Download Font | Urdu Keyboard | On-Screen Keyboard Back Issues Feedback             Saturday, November 21, 2009, Zil`Haj 03, 1430 A.H
 
  اہم خبریں 
 
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سابق اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کے کرپشن کیس میں بنچ سے الگ ہونے کی درخواست پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اس درخواست پر ٹھنڈے دل سے غور کروں گا۔ عدالت کے روبرو سابق اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ مائی لارڈ آپ کبھی کبھی بے عزتی کر دیتے ہیں جس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ جس کا جو حق ہے وہ اس کو ملتا ہے۔ میں جس کرسی پر بیٹھا ہوں اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ لوگوں کو ان کا حق ملے۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر مجھ کو معلوم ہو کہ میں کسی مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا تو خود ہی اس مقدمے سے الگ ہو جاؤں گا۔ سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خلاف کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے سابق اٹارنی جنرل کے خلاف کرپشن کے الزامات سے متعلق حامد مغفور نامی شہری کی درخواست کی سماعت شروع کی تو جسٹس رمدے نے کہا کہ میں نے اخبار میں پڑھا ہے کھوسہ صاحب نے میرے حوالے سے بنچ سے الگ ہونے کا بیان دیا ہے۔ آپ 11 سال سے میرے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ اگر آپ کا دل اتنا بھاری تھا تو پہلے بتا دیتے۔ سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خلاف کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ میرے منہ سے آپ نے کبھی سنا ہے کہ آپ نے کرپشن کی۔ آپ نے لاہور ہائی کورٹ بار میں جو قرارداد پیش کی ہے وہ تو 11 سال پہلے کی ہے میں تو اس کو بھول گیا تھا۔ وہ سیاسی معاملہ تھا۔ اللہ سب کے پردے رکھنے والا ہے۔ آپ نے مجھ کو مجنون کہا اور مجھ کو جس ہستی سے ملانے کی کوشش کی میں تو ان کے پاؤں کی خاک بھی نہیں ہوں۔ آپ نے کہا کہ میں پاگل ہوں اور دماغی معائنہ کرا کے نوکری سے نکال دیں۔ آپ کو میرے خلاف کوئی اور الزام نہیں ملا۔ کوئی اور خرابی نظر نہیں آئی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ججوں پر کرپشن کے الزامات لگائے جانے کے حوالے سے ایک خط کے مندرجات سنائے جو خط کسی نے چیف جسٹس کو لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں چیف جسٹس کے دائیں اور بائیں بیٹھنے والے دو فرشتوں نے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائر جج کے ساتھ ایک لینڈ مافیا شخصیت کی افطاری میں شرکت کی تاکہ لینڈ مافیا ان کو اپنے حق میں استعمال کر سکے۔ ایک جج جواد ایس خواجہ دوسرے نامعلوم جج ہیں لیکن جس شخص کا ہاتھ صاف ہوتا ہے اس کو محاسبے کا خوف نہیں ہوتا۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ 21 سال میں کسی نے مجھ پر الزام نہیں لگایا نہ ہی میں نے کسی سے جانبداری برتی اور نہ ہی دشمنی رکھی۔ جسٹس خواجہ نے کہا کہ ہم کوغیر جذباتی انداز میں اس مقدمے کو نمٹانا ہو گا۔ عدالت نے مزید سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ لطیف کھوسہ پر 30 لاکھ روپے کرپشن کا الزام ہے کہ انہوں نے ججوں کے نام پر سائلین سے رقم حاصل کی۔  
Print Version


 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
آج کا اخبار 
تازہ ترین 
اہم خبریں
ملک بھر سے
شہر قائد/ شہر کی آواز
سندھ بھر سے
دنیا بھر سے
امریکا سے
یورپ سے
ادارتی صفحہ
اسپورٹس
بزنس
مراسلات
دل لگی
تعلیم صحت خواتین
کارٹون 
 
   Jang Online    |    TheNews    |    Jang Multimedia   |    Download Font    |    Keyboard Instructions    |    Back Issues    |    RSS    |Feedback