ہر جمہوریت پسند کی آرزو یہ ہے کہ زرداری صاحب کی منتخب حکومت پانچ سال پورے کرے، لیکن اگر وہ خود ہی اپنا سفینہ ڈبو دینا چاہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے؟ نہیں جناب این آر او نہیں چلے گا۔ اوّل تو اس کی منظوری سہل نہیں۔ حلیف بہت قیمت طلب کریں گے اور حریف بہت سخت مزاحمت کریں گے۔ حریفوں سے مراد صرف اپوزیشن کے منتخب اور بائیکاٹ کرنے والے نمائندے نہیں بلکہ پوری قوم کی اکثریت ہے۔ میڈیا ہے کہ قومی جذبات کی نمائندگی کئے بغیر جی نہیں سکتا۔ اپنی ساکھ تو کیا وجود ہی خطرے میں ڈال دے گا۔ سول سوسائٹی کہ قومی ضمیر کی مظہر ہوتی ہے بے وفائی کرے تو اس کی توقیر باقی نہیں رہتی۔ قانونی ادارے ہیں۔ خود دستور اس کے راستے میں مزاحم ہو جائے گا۔ وہ دن گزر گئے آئین جب چند اوراق کی دستاویز تھا۔ ایک فوجی آمر جسے آگ لگا کر سگریٹ سلگا سکتا تھا۔ 9/ مارچ 2007ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حرف انکار سے شروع ہونے والی بے مثال عوامی تحریک نے، وکلاء نے جسے خون پسینے سے سینچا، اسے ایک زندہ وجود بنا دیا ہے۔ ایک کوہسار کہ تیتری جسے تسخیر نہیں کر سکتی۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ اور آشکار کرتا ہے کہ وقت کا دھارا کس رخ پر بہہ رہا اور تقدیر الٰہی کا مظہر ہے لیکن اس سے بھی سوا یہ کہ عدل کے بنیادی اصول سے متصادم یہ قانون اللہ اور اس کے آخری رسول اور اس کی کتاب کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ کتاب یہ کہتی ہے کہ کائنات کا نظام اور اس کے دائرے میں حرکت کرتے تمام اداروں اور امراء کی بقا انصاف سے مشروط ہے۔ کتاب وہ چیز ہے جس سے انحراف پروردگار کو کبھی کسی قیمت پر گوارا نہیں۔ حشر کے دن، وہ سب لوگ بالآخر معاف کر دیے جائیں گے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جہنم ان کا انجام ہو گا، جو اسے تسلیم نہیں کر تے۔ صاف صاف قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ میزان اللہ نے اتارا ہے اور اس سے انحراف کر کے کامیابی ممکن نہیں۔ تیراک کو پانی کے رخ پر تیرنا ہوتا ہے، اس کے مقابل نہیں، ورنہ سانس اکھڑ جاتی ہے، ورنہ موت مقدر ہوتی ہے۔ کون ستارے چھو سکتا ہے راہ میں سانس اکھڑ جاتی ہے ابدالآباد تک کیلئے اللہ کے آخری رسول نے وہ قانون واضح کر دیا تھا جو قوموں کی فنا اور بقا کا احاطہ کرتا ہے۔ فرمایا: وہ اقوام برباد ہوئیں جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتیں اور اپنے طاقتوروں کو معاف کر دیا کرتی تھیں۔ اور پھر یہ ارشاد کیا تھا : خدا کی قسم، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو ان کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔ غور تو کیجئے، سیّدہ فاطمتہ الزہرہ اللہ کے رسول نے خاص طور پر انہی کا نام کیوں لیا۔ جیسا کہ سیّدہ عائشہ صدیقہ نے کہا تھا، صرف اس لیے نہیں کہ وہ انہیں سب سے زیادہ عزیز تھیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ حیا، پاکیزگی، دیانت اور ایثار کی عظیم ترین علامت تھیں۔ اگر کبھی کسی صورت میں انہیں استثنیٰ حاصل نہ ہو سکتا تھا تو آصف زرداریوں، رحمن ملکوں اور الطاف حسینوں کو کیسے ہو سکتا ہے۔ نہیں، کسی کو نہیں، اس خاک داں میں کسی کو نہیں۔ ایک قدسی حدیث یہ کہتی ہے کہ آدمی کو بہرحال خدا کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ نہ کرے گا اور اپنی راہ چلے گا تو تھکا کر نڈھال کر دیا جائے گا اور ہو گا بالآخر وہی جو رب کو منظور ہے۔ خطا پر معافی ہے اور توبہ قبول کی جاتی ہے لیکن سرکشی نہیں۔ سرکشی خالق ارض و سما سے بغاوت ہے اور کون اس سے بغاوت کر سکتا ہے۔ استغفر اللہ، استغفر اللہ، زرداری صاحب کو اللہ محفوط رکھے، کون ہے جو اللہ کے خلاف اعلان جنگ کر سکتا ہے؟ چوہدری شجاعت حسین کو معلوم نہیں یہ مغالطہ کیوں کر ہوا۔ معلوم نہیں یہ بات انہوں نے کس بنا پر کہی کہ نون لیگ نے این آر او پر حکمران ٹولے سے مفاہمت کر لی ہے۔ نواز شریف چاہیں بھی تو کر نہیں سکتے۔ ان کا انداز بیان ہی تردید کرتا ہے لیکن اگر چاہیں بھی تو مفاہمت کر نہیں سکتے۔ عدالتی تحریک کی طرح انہیں پوری قوت اور یکسوئی سے بروئے کار آنا ہو گا۔ اگر نہ آئے تو قصور وار قرار دے کر مسترد کر دیئے جائیں گے۔ عوامی احساسات کے سمندر میں جب طوفان ہو اور ایک پوری قوم جب یکسو ہو جائے تو مقبول سیاسی قیادت اس کی مزاحمت کیسے کر سکتی ہے۔ کیسے کر سکتی ہے؟ فرض کیجئے اور فرض کرنا مشکل بہت ہے کہ نواز شریف قومی مطالبے سے بے وفائی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کوئی اور یہ پرچم تھام لے گا۔ سپہ سالار اہم ہوتا ہے لیکن جب لشکر رزم گاہ میں ہو اور تہیہ کر لے تو انکار کرنے والا سالار مسترد کر دیا جاتا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کیسی بچگانہ بات کی۔ نواز شریف کیا گوارا کریں گے کہ مقبولیت کی معراج پر وہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیئے جائیں۔ وہ فرشتہ نہیں اور آخری تجزیے میں، وہ جناب آصف علی زرداری سے بہت زیادہ مختلف بھی نہیں۔ مالی بے قاعدگیوں میں ان کا ریکارڈ محترمہ بے نظیر محترمہ اور زرداری صاحب سے کچھ زیادہ مختلف نہیں لیکن خود کشی وہ کیوں کریں گے۔ کریں گے تو عمران خان جیسا کوئی شخص بڑھے گا اور جھنڈا اٹھا لے گا۔ عمران خان کیا۔ لشکر جس کسی کو علم سونپ دے گا، وہ سردار ہو جائے گا۔ معرکے د وطرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن کی منصوبہ بندی کمانڈر کرتے اور لشکر فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کے لیے لشکر اوّل فراہم ہوتے ہیں اور لیڈر کا انتخاب بعد میں کیا جاتا ہے۔ یہ دوسری طرح کی جنگ ہے۔ سترہ کروڑ انسانوں کی پے در پے صدمات سے گزرنے والی یہ قوم کس طرح گوارا کر سکتی ہے کہ کمزوروں کے لیے ایک قانون ہو اور طاقت وروں کے لیے دوسرا۔ نہیں، ایک نا ممکن کام ہے۔ ایک بیدار معاشرہ ہر گز یہ اجازت عطا نہ کرے گا کہ وہ چند لوگوں کے ہاتھ میں پھندا تھما دے کہ وہ قوم کے مستقبل کو پھانسی پر لٹکا دیں۔ این آر او کا اہتمام، امریکہ نے کیا تھا اور اس کا مقصد واضح تھا محترمہ بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف میں مصالحت کے ذریعے ان کا مشترکہ اقتدار تاکہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ہوتا رہے۔ یہ ایک بہت ہی ناقص دلیل ہے کہ صدر زرداری اور محترمہ کے خلاف الزامات عدالتوں میں ثابت نہ ہو سکے۔ سرے محل کا مقدمہ تو سچا ہو چکا۔ محترمہ نے پارلیمان میں اعلان کیا تھا کہ ان کا کوئی تعلق اس قصر سے نہیں لیکن بعد میں اسے اپنا لیا گیا اور بیچ ڈالا گیا۔ اسی طرح سوئٹزرلینڈ والا الزام بھی درست ثابت ہو چکا۔ مقامی عدالت فیصلہ صادر کر چکی۔ اسپین میں بینک کے کھاتے اور مکان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ماضی کی کمزور عدالتیں مر چکیں۔ عدلیہ اب آزاد ہے۔ پیپلز پارٹی اور اس کے حریفوں کے پاس اب جواز کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں۔ حیلہ بازی چل نہیں سکے گی۔ قدرت اور قوم اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے یہ قانون منظور بھی ہو جائے تو منظور نہ ہو گا اور سفینہ ڈوب جائے گا۔ ہر جمہوریت پسند کی آرزو یہ ہے کہ زرداری حکومت پانچ سال پورے کرے لیکن اگر وہ خود ہی سفینہ ڈبو دینا چاہیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