Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
نواز شریف اور صدر زرداری کی حالیہ ملاقات نے عوام کو حیران اور ششدر کردیا ہے۔ زرداری صاحب نے میثاق جمہوریت کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا تھا کہ یہ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔ پھر وہ تواتر سے نواز شریف سے وعدہ شکنی کرتے رہے۔ چیف جسٹس کا معاملہ اس وقت تک التوا کا شکار رہا جب تک 15 مارچ کو لانگ مارچ نے اقتدار کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا نہیں کیا۔ دونوں کی ملاقات کبھی لندن، کبھی مری، کبھی رائے ونڈ میں ہوتی ہے لیکن نتیجہ صفر ہی ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں کیری لوگر بل پر بڑی حجت اور بحث ہوتی رہی لیکن ایسا لگتا تھا کہ نواز شریف کو اس قومی مسئلے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ آخرکار وہ اچانک جاگے اور نیم دلانہ طریقے سے یہ اعلان کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کیری لوگر بل کی مخالفت کرتی ہے۔ لیکن نواز شریف کی گھن گرج کہیں سنائی نہیں دی۔ نواز شریف کا مسئلہ ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی، معاشی اور معاشرتی صورتحال ان کا مسئلہ سترویں ترمیم ہے جو کالعدم قرار ہونے کی صورت میں انہیں تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کا اہل قرار دے دے گی۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ بینظیر نے بھی تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھا تھا اور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے انہوں نے ایک ڈکٹیٹر سے بدنام زمانہ خفیہ معاہدہ کیا۔ جو NRO کہلاتا ہے۔ آصف زرداری نے نواز شریف سے بارہا وعدہ خلافی کی ہے لیکن نواز شریف پھر بھی ایوان صدر جاپہنچے۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ان کے معتمد خاص شہباز شریف اور نثار علی خان زرداری سے ملنے نہیں گئے۔ بقول خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی بہت بڑی تعداد اس ملاقات کے حق میں نہیں تھی لیکن شاید نواز شریف کو سرنگ کی دوسری جانب امید کی کرن نظر آرہی ہے۔ کہ صدر زرداری اپنے اختیارات میں کمی کرکے پارلیمنٹ کو مکمل طور پر بااختیار بنادیں گے پھر طاقت کا مرکز و محور وزیراعظم کی ذات میں مرتکز ہوجائے گا لیکن پھر تو صدر صاحب کی حیثیت ایک علامتی ہوجائیگی۔
سترویں آئینی ترمیم کے ختم ہوتے ہی یہ سارے درباری فصلی بٹیرے کی طرح اڑ جائیں گے۔ صدر زرداری صاحب کا طرز حکمرانی شروع سے ابہام اور بے یقینی کا شکار رہا ہے۔ صدر پاکستان کا عہدہ بہت پروقار ہوتا ہے لیکن انہوں نے لوگوں کے اعتماد کو اس وقت شدید ٹھیس پہنچائی جب انہوں نے بہت لاپروائی سے کہا کہ ”یہ آٹے، چینی اور بجلی کا بحران ان کا مسئلہ نہیں۔“ پھر انہوں نے کہا کہ ”پاکستان کو بھارت سے کوئی خطرہ نہیں۔“ ایسے اعلانات فہم اور فراست کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہمارے لیڈر عوام کے ووٹ کی بدولت اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں لیڈروں کی سیکیورٹی کیلئے کروڑوں نہیں اربوں روپے ضائع کئے جاتے ہیں۔ ہر پاکستانی ان کی آمد و رفت کے مناظر دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن حکمران عوام کے مسائل حل کرنے سے گریزاں ہیں۔ یہ سیاستدان موت سے اتنے خائف ہیں کہ آج تک ان میں سے نہ کوئی سیاچن گیا نہ ہی سوات یا جنوبی وزیرستان۔ اگر عوام کا دکھ درد مقدم ہوتا تو آٹا جو انسان کا جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کی اثاثی غذا ہے اسے مہنگا اور ناپید نہیں کیا جاتا۔ چند سال پہلے تک اتنی مہنگائی کبھی نہیں تھی۔ چینی کی قیمت برسوں میں 8 آنے یا ایک روپے بڑھتی تھی لیکن مشرف کے دور میں چینی 22 روپے سے اچانک 44 روپے کردی گئی لیکن غریب عوام اس ناجائز منافع خوری سے (Crush) پس گئے اب بھی چینی کی مصنوعی قلت لوگوں کیلئے عذاب جان بنی ہوئی۔ بجلی کا بحران روز بروز شدت اختیار کررہا ہے لیکن حکمران طبقہ اپنے محلات میں کبھی لوڈ شیڈنگ کی علامتی پریکٹس بھی نہیں کرتا تاکہ انہیں ذرا پتہ چلے کہ گرمی، حبس اور پسینہ کیا ہوتا ہے۔ انہیں چاہئے کہ یہ کبھی کچی آبادی کا بھی دورہ کریں تاکہ انہیں غربت، افلاس، بھوک، ناداری، بیچارگی اور سسکتی ہوئی انسانیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ ”مغربی جمہوریت ایسا طرز حکومت ہے جس میں افراد کو گنا کرتے ہیں تولہ نہیں۔“ اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اپوزیشن کا کیا کام ہوتا ہے اپوزیشن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ حکومت وقت کی ناقص پالیسیوں اور طرز حکمرانی سے روگردانی کی نشاندہی کرے۔ اس پر پارلیمنٹ میں گرما گرم بحث و تمحیص کرے اور حکومت وقت کو مجبور کرے کے وہ اپنا طرز عمل درست کرے۔ اپوزیشن حکومت کو بتاتی ہے کہ Trim Your Sail لیکن افسوس موجودہ اپوزیشن Friendly Opposition ہے وہ کوشش کررہی ہے کہ زرداری صاحب کو ناراض نہ کیا جائے کہ کہیں وہ اپنے موقف میں سخت گیری کا رویہ اپنا لیں تو سترویں ترمیم کا معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو نواز شریف صاحب کا تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ موجودہ حکومت کی اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے گررہا ہے۔ لوگ کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی ہے پھر Minus One کی افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں لیکن یہ فارمولا بھی لوگوں کے زخموں کو مندمل نہیں کرسکے گا۔ لوگ پاکستان کو ایک فلاحی مملکت دیکھنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مجموعی قیادت کمزور اور معروضی حقائق سے بے خبر ہے۔ دونوں کے درمیان اعتماد کی کمی ہے۔ جودعوتیں کھانے سے دور نہیں ہوسکتی۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بغلگیر ضرور ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے بدگمانیاں بھری ہیں۔




 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback