بجلی کا بحران عرصہ دراز سے جاری ہے اس پر قابو پانے کے لئے کتنی کوششیں کی جارہی ہیں اور ان میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا اندازہ لوڈ شیڈنگ کے بڑھتے ہوئے اوقات سے لگایا جاسکتا ہے۔ شہر کا بلکہ ملک کا بڑا حصہ اس بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔اس بحران پر قابو پانے کی راہ میں کئی رکاوٹوں کا تذکرہ عرصہ دراز سے کیا تو جاتا ہے مگر یہ امر قابل افسوس ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی بھی منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی بلکہ صورتحال یہ ہے کہ عوام سے مستقل درخواست کی جاتی ہے کہ بجلی کم استعمال کریں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بجلی ہوگی تب ہی تو کم یا زیادہ استعمال کی جائے گی پھر یہ کہ ہر قربانی عوام ہی کیوں دیں۔بجلی وہ کم استعمال کریں اس لئے کہ کم ہے،چینی وہ استعمال نہ کریں اس لئے کہ قلت ہے۔ گھر سے کم نکلیں اس لئے کہ امن و امان کا فقدان ہے وغیرہ وغیرہ۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ حکومت جس طرح بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اس میں کامیابی ناممکن ہے اس لئے کہ جو محکمہ بجلی فراہم کررہا ہے اس کے اربوں روپے سرکاری اداروں کی طرف نکلتے ہیں اور جو اکثر ان سرکاری محکموں کی بجلی منقطع کر نے کا اعلان کرتا رہتا ہے۔ وزیر بجلی فرماتے ہیں کہ صرف کراچی میں چھ لاکھ کنڈے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ان کنڈوں کی موجودگی کی اطلاع دینے کا شکریہ ویسے یہ وزارت اطلاعات کا کام تھا ان کو کرنے دیا جاتا ویسے بھی یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے،کنڈے تو عرصہ دراز سے ہیں ان میں جو مستقل اضافہ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری محکمہ بجلی کو قبول کر نا چاہئے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر حکومت سرکاری اداروں کے بجلی کے واجبات ادا کردے تاکہ یہ بہانہ تو نہ بنا یا جاسکے کہ رقم نہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل نہیں خریدا جارہا ہے اس لئے پیداوار میں کمی واقع ہورہی ہے رہ گیا سوال کنڈوں کا تو جب حکومت سرکاری اداروں سے واجبات ادا نہیں کرا پارہی تو کنڈے کیسے ختم کراپائے گی۔بہرحال یہ طے ہے کہ اس باب میں کوئی جامع پالیسی وضع کرنے اور اس پر سختی سے عمل کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ (حسین شفیق۔ ڈیفنس)