| اسلام آباد (نمائندہ جنگ) چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپر ہائی وے کراچی پر50 ایکڑ سرکاری اراضی کوڑیوں کے مول الاٹ کرنے میں ملوث تین اعلیٰ افسران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کے باوجود عہدوں پر موجودگی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کو عدلیہ کے احکامات کی کچھ تو عزت کرنی چاہیے۔ حکومت اتنا تو خیال کرے کہ ان افسران کو توہین عدالت کے نوٹس ملے ہیں اور وہ ابھی بھی اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔ عدالتیں بادی النظر میں اس وقت توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتی ہیں جبکہ ریکارڈ پر کچھ مواد موجود ہو۔ فاضل چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس چوہدری اعجاز احمد اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل تین رکنی بنچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری نے بتایا کہ سندھ میں گزشتہ 10 سال میں 1500 سے زائد سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی گئیں۔ عدالت نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرکے غلام مصطفی میمن کو 50 ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کرنے پر ممبر لینڈ ایڈیشنل سیکرٹری محمدعلی شاہ‘ ایڈیشنل سیکرٹری فنانس‘ زاہد علی عباسی اور سیشن جج محمد حنیف سولنگی کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے اور حکومت سندھ سے گزشتہ دس سال کے دوران سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کا ریکارڈ طلب کیا تھا جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ریکارڈ پیش کرنے کیلئے مزید وقت کی مہلت مانگی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ سندھ میں سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کی شرائط‘ مقاصد اور مارکیٹ پرائس بتائی جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ریکارڈ کی تیاری طویل ایکسرسائز رہی ہے۔ رپورٹ کی تیاری اور پیشی کیلئے دوماہ کا وقت دیدیں۔ عدالت میں رشید اے رضوی ایڈووکیٹ، غلام مصطفی میمن کی جانب سے پیش ہوئے۔ سیشن جج محمد حنیف سولنگی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ابھی تک ان کوکوئی ڈیوٹی تفویض نہیں کی۔ |
|