| لندن (جنگ نیوز) برطانیہ کے قانون سازوں کے ایک گروپ نے رینڈیشن کیلئے برطانوی علاقے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور شاہراہوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ حقوق انسانی کے ایک گروپ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فرد جرم عائد کئے بغیر مبینہ دہشت گردوں کو زیر حراست رکھنے کاسلسلہ ترک کردے، غیر معمولی رینڈیشن پر پارلیمنٹ کے آل پارٹی گروپ کی ایک غیر رسمی کمیٹی کے کم وبیش20 ارکان نے مجوزہ قانون کو شائع کیا ہے جس کے تحت آئندہ غیر قانونی رینڈیشن میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا، قانون سازوں کے گروپ نے تجویز کیا ہے کہ غیر معمولی رینڈیشن کیلئے برطانوی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور شاہراہوں کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دیا جائے اور غیر قانونی منتقلی کی سہولتوں کی اجازت دینا بھی جرم ہوگا،گروپ کے سربراہ اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان اینڈریو ٹائر نے کہا کہ برطانیہ میں کام کرنے اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دہشت گردوں کے تعاقب کے سلسلے میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے قوانین کو سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر جمعرات کو لندن میں قائم حقوق انسانی کے ایک گروپ کیج پرزنرز کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض دہشت گردوں کو 10-10 برس سے کوئی الزام عاید کئے اور مقدمہ چلائے بغیرزیر حراست رکھا گیا ہے، یہ رپورٹ 71 مشتبہ دہشت گردوں جن میں بیشتر مسلمان ہیں کے بیانات پر مبنی ہے، انہوں نے حکام پر الزام لگایا کہ ان کو ملک بدر کرنے یا زیر حراست رکھنے یا گھر میں نظربند رکھنے کیلئے خفیہ شواہدکا سہارا لیا جاتا ہے۔ قانون داں گیرتھ پیئرس نے بتایا کہ ان 71 افراد میں سے کسی کو بھی کسی عدالت یا جیوری کے سامنے پیش نہیں کیا گیا،مشتبہ افراد کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان پر کیا الزام ہے، اوران کے پاس اپنے خلاف شواہد کو چیلنج کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ محکمہ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ کو دہشت گردی کے خطرے کے سبب غیر معمولی صورتحال کاسامنا ہے، اور حکومت قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی انفرادی آزادی کا تحفظ کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے استغاثہ ہماری ترجیحی اپروچ رہے گی۔ جہاں ہم مقدمہ نہ چلاسکتے ہوں اور ملزم غیر ملکی ہو تو ہم اسے حراست میں لے کر ملک بدر کرنے کی کوشش کریں گے۔ برطانیہ نے اس سے قبل یہ اعتراف کیاتھا کہ بحر ہند میں واقع برطانوی نوآبادی ڈیگوگارشیا کوجو امریکی فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے،2002 میں دو مرتبہ مشتبہ دہشت گردوں کی خفیہ منتقلی کے دوران ایندھن حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ، فروری میں حکومت نے کہا تھا کہ دو مشتبہ پاکستانیوں انتہا پسندوں کوجنہیں 2004ء میں برطانوی فوج نے عراق میں حراست میں لیا تھا امریکہ کے حوالے کردیا گیا اور اس کے بعد خفیہ طور پر اسے افغانستان منتقل کردیا گیا، اگرچہ ٹائر گروپ کے مجوزہ قانون کی منظوری کاکوئی امکان نہیں لیکن ٹائر کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے پر دارالعوام میں بحث کیلئے وقت دینے کیلئے لابنگ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت کو یقین ہے کہ کسی کو کسی دوسرے ملک تشدد کیلئے بھیجنے سے تحفظ کیلئے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ وزیر داخلہ ایلن جانسن نے کہا کہ ستمبر 2001ء سے مارچ 2008ء کے دوران ڈیڑھ ہزار افراد کو دہشت گردی کے شبے میں گرفتار کیا گیا ان میں200 سے بھی کم افراد کو دہشت گردی سے متعلق جرم کے تحت سزائیں سنائی گئیں۔ |
|