دی ہیگ . . . بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث سرب رہنما رادوان کرازدچ کے خلاف مقدمے کی سماعت جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں شروع ہوگئی۔ کرازدچ آج عدالت کے سامنے پیش ہوکر مقدمے کی تیاری کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کریں گے۔استغاثہ کے وکیل ایلن ٹیگر نے عدالت کو بتایا کہ کرازدچ نے سرب فوج کو بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے احکامات جاری کیے۔اپنے دعوے کے حق میں انھوں نے سرب رینیکا میں موت کے گھاٹ اتارے جانے والے کچھ افراد کے نام اور اجتماعی قبروں کی تصاویر عدالت کے روبرو پیش کیں۔مقدمے کی سماعت رادوان کرازدچ کی سربیا میں گرفتاری کے 15ماہ بعد شروع ہوئی ہے۔ سرب رہنما کا کہنا ہے کہ انھیں مقدمے کی تیاری کیلئے انتہائی کم وقت فراہم کیا گیا ہے اس لیے ابھی مقدمے کی سماعت نہ کی جائے۔ وہ آج عدالت کے سامنے پیش ہوکر مقدمے کی تیاری کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کریں گے۔
|