کراچی(اسٹاف رپورٹر) ناروے کے سفارت کار رابرٹ کیوول نے کہا ہے کہ پاکستان اور ناروے کے مابین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لئے پاکستانی تاجر و صنعت کار تجارتی وفود کا تبادلہ کریں‘ پاکستانی آم ناروے میں بہت پسند کیا جاتا ہے لہٰذا آم کی برآمدات کو بڑھایا جائے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز وفاق ایوان ہائے صنعت وتجارت (FPCCI ) کے دورے کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر فیڈریشن کے صدر سلطان چاؤلہ‘ نائب صدر زکریا عثمان‘ممتاز شیخ‘سمیر گلزار اوردیگر بھی موجود تھے۔ رابرٹ کیوول نے کہا کہ پشاور اور وزیرستان کی موجودہ صورتحال کو بین الاقوامی میڈیا جس طریقے سے پیش کرتے ہیں اسکی وجہ سے ناروے کے تاجر وصنعتکار اور سرمایہ کار پاکستان آنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ پشاور اور وزیرستان کے بم دھماکے کراچی پر اثر انداز نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے منفی تاثرات کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں کو خدشات لاحق رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آم ناروے میں بہت پسند کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی آم کی برآمدات ناروے میں بہت کم ہے جبکہ لاہور اور اسلام آباد سے ہفتے میں دو پروازیں اوسلو کے لیے روانہ ہوتی ہیں جس کا پاکستانی برآمد کنندگان فائدہ اٹھاتے ہوئے آم کی برآمدات کرسکتے ہیں اور ناروے سے مچھلی کو درآمد کرسکتے ہیں جسکے لیے ناروے کی حکومت اپنا بھرپور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے ناروے کو یارن‘فیبرکس‘ اسپورٹس گڈز‘ خام لیدر‘ لیدر کی مصنوعات اورسرجیکل آلات برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ ناروے سے پاکستان فارماسیوٹیکل مصنوعات‘پلاسٹک‘ پیپر ‘ پیپربورڈ‘ آئرن ‘اسٹیل‘ کیمیکل اور ٹیلی کمیونیکشن آلات درآمد کرتا ہے اس موقع پر فیڈریشن کے صدر سلطان چاوٴلہ نے کہا کہ پاکستان کے سافٹ امیج کو ابھارنے کے لیے ناروے میں ہفتہ پاکستان منایا جائے جس میں پاکستانی آم ‘کلچر شو کا انعقاد بھی کیا جائے تاکہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جاسکے انہوں نے کہا کہ ناروے میں موسم گرما کے موقع پر ہفتہ پاکستان کا انعقاد کرنے کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ‘ دونوں ممالک کے سفارتکاراور تاجر وصنعتکار برادری کو متحرک کیا جائے گا تاکہ ہفتہ پاکستان شو کو عملی جامعہ پہنایا جا سکے۔