سندھ کے مختلف دیہی علاقوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں بعض وجوہ سے ربیع کی آئندہ فصلوں کی بروقت کاشت ممکن نہیں ہو سکے گی۔اس کی ایک وجہ شکرسازی کی ملوں کو چلانے میں تاخیر بھی ہے جس کی وجہ سے گنے کی فصل کی کٹائی نہیں ہو رہی۔ گنے کی فصل کی کٹائی کے بعد اکثر کاشتکار خالی ہونے والی زمینوں کو گندم، سورج مکھی اور دیگر اجناس کی کاشت کے لئے استعمال کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جو ان کی آمدنی میں بھی اضافے کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان اجناس کی پیداوار ملک کی آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس نوع کی کئی خرابیاں ملکی معیشت کوپسماندہ رکھنے کا سبب بن رہی ہیں۔ان خرابیوں کے باقی رہنے سے فصلوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کاشت کو اب تک ممکن نہیں بنایا جا سکا جس کے نتیجے میں ہمارا زرعی شعبہ مسلسل پسماندگی کا شکار چلا آرہا ہے اور ہم زرخیز زمینیں اور دیگر وسائل رکھنے کے باوجود ملکی آبادی کی ضرورت کی زرعی پیداوار بڑھانے میں کامیاب نہ ہو سکنے کے باعث ان اجناس کی درآمد پر کثیرزرمبادلہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت زرعی شعبے میں خاص طور پر منصوبہ بندی کی کمزوریوں پر قابو پانے پر توجہ دے تا کہ ہماری زراعت کی تیزی کے ساتھ ترقی ممکن ہو سکے۔