Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share کمیونیکیشن گیپ کا مسئلہ ....جرگہ … سلیم صافی
قصور میڈیا کا ہے یا پھر ذرائع مواصلات کا۔ دونوں نے دنیا کو ایک انوکھی غلط فہمی کا شکار بنا دیا ہے۔ اسلام آباد یا پشاور میں بیٹھا دانشورچونکہ انٹرنیٹ کے ذریعے روز امریکہ اور برطانیہ کے اخبارات پڑھتا اور وہاں کی ہر بریکنگ نیوز سے ٹی وی چینلز کے ذریعے آگاہی حاصل کرتا رہتاہے اس لئے اس غلط فہمی کا شکار ہوگیاہے کہ امریکہ اور برطانیہ کو اُس سے زیادہ کوئی نہیں سمجھتا ۔دوسری طرف امریکہ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی اسی غلط فہمی کے شکار ہیں۔مذکورہ ذرائع کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمارے ہاں اپنے جاسوس ، کارندے اور ایجنٹ بھی بٹھا رکھے ہیں ۔ وہ بھی انہیں پل پل کی خبر دیتے ہیں جبکہ ہماری ٹیلی فونک گفتگو بھی وہ مانیٹرکر رہے ہوتے ہیں ، یوں وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی بھی پاکستان کو اتنا نہیں جانتے ، جتنا کہ وہ جانتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے زمینی حقائق سے ناواقف ہیں اور ہم امریکہ اور برطانیہ کوسمجھنے سے قاصر ہیں ۔ امریکی مشرق کے بارے میں مغربی ذہن سے سوچتے ہیں ، اس لئے مار کھاجاتے ہیں اور ہم اپنے پاکستانی ساختہ ذہنی مقدمات کے ساتھ مغرب اور امریکہ کا تجزیہ کرتے ہیں ، اس لئے پٹتے رہتے ہیں ۔ وہ مغرب کے تجربہ گاہوں میں تیار شدہ نسخے نورستان اور وزیرستان کے پہاڑوں میں بطور علاج آزماتے ہیں اور مرض کے مزید بڑھاوے کا موجب بنتے ہیں اور ہم اپنی تیار کردہ یونانی ادویات سے مغرب اور امریکہ کے مرض کا علاج کرنا چاہتے ہیں ، اس لئے رسوائیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ تبھی تو امریکی حیران ہیں ان کی خیرات کے سہارے چلنے والے ملک کے باسی ان سے کیوں نفرت کرتے ہیں اور ہم پریشان ہیں کہ بے تحاشہ خدمات کے باوجود امریکی ہمیں ہی اپنا حریف کیوں سمجھتے ہیں ۔ اسی لئے یہ عاجز کہتا رہتا ہے کہ اصل مسئلہ کمیونیکشن گیپ(Communication Gap) کا ہے۔ میڈیا اور ذرائع مواصلات نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں ڈال کر بظاہر فاصلوں کو مٹادیا ہے لیکن دلوں کے فاصلے جس قدر آج بڑھ گئے ہیں ، پہلے کبھی نہ تھے ۔ واشنگٹن اور اسلام آباد تو ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہیں اور دونوں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے حکمرانوں کے شہرہیں یہاں تو لاہور والے پشاور والوں کے غم، دکھ اور کرب کو نہیں سمجھتے اور پشاور والے لاہور والوں کی مجبوریوں کا ادارک نہیں رکھتے ۔المیہ اور شاید سب سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ پنڈی والے اسلام آباد والوں کی حرکتوں پر حیرت زدہ ہیں اور اسلام آباد والے ، پنڈی والوں سے شاکی۔ پنجابی کو سرائیکی کی سمجھ نہیں آرہی تو سندھی کو مہاجر کی ۔ مولوی، مسٹر کی زبان نہیں سمجھتا اور مسٹر کو مولوی کے فلسفے کی سمجھ نہیں آتی ۔ وزیرستان میں بسنے والا عسکریت پسند حیران ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کا ایک حکمران اس قدر بے حس کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن امریکہ کا ساتھی بن کر اپنے لوگوں پر بم برسائے اور باقی ماندہ پاکستان میں رہنے والا مسلمان سراپا حیرت ہے کہ اسلام کا ایک نام لیوا کس طرح اتنا شقی القلب بن سکتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر اپنے ہم کلمہ بھائیوں کو اڑاتا پھرے گا۔
امریکہ کے کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) کے ڈینیل مرکی (Daniel Markey)کے ساتھ گذشتہ روز آفتاب احمد شیرپاؤ کے گھر پر گپ شپ ہورہی تھی ۔ پہلے شیرپاؤ صاحب نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ پیش کیا ۔ اس طالب علم کی باری آئی تو ایک ایس ایم ایس ان کے سامنے رکھ دی ، جس میں کہا گیا تھا کہ ہمیں بھوک ، لوڈشیڈنگ ، غربت اور ہر طرح کی تکلیف قبول ہے لیکن کیری لوگر بل قبول نہیں ۔ ڈینیل مرکی سے کہا کہ یہ ہے آپ امریکیوں کے بارے میں ان دنوں پاکستانیوں کے جذبات کی ایک جھلک اور آپ لوگوں کو سوچناچاہئیے کہ ایسا کیوں ہے ؟۔ عرض کیا کہ مسئلہ حل کرنا ہے تو افغانستان کو افغانوں کا عینک لگا کر دیکھنا ہوگا اور پاکستانیوں کے ذہن سے سوچ کر پاکستان کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔مزید بتایاکہ گذشتہ باسٹھ سالوں کے دوران ہندوستان سے شاکی رہنا ہمارے خون میں گول دیا گیا ہے جبکہ ہندوستانی اپنی حب الوطنی کو ثابت کرنے کے لئے پاکستان کو گالی دینا لازمی سمجھتے ہیں ۔اب اسی ہندوستان کوبغل بچہ بنا کر اور افغانستان میں لابٹھا کر آپ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان آپ کے ہر خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں مدد دیتا رہے گا۔
پاکستان تو پاکستان ہے ، علم اور ٹیکنالوجی کے سہارے دنیا بھر پر حکمرانی کرنے والے ان امریکیوں کو تو آج تک سالوں سے اپنے زیرقبضہ افغانستان تک کی سمجھ نہ آئی ۔ہر کوئی جانتا ہے کہ افغانی اور قبائلی توپ ، ٹینک اور گولی وغیرہ کا سینہ تھان کر مقابلہ کرسکتا ہے تاہم ڈالر ، روبل ، ریال اور روپے کے آگے ڈھیر ہوجاتا ہے لیکن ان امریکیوں نے افغانوں اور ہم قبائلیوں کو گالی اور گولی سے رام کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ پرویز مشرف جیسا تابعدار اتحادی امریکہ کو سمجھاتا رہا کہ طالبان اور القاعدہ کو ایک لاٹھی سے نہ ہانکو لیکن وہ دونوں کو ایک جیسا ڈیل کرتارہا۔ وہ درخواست کرتا رہا کہ سب طالبان کے لئے دروازے بند نہ کرو، لیکن اس کے ذہن پر سب کو ختم کرنے کا خبط سوار تھا۔ اس صورت میں وارلارڈز اور جہادی کمانڈر ہی کرزئی حکومت کو مضبوط کرسکتے تھے لیکن امریکیوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ان کوبھی اپنے سے پھرے رکھے ۔ مجبوراً انہیں پنج شیری گروپ پر تکیہ کرنا پڑا لیکن چونکہ ان کے نزدیک وہ ایران اور روس کے زیراثر تھے ، اس لئے امریکی انہیں بھی باری باری حکومت سے نکال کر حامد کرزئی کے دشمن بناتے رہے۔ امریکہ نے اشرف غنی جیسے مغرب سے پلٹے ہوئے دانشوروں کو افغانوں کا لیڈر بنانے کی بے نتیجہ مشق جاری رکھی ،جن کا افغانستان میں کوئی چاہنے والا موجود نہ تھا۔اسی طرح عرب دنیا کے سب سے شاطر حکمران اورامریکہ کے سب سے بااعتماد اتحادی حسنی مبارک صدر کہتے رہے کہ عراق پر حملہ ہوا تو ایک کی بجائے سو اسامہ بن لادن پیدا ہوں گے ، لیکن اس عرب شناس اتحادی کو بھی سننے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ عراق میں جاگھسنے کی وجہ سے امریکہ نے ایران، روس اور چین جیسے ممالک کو ڈرا دیا اورنتیجتاً افغانستان عالمی اور علاقائی قوتوں کے پراکسی وار کا میدان بن کر جہنم بن گیا لیکن بجائے اس کے کہ اپنی غلطی تسلیم کرتے امریکہ نے پہلے مرحلے میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر سارا ملبہ اس پر ڈالنے کی کوشش کی اور اب حامد کرزئی کو قربانی کا بکرا بنانے میں مگن ہے۔ ڈینیل مرکی سے کہا کہ حامد کرزئی مستقبل میں آپ امریکیوں کے لئے ویسے ہی ثابت ہوں گے جیسے کہ ہمارے آصف علی زرداری کے لئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ثابت ہورہے ہیں ۔ وہ سمجھے نہیں تو وضاحت کی کہ افتخار محمد چودھری نے بحال ہونا ہی تھا اور اگر زرداری صاحب اقتدار میں آتے ہی ان کو بحال کرتے تو ان کی عزت بھی بچ جاتی اور چودھری صاحب بھی خوش زیراحسان رہتے لیکن انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا اور پھر ایک وقت پر انہیں مجبورہو کر بحال کردیا اس لئے آج چودھری صاحب سے خوفزدہ ہیں ۔ آپ لوگ ہنسی خوشی حامد کرزئی کو صدر مان لیتے تو وہ خوش بھی رہتے اور حسب سابق تابعدار بھی لیکن اب کوشش کرکے بھی آپ ان کو صدر بننے سے نہیں روک سکیں گے ۔ موجودہ حالات میں حامد کرزئی سے زیادہ موزوں حکمران افغانستان کو نہیں مل سکتا ۔ ان کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ ان کی پالیسیاں آپ لوگ تشکیل دیتے رہے اور ان سے افغان عوام کے نفرت کی علت یہ تھی کہ وہ ان کے نزدیک وہ امریکہ کے آدمی تھے ۔ اب جبکہ حامد کرزئی امریکہ کے مخالف کے طور پر سامنے آئیں گے تو افغان ان پر ووٹوں کی بارش کردیں گے ، یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جانے پر آمادہ ہوئے ۔
اگرامریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ہیلری کلنٹن کے ایک دورے ، دانشورانہ خطابات اورپاکستانی اینکرپرسنز کے ساتھ چند نشستوں کے ذریعے اپنی سوچ پاکستانیوں تک منتقل کردیں گے تو یہ ان کی بھول ہے اور اگر ہمارا یہ خیال ہے کہ کیری لوگر بل پر واویلے یا پھر اردو چینلز کے ٹی وی ٹاک شوز میں امریکیوں پر تبرا بھیجنے سے ہم امریکیوں کی سوچ بدل دیں گے تو یہ ہماری خام خیالی ہے۔ پاکستان کے زمینی حقائق سے امریکیوں کی بے خبری کا اس س سے زیادہ دلچسپ نمونہ اور کیا ہوسکتاہے کہ وار آن ٹرر کے فرنٹ لائن کی حیثیت قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کو حاصل ہے لیکن ہیلری کلنٹن لاہور اور اسلام آباد کے رئیس زادوں سے مکالمہ کرکے انتہاپسندی کی وجوہات جاننے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ قبائلی رہنماؤں سے ملاقات کررہی ہیں لیکن قبائلی رہنماؤں کی اس نشست میں ان کے ساتھ والی نشستوں پر جو دو افراد بیٹھے تھے، ان میں ایک بھی قبائلی نہیں تھا۔
