Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share اب کس کی باری ہے,,,,,سب جھوٹ…امر جلیل
اس سے پہلے کہ ایک نئی کہانی سنانے بیٹھ جاؤں، میں ایک مرتبہ پھر آپ سب کو یاد دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری تمام تحریروں کی طرح آج کی کہانی بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس کہانی میں آپ جھوٹ پڑھیں گے۔ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں پڑھیں گے۔ یہ تو ابتدائے جھوٹ ہے، سوچتا ہے کیا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ بانس بھی رہے گا اور بانسری بھی رہے گی۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ لگاتار باسٹھ برس سے آپ سرکاری سطح پر صرف سچ، خالص سچ سنتے آئے ہیں۔ سچ سننا آپ کی پرانی عادت ہوچکی ہے۔ پرانی عادتیں آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ آہستہ آہستہ، انشاء اللہ تعالیٰ آپ جھوٹ پڑھنا اور جھوٹ سننا گوارا کریں گے اور پھر آپ کو جھوٹ پڑھنے اور جھوٹ سننے کی عادت پڑ جائے گی۔ایک اور بات کی وضاحت بھی میں ضروری سمجھتا ہوں۔ اس جھوٹی کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں۔ فرضی اس لئے ہیں کہ فرض شناس ہیں۔ ہمارے ملک اور معاشرے میں ہر فرض شناس کو فرضی سمجھا جاتا ہے۔ کئی ایک فرش شناسوں کو میں نے دل برداشتہ ہو کر ناشناس بنتے دیکھا ہے۔ اب آپ کہانی سنیئے۔
میں عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کے تیجے سے ہو کر آیا تھا، بہت تھک گیا تھا، لی مارکیٹ کے قدیم ریستوران، اسٹار آف پاکستان میں جاکر بیٹھ گیا تھا اور کڑک چائے کی سرکیاں بھررہا تھا۔ کڑک کڑوی چائے پی کر میں اپنا غم غلط کررہا تھا۔ رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت میرا جگری یار تھا۔ اس کے مرنے کا جہاں مجھے دکھ تھا، وہاں اس کے مرنے سے مجھے ایک طرح کی ذہنی الجھن سے نجات مل گئی تھی۔
رحمان بلوچ بڑا ہی وجیہہ اور ہینڈ سم تھا۔ اس کے نام کے ساتھ ڈکیت کا لفظ مجھے ناگوار لگتا تھا۔ اخباروں اور ٹیلی ویژن پر رحمان بلوچ اور رحمان ملک کی تصویریں دیکھ کر میں الجھن میں پڑ جاتا تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان دونوں میں رحمان ڈکیت کون ہے اور رحمان ملک کون ہے؟ چلو اچھا ہی ہوا، کہ رحمان بلوچ مر گیا۔ ایک مخلص دوست نے جان دے کر مجھ کند ذہن کو ذہنی الجھن سے آزاد کردیا۔
رحمان بلوچ اور میں برسوں تک لیاری کے موسیٰ لین علاقہ میں پڑوسی رہ چکے تھے۔ شام کے اوقات ککڑی گراؤنڈ پر فٹ بال کھیلتے ہوئے گزارتے تھے۔ آگے چل کر جب فکر معاش نے ہمیں الگ کردیا تب بھی ہم گاہے بہ گاہے ملتے تھے اور اسٹار آف پاکستان ریستوران میں جاکر بیٹھتے تھے اور گذرے ہوئے کل اور آنے والے کل کے بیچ حال کو سینڈوچ بناتے تھے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ رحمان کا لیاری میں دبدبہ بڑھ گیا۔ بڑے بڑے افسران اور سیاستدان اس کی جیب میں رہنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے رحمان کا اثر و رسوخ اقتدار میں مٹرگشت کرنے والوں تک جاپہنچا۔ وہ حاکموں کی نجی محفلوں میں بیٹھنے لگا۔ اس سے مشورے کئے جاتے اور اسے ہدایتیں دی جاتیں۔
یہ جھوٹ سن کر آپ چونک اٹھے ہوں گے۔ اس میں آپ کا قصور نہیں ہے۔ آپ کے کان لگاتار سچ سننے کے عادی ہوچکے ہیں۔ ایک ذرہ سا جھوٹ سن کر آپ تعجب میں پڑجاتے ہیں اور آپ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح کے قصے ہماری تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ آپ نے قاسو ادھارا کا نام سنا ہے؟ کیماڑی کے قریب بابا بھٹ میں رہتا تھا۔ مچھیرا تھا۔ لانچ لے کر سمندر میں دور تک چلا جاتا۔ دو چار دن کے بعد لانچ مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں سے بھر کر واپس آتا۔ یہ اس کا روزگار، اس کا کاروبار تھا۔ کرکٹ اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کا دیوانہ تھا۔ کیا مجال کہ حنیف محمد کراچی کے کسی میچ میں کھیل رہا ہو اور قاسو ادھارا وہاں میچ دیکھنے نہ جائے۔ یہ ہو نہیں سکتا تھا۔ صدر میں واقع جہانگیر پارک کو کرکٹروں کی نرسری کہا جاتا تھا۔ سات ٹیمیں وہاں پریکٹس کرتی تھیں۔ ہفتے اور اتوار کو میچ کھیلے جاتے تھے۔ جہانگیر پارک کے قریب گلزار ہوٹل ہوتا تھا۔ اب بھی ہے۔ نئے مالکان نے اس کا نام خیبر ہوٹل رکھا ہے۔ قاسو ادھارا گلزار ہوٹل سے فالودہ کھاکر جہانگیر پارک آتا اور کرکٹروں کو کھیلتے ہوئے گھنٹوں دیکھتا رہتا۔ اب جہانگیر پارک چرسیوں اور ہیروئنیوں کی آماج گاہ ہے۔
کبھی کبھار یوں بھی ہوتا تھا کہ پریکٹس کے بعد ہم کرکٹر ریگل چوک کے قریب فریڈرکس کیفے ٹیریا میں چائے پینے اور پیٹس کھانے جاتے اور قاسو ادھارا وہاں آجاتا۔ ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتا اور باتوں میں لگ جاتا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قاسو ادھارا سین سے غائب ہوگیا۔ پتہ چلا کہ وہ مالدار ہوجانے کے بعد بہت بڑا آدمی بن گیا تھا۔ پہلے کسی کی شراکت میں اس نے سونے کی اسمگلنگ شروع کی اور بعد میں اس نے اپنے طور پر اسمگلنگ کا دھندا اختیار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کا معمولی سا مچھیرا پاکستان میں سونے کا سب سے بڑا اسمگلر ہو کر ابھرا۔ اس کا شمار ایشیا کے دس بڑے اسمگلروں میں ہونے لگا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے اس وقت کی پاکستان کی فرسٹ لیڈی ناہید اسکندر مرزا، پریذیڈنٹ جنرل اسکندر مرزا کی بیگم کو بے شمار ہیروں، جواہروں کا ہار تحفہ میں دیا تھا۔ اس نے اقتدار کے ایوانوں کو اپنی بیٹھک میں بدل کر رکھ دیا تھا۔عجب شخص تھا قاسو ادھارا۔ ارب پتی بن جانے کے بعد بھی اس نے جوتا کبھی نہیں پہنا۔ اس نے ننگے پاؤں دنیا دیکھ ڈالی تھی۔ ہر سال بے شمار لوگوں کو حج اور عمرہ کیلئے بھیجتا۔
سینکڑوں کی تعداد میں بچوں اور نوجوانوں کے تعلیمی اخراجات اٹھاتا۔ غریب مچھیروں کو لانچ خرید کر دیتا۔ یتیموں اور بیواؤں کے گھر کا چولہا کبھی ٹھنڈا ہونے نہیں دیتا۔
میرے کہنے کا مطلب ہے کہ عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت اپنی طرز کا پہلا شخص نہیں تھا جس نے ایوان اقتدار کی دہلیز پھلانگی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نورو نام کے ایک شخص نے کمال کاریگری سے ملک گیر شہرت حاصل کرلی تھی۔ نورا کشتی کا محاورہ اسی کے نام سے منسوب ہے۔حاکموں سے رشتہ جوڑنے کے باوجود رحمان بلوچ نے مجھ جیسے پھٹیچر دوستوں کو بھلایا نہیں تھا۔ جب بھی اسے سیاستدانوں اور افسروں سے فرصت ملتی وہ مجھے اپنے پاس بلالیتا۔ ہم اپنے پسندیدہ ریستوران میں آکر بیٹھتے اور دیر تک باتیں کرتے تھے۔
ایک روز میں نے رحمان سے پوچھا تھا۔ ”سنا ہے تجھے سینیٹر بنارہے ہیں؟“
”چھوڑ واجا۔“ رحمان نے بیزاری سے کہا تھا۔ ”اور کوئی بات کر۔“…مجھے تجسس تھا۔ میں نے پوچھا۔ ”پھر کیا تجھے ایم این اے یا ایم پی اے بنائیں گے؟“
بات ٹالنے کا ماہر تھا۔ اس نے مجھے ایک گھسا پٹا لطیفہ سنایا اور لطیفہ سنانے کے بعد وہ دیر تک زور زور سے ہنستا رہا۔ پھر میری طرف دیکھ کر وہ خاموش ہوگیا۔
”تیری ماں تو بہت پہلے مرگئی تھی۔“ رحمان نے پوچھا۔ ”تونے ہنسنا کیوں چھوڑ دیا ہے؟“
”بہت ہی گھٹیا لطیفہ تھا۔“ میں نے کہا۔ ”تیرے لطیفہ پر مجھے رونا آرہا ہے۔“…”یہ ہوئی نا گول کیپر والی بات!“ اس نے میز کے ماربل ناپ پر مکا مارا اور بہت دیر تک ہنستا رہا۔ بہت پہلے لیاری لاینس کی فٹبال ٹیم میں رحمان سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر کھیلتا تھا اور میں گول کیپنگ کرتا تھا۔
میں نے کہا۔ ”جانتا ہے، تیرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟“…اس نے چونک کر پوچھا۔ ”کیا کہتے ہیں؟“…”پہلے یہ بتا۔“ میں نے پوچھا۔ ”18 اکتوبر 2007ء کارساز کے قریب بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اس وقت تو کہاں تھا؟“
رحمان نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا۔ ”میں وہیں تھا۔“…میں نے کہا۔ ”لوگ کہتے ہیں کہ حملہ کے بعد جس گاڑی میں بٹھاکر بینظیر کو دس منٹ کے اندر بلاول ہاؤس کلفٹن پہنچایا گیا تھا، وہ گاڑی تیری تھی اور تو چلا رہا تھا؟“…رحمان نے ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھا تھا اور پوچھا تھا۔ ”لوگ اور کیا کہتے ہیں؟“
میں نے کہا۔ ”لوگ کہتے ہیں کہ تیز رفتاری کے باعث حملہ میں زخمی کئی لوگوں کو تونے کچل ڈالا تھا؟“
تب رحمان بلوچ نے میری کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔ وہ ایسا ہی تھا۔ دل کی بات زبان تک آنے نہیں دیتا تھا۔ اس کا سینہ سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام کے رازوں کا دفینہ تھا۔زر والوں اور ان کے رازدانوں کے اندر کی باتیں جاننے والے شہنشاہ نامی شخص کو جس روز بلاول ہاؤس کے قریب گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا، اس روز میری بڈھی گرل فرینڈ نے کہا تھا۔ ”اب تمہارے ڈکیت دوست کی باری ہے۔“
میری بڈھی گرل فرینڈ نجومن نہیں ہے۔ مگر باتیں نجومیوں والی کرتی ہے۔ رحمان بلوچ، میرا دوست مرگیا۔ وڈیروں اور سرداروں کی صدیوں پرانی ترکیب کے مطابق کھانے کی دعوت پر بلاکر رحمان کو قتل کردیا گیا۔
تب میں نے اپنی بڈھی گرل فرینڈ سے پوچھا تھا۔ ”میری مرجھائی ہوئی نجومن بتا، اب کس کی باری ہے؟“
بڈھی گرل فرینڈ نے جواب نہیں دیا تھا۔ ٹکٹکی باندھے بہت دیر تک وہ میری طرف دیکھتی رہی تھی۔




 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback