Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share ہم تودعا ہی کر سکتے ہیں....سویرے سویرے…نذیر ناجی
پاکستان کا سیاسی منظر دیگر ایسے ملکوں سے مختلف نہیں‘ جہاں کسی نہ کسی انداز میں جمہوری نظام چل یا گھسٹ رہا ہے۔ ہر جگہ منتخب اداروں میں جگہ پانے والے اپنا کام کرتے ہیں اور جنہیں جگہ نہیں ملتی‘ وہ کام کرنے والوں کی ٹانگ کھینچنے میں لگ جاتے ہیں۔ مگر ٹانگ کھینچنے کے لئے وقت کا تعین اور زور لگانے کی طاقت میں فرق ہوتا ہے۔ ہمارے خطے میں بھارت‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا کی جمہوریتوں میں بھی ملتی جلتی خصوصیات پائی جاتی ہیں لیکن وہاں انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومتوں کو موسموں اور مزاج کے مطابق کچھ مہلت ضرور دی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ مہلت ایک ڈیڑھ سال تک ہوتی ہے۔ بھارت میں بعض اوقات تین اور کبھی چار سال تک چلی جاتی ہے اور سری لنکا میں عموماً منتخب حکومت کو وقت پورا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں آمروں کے لئے مہلت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ جب تک امریکہ چاہے انہیں تمام سٹیک ہولڈرز بڑے اطمینان سے مہلت دیتے ہیں اور جب امریکہ کی طرف سے اشارہ آئے‘ تو ساری خوابیدہ جمہوری طاقتیں انگڑائی لے کے اٹھتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے آمر کے مکمل اختیاراتی دور میں خواب خرگوش کے مزے لینے والے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ پلک جھپکنے سے پہلے چینی کی مہنگائی پر تحریک چلا دیتے ہیں اور ایوب خان جیسے جشن ترقی میں مست حکمران کو چلتا کرتے ہیں۔ یحییٰ خان کا اس وقت تک ساتھ نہیں چھوڑتے ‘ جب تک وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بندوبست پورا نہیں کر لیتا۔ اسی طرح جب تک ضیاالحق افغانستان کی ڈیوٹی پوری کر کے‘ سوویت افواج کی واپسی تک بات نہیں پہنچا دیتے‘ ان کے خلاف آواز نہیں اٹھتی اور جیسے ہی وہ امریکہ کے لئے بوجھ بننے لگتے ہیں تو ان کے خلاف تحریک شروع ہو جاتی ہے۔ ضیاالحق اپنے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے اس تحریک کی ہوا نکال دیتے ہیں تو ان کے ہمدردوں کے بقول ایسا حادثہ ہو جاتا ہے‘ جس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ یہی مشرف کے دور میں ہوا۔ انہیں بھی تب تک مہلت دستیاب رہی‘ جب تک وہ امریکہ کے لئے بوجھ نہیں بن گئے۔ جیسے ہی امریکہ نے رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک محدود تحریک ابھری اور میڈیا پر چھا گئی۔ گھبرائے ہوئے مشرف نے نکالے ہوئے سیاستدانوں کی واپسی کا راستہ کھولا۔ اسی میں سے ان کے باہر جانے کا راستہ نکل آیا۔
اس کے برعکس باقی ماندہ پاکستان میں بھٹو صاحب کی منتخب حکومت بننے سے پہلے‘ ان کے خلاف تحریک شروع ہو گئی تھی اور دوبارہ الیکشن کے مطالبے ہونے لگے تھے۔ مگر اس وقت فوج ابتری کی حالت میں تھی۔ اس کی طرف سے تائید نہ مل سکی اور بھٹو صاحب سے‘ شکست خوردہ اور بے حوصلہ فوج کو دوبارہ منظم اور طاقتور کرنے کا کام لیا گیا اور جیسے ہی فوج کا اعتماد بحال ہوا‘ حالات بدل گئے۔بھٹو صاحب 1977ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ مخالفین نے دھاندلی کا جو الزام لگایا‘ وہ یہ تھا کہ انہوں نے 21 نشستوں پر دھاندلی کی۔ وہ ان سیٹوں پر دوبارہ الیکشن کے لئے تیار ہو گئے۔ لیکن جی ایچ کیو کا اشارہ آ چکا تھا۔ چنانچہ ”ٹانگ کھینچ گروپ“ کی ڈیوٹی میں بھٹو صاحب کو ان کا جمہوری حق دینا شامل نہیں تھا۔ فیصلہ یہ تھا کہ نومنتخب حکومت کو قدم جمانے کا موقع نہ دیا جائے۔ چنانچہ جمہوری تاریخ میں غالباً پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت کو حکومت چلانے کا موقع دینے کی بجائے‘ نہ صرف حکومت اور اسمبلیاں ختم کر دی گئیں بلکہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہونے والے وزیراعظم کو پھانسی لگا دی گئی اور اس کی حمایت کرنے والے ہر اس شخص کو قید اور کوڑوں کی سزائیں ملیں جس نے بھٹو صاحب کا نام لیا۔ ان میں وکیل‘ شاعر‘ ادیب‘ صحافی‘ اساتذہ‘ کسان‘ مزدور سب شامل تھے۔
ضیا الحق کے طویل دوراقتدار کے بعد نیم جمہوری نظام بحال ہوا‘ تو انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود پیپلزپارٹی توقعات سے زیادہ نشستیں لے آئی اور اسٹیبلشمنٹ کو مجبور ہو کر بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم بنانا پڑا‘ مگران کے ہاتھ پاؤں باندھنے کا پورا بندوبست کرنے کے بعد۔ اس کے باوجودفوراً ہی ان کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی گئی۔ دوسال پورے ہونے سے پہلے پہلے تحریک عدم اعتماد کی مہم شروع ہو گئی اور تیسرا سال پورا ہونے سے پہلے انہیں اقتدار سے باہر کر دیا گیا۔ یہی دوسری مرتبہ ہوا۔ حکومت نوازشریف کی بھی دونوں مرتبہ برطرف ہوئی۔ لیکن اس کا انتظام خودنوازشریف نے کیا۔اگر انہیں اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینے کا شوق نہ ہوتا‘ تو وہ دونوں مرتبہ اپنی مدت اقتدار پوری کر سکتے تھے۔ پیپلز پارٹی کا معاملہ مختلف ہے۔ اس جماعت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے ووٹ دینے والے طبقے اسٹیبلشمنٹ کے تیار کردہ سیاستدانوں کے حق میں کبھی ووٹ نہیں ڈالتے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حامی جماعتوں کا ووٹ کبھی نوازلیگ اور کبھی کیولیگ کی طرف شفٹ ہوتا رہا ہے۔ جب آئی ایس آئی اپنی پسند کی جماعتوں کو گھیر گھار کے یکجا کرتی ہے‘ تو یہ جمع شدہ ووٹ ان کی مرضی کی حکومت بنانے کے کام آ جاتے ہیں اور آئی جے آئی ٹائپ انتظام نہ ہو تو پیپلزپارٹی حکومت بنانے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتی ہے۔ اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔ آصف زرداری نے پرویزمشرف کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے‘ نوازشریف کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی۔ یہ سب کچھ اتنی تیزرفتاری کے ساتھ ہوا کہ پیپلزپارٹی کے روایتی مخالفین اور آصف زرداری سے خداواسطے کا بیر رکھنے والے‘ تمام عناصر سکتے میں آ گئے اور جیسے ہی اوسان بحال ہوئے‘ وہ فوراً ”نکالونکالو“ کے نعرے لگاتے ہوئے میدان میں اتر آئے۔شروع میں وہ کافی پراعتماد تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صدر زرداری کی رخصت کی تاریخیں دینے لگے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی کا نام لے کر انہیں پکارا جانے لگا۔ ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا‘ آصف زرداری ایوان صدر میں بیٹھے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسائل کھڑے کئے اور پھر انہیں تشویش و اضطراب سے آراستہ کر کے یوں پیش کیا ‘ جیسے اگر اس مسئلے پر آصف زرداری اقتدار سے باہر نہیں ہوتے تو دنیا تہہ و بالا ہو جائے گی۔ قیامت کا منظر ہو جائے گا۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ سمندر زمینوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ مگر تھوڑے ہی دنوں میں تھکن غالب آگئی۔ مسئلہ وہیں رہا۔ بقول منوبھائی ”اجے قیامت نئیں آئی“۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ کرپشن میں بدنام زرداری کو صدر بنا کر پاکستانیوں نے اپنی موت کا سامان کر لیا ہے۔ اس انتباہ کو کوئی خاطر میں نہیں لایا‘ تو یہ آصف زرداری کی بھارت دوستی کا نعرہ لے کر سامنے آئے۔ وہ بھی نہ چل سکاتو ججوں کی بحالی کا سوال ٹانگ کھینچ گروپ کے لئے سوہان روح بن گیا۔ ججوں کی بحالی کے بعد یہ مسئلہ بھی دم توڑ گیا۔ چندروز بے سہارا ہو جانے والی مخالفت میں کیری لوگر بل سے جان ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن اس میں بھی ٹانگ کھینچ گروپ کو شرمناک خاموشی بلکہ فراموشی کی ریت میں سردینا پڑا۔ وہ کافی دیرسے اسی حالت میں ہیں۔ جب کچھ اور ہاتھ نہیں آیا تو این آر او کی گولی کھا کر اس گروپ نے پھر انگڑائی لی ۔ این آر او پرویزمشرف نے الیکشن سے پہلے بنایا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران یہ کسی کو شرمناک اور تباہ کن نظر نہیں آیا۔ کسی بائیکاٹ کرنے والے یاانتخاب میں حصہ لینے والے نے اس کا نام تک نہیں لیا۔ پھر حکومتیں بنیں‘ تب بھی اس بل پر کسی کو تکلیف نہیں ہوئی۔ یہ بل اپنی آئینی مدت پوری کر کے قبر میں چلا گیا۔ اس وقت تک بھی یہ کسی کے لئے تکلیف دہ نہیں تھا۔ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں جب اس مردہ بل کو نئی زندگی دے کر پارلیمنٹ کے حوالے کیا گیا ‘ تو ٹانگ کھینچ گروپ کو اچانک ہوش آیا کہ یہ تو کالا قانون تھا۔ اب ہر طرف ہاہاکار مچی ہے۔مسئلہ بدل گیا ہے۔ دلائل وہی ہیں کہ اگر یہ بل پارلیمنٹ میں پاس ہو گیا تو قیامت آ جائے گی۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔ سمندر خشکی پر چڑھ جائے گا۔ مچھلیاں پروازکرنے لگیں گی۔ ہر نیا مسئلہ پیش کرتے وقت ٹانگ کھینچ گروپ تشنج کی حالت میں آ جاتا ہے ۔ رگیں کھنچ جاتی ہیں۔ آنکھیں لال ہو جاتی ہیں۔ بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ناخن دراز ہو جاتے ہیں۔ ہونٹ کانپنے لگتے ہیں۔ دیدے آنکھوں سے باہر نکلنے لگتے ہیں۔ مگر جب مسئلہ کسی حل کے بغیر ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو یہ بھی ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور پھر سیاست کے کباڑخانے میں سے کوئی نیا مسئلہ ڈھونڈ کر‘ اس میں تباہ کاریوں کے امکانات انجیکٹ کرتے ہیں اور پھر وہی کیفیت واپس آ جاتی ہے‘ جس میں دوبارہ وہ سب کچھ ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو تشنج کے پچھلے دورے میں ہوتا نظر آیا تھا۔ اب این آر او اسمبلی میں زیربحث ہے۔ آنکھیں پھر لال ہو گئی ہیں۔ہذیان پھر شروع ہو گیا ہے۔ اس بار بھی اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے گا اور تشنج کے اگلے دورے میں بھی انہیں پاپوش سونگھے بغیر ہوش آ جائے گا۔ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں۔
 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback