Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Friday, September 03, 2010, Ramzan 23, 1431 A.H.
 
ادارتی صفحہ
 
Share ہیلری کلنٹن کا دورہ پاکستان,,,,سفیر احمد صدیقی
حالیہ دنوں میں امریکہ کی سیکرٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن نے اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا جو بہت اہمیت کا حامل ہے۔ عام طور پر امریکہ میں سیکرٹری آف اسٹیٹ ایک بہت مضبوط سیاسی شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ ہنری کیسنجر اور وائین برگر وغیرہ پاکستان کا دورہ بہت ہی مختصر مدت کے لئے کرتے تھے۔ ہلیری کلنٹن کا دورہ صرف منفی اثرات کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہئے بلکہ ان کے اس دورے سے یقیناً کچھ مثبت پہلو بھی نکلتے ہوں گے۔ اگر دنیا کے واحد سپر پاور کی اتنی اہم شخصیت اس خطے کا خاص کر پاکستان کا دورہ کرے تو پوری دنیا میں پاکستان کے اسٹرٹیجک محل وقوع کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ امریکہ سے ہالبروک یا جنرل مولن یا کوئی اہم اہلکار پاکستان آتا ہے تو یہاں اچھی خاصی چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ اللہ رحم کرے وہ یہاں کیوں آرہے ہیں لیکن بین الاقوامی تعلقات کے تناظرمیں ان کی آمد و رفت کا جائزہ لیا جائے تو یہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے لئے ایک اچھا شگون ہے۔ ہم ترک دنیا کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ شمالی کوریا اور ایران بھی امریکہ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں بظاہر وہ سیاسی نعرہ بازی کرتے ہیں لیکن اندر اندر وہ بھی سپر پاور سے مڈبھیڑ سے اجتناب کرتے ہیں، تعلقات میں سرد مہری بھی آتی ہے لیکن یورپ کے تمام ممالک امریکہ سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی کبھی گرمجوشی اور کبھی سرد مہری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہلیری کلنٹن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جنگ افغانستان کے بعد یعنی 1989ء میں روسی فوج کے انخلاء کے بعد امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کو چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے افغانستان مکمل طور پر طوائف الملوکی کی عمیق کھائیوں میں درگور ہوگیا ہے۔ افغانستان کے غیرمستحکم ہونے سے پاکستان پر اس کے انتہائی منفی اثرات پڑے ہیں۔ اپنی آمد کے موقع پر ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں وسعت اور پائیداری پیدا کرنے کے لئے آئی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حکومتی سطح کے علاوہ وہ نجی شعبے این جی اوز، سول سوسائٹی اور مذہبی اداروں کی سطح پر تعلقات کو فروغ دیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ امریکی اور پاکستانی عوام کے درمیان براہ راست ملاقات ہونی چاہئے اسی آرزو کی تکمیل کیلئے انہوں نے پاکستان کے بعض ثقافتی، تاریخی اور مذہبی مقامات کا دورہ کیا۔ ذہنوں میں سوال ابھرتا ہے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ پاکستان کیوں تشریف لائی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں امریکہ کے خلاف بہت غم و غصہ رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ کیری لوگر بل، بلیک واٹر/ زی سیکورٹی کمپنی اور لگاتار ڈرون حملے۔ پاکستانیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کے عزائم بہت گھناؤنے ہیں اور وہ عراق اور افغانستان کی طرح پاکستان کو بھی جارحیت کا نشانہ بنانا چاہتا ہے لیکن امریکہ اس بات سے بھی واقف ہے کہ اگر پاکستانی عوام کھلم کھلا امریکیوں کے خلاف ہوگئے تو ان کے لئے افغانستان میں عسکریت پسندوں سے لڑنا ناممکن ہوجائیگا۔ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے یہ پیغام دیا ہے۔
"Let us discuss and air the differences, as friends and partners and let us not magnify them to the extent of exclusion of many areas of agreement and cooperation."
اپنی آمد پر ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ ”میں پُرامید ہوں کہ اگر ہم ایک دوسرے کی بات سنیں اور سمجھیں، ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور مل جل کر کام کریں۔ ہم ضرور کامیاب ہوں گے“۔ دراصل ہلیری کلنٹن پاکستان کیری لوگر بل پر سیر حاصل بحث کرنے آئی تھیں جب لوگوں نے ان سے تیکھے سوال کئے تو انہوں نے یہ کہا کہ ہم آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ امداد لینا پسند کریں یا نہ کریں "We can't force that aid package upon you" اور اس بل میں اگر پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ سے متعلق نامناسب باتیں یا شقیں شامل ہیں تو اس کا انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پاکستان تو امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر بھی ہے ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو پیسہ امریکہ پاکستان کو دے رہا ہے وہ لوگوں کی بہبود یعنی تعلیم، صحت اور سوشل سیکٹر اور انتظامی ڈھانچے کے فروغ پر خرچ ہو۔ یہاں میں یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کیری لوگر بل کا چرچا تو بہت دنوں سے ہورہا تھا اور یقیناً اس کے ڈرافٹ پر وزارت خارجہ اور امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر نے ایک نظر ڈالی ہوگی اور اس کے حسن و قبح پر ناقدانہ نظر بھی ڈالی ہوگی اور پھر کہیں جاکر امریکی حکام کو Go-ahead کا سگنل دیا ہوگا۔ لہٰذا ہم امریکیوں کو کیوں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ نے تو اسے تاریخی بل کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس بل کے پاس ہونے کے بعد پاکستان میں انقلاب آجائے گا۔ غیرملکی امداد سے متعلق ایک تاریخی واقعہ قابل ذکر ہے۔ 1979ء میں جب سرخ فوج نے افغانستان کو جارحیت کا نشانہ بنایا تو پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت سے ابھرا۔ دنیا بھر کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہوگئیں۔ جمی کارٹر نے پاکستان کو 300 یا 400 ملین ڈالر کی امداد دینی چاہی لیکن جنرل ضیاء الحق نے اس امداد کو مونگ پھلی کا دانہ کہہ کر ٹھکرا دیا۔ پاکستان چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہوا تھا لیکن جب ”غیرت“ کا احساس اور جذبہ زندہ ہوتو ایسی امداد کو مونگ پھلی کا دانہ سمجھ کر ٹھکرا دینا چاہئے لیکن کیری لوگر بل کے عوض ملنے والی مجوزہ امداد کے لئے حکمران لوٹ پوٹ ہورہے ہیں۔ وہ بے قرار ہیں کہ ڈیڑھ بلین ڈالر جلد ازجلد ان تک کیوں نہیں پہنچ رہے ۔ ہلیری کلنٹن کا پاکستان کا دورہ اس زاویے سے اہمیت کا حامل ہے کہ صدر اوباما ان دنوں ایک مخمصے کا شکارہیں کہ آیا انہیں افغانستان میں مزید 40ہزار فوجی بھیجنے چاہئیں یا نہیں شاید اسی لئے ہلیری کلنٹن نے جنرل اشفاق کیانی سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ امریکہ نے ویتنام جنگ میں 5لاکھ فوجی بغیر سوچے سمجھے جھونک دیئے تھے لیکن امریکہ کو وہاں 59000 امریکی فوجیوں کی لاشیں چھوڑکر راہ فرار اختیار کرنا پڑی تھی۔ سائیگاؤں سے آخری امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی سیڑھیوں پر لٹک کر بھاگنے پر مجبور گئے تھے۔ حالانکہ امریکہ نے وہاں سفاکی اور بربریت کی ایک داستان رقم کی تھی۔ اس نے ننگے، بھوکے ویتنامیوں پر نیپام بم گرانے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ امریکہ نے 3ملین ویتنامیوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا لیکن پھر بھی شکست اس کا مقدر بنی۔ ہلیری کلنٹن نے جہاں مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا وہاں انہوں نے بہت سی ایسی باتیں کہی ہیں جو کسی پاکستانی کو پسند نہیں آئیں گی اس لئے کہ وہ گفتگو سراسر غیرمنطقی ہے اور جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔اس طرح ان کی ذہنی پختگی پر شک ہونے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور القاعدہ کا قلع قمع کرنے کیلئے کیا کچھ نہیں کررہا ہے اور پورا پاکستان خود دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ فوج نے کیا کچھ قربانی نہیں دی ہے لیکن امریکہ کی سیکرٹری آف اسٹیٹ یہ کہہ رہی ہیں کہ القاعدہ کے تعاقب میں پاکستان سنجیدہ نہیں ہے۔کشمیر کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ ان کی حکومت مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کوئی ثالثی کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بھارت اور پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں۔
امریکہ مسئلہ کشمیر کا حل ڈکٹیٹ نہیں کراسکتا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کا واحد سپر پاور اور انسانی حقوق کا علمبردار کشمیر میں ظلم و بربریت اور بھارتی فوج کی وحشیانہ کارروائی پر چپ سادھے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس ادھر برما میں امریکہ کے نائب سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقی ایشیاء اور امور بحرالکاہل کروٹ کیمبل جمہوریت کی علمبردار آنگ سان سوکی سے ملاقات کررہے ہیں۔ امریکہ برما میں حقوق انسانی اور جمہوریت کی ترویج اور ازسرنو تشکیل کی زبردست حمایت کررہا ہے یعنی امریکہ کشمیر کے لئے ایک اور برما کیلئے دوسرا معیارمتعین کررہا ہے۔ بقول ہلیری کلنٹن وہ دونوں ملکوں کو جامع مذاکرات کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب ہی دے سکتی ہیں۔ یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہیں ہوگا کہ جب 1962ء میں بھارت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ چین نے بھارت پر بھرپور حملہ کردیا تھا۔ نہرو نے کینیڈی سے اپیل کی کہ پاکستان کو کشمیر پر حملہ کرنے سے روکا جائے اس لئے کہ وہ لمحہ پاکستان کے لئے ایک سنہری موقع کا درجہ رکھتا تھا۔ سرینگر اور جموں تک پاکستانی یلغار انتہائی آسان تھی لیکن کینیڈی نے فوراً نہرو کو یقین دلایا کہ ایوب خان آپ کے پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپیں گے۔ ایوب نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت امریکہ کی غیرجانبداری کہاں گئی تھی۔ تاہم ہلیری کلنٹن نے پاکستان کی اشک شوئی یہ کہہ کر کی کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کے قضیے کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا۔ محترمہ نے فرمایا کہ پاکستان کے پانی کا مسئلہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کا حصہ رہے گا۔ پاکستان میں بلیک واٹر اور زی سیکورٹی کمپنی کی موجودگی کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جارہا ہے جب ہلیری کلنٹن سے اس بابت پوچھا گیا کہ امریکی سیکورٹی کمپنی کے ارکان اسلحہ لے کر اسلام آباد میں دندناتے پھر رہے ہیں کیا کوئی پاکستانی سیکورٹی کمپنی کا کوئی اہلکار واشنگٹن ڈی سی میں اسلحہ لہراتا ہوا پھر سکتا ہے۔ ہلیری نے اس کا جواب یہ دیا کہ امریکی سفارتکاروں کو روزانہ درجنوں دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔ چونکہ ہمارے سفارتکار خود تو اسلحہ لے کر نہیں چلتے لیکن جب وہ باہر نکلتے ہیں تو انہیں سیکورٹی کی ضرورت لازمی ہوتی ہے۔ ان کی حکومت میزبان حکومت کے ساتھ گفت و شنید کررہی ہے کہ کس طرح ان کے سفارتکاروں کو سیکورٹی مہیا کی جائے۔ ہلیری نے 1000 بلیک واٹر سیکورٹی افراد کی موجودگی کو قطعی غلط قرار دیا۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہاکہ بلیک واٹر/ زی سیکورٹی کے اہلکار قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں مقیم امریکی سفیر سے مسئلے پر غور کرنے اور پاکستانیوں کے اندیشوں کا ازالہ کرنے کی ہدایت کی۔ آخری تجزئیے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہلیری کلنٹن ہمیں کچھ کڑوی اور کچھ میٹھی سنانے آئی تھیں۔ ظاہر ہے امریکہ ہماری فوجی اور اقتصادی مدد کرتا ہے۔ حال ہی میں ہمارے ائیرچیف ایک درجن سے زیادہ F-16s لینے امریکہ گئے ہوئے تھے تو وہ ہمیں کچھ تو الٹی سیدھی سنائے گا۔ کیری لوگر بل پر پاکستان کے ردعمل نے وہائٹ ہاؤس، امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ایک سیاسی ہلچل مچا دی تھی۔ انہیں پتہ چل گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو بے غیرت اور بے حس ملک نہ سمجھے۔ شکر ہے ہلیری کلنٹن نے یہ نہیں کہا کہ "I will make him a horrible example" ۔ قارئین کرام 1976ء میں جب بھٹو صاحب فرانس سے ایٹمی ری ایکٹر خریدنے پر بضد تھے اور ہنری کیسنجر انہیں سمجھانے لاہور آئے تھے کہ پاکستان اپنے اس عزائم سے دستبردار ہوجائے یہ کلمات کیسنجر نے بھٹو کیلئے کہے تھے۔ ہم داخلی طور پر انتشار کا شکار ہیں۔ امریکہ سے معاملہ طے کرنے کے لئے ہمیں انتہائی ذہین، منجھے ہوئے، سنجیدہ، تجربہ کار پڑھے لکھے اور جن کی دیانتداری شک و شبے سے بالاتر ہو ان سفارتکاروں کی ضرورت ہے۔ شمشاد احمد خان، شاہد امین، طارق فاطمی وغیرہ کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ حسین حقانی جیسے سطحی لوگ اور موجودہ وزیر خارجہ جیسے جذباتی لوگوں سے بین الاقوامی تعلقات کی بھاری بھرکم ذمہ داریاں سنبھالنے کی توقع کرنا عبث ہوگا۔ یہ بات سب نے شدت سے محسوس کی ہے کہ ہلیری کلنٹن پاکستان آئیں اور امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ نے پاکستان طلب نہیں کیا۔
 
Print Version
 



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback