Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  ادارتی صفحہ 
 
وہ آمریت کی باقیات کے سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنا تھا بلکہ اس نے آمریت سے ٹکر لی تھی۔ اس کی عمر ابھی سات سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کے ملک پر ایک مہم جو طالع آزما فلگنیکو بتستا نے آمریت کی طویل سیاہ رات مسلط کر دی، بتستا نے کیوبا میں متعین امریکی سفیر سومیرولیس کے ساتھ سازباز کر کے ملک کا اقتدار سنبھال لیا۔ وہ ابھی کرنل کے رینک پر ہی تھا کہ طاقتور عالمی مقتدرہ اس پر مہربان ہو گئی۔ بتستا نے اپنے تمام سینئر افسروں کو فارغ کیا۔ کسی کو جبری ریٹائر کیا گیا، کسی سے استعفیٰ لیا گیا اور کسی کو قتل کر کے اگلے جہاں بھیج دیا گیا۔ اب کرنل بتستا چیف آف آرمی اسٹاف بن بیٹھا۔ فوج کی قیادت سنبھالنے کے بعد بتستا نے ملک کی صدارت کے منصب کو مجلس صدارت میں بدل دیا اور ایک کی بجائے ملک پر پانچ کٹھ پتلی صدر مسلط کر دیئے۔ چند روز بعد اس نے یونیورسٹی آف ہوانا کے طلبا اور اساتذہ کے نمائندے رامون گراؤ مارٹن کو ملک کا صدر بنا دیا۔ پھر وہ یکے بعد دیگرے ایوان صدر کے مکینوں کو بدلنے لگا۔ ایک صدر جاتا تھا اور دوسرا آتا تھا۔ وہ سات سال تک یہی تماشہ کرتا رہا، پھر وہ خود ہی ایوان صدر میں منتقل ہو گیا۔
فیڈل کاسترو کی عمر ابھی 14 سال تھی کہ اس کے ملک پر بتستا کی آمرانہ صدارت کا پہلا دور شروع ہوا۔ اس نے تیسری دنیا کے دیگر آمروں کی طرح ریفرنڈم جیسے جھرلو الیکشن کرائے اور اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا۔ وہ چار سال ملک پر مسلط رہا۔ اگلے چار سال کیلئے اس نے خود سامنے آنے کی بجائے اپنا ایک کٹھ پتلی امیدوار کھڑا کیا، جو بری طرح ہار گیا۔ اب بتستا اپنا بوریا بستر لپیٹ کر امریکہ منتقل ہو گیا۔ وہ اپنا وقت نیو یارک کے والڈروف استرویا اور کیلفیورنیا کے دیتونا ساحل پر گزارنے لگا۔ وہ چار سال ملک سے باہر رہا۔ 1948ء میں وہ ملک میں غیر موجودگی کے دوران سینیٹر منتخب کر لیا گیا اور طالع آزمائی کے لئے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ وطن واپسی پر اس نے صدارتی الیکشن میں کودنے کا فیصلہ کیا۔ صدر گراؤ نے اسے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ 1952ء کے صدارتی الیکشن کی مہم میں وہ بہت پیچھے تھا۔ اس کے مد مقابل دیگر دو صدارتی امیدوار مقبولیت میں اس سے کہیں آگے تھے۔ اب اس نے پھر سازباز شروع کی۔اور الیکشن سے دو ماہ پہلے بتستا کے اشارے پر فوج میں بغاوت ہو گئی۔ فوج کے سارجنٹوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار بتستا کی جھولی میں ڈال دیا۔ادھر فیڈل کاسترو قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد عملی سیاست میں آ چکا تھا۔ بتستا نے اقتدار پر دوسری بار غاصبانہ قبضہ کیا تو کاسترو 26 سالہ نوجوان تھا۔ اس نے قانون کی پریکٹس چھوڑی اور آمریت سے ٹکر لینے کی ٹھان لی۔ اس مقصد کیلئے اپنی زیر زمین تنظیم تشکیل دی اور بتستا کو للکارنے کی تیاریاں کرنے لگا۔ ان دنوں بتستا کی طاقت کا مرکز سنیتاگو تھا۔ یہاں پر فوجی گریٹرن تھا۔ کاسترو اور اس کے ساتھیوں نے بتستا کی غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی آمرانہ حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک میں انقلاب برپا کرنے کیلئے مونکاڈا کی فوجی بیرکوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کاسترو کے ساتھیوں کی تعداد 135 تھی۔ وہ انقلابیوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھا اور 26 جولائی 1953ء کو مونکاڈا کی بیرکوں پر حملہ آور ہوا۔ انقلاب کی یہ مہم ناکام ہوئی اور اس مہم میں کاسترو کے 60 سے زائد ساتھی مارے گئے اور کاسترو کو گرفتار کر لیاگیا۔ کاسترو اس کارروائی میں بری طرح زخمی ہوا اور پھر اس پر زخمی حالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ یہ دنیا کی انوکھی عدالت تھی جس نے کاسترو پر اسپتال میں مقدمہ چلایا۔ وہ اپنا مقدمہ خود ہی لڑ رہا تھا۔ وہ قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکا تھا۔ قانونی موشگافیوں سے خوب واقف تھا۔ فیڈل کاسترو نے اس عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ عدالت سے اس کا معرکة الآرا خطاب آج بھی سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔
” ہم کیوبا کے شہری ہیں اور کیوبا کے تمام شہریوں پر ایک فرض عائد ہوتا ہے۔ اس فرض کا ادا نہ کرنا جرم ہے، غداری ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی تاریخ پر فخر ہے۔ ہم اپنے اسکول کے ایام سے آزادی، انصاف اور انسانی حقوق کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں ہمارے ہر ہیرو کی آواز گونج رہی ہے۔ ہمارے ہیرو تیتان نے ایک بار کہا تھا کہ آزادی بھیک میں نہیں ملتی۔ آزادی خنجر کی تیز دھار سے ملتی ہے۔ ہمیں یہ پڑھایا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی بھی دوسرے شخص کو اپنے ملک کی توہین کی اجازت دیتا ہے تو یہ سمجھا جائے کہ وہ ایک باوقار انسان کے طور پر پیدا ہی نہیں ہوا۔ میں وکیل بھی ہوں اور مدعا علیہ بھی ہوں۔ جب میرے ساتھی جیلوں میں ہیں تو میں رہائی کیسے مانگ سکتا ہوں۔ جس ملک میں آمر کا راج ہو، اس ملک میں ایک ایماندار آدمی کو جیل میں ہونا چاہیے یا پھر مر جانا چاہیے۔جج صاحب ! مجھے سزا دیجئے، میری مذمت کیجئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاریخ مجھے بے گناہ قرار دے گی۔“اس تاریخی بیان کے 6 سال بعد کیوبا میں انقلاب آیا اور کاسترو آج بھی بابائے انقلاب کے طور پر کیوبا میں موجود ہے۔

 
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback