لندن(جنگ نیوز) برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ برطانیہ کو دہشتگردی کا بڑا خطرہ پاک افغان سرحدی علاقوں سے ہے، فوجیوں کو خطرات کے باوجود افغان مشن کی تکمیل سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ۔ گزشتہ روز لندن میں ایک تقریر کے دوران رواں سال ہلاک ہونیوالے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے گورڈن براؤن نے کہا کہ ہم افغان مشن سے بھاگ سکتے ہیں نہ ہی بھاگیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کرپٹ ہے اور جب تک افغان حکومت بہتر طرز حکمرانی ، کرپشن کے خاتمے اور منشیات کی روک تھام کیلئے اقدامات نہیں اٹھاتی وہ ملک کے تحفظ کی خاطر مدد فراہم کرنے کیلئے اپنے فوجیوں کی زندگیوں کو زیادہ عرصہ تک خطرہ میں نہیں ڈال سکیں گے ۔ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کیخلاف فتح اہم ہے ،اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کو بھی الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ مستقبل کالائحہ عمل طے کریں ،بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نیاقانون یاانسداد کرپشن کمیشن قائم کریں بصورت دیگر انہیں مغربی ممالک کی حمایت حاصل نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا صدر کرزئی کو افغان عوام اور عالمی برادری سے روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی کامیابی کو بچایا جاسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو دہشتگردی کا بڑا خطرہ پاکستان اور افغانستان سے ہے اور القاعدہ اب بھی اس خطے سے برطانیہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ گورڈن براؤن نے کہاکہ افغان فوج کی تعداد اسی ہزار سے بڑھا کر 2010 کے آخر تک ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد ہونی چاہیے۔