| اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ فور میں موٹرسائیکل سوار دو دہشت گردوں نے جمعہ کی صبح ساڑھے 8بجے حساس انٹیلی جنس ادارے میں تعینات اعلیٰ افسر پر فائرنگ کردی، تاہم خوش قسمتی سے بریگیڈئر حافظ سہیل اور ان کا ڈرائیور لانس نائیک محمد رمضان محفوظ رہے جبکہ حملہ آورفرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دونوں کو گولیاں لگیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں موٹرسائیکل ڈبل سواری پر پابندی اور پولیس کی طرف سے روزانہ درجنوں افراد کی گرفتاریوں کے باوجود دو موٹرسائیکل سوار کلاشنکوف اور 9ایم ایم پستول سے مسلح ہوکر آئی ایٹ فور میں پہنچے اور بریگیڈئر سہیل جب اپنے ڈرائیور کے ہمراہ پراڈو جیپ اے ایچ 899 پر سوار ہوکر گھر سے نکلے تو موٹرسائیکل سواروں نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ ڈرائیور نے گاڑی بھگالی اور گھر کے لان میں داخل ہوگیا۔ اس دوران گاڑی ایک کھمبے سے بھی ٹکرا گئی حملہ آوروں نے گاڑی پر تین اطراف سے فائرنگ کی۔ ایس ایس پی طاہر عالم خان کے مطابق گاڑی پر کلاشنکوف اور 9ایم ایم پستول کی 15/20 گولیاں لگیں۔ ایس پی عبدالغفار قیصرانی کے مطابق جائے وقوعہ سے کلاشنکوف کے 9 اور 9ایم ایم پستول کے 3خول ملے ہیں۔ ڈرائیور محمد رمضان کو کندھے پر گولی لگی جبکہ بریگیڈئر کو کہنی پر گولی لگی ہے جبکہ ایک گولی سر کی جِلد کو چھوتی ہوئی گزر گئی ہے۔ بریگیڈئر سہیل کے ساتھ کوئی گن مین موجود نہ تھا۔ زخمیوں کو فوری طور پر پمز منتقل کر دیا گیا جہاں سے بریگیڈئر حافظ سہیل کو سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔ |
|