں نے حکومت کو دوروز بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کا اشارہ دیا ہے پارلیمانی لابیوں میں مولانا فضل الرحمن کے رویے کو سودا کاری سے تعبیرکیا جاتا رہا اس دوران وہ اپنے عوام کی بھلائی کے لیے حکومت سے زیادہ سے زیادہ مطالبات تسلیم کرالیں گے۔ قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کے چہرے لٹکے تھے جبکہ حزب اختلاف کے ارکان جوش و جذبے سے سرشار تھے اور ان کے چہرے دمک رہے تھے حکومتی ارکان کی صفوں میں حاضری بھی حوصلہ افزا نہیں تھی۔
 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback