Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share بازار سیاست میں,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی
مسلم لیگ (ن) کے بعض لیڈروں کو وسط مدتی انتخابات کا تصور مسحور کئے رکھتا ہے۔ وہ گزشتہ انتخابی نتائج پر ضرورت سے زیادہ پراعتماد نظر آتے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ وقت سے پہلے انتخابات ہو گئے ‘ تو نوازشریف کی مقبولیت کی لہر پہلے سے بھی اونچی ہو گی اور وہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستیں تنکوں کی طرح‘ اس لہر کی لپیٹ میں لے لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز لیگ موجودہ جمہوری انتظام پر بار بار ضربیں لگا رہی ہے اور صدر زرداری کو اقتدار کے ڈھانچے میں درپیش مشکلات میں گھرے دیکھ کر موقع بہ موقع‘ اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر میں غلط نہیں سمجھتا تو یہ جمہوری انتظام کسی ایک کی طاقت یا فتح و شکست کی وجہ سے نہیں ہوا‘ یہ انتہائی موثر اور زبردست طاقتوں کا تشکیل دیا ہوا انتظام ہے۔ دہشت گردی نے پاکستان کو ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ امریکہ ‘ بھارت‘ چین‘ روس‘ برطانیہ‘ سپین‘ اٹلی‘ جرمنی‘ فرانس ‘ ایران غرض دنیا کے انتہائی طاقتور اور بااثر ملکوں میں سے بیشتر‘ اس دہشت گردی کے متاثرین میں سے ہیں‘ جس کے مراکز پاکستان میں ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ پرویزمشرف کی حکومت کسی سیاستدان یا پاکستان کے کسی پاور پلیئر نے ختم نہیں کی۔ وہ حکومت پرویزمشرف کے طرزعمل کی وجہ سے دہشت گردی کے تمام عالمی متاثرین کے لئے ناقابل برداشت ہو گئی تھی۔ جس طرح افغانستان میں سوویت یونین کی پسپائی کا سہرا ‘مختلف گروہ اور مقامی طاقتیں‘ اپنے سر باندھتی رہتی ہیں‘ اسی طرح پرویزمشرف کے زوال کا کریڈٹ لینے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ اندر سے سب جانتے ہیں کہ درحقیقت کیا ہوا؟ دیومالائی کہانیوں سے آراستہ ”انکار“ سے لے کر‘ انتخابی نتائج تک‘ سب کچھ تیار کردہ ڈیزائن کے مطابق ہوا اور اس ڈیزائن میں جس کا جو کردار متعین ہے‘ وہی برقرار رہے گا تو موجودہ انتظام چل سکتا ہے اور اگر کسی کا خیال ہے کہ اس انتظام کو توڑ پھوڑ کے‘ وہ اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کر لے گا تو اسے اپنی غلط فہمی دور کر لینا چاہیے۔
پرویزمشرف کو رخصت کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ ان کی عدم مقبولیت ‘ عدم برداشت اور عوام میں مقبول سیاستدانوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کی ضد نے‘ انہیں بال و پر سے محروم کر دیا تھا۔ ان کے ساتھ عوامی نفرت کا عالم یہ ہو گیا تھا کہ وہ جو پالیسی بھی اختیار کرتے‘ عوام اسے مسترد کر دیتے۔اس صورتحال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ پاکستان کے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی تھی۔ پرویزمشرف متذبذب حکمران تھے۔ وہ کوئی فیصلہ بھی پوری قوت سے کر کے تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ عملدرآمد نہیں کر پا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک بہادر اور لبرل کے طور پر متعارف کرایا تھا اور مصطفیٰ کمال پاشا کو اپنا آئیڈیل کہہ کے یہ امید پیدا کی تھی کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کی گرفت میں آتے ہوئے پاکستان کو‘ وہ ایک مہذب اورپرامن ملک بنا سکتے ہیں۔ مگر جیسے ہی انتہاپسندوں اور مذہبی سیاستدانوں نے ان پر دباؤ ڈالا تو وہ پیچھے ہٹتے چلے گئے اور جنرل اقتدار میں ہو یا میدان جنگ میں۔ جب اس کا ایک قدم پیچھے ہٹتا ہے تو پھر کوئی اسے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتا۔ پرویزمشرف ایک قدم آگے بڑھاتے ‘ تو انتہاپسند قوتیں‘ انہیں دس قدم پیچھے ہٹا دیتیں۔ اسی تذبذب اور کشمکش سے ان کے بیرونی سرپرست بیزار ہوئے ۔ پاکستان میں جمہوری نظام لانے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ فیصلہ درست نکلا۔
آپ کو یاد ہو گا کہ پاک فوج کی قیادت‘ دہشت گردی کے خلاف میدان جنگ میں اترنے سے گریزاں تھی۔ پرویزمشرف کے زمانے میں فوج کے امیج کو بہت نقصان پہنچا اور خیال کیا جارہا تھا کہ اگر فوج کو دہشت گردوں کے خلاف میدان میں اتارا گیا تو اسے عوام کی طرف سے مطلوبہ حمایت نہیں مل سکے گی۔ یہی وجہ تھی کہ اگلا قدم اٹھانے سے پہلے‘ فوج نے باربار سیاسی قیادت سے مطالبہ گیا کہ وہ اس جنگ کی اونرشپ قبول کرے۔ یعنی خدانخواستہ اگر برسرپیکار فوج کے خلاف ناموافق ردعمل سامنے آ گیا ‘ تو اس کا سامنا سیاستدانوں کو کرنا پڑے گا۔ سیاسی قیادت نے یہ چیلنج قبول کیا۔ عین اس وقت جب منتخب حکومت‘ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کے لئے تیار تھی‘ دہشت گردوں نے ممبئی میں دہشت گردی کی واردات کر کے نئی نئی منتخب حکومت کو ساری دنیا کے سامنے ایک ملزم بنا کر رکھ دیا۔ صدر آصف زرداری ‘ وزیراعظم گیلانی اور ہمہ وقت سرگرم رہنے والے وزیرداخلہ رحمن ملک نے ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں اٹھنے والے عالمی طوفان سے جرات مندانہ انداز میں ٹکر لی اور بھارت کی سفارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کو اس دباؤ سے نکالا جو عالمی حمایت سے بدمست بھارت‘ پاکستان پر بڑھاتا چلا جا رہا تھا اور جب سوات کا آپریشن شروع ہوا‘ تو سب اسے امید اور تشویش کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ میڈیا ‘ مذہبی جماعتیں اور دہشت گردی سے خوفزدہ سیاستدان‘ ابتداء میں دہشت گردوں کے لئے ہمدردیاں پیدا کرنے لگے تھے۔ صرف حکومت ‘ اس کے بعض اتحادی جن میں ایم کیو ایم اور اے این پی شامل ہیں‘ اس آپریشن کی حمایت میں سامنے آئے۔ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ٹیلی ویژن اور اخبارات پاک فوج کے شہداء کو ”ہلاک اور جاں بحق“ لکھا کرتے تھے۔ مجھے باربار احتجاج کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرنا پڑا کہ خدا کے لئے وطن اور انسانیت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو‘ شہید لکھا کریں‘ کیونکہ وہ ہر اعتبار سے اس درجے کے مستحق ہیں۔ ایسے لوگوں کو سوات آپریشن کی ضرورت کا احساس اور اس کی افادیت سمجھنے میں کافی دیر لگی۔ صدر آصف زرداری نے اس انتہائی نازک صورتحال میں استقامت کے ساتھ اس جنگ کی اونرشپ کو قبول کرتے ہوئے‘ فوج کے حق میں مہم جاری رکھی اور ہماری فوج نے بہترین پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے‘ اس قدر تیزرفتاری سے کامیابی حاصل کی کہ کڑی نظروں سے جائزہ لینے والے دنگ رہ گئے۔ امریکہ نے شروع میں اس آپریشن کے خلاف تھا‘ اسے بھی اس کی افادیت کو تسلیم کرنا پڑا اور جب پاک فوج نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی شروع کی تو امریکہ کی سمجھ میں آگیا کہ اگر پہلے سوات آپریشن کر کے فوج کامیاب نہ ہوتی تو جنوبی وزیرستان کا آپریشن یوں کامیابی کی طرف نہ بڑھتا جیسا کہ اب بڑھ رہا ہے۔ اس آپریشن میں فوج کو عوام اور میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ منتخب حکومت نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر اونرشپ کا حق ادا کر دیا۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکومت حالت جنگ میں (اور جنگ بھی اپنی سرزمین پر) عوامی خدمات اور ترقیاتی کام اس طرح جاری نہیں رکھ سکتی‘ جیسے حالت امن میں کیا جاتا ہے۔
بعض مفادپرست لوگ حکومت کی اس مجبوری کو سیاسی مفادات کے لئے ایکسپلائیٹ کر رہے ہیں۔ لیکن عالمی سٹیک ہولڈرز اچھی طرح جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو جو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں‘ اس کی وجوہ کیا ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ہو یا چین‘ روس ہو یا برطانیہ سب موجودہ جمہوری نظام کو درہم برہم ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ یہی بھی جانتے ہیں کہ آصف زرداری کو ہٹانے کے بعد جو بھی ان کی جگہ لے گا اور امور مملکت سنبھالے گا‘ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اونرشپ اس طرح نہیں لے گا‘ جیسے کہ آصف زرداری نے لے رکھی ہے۔ یہ بات پاک فوج کو بھی معلوم ہے۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ کون کون سا سیاستدان دہشت گردوں کے ساتھ رابطے میں ہے؟ جو لوگ پاک فوج پر گولیاں چلا رہے ہوں اور پرامن شہریوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہوں‘ان کے ساتھ ہمدردیاں رکھنے والوں کو ملک کا نظم و نسق چلانے پر نہیں لگایا جا سکتا۔ موجودہ جمہوری انتظام کو اگر چلنا ہے تو وہ موجودہ صورت کے ساتھ ہی چلے گا۔ ورنہ چلتا بنے گا۔ کوئی ملکی یا عوامی طاقت‘ ایسی سیاسی حکومت قبول نہیں کرے گی‘ جو دہشت گردوں کے معاملے میں متذبذب ہو۔ صدر زرداری کی ذاتی خامیاں اپنی جگہ لیکن اس وقت پاک فوج کو جس طرح کی جمہوری قیادت مطلوب ہے‘ وہ آصف زرداری کے سوا سیاست کے بازار میں دستیاب نہیں۔
 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback