Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  بزنس 
 
کراچی (اسٹاف رپورٹر)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے صوبہ سرحد اوروفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے متاثرہ علاقوں کیلئے خصوصی طورپر مرتب کردہ ایگریکلچرل ری فائنانسنگ اینڈ گارنٹی اسکیم متعارف کرادی ہے۔ نئی اسکیم کامقصد صوبہ سرحد کے متاثرہ اضلاع (سوات، لوئردیر، مالاکنڈ، اپردیر، بونیر اور شانگلہ) اور فاٹا کے متاثرہ علاقوں (باجوڑ ایجنسی، خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی ،مہمند ایجنسی، شمالی وزیرستان ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اورجنوبی وزیرستان ایجنسی) کی ترقی میں معاونت کرنا اور ان علاقوں کے بینکوں اورکاشتکاروں کو زرعی سرگرمیوں کی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔یہ اسکیم جو فوری طورپر نافذ العمل ہے، دسمبر2012 تک موٴ ثر رہے گی۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک سرکلر (ایس ایم ای ایف ڈی سرکلرنمبر18) کے مطابق اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک ماسوائے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کے جوپہلے ہی رعایتی شرحوں پر فائنانسنگ کی سہولتیں فراہم کررہاہے، بینکوں کو 6 فیصد سالانہ کی شرح پر ریفائنانس کی سہولت فراہم کرے گا۔ بینک متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کو فراہم کردہ موسمی زرعی پیداواری قرضوں/زیرکار سرمائے کے لئے قرضوں پرقرض گیروں سے زیادہ سے زیادہ 2 فیصد سالانہ اسپریڈ (spread) وصول کرسکیں گے۔ اس طرح اسکیم کے تحت کاشتکاروں کے لئے مارک اپ کی شرح 8 فیصد سالانہ ہوگی۔ اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک بینکوں کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کوفراہم کئے جانے والے پیداواری قرضوں / زیرکار سرمائے کے لئے قرضوں پر بینکوں کے حقیقی نقصانات کی زیادہ سے زیادہ 50 فیصد تک تلافی بھی کرے گا تاکہ اسکیم کے تحت قرضہ دہی کے سلسلے میں بینکوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ تاہم بینکوں کوزرعی قرضوں کی بروقت وصولی کویقینی بنانے کے لئے قرضوں کی نگرانی اور وصولی کا ایک موٴ ثر طریقہ کار نافذ کرنا ہوگا۔ مزید براں بینک کسی بھی ضمانت شدہ اکاوٴنٹ (guaranteed account) کے ضمن میں واجبات کی وصولی کیلئے بھی تمام ممکنہ اورضروری اقدامات کریں گے، جیسا کہ انہوں نے عام حالات میں جب کہ کوئی ضمانت فراہم نہ کی گئی ہو،کئے ہوتے ہیں۔سرکلر کے مطابق اسکیم کے تحت فراہم کئے جانے والے قرضوں کے بیمے اورپانچ بڑی فصلوں گندم، چاول، کپاس، گنے اورمکئی کی فصلوں کے بیمے کے سلسلے میں بھی بینکوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچا جاسکے۔ سرکلر میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ فصلو ں کے لئے پیداواری قرضوں اوران کی ادائیگی کی مدت فصلوں کے دورانیے (cropping cycle) پرمبنی ہوگی جبکہ دیگر زرعی سرگرمیوں کے لئے زیرکارسرمایہ زیادہ سے زیادہ ایک سال کی مدت کے لئے فراہم کیاجائے گا۔ نیز اسکیم کے تحت کاشتکاروں کی جانب سے قرضے حاصل کرنے کے لئے کوئی زیادہ سے زیادہ حد نہیں ہوگی، تاہم ایک کاشتکار کیلئے قرضے کی حد متعلقہ بینک کی جانب سے قرضے کی ضروریات، کیش فلوز، قرض کی ادائیگی کی صلاحیت اوردیگر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی جائے گی۔اسکیم کے تحت اہل علاقوں میں زرعی قرضے فراہم کرنے والی شاخیں رکھنے والے بینکوں کے لئے انفرادی طورپر قرضے کی سالانہ حدود مختص کی جائیں گی۔ یہ حدیں ہرمالی سال کے لئے یکم جولائی سے 30 جون تک مختص ہوں گی، جن کا سہ ماہی بنیادپر جائزہ لیاجائے گا۔ سرکلرکے مطابق اسکیم کے تحت قرضے کی اصل رقم بینک اورقرض گیرکے درمیان طے شدہ تاریخ کوواپس کرنی ہوگی، تاہم فصلوں کے لئے پیداواری قرضوں کی صورت میں یہ متعلقہ فصل کی کٹائی کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر واپس کی جانی چاہئے۔سرکلر کے مطابق بینک اسکیم کے تحت قرض گیر سے مکمل معلومات کے حصول کی تاریخ کے بعد درخواست کا جائزہ لینے کیلئے 5 کاروباری روز سے زیادہ وقت صرف نہیں کریں گے۔ قرضے کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں بینک قرض گیر کواس کی وجوہ سے آگاہ کرے گا۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback