Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share حقیقی امریکی اعانت کی ایک تجویز....سفارت نامہ…ریاض احمد سید
کیری لوگر بل کے حوالے سے پاکستان بھر میں ہاہاکار مچی رہی۔ گھر گھر، گلی گلی لور لور ہوتی رہی، ہر کوئی اپنی ہانکتا رہا اور دانش بگھارتا رہا۔ زیادہ تر عامیانہ اور بے رحمانہ تنقید کا عنصر غالب رہا۔ ”کیری لوگر پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہے۔ شرمناک شرائط عائد کر کے پاکستانیوں کی توہین کی گئی ہے۔ ملکی سلامتی اور خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ زیادہ تر تنقید سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے۔ ایک سروے کے مطابق کروڑوں ناقدین میں سے اصل مسودہ پڑھنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں۔ راقم نے بیسیوں ارکان پارلیمنٹ، ماہرین تعلیم، سول اور خاکی بیوروکریٹس سے پوچھا تو اکثر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے اصل ٹیکسٹ نہیں دیکھا۔ ایک پروفیسر صاحب کا تو کہنا تھا کہ ”جب مختلف ذرائع سے ثقہ قسم کی آراء مل رہی ہیں تو ان پر یقین کرنے میں کیا حرج ہے؟ تکنیکی قسم کی طویل قانونی دستاویز کا بہ نفس نفیس مطالعہ تو پہیے کو نئے سرے سے ایجاد کرنے والی بات ہوئی۔“
یہ کالم بل کی مختلف شرائط اور ان کے حسن و قبح کی تفصیلات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت اس موضوع پر ہفتوں سے جاری بحث کو روٹین میں لیتی رہی اور دہائی دیتی رہی کہ یہ سب جمہوریت دشمن سازشی عناصر کا پھیلایا ہوا فساد ہے۔ تلاطم اس وقت پیدا ہوا جب فوج کی پیشانی پر بل آیا، پھر پارلیمنٹ بھی بیٹھی اور وزیر خارجہ بھاگم بھاگ واشنگٹن سے وضاحتی بیان بھی لے آئے جس کی قانونی حیثیت بہ ذات خود سوالیہ نشان ہے۔کیری لوگر ایکٹ کے مصنفین کے مطابق یہ دستاویز پاکستان کے ساتھ طویل المیعاد پارٹنرشپ کی امریکی خواہش کی مظہر ہے اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے رول کی اکنالجمنٹ کے علاوہ پاکستان کی دگرگوں معیشت کو سہارا دینے کی ایک کوشش بھی ہے۔ کیا خوب؟ ”جو چاہے آپ کا حسن کرشمہٴ ساز کرے۔“ امریکا کی اپنی تخلیق کردہ عالمی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں شہادتوں کا ذکر ہی کیا؟ کیونکہ انسانی جان کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی مگر صرف مالی نقصانات کا تخمینہ چالیس ارب ڈالر سے زائد ہے اور معاوضہ کیا دیا جا رہا ہے محض ڈیڑھ بلین ڈالر سالانہ جس کا نصف بالائی تکنیکی اخراجات کے طور پر واپس امریکا کی جھولی میں جا گرے گا۔
یوں تو موٴثر سفارتکاری کے مدعی بہت ہیں۔ بہ زعم خود میدان کے بعض سپر اسٹار امریکی پالیسی سازوں پر اثر انداز ہونے کے دعویدار بھی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار اور اس کی قربانیوں سے عالمی برادری کو صحیح طور پر روشناس نہیں کرا پائے۔ نتیجتاً سب کچھ کر گزرنے کے باوجود گردن زدنی ہیں اور ہر جانب سے طعن و تشنیع کا نشانہ بھی۔ کوئی پاکستان کو ”بین الاقوامی سر دردی“ قرار دے رہا ہے تو کوئی ناگوار شرائط میں بندھی ڈیڑھ بلین ڈالر کی ”عنایت خسروانہ“ کے زعم میں یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ ”پاکستان نخرے نہ کرے، یہ رقم کوئی فالتو نہیں، لینے والے اور بہت ہیں۔“ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ پاکستانی مائیں، کڑیل بیٹوں کا نذرانہ اس لئے دے رہی ہیں کہ نوع انسانی کو امن و آشتی نصیب ہو۔ یوں ان کی شہادتیں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کیلئے ہیں، اس کے باوجود لفظی ستائش میں بھی کنجوسی سے کام لیا جا رہا ہے۔ پنجابی محاورے کے مصداق ہم سوئے ہوئے بچے کا منہ چوم رہے ہیں جس کا احساس بچے کو ہے اور نہ اس کے والدین کو۔ یوں سعی لاحاصل کیے جا رہے ہیں۔
ایسے میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کا فیصلہ بھلے کچھ ہو، قوم مونگ پھلی کے چند دانوں پر بکنے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس نے گھانس کھا کر ایٹم بم بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور پھر بنا کر ہی نہیں چلا کر بھی دکھا دیا اور اب بھی خارجی بھیک کے بغیر گزارہ کر سکتی ہے البتہ ولیٴ نعمت امریکا سے ایک گزارش ضرور ہے کہ اگر وہ واقعی پاکستان کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہے تو ماضی اور حال کے حکمرانوں کی نا اہلی کی وجہ سے سسٹم میں جو ضعف آ گیا ہے اسے دور کرنے میں پاکستانی قوم کی مدد کر دے۔ ہم کوئی چاند کی خواہش نہیں کر رہے۔ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ فی الحال امریکا اپنے ہاں کے ٹیکس نظام کو پاکستان میں بھی نافذ کر دے تاکہ آئندہ اربوں، کھربوں میں کھیلنے والا کوئی شریف یہ دعویٰ نہ کر سکے گا کہ اس پر انکم ٹیکس واجب ہی نہیں اور اس کے بینک اکاؤنٹ میں پانچ ہزار کا صرف ایک نوٹ پڑا ہے۔ اربوں کا مالک کوئی زردار قوم کو یہ کہہ کر بیوقوف بنانے کی ہمت نہ کرے گا کہ اس کی ماہانہ آمدن میں چار بوری آٹا بھی نہیں آتا تو وہ ٹیکس کہاں سے دے؟ اشرافیہ اپنی سونے کے پہاڑ کے برابر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی مالیت محض چند لاکھ روپے قرار نہ دے سکیں گے۔ شاطر بزنس مین بلین ڈالرز کے ملکی اور غیر ملکی کاروبار سود گباشی عزیزوں کے قرضوں سے چلنے کا بہانہ نہ کر سکیں گے۔ اسکے ساتھ ہی امریکا بہادر ایک مہربانی اور کر دے۔ غیرملکی بینکوں، بزنس اور آف شور جائیدادوں کا سراغ لگا کر انہیں پاکستانیوں کو لوٹا دے کیونکہ یہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے اور وہی اس کی اصل مالک ہے۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اسپین اور خود امریکا میں پھیلے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے میں ہماری مدد کر دے کیونکہ لٹیرے طاقتور بھی ہیں اور شاطر بھی، متحد بھی ہیں اور منظم بھی۔
پاکستانی قوم کیلئے جن سے نمٹنا محال ہے۔یہ ہم آپ سے اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اپنے ہاں ان جرائم کا قلع قمع کر چکے ہیں۔ جہاں اب کوئی ایسی بدعملیوں کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر کوئی نصیبوں مارا ایسی حرکت کر بیٹھے تو گداگری کے علاوہ اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ فی الحال صرف اتنا کر دیں آئی ایم ایف سے کہہ کر کروا دیں یا ورلڈ بینک والوں سے ۔ ہم اس سمت میں پہلے ہی عملی اقدامات کر چکے اور اپنی ٹیکس مشینری ان کے کنٹرول میں دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ اب کوئی کسر نہیں رہنی چاہئے۔ اگر یہ ہو گیا تو یقین مانیے ہمیں بھیک کی ضرورت ہی نہیں رہے گی بلکہ ہم بہ ذات خود بہتوں کی مدد کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔ حقیقی امریکی اعانت کے حوالے سے ایجنڈے کا دوسرا حصہ بھی ہے جو صنعت، تجارت اور معدنی ذخائر سے متعلق ہے۔ اس بارے میں زحمت بعد میں دیں گے، ایک وقت میں ایک کام۔
 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback