| ابوظہبی رپورٹ… ڈاکٹرشاہد مسعود …متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایک اعلیٰ سطح کے وفداورصدرآصف علی زرداری کے دواہم نمائندوں کے درمیان ہونیوالے مذاکرات ڈیڈلاک کا شکارہوگئے ہیں۔مذاکرات کے دوران متحدہ اپنے اس مطالبے پرڈٹی رہی کہ صدرملک میں جمہوریت کو بچانے کیلئے قربانی اوراستعفیٰ دیں۔متحدہ کے وفدکی قیادت انوربھائی نے کی جبکہ وفاقی وزیر پورٹ اینڈشپنگ بابرغوری اورگورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادنے ان کی معاونت کی ۔حکومت کی طرف سے رحمن ملک اوروزیرداخلہ ذوالفقارمرزا شریک ہوئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مذاکرات کیلئے ابوظہبی میں اسی ہوٹل کا انتخاب کیا گیا جہاں سابق صدرپرویز مشرف اوربے نظیر بھٹو جنوری 2007ء میں این آراوتخلیق کرنے کیلئے ملے تھے اوراسی ہوٹل میں این آراونے دم توڑا۔اسی اثناء میں ایک حیران کن مرحلہ اس وقت آیا جب پرویز مشرف کی طرف سے سابق وزیراعظم شوکت عزیزمذاکرات میں ثالثی کرانے کے ارادے سے دبئی میں نمودارہوئے ، پرویز مشرف چاہتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اپ جاری رہیکیوں کہ اگرزرداری کی رخصتی کے بعد کسی طرح نوازشریف اقتدارمیں آگئے تویہ پرویز مشرف کے لئے کسی صورت بہترنہ ہوگا۔مذاکرات کے بعد اس نمائندے سے گفتگوکرتے ہوئے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادنے صرف اتنا کہاکہ ”تمام معاملات حل کرلئے گئے ہیں“ تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔پتہ چلاہے کہ ایم کیوایم نے مذاکرات میں این آراوپر اپنے سخت تحفظات کا ظہارکرتے ہوئے موٴقف اختیارکیا ہے کہ وہ کسی صورت اس آرڈیننس کی حمایت نہیں کرے گی اورصدرکواس سلسلے میں قربانی دینی چاہئے۔مذاکرات کے دوران ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین سے بھی مشاورت کی گئی تاہم اس سے بھی کسی پیش رفت کے کوئی آثارنظرنہیں آئے جبکہ سندھ میں بلدیاتی نظام اورصوبے میں پی پی ،متحدہ تعلقات پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مذاکرات میں شریک پیپلزپارٹی کی ٹیم نے علاقائی اورعالمی ضامنوں کو بھی بات چیت میں شامل کرنے کی کوشش کی جبکہ امریکا میں موجود ایک اہم سفارتکا رنے اوباما انتظامیہ کو مذاکرات میں کرداراداکرنے پررضامندکرنے کی کوشش کی مگرساری کوششیں بے سودثابت ہوئیں۔شوکت عزیز کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کو ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی دونوں نے مستردکردیا۔پیپلزپارٹی کی جانب سے این آراوپرآئینی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی ایم کیوایم نے مستردکردی جبکہ رحمن ملک کی جانب سے بات چیت لندن میں الطاف حسین کے ساتھ جاری رکھنے کی تجویزپربھی کوئی غورنہیں کیاگیا۔دوسری جانب رحمن ملک نے دی نیوز کے ایک سینیئرایڈیٹرکوبتایا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اورمتحدہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے۔وزیرداخلہ نے ان خبروں کو مستردکیا کہ وہ 15روزکے لئے ملک سے باہرگئے ہیں،ان کاکہناتھا کہ وہ آج واپس آرہے ہیں۔ |
|