کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظبی میں کھیلی جانے والی سیریز میں ٹیم کے انتخاب میں ٹور سلیکشن کمیٹی کے فیصلے تنقید کا باعث بن رہے ہیں۔ کپتان یونس خان، ٹیم کوچ انتخاب عالم اور چیف سلیکٹر اقبال قاسم پر مشتمل ٹور سلیکشن کمیٹی کی جانب سے دوسرے ون ڈے میں نوجوان بیٹسمین عمر اکمل کو ڈراپ کرنے کے فیصلے سے مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔ پہلے میچ میں شعیب ملک کو باہر کئے جانے پر حیرانگی کا اظہار کیا گیا تھا، دوسرے ون ڈے میں پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ نے نوجوان بیٹسمین عمر اکمل کو ڈراپ کئے جانے پر کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنا افسوسناک ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کرکے اس کے اعتماد میں اضافہ کیا جانا چاہئے تھا۔ مگر ٹور سلیکشن کمیٹی نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے جو مناسب فیصلہ نہیں ہے۔ سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو نے کہا کہ ٹور سلیکشن کمیٹی کے فیصلے عقل سے بالاتر نظر آرہے ہیں۔ پہلے میچ میں شعیب ملک کو ڈراپ کرنا درست نہیں تھا، کامران اکمل سے اننگز شروع کرائی جاسکتی ہے جیسے سنگا کارا اور ایڈم گلکرسٹ اوپن کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ محمد عامر اور عمر اکمل پاکستان کرکٹ کی نئی دریافت ہیں، انہیں کسی بھی مرحلے پر اس وقت ڈراپ نہیں کیا جانا چاہئے۔ باہر ہونے سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں کمی آ جاتی ہے۔ پیشہ ور کرکٹ میں آرام کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تاہم جمعہ کے میچ میں عمرگل اور عبدالرزاق کو آرام دیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بولنگ کے جو جہاز ناکارہ ہوگئے ہیں انہیں گراؤنڈ کردینا چاہئے۔ سابق فاسٹ بولر جلال الدین نے کہا ہے کہ جو نئے کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں انہیں ڈراپ کرنے سے ان کے اعتماد اور ان کی اسپرٹ میں بھی کمی آتی ہے۔ عمر اکمل کو نکال کر شعیب ملک کو شامل کرکے صرف ”ایڈجسٹمنٹ“ کی گئی ہے جس سے ٹیم اسپرٹ متاثر ہوتی ہے۔ اچھے کھلاڑیوں کی اس وقت کمی ہے اور وہ کھلاڑی جو مسلسل رنز بنا رہا ہو اس کو نکالنے کا فیصلہ حیرت انگیز ہے۔ نئے کھلاڑیوں کو اس وقت حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، ڈراپ کئے جانے سے ان میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ٹیم کے انتخاب میں کارکردگی کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہئے۔