سرحد کے حکمرانوں نے اپنے ایک غیرقبائلی چہیتے کو وزیرستانی پگڑی پہنا کر وہاں بھیجا تھا اور ہیلری کلنٹن بے چارے وزیرستان کاقبائلی سمجھ کر ان کے ”خیالات عالیہ“ سے مستفید ہورہی تھی۔ کسی سیانے نے کہا تھا کہ دنیا کو سمجھنا چاہتے ہو تو دنیا کو اپنی نہیں بلکہ دنیا کی نظروں سے دیکھو۔ امریکی ہمیں سمجھنا چاہتے ہیں تو انہیں پاکستانی ذہن کے ساتھ ، یہاں کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر پاکستان کے مسائل پر غور کرنا ہوگا اور ہم اگر امریکہ کے شر سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ذہن سے نہیں بلکہ مغربی دنیا کے ذہن سے سوچ کر امریکیوں کی تشویش، عزائم اور ترجیحات کو سمجھنا ہوگا۔ایسا نہیں ہوتا تو ہیلری کلنٹن کے پرمغز لکچرز کا کوئی فائدہ نکل سکتا ہے ، ہمارے ٹی وی ٹاک شوزاور کالموں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آسکتا ہے اور نہ امریکہ کو للکارنے والے لیڈران کرام کے ولولہ انگیز خطابات سے ہم تباہی سے بچ سکتے ہیں۔ میں کالج کا طالب علم تھا جب پاکستان میں جماعت اسلامی نے ”مردہ باد امریکہ“ کی زبردست مہم چلائی تھی لیکن اس کے بعد امریکہ افغانستان اور اب اسلام آباد میں آکے بیٹھ گیا جبکہ وہی لوگ ہنوز ”گو امریکہ گو“ کی مہم چلا کر واشنگٹن کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے نوے کے عشرے میں دھمکی دی تھی کہ امریکیوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ ان کے بیڑے کو بحر ہند میں غرق کرادیں گے لیکن آج وہ خود زرداری صاحب کی اس کشتی میں سوار ہیں، جس کے ملاح واشنگٹن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف دنیا کو محفوظ بنانے کا نعرہ لگا کر امریکہ نے افغانستان میں فوج کشی کی تھی لیکن آج کئی سال بعد آج خود امریکی دانشور معترف ہیں کہ دنیا پہلے سے کئی گنا زیادہ غیرمحفوظ بن گئی ہے۔ اپنے جسموں سے بم باندھ کر خودکش حملوں کے ذریعے پاکستان کو قبرستان بنانے والے اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ اس طریقے سے وہ امریکہ کو تباہ کررہے ہیں لیکن امریکہ کو تباہ کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی حرکتوں سے اسے کابل کے ساتھ ساتھ اسلام آبادمیں بھی لابٹھا دیا جبکہ دوسری طرف امریکی جو افغانستان کچھ عرصہ قبل 26 ہزار فوج کے ساتھ کنٹرول کررہے تھے، آج اس سے تین گنا فوج سے بھی کنٹرول نہیں کرسکتے اور خود ان کے جنرل میک کرسٹل مزید چالیس ہزار فوج بھیجنے کامطالبہ کررہے ہیں۔رحم آتا ہے ان سادہ لوح نوجوانوں پر جو پشاور، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے آپ کو اور اپنے جیسے امریکہ سے نفرت کرنے والے پاکستانیوں کو اڑا کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اس طرح وہ امریکہ کو تباہ کرسکیں گے اور ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے امریکیوں کی عقل پر جو اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ چالیس ہزار مزید فوج بھیج کر یا پاکستانی حکمرانوں کے بازو مروڑ کروہ افغانستان اور پاکستان میں موجود اپنے سے نفرت کرنے والوں کو رام کرسکیں گے۔کمیونیکیشن کایہ گیپ ختم کرکے سب فریقوں کو کچھ اور سوچنا ہوگا۔ کچھ اور کرنا ہوگا، ورنہ کوئی نہیں بچاسکے گا امریکہ کو ذلت و رسوائی اورخاکم بدہن پاکستان اور افغانستان کو تباہی سے۔


 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback