کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سے کاٹن اور کاٹن یارن کی بے لگام برآمدی سرگرمیاں ویلیو ایڈڈ اپیرل سیکٹر کی برآمدی صنعتوں میں بحران کا باعث بن گئی ہیں۔ حکومتی سطح پر خام کاٹن اور کاٹن یارن کی برآمدات پر پابندی عائد نہ کی گئی تو آئندہ چند ہفتوں میں انڈسٹری پراس کے منفی اثرابت مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یہ بات پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید بلوانی نے کہی، انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ ابتدائی طور پر کاٹن اور کاٹن یارن کی برآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرے تاکہ مقامی ویلیو ایڈڈ اپیرل سیکٹرکی بقاء ممکن ہو سکے کیونکہ یہ واحد شعبہ ہے جس میں سب سے زیادہ چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتیں ہیں جو اپنی برآمدی سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف کثیر زرمبادلہ کمانے کا باعث ہیں بلکہ یہ صنعتیں ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزگار فراہم کر رہی ہیں لہٰذا ویلیوایڈڈ اپیرل کے برآمدنی یونٹس کی پے در پے بندش کا عمل شروع ہونے سے بے روزگاری کا سیلاب امڈ آئے گا جو وہ حالات کے تناظر میں خوفناک بحران سے کم نہ ہوگا۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ ملک میں قیمتی زرمبادلہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے خام کاٹن اورکاٹن یارن کی تیزرفتار برآمدات کو فروغ دینے کے بجائے ویلیو ایڈڈ اور فنڈ پروڈکٹس جن میں اپیرل اور گارمنٹس شامل ہیں کی برآمدات بڑھانے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے انہوں نے بتایا کہ ملک میں کاٹن اور کاٹن یارن کی عدم دستیابی کے باعث مقامی ویلیو ایڈڈ اپیرل انڈسٹری امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں کرسمس سیزن کے حاصل کردہ برآمدی آرڈروں کی مقررہ مدت تک تکمیل سے قاصر ہو گئی ہے حالانکہ ان منڈیوں میں پاکستان کو اپنے ہمسایہ حریف ممالک سے زبردست مسابقت کا سامنا ہے۔