Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share الیکٹرانک میڈیا اور ضابطہ اخلاق!,,,,روزن دیوار سے … عطاء الحق قاسمی
خدا کا شکر ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے خود احتسابی سے کام لیتے ہوئے کچھ ایسے اصول وضع کئے ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے قوم میں پھیلتی ہوئی مایوسی، افسردگی اور ذہنی ہیجان پر کسی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی، جو اصول وضع کئے گئے ہیں ان کے مطابق انسانی لاشوں اور شدید زخمی افراد کو ٹی وی سکرین پر نہیں دکھایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ لائیو کوریج کی بجائے تھوڑے سے وقفے کے بعد واقعہ کی کوریج کی جائے گی تاکہ ایڈیٹنگ کا موقع مل سکے، موجودہ صورتحال بہتر بنانے کے حوالے سے یہ بہت اچھی پیشرفت ہے۔ میں عوام کے درمیان رہتا ہوں اور یوں جانتا ہوں کہ دہشت گردی کے واقعات کی اندھا دھند اور مسلسل کوریج سے قوم ذہنی مریض ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ”بریکنگ نیوز“ کا بیک گراؤنڈ میوزک بھی دہلا دینے والا ہوتا ہے اور اس کے بعد کوریج کے دوران رپورٹر کی آواز کا زیر و بم ہی صورتحال کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بنتا ہے۔ دہشت گردوں کا اولین مقصد کسی قوم کو اس کے مستقبل سے مایوس کرنا، انہیں سراسیمہ کرنا اور ان کے اعتماد کو تزلزل کرنا ہے یہ ایک اعصابی جنگ ہوتی ہے۔ اگر اس جنگ میں قوم کے اعصاب جواب دے جائیں، تو وہ دہشت گردی کا مقابلہ پامردی سے کرنے کی بجائے ہتھیار ڈال دیتی ہے اور ارباب اختیار پہ بھی دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے جھک جائیں کیونکہ ایک عام آدمی جنگجو نہیں ہوتا چنانچہ وہ نہیں چاہتا کہ وہ خود کو ہر وقت خطرے کی حالت میں محسوس کرے… جنگ تربیت یافتہ فوج اور دوسرے ادارے کرتے ہیں جبکہ اس جنگ میں میڈیا کا کردار قدرے مختلف ہے یعنی عوام کو مایوسی، افسردگی اور سراسیمگی سے بچانا اور اس کے ساتھ ساتھ حقائق بھی پیش کرنا ہے اور یہ کام بہت احتیاط مانگتا ہے۔ میرے نزدیک اس احتیاط کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ حقائق ، بریکنگ نیوز کی بجائے روٹین کے خبرنامے میں پیش کئے جائیں اور اگر بریکنگ نیوز ناگزیر ہے تو بھی اس کو طول نہ دیا جائے بلکہ اسے اتنی ہی جگہ دی جائے جتنی ایک خبر کو دی جاتی ہے۔
میں ٹی وی چینلز کے مرتب کردہ ضابطہ اخلاق کی تفصیلات سے واقف نہیں ہوں تاہم ایک اور منظر جو بہت اعصاب شکن ہوتا ہے، وہ کسی میت والے گھر میں مرحوم یا مرحومہ کے عزیز و اقارب اور ان کے بچوں اور عورتوں کے وہ بین ہیں جو بہت تواتر سے ہمارے چینلز پر پیش کئے جاتے ہیں۔ واضح رہے ایسا کسی شہید کے حوالے سے نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے عزیز و اقارب کی تو حوصلہ بلند کرنے والی گفتگو دکھائی اور سنائی جاتی ہے۔ میں کسی عام حادثے یا ڈکیتی کی کسی واردات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے حوالے سے یہ بات کہہ رہا ہوں۔ جس معاشرے میں خوشیاں پہلے ہی ناپید ہوں وہاں اتنے دکھ بھرے مناظر دکھانے سے ہمیں کیا حاصل ہوتا ہے؟ اسی طرح کسی گھر کی پرائیویسی میں دخل اندازی اور جذباتی کیفیت کے دوران ہونے والی بہت سی بے احتیاطیاں بھی ٹی وی سکرین پر دکھائی جاتی ہیں جس سے چادر اور چار دیواری کی حفاظت کا اصول پائمال ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر آئندہ ایسے مناظر بھی ٹی وی سے نہ دکھائے جائیں۔ اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی کے دوران ایک باپردہ زخمی طالبہ ایمبولینس میں اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہمارے کیمروں نے یہ چہرہ ایکسپوز کرنے کی پوری کوشش کی۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں بعض اوقات امدادی کاروائیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ہمارے چینلز کو اس حوالے سے بھی محتاط ہونا چاہئے۔
اب اگر اصلاح احوال کا سلسلہ چل نکلا ہے جو بہت خوش آئند ہے تو اس حوالے سے کچھ ٹی وی پروگراموں پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک وقت تھا کہ لوگ بہت زیادہ دلچسپی سے سیاسی مناظرے دیکھا کرتے تھے جن میں مختلف جماعتوں کے سیاست دان ایک دوسرے سے چونچیں لڑاتے نظر آتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ عام ہونے کی وجہ سے یکسانیت کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس نوع کے پروگراموں کا FORMAT تبدیل کیا جائے اور ان کا CONTENT ہی ایسا ہو جو تفریح طبع کی بجائے مثبت پہلوؤں کی طرف ہماری رہنمائی کر سکے نیز ”خبر“ بنانے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو گھیر گھار کر ان کے منہ سے کوئی ایسی منفی بات نکالنے کی دانستہ کوشش نہ کی جائے جو قومی یکجہتی کے منافی ہو یا اس سے قومی مفاد کے کسی پہلو پر زد پڑنے کا اندیشہ ہو۔
میں آخر میں ایک بار پھر ٹی وی چینلز کے ارباب بست و کشاد کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے کسی وقتی کاروباری مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک ایسا ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جو الیکٹرانک میڈیا میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بنے گا اور یوں اس کے وقار میں مزید اضافہ ہو گا۔ تاہم مجھے خدشہ ہے کہ کسی ایک چینل نے بھی اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تو دوسرے چینل بھی پیچھے رہ جانے کے خوف سے کہیں اس کی پیروی نہ شروع کر دیں۔ یہ ایک افسوسناک بھیڑ چال ہو گی چنانچہ اس کے سدباب کے لئے ضروری ہے کہ چینلز ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے احتساب کا یہی کوئی ضابطہ پہلے سے طے کر لیں تاکہ کسی کو ”لچ تلنے“ کا موقع نہ مل سکے!
 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback